• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

خاموش کھلاڑی بولتا کھیل

سانپ تیزی سے حرکت کررہا ہے۔ یہ سانپ نہیں اژدھا ہے۔ سانپوں کو تو عصائے موسوی نگل گیا تھا۔ یہ وہ اژدھا ہے جو سامری وقت کی پٹاری سے برآمد ہوا ہے۔ اس اژدھا نے دم کو اپنی جگہ ٹکاکر منہ کی طرف سے حرکت شروع کی تھی۔ یہ حرکت تقریباً ستر سال پہلے (1948ئ) میں شروع ہوئی تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دس قبیلے ’’یروشلم واپسی‘‘ کی مہم کے تحت ’’ارض موعود‘‘ میں آآکر بسنا شروع ہوگئے تھے۔ اب گیارہویں قبیلے کے لیے ’’آزاد کردستان‘‘ کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ جو قوم غیراسرائیلی خون کو ’’جنٹائل‘‘ اور ’’گویم‘‘ قرار دے کر اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتی، وہ سیکولر کردوں کو یوں گلے سے لگائے کھڑی ہے جیسے وہ اس کا بچھڑا ہوا گیارہواں بھائی ہو۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تو پھر کیوں بھٹک گیا انسان

دنیا جہاں ایک دوسرے سے قریب ہورہی ہے وہیں دور بھی ہورہی ہے۔ جتنی پھیل رہی ہے اتنی سمٹ بھی رہی ہے۔ عالمی سطح پر نئے تعلقات وجود میں آرہے ہیں، نئے معاہدے ہورہے ہیں، نئی دوستیوں کی بنیاد رکھی جارہی ہیں اور نئی مخالفتوں، بے بیجا کھلی دشمنیوں کا آغاز بھی ہورہا ہے۔ جو ملک دور دور تھے وہ قریب آرہے ہیں اور جو نہ ختم ہونے والے تعلقات کے حوالے سے مشہور تھے وہ دور جارہے ہیں۔ ’’اور ہم ہی ہیں جو تمہارے درمیان حالات کو بدلتے سدلتے رہتے ہیں۔‘‘ (آل عمران: 140)

جو قومیں اپنے نظریات کے دفاع اور قومی مفادات کے تناظر میں آزادانہ فیصلے کرتی ہیں ان کی روشنیاں پائیدار اور دشمنیاں نبھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ ان کے دوست دانا اور دشمن نادان ہوتے ہیں۔ اور جن قوموں کے فیصلے بیرونی دبائو یا ذاتی مفاد کے تحت ہوتے ہیں انہیں ہمیشہ ناداں دوست اور دانا دشمنوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ ان کی روشنیاں ناپائیدار اور دشمنیاں سدابہار ہوتی ہیں۔ ان کے دوست ان پر فخر نہیں کرسکتے اور ایک وقت آتا ہے کہ دشمن بھی ان پر ترس کھانے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شہداء کربلا کے سچے وارث

آج نئے اسلامی سال کا پہلا ہفتہ ہے۔ اسلامی سال کا پہلا مہینہ قدرتی طور پر دین کی خاطر قربانی دینے اور پھر اس قربانی کی یادگار کو شریعت کے تابع رہ کر زندہ رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اس حوالے سے میں آپ کو شیخ خضر کا واقعہ سنانا چاہتا ہوں جو دین کے سچے خادموں پر آنے والے کربلا کے تسلسل کی علامت ہے اور اس میں یہ سبق ہے کہ کس طرح ہم مشکلات کے باوجود دین کی سربلندی کی محنت کو رکھ سکتے ہیں۔

