• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

تعجب تو اس پر ہے…

تعجب اس امر پر نہیں ہے کہ صدر اردگان کی مخالفت میں بڑی تعداد میں ووٹ پڑے۔ تعجب تو اس پر ہے کہ وہ مخالفین کی اتنی منظم اور مربوط کوششوں کے باوجود جیت کیسے گئے؟؟؟ جیسے اس وقت روئے زمین پر ایسی قابل ذکر طاقت نہیں جو افغانستان ہیں چھوٹے یا بڑے بم… حسبِ استطاعت، حسب حیثیت اور حسب ظرف… گرا نہ رہی ہو، اسی طرح ایسی بھی طاقت ہمارے علم میں نہیں جو اردگان کی مخالفت پر کمربستہ نہ ہو، جیسے کہ ایسی طاقت کا نام ہم تلاش نہیں کرسکتے جو پاکستان کے حالات کی خرابی یا یہاں کسی نہ کسی قسم کا بحران کھڑا رکھنے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث نہ ہو۔

اردگان کے آخری جلسے کی کوریج میں جس طرح چند پاکستانیوں (اور ایک آدھ غیرملکی چینل) کے علاوہ بیرونی دنیا سے کوئی موجود نہ تھا، اسی طرح وطن عزیز میں اس کے ریفرنڈم کی منصفانہ کوریج بھی چند پاکستانیوں کے علاوہ کوئی نہ کررہا تھا۔ ریفرنڈم سے پہلے جن لوگوں نے دھماکے کیے، افواہیں پھیلائیں، بغاوت برپا کروائی، معیشت گرائی، کرنسی تباہ کی، مہاجرین کی امداد کے لیے ایک کوڑی نہ دی… ریفرنڈم کے بعد ان میں سے کسی نہ جھوٹے منہ مبارکباد دینے کی زحمت بھی نہ کی، لیکن اللہ کے فضل سے جیسے ریفرنڈم سے پہلے شام کے مسلمانوں کی خدمت میں اہلیان پاکستان پیش پیش رہے، اسی طرح ان شاء اللہ ریفرنڈم کے بعد اکابرین علمائے کرام ہی سب سے پہلے مبارک باد کے لیے جائیں گے اور اپنی روایت کو زندہ کرکے ایک نئی روایت بھی رقم کرکے آئیں گے، ان شاء اللہ!

مزید پڑھیے۔۔۔

اجتماعیت سے آگاہی

یہ چند سطریں قونیہ سے۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کا شہر… اوہ معاف کیجیے! خواجہ شمس تبریزؒ کا شہر، جنہوں نے مولوی کو ’’مولائے روم‘‘ بنایا۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس سنت کو زندہ کیا کہ اپنی موجودگی میں اپنے سامنے، آگے پیچھے، دو یا کم از کم ایک قیادت تیار کردی جائے جو پیغمبرانہ مشن کو لے کر چلتی رہے۔ امت کے ہر طبقے کی اپنی خصوصیت اور اپنی انفرادیت ہے۔ صوفیاء اور مشایخ کے طبقے کو لوگ عموماً یہ روش دیتے ہیں کہ وہ رکوع و سجود میں رہتے ہیں اور قیام کے فرض کو پورا نہیں کرتے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ میں جب تمام طبقات ناکام ہوگئے اور قیام کا فرض ادا کرنے والا کوئی نہ رہا تو صوفیاء وہ طبقہ تھا جس نے قیام بالحق کا مورچہ بھی سنبھالا اور قائمین بالحق تیار کرکے قوم کو دیے۔ ترکی میں جب عالمی اتحادی طاقتوں نے ’’بابائے ترک‘‘ سے چار نکاتی معاہدہ کرکے مرکزِ خلافت کو مرکز الحاد میں تبدیل کروایا تو ستر سال تک کوئی سانس بھی زور سے نہ لیتا تھا، تب مشایخ نقشبند کے فیض یافتہ نجم الدین اربکان جیسے لوگ سامنے آئے اور رجب طیب اردگان جیسی قیادت تیار کرکے قوم کودی، جو اپنی انتخابی مہم کے جلسوں میں قوم کو فاتحہ پڑھواتا ہے، حدیث سناکر وعدے یاد دلاتا اور وعدوں پر کاربند رہنے کا عزم کرتا ہے۔ آخری جلسہ ہمیشہ اقبال لاہوری کے مرشد رومیؒ کے شہر میں کرکے جلسے ختم کرتے ہی ایصالِ ثواب کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ چمن میں دیدہ ور پیدا کرنے کا مشن پر اللہ والے کاربند رہے ہیں، لیکن کبھی اپنوں کی بے نظری انہیں ضائع کردیتی ہے اور کبھی غیروں کی بدنظری انہیں کھاجاتی ہے۔ افراط و تفریط یا دوسرے لفظوں میں بے جاحمایت یا نظریات کے بجائے شخصیات کی تایید وہ مرض کہنہ ہے جو اُمت کے وجود کو پہلے لاغر اور پھر معذور کردیتا ہے، لہٰذا شکوہ و شکایت یا مبالغہ و قصیدہ خوانی کے بجائے اُمت کے ہر فرد کو اپنی جگہ، اپنے کام میں لگے رہنا چاہیے۔

