• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

آزمائش کے دن

جب فیصلے کی گھڑی… لمحۂ موعود… قریب آن لگے گی تو عجیب عجیب باتیں ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گی… لیکن کن عجیب باتوں کا فیصلے کے لمحے سے کس طرح کا تعلق ہے؟ یہ بات اللہ تعالیٰ نے نہایت مبہم رکھی ہے۔ اتنی مبہم کہ اس کی علامات کو بھی مبہم رکھا گیا ہے تاکہ آزمائش کے لمحات میں امتحان پر پورا اترنے والے خوش قسمت مبہم علامات کی بالجزم تطبیق میں خود کو کھپانے کے بجائے اپنے حصے کے کام میں لگے رہیں۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک قوم اپنے کرتوتوں کی بارش میں دو مرتبہ ارضِ مقدس سے نکالی گئی۔ پہلی بار شریعت موسویہ کی تحریف و استہزاء پر اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی تضحیک و تکفیر پر۔ دونوں مرتبہ انکار بھی محدود اور بوقت شریعت کا تھا اور توبہ بھی واسطے اور وسیلے دے کر کی گئی تھی، اس لیے انہیں ’’ارضِ موعود‘‘ میں واپسی کی مشروط اجازت دے دی گئی۔ تیسری مرتبہ انکار بھی دائمی اور عالمگیر شریعت محمدیہ کا ہے، اور واپسی بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر کی گئی ہے، اس لیے اب معافی بھی نہ ہوگی، بلکہ پتھر اور درخت بھی پکار پکار کر ان کے خفیہ ٹھکانوں کی آگاہی دیں گے اور ان کے کلّی خاتمے میں کائنات کی ہر چیز اپنا کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرید ہندی سے مرشد رومی تک

راقم الحروف کے سامنے اس وقت دو منظر یا دو تصویریں ہیں جس کے تقابل میں کئی اہم سبق پوشیدہ ہیں،لیکن ہماری مشکل یہ بن چکی ہے کہ ہم مسلّط کی گئی بناوٹی ’’نالج‘‘ میں تو سر کھپاتے ہیں، ان چیزوں کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں نہ تنقیدی جائزہ لیتے ہیں جو حقیقی معنوں میں سبق آموز بھی ہیں اور عبرت انگیز بھی۔

ایک تصویر تو علامہ محمد اقبال پارک کی ہے جو ان کے مرشد مولانا رومیؒ کے مزار مبارک کے جوار میں قائم کیا گیا ہے۔ اس پارک کے قیام کی تحریک نہ اقبال فائونڈیشن جیسے کسی ادارے نے چلائی نہ ہماری حکومت نے اس کے لیے ترغیب دی نہ فنڈ عطا فرمایا۔ یہ ترک حکومت کی دور اندیشی، تاریخ شناسی اور فکر اجتماعی کا نتیجہ ہے۔ اس میں پاکستان کے سفیر یا محبان اقبال کی کسی کاوش کا کوئی دخل نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مثالیت پرست

خلافت عثمانیہ کے آخری فرماں روا سلطان عبدالحمید خان کی داڑھی والی تصویر آگئی ہے۔ کچھ دنوں میں برصغیر میں انگریزوں کے راستے کی آخری رکاوٹ ریاست میسور کے آخری تاجدار ٹیپو سلطان کی بھی آجائے گی۔ انسانی آبادی کے نوے فیصد دماغوں کی ساخت ایسی ہے کہ وہ مقلّد محض ہوتے ہیں۔ اگر کسی شخصیت یا نظام کو ان کا آئیڈیل بنادیا جائے تو نہ سمجھ میں آنے والی چیزیں بھی بلاتکلف و بلاجھجھک اپنانا شروع کردیتے ہیں اور اگر کسی انتہائی معقول اور متوازن چیز کے ساتھ ان کی ذہنی مناسبت نہ ہو… یا نہ ہونے دی جائے… تو عقلی دلائل کا انبار لگادیں یا فوائد کی پوری فہرست سنادیں، وہ فطری اور افادیت سے بھرپور چیز نہ ان کے ذہن میں بیٹھے گی اور نہ حلق سے اترے گی۔ صرف دس فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی نظریے یا رواج کی پرکھ کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں کی لگام خود تھامے رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رحمت کی چھتری تلے