شیخ خضر شہیدؒ شمالی ترکی کے رہنے والے تھے۔ صدر اردگان اور شیخ محمود آفندی دامت برکاتہم بھی شمالی ترکی کے رہنے والے ہیں۔ ترکی کے شمال میں بحراسود ہے۔ اس کے کنارے واقع ساحلی شہر اپنی فطری خوب صورتی، صحت بخش آب و ہوا کے علاوہ مردم خیز خطہ ہونے کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ شیخ خضر جنہیں ترکی کے علماء و مشایخ نے ’’شہید محراب‘‘ کا لقب دیا، راسخ العلم عالم ، صحیح المشرب صوفی اورمتبع سنت بزرگ ہونے کے علاوہ بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ ان کی حق گوئی اور بے باکی ضرب المثل تھی۔ استنبول کے علاقے ’’فاتح‘‘ کے قریب جامع مسجد سلطان یاہو سلیم ایک بلند ٹیلہ نما مسطح رقبہ پر واقع ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہولوگرام ٹیکنالوجی

شرک کی دنیا میں بہت سی قسمیں ہیں، لیکن سب سے بدترین قسم آخر زمانہ میں ظاہر ہوگی۔ فتنے دنیا میں بہت آئے، لیکن عظیم ترین فتنہ آخری زمانہ (اینڈ آف دی ٹائم) میں ظہور کرے گا۔ فتنۂ عظمیٰ کے زمانے میں شرک عظیم کا ظہور ہوگا۔ عقیدے کی کمزوری اور توھم پرستی میں اضافے کی وجہ سے شرک کی قسماقسم صورتیں وجود میں آرہی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ مادّیت پرست دنیا ’’شرکِ عظیم‘‘ کے لیے ذہنی طور پر تیار ہورہی ہے یا کی جارہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے فتنوں کے ظہور کی کثرت اس امر کی نشانی ہے کہ دنیا اپنی تاریخ کے سب سے بڑے فتنے کی طرف جارہی ہے۔ زمانۂ جاہلیت قدیمہ میں انسان شرک کی سادہ قسمیں گھڑتا تھا۔ مٹی پتھر، لکڑی لوہے کے بت بنالیے۔ زیادہ ہی عقیدت کا جوش چڑھا اور وسائل کی فراوانی حاصل ہوئی تو سونے چاندی کی مورتیوں تک جاپہنچا، لیکن یہ سب مخلوقات ہیں۔ مخلوق کو خالق کا شریک جاننا صریح اور واضح حماقت ہے۔ ایسے شرک میں دلیل سرے سے مفقود اور عقلیت یکسر ناپید ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم مصطفوی ہیں

باتیں تو کرنے کی کئی ہیں۔ دیکھیں کس کی باری کب آتی ہے۔ سب سے پہلی تو یہ کہ مایوسی یا پست حوصلگی کی قطعاً ضرورت نہیں، بلکہ گنجائش ہی نہیں۔ ہم نے ہر بار ثابت کیا ہے کہ ندامت کے آنسوئوں کی ذرا سی نمی چاہیے، اس کے بعد وہ زرخیزی دیکھنے کو ملے گی کہ ساقی حیران رہ جائے گا کہ یاربّ ایسی چنگاری بھی ہمارے خاکستر میں تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’دوڑ کر آئو میری طرف۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیر انسان کے ساتھ فضل و کرم کا پہلا معاملہ ہے۔ پھر انسان جب دنیا داری میں پڑ کر اپنے ربّ سے دور ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرا احسان یہ فرماتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً اسے احساس دلانے والے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اپنے ربّ کو دل کی گہرائیوں سے ایسا یاد کرے کہ غفلت کی اگلی پچھلی کسر نکل جائے اور ایسا رجوع نصیب ہو کہ صدیوں کا فاصلہ لمحہ بھر میں طے ہوجائے۔ دنیا نے ہمیں بہت طعنے دیے، لبرلز نے حوصلہ شکنی میں کسر نہیں چھوڑی، سیکولر لوگوں نے دل کھول کر پھپھولے پھوڑے، اب سب حیران و ششدر ہیں کہ مظلوم ہوکر اس اُمت کا یہ حال ہے تو فاتح بن کر اس کی اعلیٰ ظرفی اور بلندی حوصلگی کا کیا عالم ہوگا۔ واللہ العظیم! اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتی جو خود زخموں کے چور ہوکر جاں بہ بلب ہو، لیکن اس حالت میں بھی پانی کا پیالہ دوسرے کے لبوں سے لگانے پر اصرار کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسرائیل کا تیل کہاں سے آتا ہے؟

