• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

مثالی مثال

انسان کی فطرت ہے کہ وہ مثالوں سے سیکھتا ہے، لیکن وہ مثال بناتا کسے اور اپناتا کیسے ہے؟ یہ اہم مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کی تربیت کے لیے مغربی معاشرت کو مثال بنایا جاتا ہے۔ آداب و اخلاق ہوں یا جنسی تعلیم، مغرب جس رخ کو چلے ہمیں وہی رخ اختیار کرنے کو کہا جاتا ہے، جبکہ مغرب کا قارورہ ہم سے کسی چیز میں نہیں ملتا۔ وہاں تمام جام بلّوریں ہیں، جبکہ ہمارے پاس فقط پرانا مٹکا ہے۔

ترکی زمان و مکان، موسم و مزاج کے اعتبار سے مغرب کے دہانے پر واقع ہے، مگر وہ مغرب کی تقلید کے بجائے زمانے میں پنپنے کے آزاد رویے دنیا میں متعارف کروارہا ہے۔ وہاں بچوں کی صحت و تعلیم پر بھرپور توجہ کے ساتھ انہیں مقصد زندگی کی تفہیم اور آفاقی انسانی آداب سے متصف کرنے کے لیے عجیب و غریب مثالی رویے اختیار کیے جاتے ہیں۔ انہیں جنسی تعلیم کے ذریعے جنسیت زدہ انسان بنانے کے بجائے ایسی اخلاقی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے جو معاصر دنیا میں ایک مثالی مثال بنتی جارہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شہرِ عصیاں میں منادی

شریعت و سنت میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی معجزانہ خصوصیات رکھی ہیں۔ مثلاً شریعت کی ایک عجیب و غریب خصوصیت یہ ہے کہ جس چیز کا جو شرعی حکم اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے، اس چیز کا کوئی اور حکم نہ صرف بے جوڑ اور بے اثر ہوتا ہے، بلکہ اس کائنات کے نظام کو بھی درہم برہم کردیتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک سنتوں کی اس سے ملتی جلتی خصوصیت یہ ہے کہ جس چیز کو جس طرح اور جس کیفیت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے برتا ہے، اس سے اچھا طریقہ اس دنیا میں ہو ہی نہیں سکتا۔ انسانیت کی بدقسمتی ہوگی اگر وہ ان طریقوں پر گرد اُڑائے اور مسلمانوں کی انتہائی بدنصیبی ہے اگر وہ غیروں کے طریقے اپنائیں اور دنیا کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں سے لاعلم رکھیں۔

حدود کی مثال لے لیجیے۔ دنیا میں پانچ جرائم ایسے ہیں جن کی طرف انسانی نفوس میں بے انتہا رغبت اور کشش پائی جاتی ہے۔ شراب نوشی، ناجائز جنسی تعلقات، بہتان تراشی، دوسروں کا مال چوری سے ہتھیانا اور لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی ڈاکے میں اڑا لے جانا۔ ان گناہوں کا خاتمہ کسی بھی معاشرے سے ہو ہی نہیں سکتا جب تک ان کے مرتکب کو وہ سزا نہ دی جائے جو شریعت نے طے کی ہے اور جو عالم الغیب اور احکم الحاکمین نے متعین کی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی سزا چاہے کتنی ہی مفید اور مناسب معلوم ہورہی ہو، اس جرم کا خاتمہ کرسکتی ہے نہ مجرمین کو باز آنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فرض کا علم

عالمِ اسلام کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے تو اللہ کی شان پر تعجب ہوتا ہے۔ پاکستان میں ماشاء اللہ جیسا علم و فضل پایا جاتا ہے ایسا خال ہی کہیں ہے، لیکن اس علم سے ارکان ریاست فائدہ اٹھائیں، بس اس کی تمنّا کی جاسکتی ہے۔ ترکی میں ارکان ریاست دل سے چاہتے ہیں، بلکہ ان کا یہ جذبہ کبھی بے لگام ہوجاتا ہے کہ اسلام کی عملی تنفیذ کے فوائد سے فائدہ اٹھائیں، لیکن وہاں ایسے اہلِ علم کی کمی ہے جو دستور کی شکل میں ڈھال کر ایسا مسودہ پیش کرسکیں جو آسمانی ہدایت کا خلاصہ ہو یا پھر ان مشکلات کا حل تجویز کرسکیں جو گزشتہ سو سال کے عرصے میں تنفیذ اسلام کے حوالے سے سامنے آئی ہیں اور ان پر اس وجہ سے کام نہیں ہوسکا کہ ریاستی سطح پر اس سے استفادے کی طلب صادق مفقود معلوم ہوتی تھی۔ اور سچی بات یہ ہے کہ آپ سچائی اور انصاف کے ساتھ انسان اور انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے خلوص دل سے کام شروع کردیں تو کسی نئے دستور کی کوئی ایسی خاص ضرورت بھی نہیں جو مروّجہ دساتیر عالم کی شکل میں ہو۔ یہود کو اپنا قانون تحریف کرنے اور اس کی پاداش میں دربدر ہوئے دو ہزار سال ہونے کو آئے ہیں،