بات ابتدا یا وسط کی نہیں، حسن عاقبہ کا مدار اختتام پر ہوتا ہے۔ اختتام کی لکیر تک پہنچتے پہنچتے راستے میں اتنے نازک موڑ اور اتنے فتنہ خیز مقامات آتے ہیں کہ صبر و استقامت کا توشہ نہ ہو یا نصرت الٰہی ساتھ نہ ہو تو خبر نہیں کہاں قدم پھیل جائیں۔ جب تک مقاصد سے آگاہی نہ ہو فضولیات سے جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے۔ اس وقت بہت زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو خوشی اور غمی کی فضول رسومات سے آزاد کرواکر اجتماعیت اور اجتماعی مقاصد کی خاطر ایثار و قربانی کی راہ پر لگایا جائے۔ امت کے وسائل کا بہت بڑا حصہ شادی کی فضولیات اور غمی کی ان رسومات پر خرچ ہورہا ہے جو ریاکاری، دنیاداری اور نفس پرستی کا بدترین نمونہ ہیں۔ اس وقت جہاں سرمایہ دار مسلم طبقے کے پاس وسائل کی بہتات ہے وہیں بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کوئی اور نہیں، مسلمان ہی ہیں۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے کہ شادی کی ایک ایک رسم پر لاکھوں پھونکے جارہے ہیں تو دوسری طرف مہاجر کیمپوں میں ایسی نسل کی نسل تیار ہورہی ہے جس کے پاس تعلیم یا ہنر تو کجا، بنیادی ضروریات کے فقدان کا یہ حال ہے کہ وہ اس سے پیدا ہونے والے کرب اور غضب سے متاثر ہوکر بیزاری کے اس درجے کو پہنچ رہے ہیں کہ عالم اسلام سے مایوسی انہیں پوری بنی نوع انسانیت سے بغاوت کے مرحلے پر پہنچارہی ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھیے کہ کسی ایک صاحب حیثیت مسلمان کے کسی عزیز کی فوتگی پر خوشامدی تعزیت یا غیرمسنون ایصال ثواب کی ترغیب پر مشتمل اشتہارات ہی لاکھوں کے ہوتے ہیں، دوسری طرف بے بسی کے عالم میں جان دینے والے ایسے کتنے ہیں جنہیں تدفین کے لیے کوئے یار میں دوگز جگہ تو کیا ملتی، زخموں سے کٹا پھٹا جسم ڈھکنے کو دو گز کفن بھی میسر نہیں۔ اور تو اور مدارس میں آج کل تعلیمی سال کا اختتام ہے۔ تعلیم کی تکمیل کی خوشی میں ہونے والی طلبہ کی نجی تقاریب کی سادگی پر اساتذہ زور دیتے رہ گئے اور معاملہ مدرسہ کے درودیوار سے نکل کر شادی ہالوں میں ہونے والی ’’تقریب سعید‘‘ پر جاپہنچا ہے۔ جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔

شام میں زہریلی گیس پھیلانے والے بم استعمال کرلیے گئے ہیں، افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا بم پھینک دیا گیا ہے، صومالیہ میں قحط کا عفریت ہڈیوں سے گودا نچوڑ چکا ہے، غزہ میں دنیا کی سب سے بڑی آزاد جیل کے باسیوں کو دنیا بھولتی جارہی ہے۔ برما میں جاری بہیمانہ نسل کشی پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں، ترکی کا سربراہ اگر ریفرنڈم نہیں جیتتا تو اگلے انتخاب میں دو تہائی کا ہدف اس کی مقبولیت کے باوجود اتنا مشکل ہے کہ اس کے بعد آنے والا تو اس سنگ میل کو عبور کرنے کا سوچ بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا ہمیں اجتماعی مقاصد سے آگاہی حاصل کرکے ان کی طرف سفر شروع کردینا چاہیے۔ فضولیات میں پڑکر خرافات میں کھوگئے تو وہ ذاتی مفاد بھی ہمارے لیے حسرتوں بھرا نوحہ بن جائیں گے جن کی خاطر ہم نے اجتماعیت سے بے وفائی کی تھی۔