مشرق ہو یا مغرب، وطن عزیز ہو یا سرزمین عرب، فتن و حوادث کی یلغار ہے جس سے بچنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چھتری تلے آئے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ کی رحمت اہل علم و تقویٰ کی جماعت پر اترتی ہے، لہٰذا مستند علماء و مشایخ سے جڑے بغیر انفرادی یا اجتماعی فتنوں سے بچنا ممکن نہیں۔

روئے زمین پر خیر کا مرکز ارض حرمین ہے۔ اللہ کی رحمت پہلے خانۂ کعبہ پر اترتی ہے پھر ساری دنیا پر پھیلتی ہے، اس لیے مشرق کی شرپسند طاقتیں ہوں یا مغرب کی، ان کی یلغار کا رُخ سرزمین عرب کی طرف ہے۔ یہاں کی نیکی اور روحانیت کی یادگاری ان سے برداشت ہوتی ہے، نہ یہاں کی دولت سے ان کی نظر ہٹتی ہے، اس لیے سرزمین عرب کی مرکزیت و اہمیت جیسے جیسے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے بدی اور شرّ کی قوتیں ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعمیری منصوبے

ایک حدیث شریف کا مضمون ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب مسلمان کا بہترین سرمایہ اس کے جانور ہوں گے جنہیں لے کر وہ کسی پہاڑ کے دامن میں جا بیٹھے گا۔ عن ابی سعید الخذری رضی اللہ عنہ انہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’یُوشِکُ أَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَم یَتْبَعُ بِھَا شَعَفَ یَفِرُّ بِدِیْنِہِ مِن الْفِتَن‘‘ (کتاب الایمان، صحیح بخاری)یہ حدیث شریف اس وقت یاد آئی جب ہم ترکی کے سرحدی قصبے ’’کلس‘‘ میں بیٹھے افطاری کی تیاری کررہے تھے تو ’’باب اسلاتہ‘‘ نامی شام کی سرحد پر قائم دروازے سے ایک شخص آیا۔ ہم نے حال احوال کے بعد ماحضر میں شریک ہونے کی دعوت دی جو اس نے بخوشی قبول کرلی۔ اس کی زبانی باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ آج کل شام کے وہ عوام جنہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، سرحدی پٹی کے دونوں طرف آئے بیٹھے ہیں۔ ان کو روزگار فراہم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک دودھ والی بکری لے کر دے دی جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خیرو برکت کے اعلیٰ کام

بعض لوگ اشکال کرتے ہیں ماہِ رحمت و برکت کے آجانے پر اللہ تعالیٰ شیاطین کو مقید کردیتے ہیں پھر شیطانی کام کیوں مقید نہیں ہوتے؟ بات یہ ہے کہ انسان کو گمراہ کرنے والی چیزیں دو ہیں: ایک اس کے اندر چھپی ہوئی اور دوسری پوری کائنات میں پھیلی ہوئی۔ پہلا دشمن جو اس کے پہلوؤں میں چھپا بیٹھا ہے نفس کہلاتا ہے اور دوسرا جو دنیا بھر میں کھلا پھرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے، شیطان کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان کی برکت سے انسان پر یہ احسان کرتے ہیں کہ بیرونی دشمن کو محصور و مقید فرماکر انسان کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اندرونی دشمن پر قابو پانے کی مشق کرے۔ بیرونی دشمن طاقتور ہے اگر اس سے وقتی طور پر جان چھوٹ جائے تو اندرونی دشمن پر سال بھر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محققین کا کہنا ہے جس کا رمضان نظم و ضبط سے گزر جائے، اس کے سارے سال پر اس کا عکس رہتا ہے۔ جو اس مہینے میں ضبط نفس کے عمل پر استقامت کرے اسے اللہ تعالیٰ ایسی روحانی قوت عطا کرتے ہیں کہ سال بھر نیکی آسان اور گناہ مشکل ہوجاتا ہے۔ تمام نیکیوں کی بنیاد اور تمام برائیوں سے بچنے کا راز اسی کیفیت کے پیدا ہونے میں مضمر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