میڈیا… خصوصاً سوشل میڈیا… انسان کے نظریات سے کیسے کھیل رہا ہے؟ اور اس کا وار کیسا کاری ہوتا ہے کہ عام آدمی کا اس سے بچنا مشکل ہے؟ اس کا اندازہ اس پوسٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کسی صاحب نے فیس بک سے لے کر بھیجی کہ یہ فیس بک کی بہتی گنگا میں ہر طرف گردش کررہی ہے، کیا آپ اس پر کوئی تبصرہ کرسکتے ہیں؟ اس عاجز نے جب پہلا جملہ پڑھا تو احساس ہوگیا کہ جھوٹ کے اس پلندے میں جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے جس فریب کاری سے کام لیا گیا ہے، وہ کس کا کمال ہے؟ پھر جب پوری پوسٹ میں بیان کیے گئے ’’حقائق‘‘ کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایک طبقہ ہر حال میں، ہر قیمت پر، چاہے اسے جھوٹ باندھنے اور تہمت لگانے جیسا جرم کرنا پڑے، اس امر پر تلا ہوا ہے کہ ترکی کی موجودہ حکومت کے خلاف اتنا ذہن بنائے کہ کل کلاں خدانخواستہ اسے کوئی حادثہ پیش آجائے تو کوئی افسوس کرنے والا بھی ڈھونڈے سے نہ ملے۔ اس طرح کی اگر منفی ذہن سازی کی یہ پہلی کوشش نظر سے گزری ہوتی تو اسے نظرانداز کرنا بہتر تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دریافت والا ححج

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جن روحانی نوازشات اور دنیوی انعامات سے نوازا ہے، ان میں سے ایک ’’حج‘‘ کا اجتماع بھی ہے۔ اپنی نوازشات کی تکمیل اور دنیوی انعامات کی تتمیم کا بہت خوبصورت منظر بھی ہے اور شان و شوکت اور رعب و دبدبے سے بھرپور مظاہرہ بھی۔ دنیا کے بالکل وسط میں، تین براعظموں کے سنگم پر تین بڑے مقدس مقامات (حرم مکی، حرم نبوی، حرم قدسی) ایک سیدھ میں اللہ تعالیٰ نے صرف اور صرف مسلمانوں کو عطا کیے ہیں۔ یہاں دنیا کے مقدس ترین اور قدیم و نایاب ترین مذہبی آثارِ قدیمہ (حجراسود، مقامِ ابراہیم، صخرئہ مقدسہ) ایسے ہیں جن کی کوئی نظیر اقوام عالم میں، آسمانی مذاہبی کے ماننے والوں میں یا مادہ پرست ملحدین میں کہیں نہیں، کہیں بھی نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آزمائش کے دن

جب فیصلے کی گھڑی… لمحۂ موعود… قریب آن لگے گی تو عجیب عجیب باتیں ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گی… لیکن کن عجیب باتوں کا فیصلے کے لمحے سے کس طرح کا تعلق ہے؟ یہ بات اللہ تعالیٰ نے نہایت مبہم رکھی ہے۔ اتنی مبہم کہ اس کی علامات کو بھی مبہم رکھا گیا ہے تاکہ آزمائش کے لمحات میں امتحان پر پورا اترنے والے خوش قسمت مبہم علامات کی بالجزم تطبیق میں خود کو کھپانے کے بجائے اپنے حصے کے کام میں لگے رہیں۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک قوم اپنے کرتوتوں کی بارش میں دو مرتبہ ارضِ مقدس سے نکالی گئی۔ پہلی بار شریعت موسویہ کی تحریف و استہزاء پر اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی تضحیک و تکفیر پر۔ دونوں مرتبہ انکار بھی محدود اور بوقت شریعت کا تھا اور توبہ بھی واسطے اور وسیلے دے کر کی گئی تھی، اس لیے انہیں ’’ارضِ موعود‘‘ میں واپسی کی مشروط اجازت دے دی گئی۔ تیسری مرتبہ انکار بھی دائمی اور عالمگیر شریعت محمدیہ کا ہے، اور واپسی بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر کی گئی ہے، اس لیے اب معافی بھی نہ ہوگی، بلکہ پتھر اور درخت بھی پکار پکار کر ان کے خفیہ ٹھکانوں کی آگاہی دیں گے اور ان کے کلّی خاتمے میں کائنات کی ہر چیز اپنا کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرید ہندی سے مرشد رومی تک