تقاضوں سے ہم آہنگ تقریب

روایت کے تحفظ کے ساتھ اس کے اظہار میں جدّت کا امتزاج بھی ضروری ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ مدارس نے ہماری روایت کو محفوظ کیا ہوا ہے، لیکن اس کا ایسا اظہار کہ اس میں سلیقہ اور جاذبیت اس قدر ہو کہ عوام الناس کو یہ یقین دلادے کہ ان کی امانت محفوظ ہاتھ میں ہے جو اس حفاظت کے ساتھ اس کی اشاعت کے بھی اہل ہیں، یہ آج کے دور میں نہایت ضروری ہے۔ عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح کے اسالیب پر ہمارے اکابر نے جو کچھ لکھا ہے، ویسا ہی دین کی تبلیغ اور دینی داروں اور تحریکوں کے شعبۂ ابلاغ و تشہیر پر بھی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم معاشرے میں اپنی اہلیت اور نافعیت ثابت نہیں کرتے، تب تک نہ ہم پیغمبرانہ وراثت کی اشاعت کا فرض ادا کرسکتے ہیں اور نہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یتیموں کا والی

قرآن شریف میں اللہ کے پسندیدہ لوگوں کی ایک صفت بیان فرمائی گئی ہے: ’’ اور وہ اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ‘‘ (الدھر: 8)

اس آیت کریمہ میں معاشرے کے تین پسماندہ طبقات کی خدمت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رضا کے کاموں میں سے شمار کیا ہے: (1) مسکین (2) یتیم (3) اسیر۔

ترکی کی ایک بڑی رفاہی تنظیم… جو دنیا کے 140 ممالک میں مصروف عمل ہے اور جسے بلامبالغہ و بلاشبہ عالم اسلام کی سب سے بڑی رفاہی تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے… نے اس آیت میں بیان کیے گئے مخصوص طبقات کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ پھر ان میں سے بھی انہوں نے یتیم کو اپنا خصوصی ہدف بنایا۔ یتیم بچوں کو خوراک و لباس اور رہائش کی تین بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ صحت اور تعلیم جیسی دو اہم ضرورتیں بھی فراہم کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جو یہاں اس مطلب سے درج کی جاتی ہیں کہ شاید پاکستان کے اہل خیر اس اہم موضوع کو سمجھ لیں، تو ہمارے ہاں یتیم بچوں سے لاتعلقی و لاپرواہی کے جو نتائج بد ہیں ان سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ نیز جہاں ان کی خدمت تحقیر اور ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرکے کی جاتی ہے، اس کا تدارک کیا جاسکے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

پاکستان جن دنوں وجود میں آیا انہی دنوں دنیا میں دو اور ملک بھی وجود میں آئے۔ دنیا کا طبعی جغرافیہ تو کہیں صدیوں میں کائناتی حوادث کے نتیجے میں بدلتا ہے کہ ایک دریا اپنا راستہ چھوڑ کر رخ بدل لے یا پہاڑ زلزلے سے ریزہ ریزہ ہوجائیں، لیکن سیاسی جغرافیہ سے بننے والی سرحدی لکیریں اکثر و بیشتر جنگی حوادث کی بنا پر ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ساتھ دو اور ملکوں کا دنیا کے نقشے پر ابھرنا کوئی انوکھی بات نہ تھی، مگر ان دونوں ملکوں میں ایک قدر مشترک ہے جس کی بنا پر اس خصوصیت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا جو پاکستان اور ان دونوں کی تقابلی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شریعت اور فطرت کا امتزاج