راہِ اعتدال

شب براء ت آکر گزر چکی ہے اور رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں گزشتہ سال گزر جانے کے بعد اس سال دوبارہ نصیب والوں کو نصیب ہونے آرہی ہیں۔ رات دن کا آنا جانا اور صبح شام کا ایک دوسرے کے پیچھے آتے جاتے رہنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ایسی نشانی ہے جو اللہ ربّ العزت کے حیّ و قیوم ہونے اور انسان کے فانی اور فنا درفنا کے عمل میں مبتلا ہونے کی علامت ہے اور انسان کو یاد دلاتی ہے کہ مہلتِ عمل کم رہ گئی ہے، حساب و کتاب کی گھڑی قریب آن لگی ہے۔ کسی بھی وقت وہ اپنے حصے میں لکھا گیا آخری سانس نمٹاکر دارالفنا سے دارالبقا کو رخصت ہوا چاہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کی نجات اور فلاح کے لیے جس طرح کچھ انفرادی اعمال کو ذریعہ بنایا ہے اسی طرح کچھ اجتماعی اعمال کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ دونوں میں افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کے ساتھ چلتے رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوشبو

کہتے ہیں ہر اچھی چیز کی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ کچھ کو سونگھا جاسکتا ہے اور کچھ کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ خوشبو ہر اچھی چیز، اچھے کام اور اچھے نام میں ہوتی ضرور ہے۔ یہ مہکتی اور پھیلتی ہے، مسخّر اور مسحور بھی کرتی ہے اور بعض اوقات اتنی عمدہ اور وافر ہوتی ہے کہ خوشبوئوں کے قسما قسم جانفزا جھونکے بھی آتے ہیں۔ انسان جب سچ بولتا ہے تو اس سے ایک خوشبو پھیلتی ہے۔ جب روزہ رکھتا ہے تو اس سے اور بھی زیادہ اعلیٰ قسم کی خوشبو مہکتی ہے اور جو خوشبو شہید کے خون سے پھوٹے گی اس کے تو کیا کہنے؟؟؟ جنت کی مٹی میں بھی آیا ہے کہ خوشبو ہی خوشبو ہوگی۔

اس دن بھی ہر طرف خوشبوئوں کا بسیرا تھا۔ جب مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم اس پیرانہ سالی میں محض ترک مہمانوں کے اکرام اور پاکستانی رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اسلام آباد کے ایک چمن زار میں پاکستان بھر سے جمع کیے گئے طلائی زیورات اور جامعہ دارالعلوم کراچی کی طرف سے نقد رقوم پیش کررہے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعجب تو اس پر ہے…

تعجب اس امر پر نہیں ہے کہ صدر اردگان کی مخالفت میں بڑی تعداد میں ووٹ پڑے۔ تعجب تو اس پر ہے کہ وہ مخالفین کی اتنی منظم اور مربوط کوششوں کے باوجود جیت کیسے گئے؟؟؟ جیسے اس وقت روئے زمین پر ایسی قابل ذکر طاقت نہیں جو افغانستان ہیں چھوٹے یا بڑے بم… حسبِ استطاعت، حسب حیثیت اور حسب ظرف… گرا نہ رہی ہو، اسی طرح ایسی بھی طاقت ہمارے علم میں نہیں جو اردگان کی مخالفت پر کمربستہ نہ ہو، جیسے کہ ایسی طاقت کا نام ہم تلاش نہیں کرسکتے جو پاکستان کے حالات کی خرابی یا یہاں کسی نہ کسی قسم کا بحران کھڑا رکھنے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث نہ ہو۔

اردگان کے آخری جلسے کی کوریج میں جس طرح چند پاکستانیوں (اور ایک آدھ غیرملکی چینل) کے علاوہ بیرونی دنیا سے کوئی موجود نہ تھا، اسی طرح وطن عزیز میں اس کے ریفرنڈم کی منصفانہ کوریج بھی چند پاکستانیوں کے علاوہ کوئی نہ کررہا تھا۔ ریفرنڈم سے پہلے جن لوگوں نے دھماکے کیے، افواہیں پھیلائیں، بغاوت برپا کروائی، معیشت گرائی، کرنسی تباہ کی، مہاجرین کی امداد کے لیے ایک کوڑی نہ دی… ریفرنڈم کے بعد ان میں سے کسی نہ جھوٹے منہ مبارکباد دینے کی زحمت بھی نہ کی، لیکن اللہ کے فضل سے جیسے ریفرنڈم سے پہلے شام کے مسلمانوں کی خدمت میں اہلیان پاکستان پیش پیش رہے، اسی طرح ان شاء اللہ ریفرنڈم کے بعد اکابرین علمائے کرام ہی سب سے پہلے مبارک باد کے لیے جائیں گے اور اپنی روایت کو زندہ کرکے ایک نئی روایت بھی رقم کرکے آئیں گے، ان شاء اللہ!