راقم الحروف کے سامنے اس وقت دو منظر یا دو تصویریں ہیں جس کے تقابل میں کئی اہم سبق پوشیدہ ہیں،لیکن ہماری مشکل یہ بن چکی ہے کہ ہم مسلّط کی گئی بناوٹی ’’نالج‘‘ میں تو سر کھپاتے ہیں، ان چیزوں کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں نہ تنقیدی جائزہ لیتے ہیں جو حقیقی معنوں میں سبق آموز بھی ہیں اور عبرت انگیز بھی۔

ایک تصویر تو علامہ محمد اقبال پارک کی ہے جو ان کے مرشد مولانا رومیؒ کے مزار مبارک کے جوار میں قائم کیا گیا ہے۔ اس پارک کے قیام کی تحریک نہ اقبال فائونڈیشن جیسے کسی ادارے نے چلائی نہ ہماری حکومت نے اس کے لیے ترغیب دی نہ فنڈ عطا فرمایا۔ یہ ترک حکومت کی دور اندیشی، تاریخ شناسی اور فکر اجتماعی کا نتیجہ ہے۔ اس میں پاکستان کے سفیر یا محبان اقبال کی کسی کاوش کا کوئی دخل نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مثالیت پرست

خلافت عثمانیہ کے آخری فرماں روا سلطان عبدالحمید خان کی داڑھی والی تصویر آگئی ہے۔ کچھ دنوں میں برصغیر میں انگریزوں کے راستے کی آخری رکاوٹ ریاست میسور کے آخری تاجدار ٹیپو سلطان کی بھی آجائے گی۔ انسانی آبادی کے نوے فیصد دماغوں کی ساخت ایسی ہے کہ وہ مقلّد محض ہوتے ہیں۔ اگر کسی شخصیت یا نظام کو ان کا آئیڈیل بنادیا جائے تو نہ سمجھ میں آنے والی چیزیں بھی بلاتکلف و بلاجھجھک اپنانا شروع کردیتے ہیں اور اگر کسی انتہائی معقول اور متوازن چیز کے ساتھ ان کی ذہنی مناسبت نہ ہو… یا نہ ہونے دی جائے… تو عقلی دلائل کا انبار لگادیں یا فوائد کی پوری فہرست سنادیں، وہ فطری اور افادیت سے بھرپور چیز نہ ان کے ذہن میں بیٹھے گی اور نہ حلق سے اترے گی۔ صرف دس فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی نظریے یا رواج کی پرکھ کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے فیصلوں کی لگام خود تھامے رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رحمت کی چھتری تلے

مشرق ہو یا مغرب، وطن عزیز ہو یا سرزمین عرب، فتن و حوادث کی یلغار ہے جس سے بچنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چھتری تلے آئے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ کی رحمت اہل علم و تقویٰ کی جماعت پر اترتی ہے، لہٰذا مستند علماء و مشایخ سے جڑے بغیر انفرادی یا اجتماعی فتنوں سے بچنا ممکن نہیں۔

روئے زمین پر خیر کا مرکز ارض حرمین ہے۔ اللہ کی رحمت پہلے خانۂ کعبہ پر اترتی ہے پھر ساری دنیا پر پھیلتی ہے، اس لیے مشرق کی شرپسند طاقتیں ہوں یا مغرب کی، ان کی یلغار کا رُخ سرزمین عرب کی طرف ہے۔ یہاں کی نیکی اور روحانیت کی یادگاری ان سے برداشت ہوتی ہے، نہ یہاں کی دولت سے ان کی نظر ہٹتی ہے، اس لیے سرزمین عرب کی مرکزیت و اہمیت جیسے جیسے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے بدی اور شرّ کی قوتیں ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