قرآن شریف میں آتا ہے کہ ’’کچھ منصوبے انسانوں کے ہوتے ہیں اور کچھ منصوبے اور تدبیریں اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے منصوبے تو کامل اور مکمل ہوتے ہیں۔ عاجز انسانوں کے منصوبے قادرالمطلق کے منصوبے کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔‘‘ اسرائیل چونکہ تورات کی تعلیمات کے بجائے مغربی زندگی اپنا چکا تھا، تو وہاں پر بچوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور فلسطین والے مسلمان مغربی زندگی سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے تھے، تو ان کے یہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور جس چیز کو ایک زمانے میں ہمارے ہاں عیب یا عار بنالیا گیا تھا کہ زیادہ بچے جننے والے جوڑے سے کہا جاتا تھا کہ ’’پڑھ لکھ کر تم نے ڈبودیا‘‘ تو پڑھنے لکھنے کے دوران یہ ذہن بنادیا جاتا تھا کہ کم بچے، یہ مہذب تعلیم یافتہ اور معاصر دنیا کی سمجھ رکھنے والے لوگوں کی لاگت ہے۔ فلسطین والے اس بھرم میں نہیں آئے تو وہاں نہ صرف بچوں کی تعداد زیادہ ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کی تدبیر کچھ یوں ہے کہ القدس کی حفاظت کی خاطر جتنے مسلمان شہید ہوئے ہیں، ان سے دو یا چھ گنا زیادہ فلسطینی مسلمانوں کو نرینہ اولاد کا تحفہ دیا ہے۔ حال ہی میں ایک خاتون 69 نرینہ بچوں کو جنم دینے کے بعد چالیس سال کی عمر میں انتقال کرگئی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عالم اسلام کے دو بازو

اللہ تعالیٰ نے کچھ اوقات، کچھ جگہوں اور کچھ چیزوں میں خصوصی ’’برکت‘‘ رکھی ہے۔ ’’برکت‘‘ کا معنی: ’’اضافہ اور بڑھوتری‘‘۔ یہ اضافہ کبھی ظاہری اور مادّی شکل میں ہوتا ہے اور آنکھوں سے دیکھنے میں آتا ہے اور کبھی معنوی اور باطنی شکل میں ہوتا ہے اور دل کی آنکھوں سے نکلنے والی ایمان کی روشنی سے نظر آتا ہے۔ ’’لیلۃ القدر‘‘ بظاہر عام راتوں کی طرح چھ سے آٹھ گھنٹوں کی ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس میں ہزار مہینوں جتنی برکت رکھ دیتا ہے۔

حجاز اور شام کرئہ ارض کے سب سے زیادہ بابرکت حصے ’’ارض العرب‘‘ کے ممتاز ترین خطے ہیں۔ ان کی سرزمین بظاہر عام زمینوں کی طرح بلکہ ظاہری رونق اور چمک دمک دوسری جگہوں کی کچھ زیادہ ہی ہے، لیکن ان میں اللہ تعالیٰ نے خاص برکت رکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دونوں گھر (قبلۂ اوّل اور قبلۂ آخر) یہیں ہیں۔ اولوالعزم پیغمبر یہیں آئے۔ عظیم المرتبت آسمانی چار کتابیں یہیں نازل ہوئیں۔ ابتدائے کائنات سے آج تک انسانی تاریخ کا رخ بدلنے والے بڑے بڑے واقعات یہیں وقوع پذیر ہوئے اور آخر زمانے میں پوری دنیا کا روحانی، سیاسی اور بشری جغرافیہ بدل دینے والے عالمگیر واقعات بھی یہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جانﷺ ہے تو جہان ہے

’’جان ہے تو جہان ہے‘‘ یہ اردو کا ایک مشہور محاورہ ہے۔ اس کا تحفظِ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہم سے تعلق سمجھنے کے لیے آپ کو کالم کی آخری سطر تک انتظار کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جیسی متبرک و بابرکت ذات سے… جو خود ربّ العزت جلّ جلالہٗ کے محبوب ہیں… عقیدت و محبت کی توفیق دی۔ بس یہ وہ سہارا ہے جس کی بنا پر ہم دنیا میں سرخ روئی اور آخرت میں نجات و فلاح کی امید رکھتے ہیں۔ جو امتی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دامن سے چمٹا ہوا ہے اس کو کامیابی و کامرانی کے لیے کسی اور ضمانت کی ضرورت نہیں۔ دوسری طرف دنیا میں ایسے لوگوں کو مادّی غلبہ نصیب ہوگیا ہے جو اپنے انبیائے کرام کی گستاخی کے سبب ملعون و مغضوب ہوئے اور بندر و خنزیر بنائے گئے، ان سے یہ عادتِ بد گئی نہیں۔ انہیں کسی طور مسلمانوں کی اپنے نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے بے لوث محبت اور وارفتگی کی حد تک پہنچی ہوئی والہانہ عقیدت ایک آنکھ نہیں بھائی۔ اور وہ جلن و حسد کے سبب مسلمانوں کو اذیت دینے کے لیے ان کی محبوب ترین ہستی… جو انسانی تاریخ کی اور اس کائنات کی محبوب ترین ہستی ہیں…