مزید پڑھیے۔۔۔

اجتماعیت سے آگاہی

یہ چند سطریں قونیہ سے۔ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کا شہر… اوہ معاف کیجیے! خواجہ شمس تبریزؒ کا شہر، جنہوں نے مولوی کو ’’مولائے روم‘‘ بنایا۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس سنت کو زندہ کیا کہ اپنی موجودگی میں اپنے سامنے، آگے پیچھے، دو یا کم از کم ایک قیادت تیار کردی جائے جو پیغمبرانہ مشن کو لے کر چلتی رہے۔ امت کے ہر طبقے کی اپنی خصوصیت اور اپنی انفرادیت ہے۔ صوفیاء اور مشایخ کے طبقے کو لوگ عموماً یہ روش دیتے ہیں کہ وہ رکوع و سجود میں رہتے ہیں اور قیام کے فرض کو پورا نہیں کرتے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ تاریخ میں جب تمام طبقات ناکام ہوگئے اور قیام کا فرض ادا کرنے والا کوئی نہ رہا تو صوفیاء وہ طبقہ تھا جس نے قیام بالحق کا مورچہ بھی سنبھالا اور قائمین بالحق تیار کرکے قوم کو دیے۔ ترکی میں جب عالمی اتحادی طاقتوں نے ’’بابائے ترک‘‘ سے چار نکاتی معاہدہ کرکے مرکزِ خلافت کو مرکز الحاد میں تبدیل کروایا تو ستر سال تک کوئی سانس بھی زور سے نہ لیتا تھا، تب مشایخ نقشبند کے فیض یافتہ نجم الدین اربکان جیسے لوگ سامنے آئے اور رجب طیب اردگان جیسی قیادت تیار کرکے قوم کودی، جو اپنی انتخابی مہم کے جلسوں میں قوم کو فاتحہ پڑھواتا ہے، حدیث سناکر وعدے یاد دلاتا اور وعدوں پر کاربند رہنے کا عزم کرتا ہے۔ آخری جلسہ ہمیشہ اقبال لاہوری کے مرشد رومیؒ کے شہر میں کرکے جلسے ختم کرتے ہی ایصالِ ثواب کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ چمن میں دیدہ ور پیدا کرنے کا مشن پر اللہ والے کاربند رہے ہیں، لیکن کبھی اپنوں کی بے نظری انہیں ضائع کردیتی ہے اور کبھی غیروں کی بدنظری انہیں کھاجاتی ہے۔ افراط و تفریط یا دوسرے لفظوں میں بے جاحمایت یا نظریات کے بجائے شخصیات کی تایید وہ مرض کہنہ ہے جو اُمت کے وجود کو پہلے لاغر اور پھر معذور کردیتا ہے، لہٰذا شکوہ و شکایت یا مبالغہ و قصیدہ خوانی کے بجائے اُمت کے ہر فرد کو اپنی جگہ، اپنے کام میں لگے رہنا چاہیے۔

بات ابتدا یا وسط کی نہیں، حسن عاقبہ کا مدار اختتام پر ہوتا ہے۔ اختتام کی لکیر تک پہنچتے پہنچتے راستے میں اتنے نازک موڑ اور اتنے فتنہ خیز مقامات آتے ہیں کہ صبر و استقامت کا توشہ نہ ہو یا نصرت الٰہی ساتھ نہ ہو تو خبر نہیں کہاں قدم پھیل جائیں۔ جب تک مقاصد سے آگاہی نہ ہو فضولیات سے جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے۔ اس وقت بہت زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کو خوشی اور غمی کی فضول رسومات سے آزاد کرواکر اجتماعیت اور اجتماعی مقاصد کی خاطر ایثار و قربانی کی راہ پر لگایا جائے۔ امت کے وسائل کا بہت بڑا حصہ شادی کی فضولیات اور غمی کی ان رسومات پر خرچ ہورہا ہے جو ریاکاری، دنیاداری اور نفس پرستی کا بدترین نمونہ ہیں۔ اس وقت جہاں سرمایہ دار مسلم طبقے کے پاس وسائل کی بہتات ہے وہیں بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کوئی اور نہیں، مسلمان ہی ہیں۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے کہ شادی کی ایک ایک رسم پر لاکھوں پھونکے جارہے ہیں تو دوسری طرف مہاجر کیمپوں میں ایسی نسل کی نسل تیار ہورہی ہے جس کے پاس تعلیم یا ہنر تو کجا، بنیادی ضروریات کے فقدان کا یہ حال ہے کہ وہ اس سے پیدا ہونے والے کرب اور غضب سے متاثر ہوکر بیزاری کے اس درجے کو پہنچ رہے ہیں کہ عالم اسلام سے مایوسی انہیں پوری بنی نوع انسانیت سے بغاوت کے مرحلے پر پہنچارہی ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھیے کہ کسی ایک صاحب حیثیت مسلمان کے کسی عزیز کی فوتگی پر خوشامدی تعزیت یا غیرمسنون ایصال ثواب کی ترغیب پر مشتمل اشتہارات ہی لاکھوں کے ہوتے ہیں، دوسری طرف بے بسی کے عالم میں جان دینے والے ایسے کتنے ہیں جنہیں تدفین کے لیے کوئے یار میں دوگز جگہ تو کیا ملتی، زخموں سے کٹا پھٹا جسم ڈھکنے کو دو گز کفن بھی میسر نہیں۔ اور تو اور مدارس میں آج کل تعلیمی سال کا اختتام ہے۔ تعلیم کی تکمیل کی خوشی میں ہونے والی طلبہ کی نجی تقاریب کی سادگی پر اساتذہ زور دیتے رہ گئے اور معاملہ مدرسہ کے درودیوار سے نکل کر شادی ہالوں میں ہونے والی ’’تقریب سعید‘‘ پر جاپہنچا ہے۔ جانے نہ جانے، گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔

شام میں زہریلی گیس پھیلانے والے بم استعمال کرلیے گئے ہیں، افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا بم پھینک دیا گیا ہے، صومالیہ میں قحط کا عفریت ہڈیوں سے گودا نچوڑ چکا ہے، غزہ میں دنیا کی سب سے بڑی آزاد جیل کے باسیوں کو دنیا بھولتی جارہی ہے۔ برما میں جاری بہیمانہ نسل کشی پر تو رونے والا بھی کوئی نہیں، ترکی کا سربراہ اگر ریفرنڈم نہیں جیتتا تو اگلے انتخاب میں دو تہائی کا ہدف اس کی مقبولیت کے باوجود اتنا مشکل ہے کہ اس کے بعد آنے والا تو اس سنگ میل کو عبور کرنے کا سوچ بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا ہمیں اجتماعی مقاصد سے آگاہی حاصل کرکے ان کی طرف سفر شروع کردینا چاہیے۔ فضولیات میں پڑکر خرافات میں کھوگئے تو وہ ذاتی مفاد بھی ہمارے لیے حسرتوں بھرا نوحہ بن جائیں گے جن کی خاطر ہم نے اجتماعیت سے بے وفائی کی تھی۔

تقاضوں سے ہم آہنگ تقریب

روایت کے تحفظ کے ساتھ اس کے اظہار میں جدّت کا امتزاج بھی ضروری ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ مدارس نے ہماری روایت کو محفوظ کیا ہوا ہے، لیکن اس کا ایسا اظہار کہ اس میں سلیقہ اور جاذبیت اس قدر ہو کہ عوام الناس کو یہ یقین دلادے کہ ان کی امانت محفوظ ہاتھ میں ہے جو اس حفاظت کے ساتھ اس کی اشاعت کے بھی اہل ہیں، یہ آج کے دور میں نہایت ضروری ہے۔ عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح کے اسالیب پر ہمارے اکابر نے جو کچھ لکھا ہے، ویسا ہی دین کی تبلیغ اور دینی داروں اور تحریکوں کے شعبۂ ابلاغ و تشہیر پر بھی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم معاشرے میں اپنی اہلیت اور نافعیت ثابت نہیں کرتے، تب تک نہ ہم پیغمبرانہ وراثت کی اشاعت کا فرض ادا کرسکتے ہیں اور نہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچاسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