مزید پڑھیے۔۔۔

سلطان فاتح کی مسجد میں

وہ واقعہ لکھنا چاہوں گا جو سلطان فاتح کی مسجد میں پیش آیا اور اس کتاب کی تالیف کے لیے مہمیز ثابت ہوا۔ یہ احقر جن دنوں ترکی میں ’’آپ ہدایہ کیسے پڑھیں؟‘‘ کے نام سے دورہ کروارہا تھا۔ اس زمانے میں وہاں شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ کے دو شاگرد تشریف لے آئے۔ ایک تو شام کے مشہور عالم شیخ محمد عوامہ صاحب دامت برکاتہم جن سے اجازت حدیث کا یادگارواقعہ راقم اسی کتاب میں تحریر کرچکا ہے۔ دوسرے عراق کے مشہور عالم شیخ عبدالسمیع انیس صاحب۔ میزبانوںسے درخواست کر کے ان کی زیارت اور ان سے اجازت حدیث حاصل کرنے کی ترتیب بنائی گئی۔ اللہ کی شان کے سلطان محمد فاتح کی مسجد میں ملاقات طے ہوئی۔ اس کے ایک کنارے بیٹھ کر ہم نے شیخ کی ترتیب دی ہوئی سو احادیث پرمشتمل کتاب ’’الأوائل الحدیثیۃ المئۃ‘‘کی قرأت اور سماع کیا۔ طریقہ یہ تھا کہ شیخ نے اس کتاب میں حدیث مبارک کی سو کتابوں سے پہلی حدیث جمع کی ہوئی ہے۔ پہلی حدیث وہ خود پڑھتے اور پھر باری باری سب حاضرین ایک حدیث پڑھتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شرعیت وفطرت کا امتزاج

دنیا میں انسانی آبادی کا تناسب مرد و زن کے اعتبار سے تقریباً ایک اور چار کا ہمیشہ سے ہی رہا ہے یا اس کے لگ بھگ۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں جو دینی فطرت ہے اور عالم الغیب کا بھیجا ہوا نظامِ حیات ہے، اس میں ایک مرد کو چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی گئی ہے، حکم تو نہیں، مگر اجازت ہے اور ترغیب بھی۔ ساتھ ہی حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ یہ تناسب ایک اور چالیس ہوجائے گا۔ اس زمانے میں وہ لوگ جو ایک مرد کی چار شادی پر اعتراض کرتے تھے، وہ ازخود چار شادیوں کو تو لازم قرار دے دیں گے۔ اس زمانے کی ابتدا شاید ہوچکی ہے، کیونکہ اس وقت دنیا میں انسانی آبادی میں خواتین کا تناسب مردوں کے بنسبت چار اور ایک سے بہت بڑھ گیا ہے اور بڑھتا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم پاسباں اس کے وہ پاسباں ہمارا

اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر زمین پر خانہ کعبہ کی شکل میں حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنایا۔ اس کے چالیس سال بعد دوسرا گھر مسجد اقصیٰ کی شکل میں بنا۔ (بخاری شریف بروایت حضرت ابوذرؓ) یہی دونوں گھر دو قبلے ہیں۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پہلے گھر سے دوسرے گھر تک لے گئے۔ وہاں تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کرواکر آسمانوں پر اپنے عرش تک عروج عطا فرمایا۔

اولین و آخرین کی یہ امامت اور پھر فرش سے عرش تک کا یہ سفر جہاں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت تامّہ کی علامت ہے وہیں آپ کی امت کی تمام امتوں پر فضیلت کا شاہد عدل بھی ہے۔ یہ امت دونوں قبلوں کی وارث اور انبیاء کرام علیہم السلام کی ان دونوں عبادت گاہوں کی امین و خادم ہے۔ آج قبلہ اوّل گھیرے میں آچکا ہے اور قبلۂ حقیقی پر دشمنانِ خدا و رسول اور حاسدین اسلام کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ روحانی وراثت کا تحفظ اور امانت کی پاسبانی ایمانی غیرت کو پکار رہی ہے۔ ’’ہم پاسباں اس کے وہ پاسباں ہمارا۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