مزید پڑھیے۔۔۔

اقصیٰ کی مظلوم پکار

جب 1917ء کے اعلان بالفور کو سو سال اور 1967ء کے قبضۂ القدس کو پچاس سال گزر چکے تھے تو کچھ نہ کچھ ہونا ہی تھا۔ قوم یہود بنواسحٰق سے ہے اور حضرت اسحٰق علیہ السلام کے متعلق قرآن پاک فرماتا ہے کہ وہ ’’غلام علیم‘‘ تھے یعنی خوب علم و فہم رکھتے تھے۔ منصوبہ بندی بھی ایک علم ہے اور قوم یہود سو سال، پانچ سو سال اور ہزار سال کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس نے اپنی ذہانت اور منصوبہ بندی کی صلاحیت کو ہمیشہ غلط مصرف میں بے دریغ استعمال کیا جس کی بنا پر خدائی غضب اور آسمانی مصیبت کا شکار ہوئی اور آج تک ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج یہ اللہ اور بندوں کی نظر سے گر کر یوں سارے زمانے کی نفرت اور پھٹکار کا شکار نہ ہوتے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک نادر مثالی مرکز

عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں اس وقت مختلف تجربات ہورہے ہیں۔ صاحبِ دل مسلمان مشکل حالات سے نکلنے اور دوسروں کو نکالنے کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کررہے ہیں۔ کوئی بھی کوشش ہر اعتبار سے مکمل نہیں کہلائی جاسکتی اور نہ مفید کوششوں کی افادیت کا انکار کیا جاسکتا ہے، لہٰذا مسلسل مشاہدہ کرنے، واقف رہنے اور سیکھتے رہنے کی ضرورت ہے۔

آج آپ کو ایسے ادارے سے واقف کرواتے ہیں جس سے ہماری شناسائی اتفاقاً ہی ہوگئی، لیکن اس کی کارکردگی کے کچھ پہلو ایسے تھے کہ یقینا قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ ہوا یوں کہ ترکی آمد کے موقع پر ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی ہماری کوشش تھی کہ مہمانوں کو تو ہوٹل میں ٹھہرادیں

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنے حصے کا کام

عربی کا ایک مقولہ ہے جو انسان کو اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے میں بہت مدد دیتا ہے: ’’الخیر فی ماوقع‘‘ یعنی ’’جو ہوا اسی میں ان شاء اللہ خیر اور بھلائی ہے۔‘‘ اسی طرح فارسی اور ترکی کا ایک مقولہ ہے جس کا ترجمہ کافی مشہور ہے اور آپ نے بھی کئی بار سنا ہوگا، لیکن اس کا مصداق ترکی میں جاکر جیسا واضح طور پر مشاہدے میں آتا ہے ایسا کم ہی کہیں اور نظر آئے گا۔ ’’دشمن برا چاہتا ہے، لیکن اللہ ربّ العزت اس سے بھی خیر سامنے لے آتا ہے۔‘‘ یہ جملہ جہاں انسان کو رضا بالقضاء کی تعلیم دیتا ہے اور انسان نامساعد حالات میں شکوہ شکایت کے بجائے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دینے کا عادی ہوجاتا ہے، وہیں اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اللہ ربّ العزت ایسا قادر مطلق ہے کہ جس طرح زندے سے مردہ اور مردے سے زندہ نکال دیتا ہے، اسی طرح خیر سے شر اور شر سے خیر برآمد کرنے کی قدرت کاملہ صرف اسی کے پاس ہے۔

انسان کو ناموافق حالات سے ہمت نہیں ہارنی چاہیے، ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا اور اسی سے خیر مانگتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہیں کایا پلٹ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم بھولے نہیں ہیں

کچھ چیزیں قوموں کی تاریخ میں ناقابل فراموش ہوتی ہیں۔ جو قوم انہیں بھلادے تو تاریخ انہیں بھلادیتی ہے اور جو ان یادگاروں کو سجا سنوار کر اگلی نسل کے حوالے کرے اس کے مستقبل کی تابنائی کو کوئی گدلا نہیں سکتا۔ ہماری تاریخ میں بھی چونڈہ کے محاذ سے لے کر بی آر بی نہر تک بہت سی ناقابل فراموش یادگاریں ایسی ہیں جو ہمیشہ ہمیں سر اٹھاکر جینے کا حوصلہ دیتے رہیں گے۔ 73ء کا آئین منظور ہونے سے لے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے تک بہت سے نظریاتی کارنامے ایسے ہیں جو رہتی دنیا تک ہماری سربلندی کے لیے کافی ہیں، لیکن جن چیزوں کی یادداشت ہر ذہن میں بٹھانی ضروری ہے ہم انہیں تو فراموش کردیتے ہیں اور جو الّم غلّم چیزیں دنیا بھر سے ملیں انہیں چوکوں میں لاکر سجادیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روشنی کا سفر

فتنوں کے اس دور میں اندھیریاں بھی بہت ہیں، لیکن امت محمدیہ کی کرامت یہی ہے کہ روشنی کا سفر جاری ہے۔ جہاں اندھیرے مایوسی پھیلائے ہوئے ہیں وہیں روشنی کی پھوٹنی کرنیں تلاش کا سفر جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی رہتی ہیں۔ اس عاجز کا ترکی کا پہلا سفر آج سے تقریباً پانچ چھ سال پہلے اس تحریک کے مشاہداتی مطالعے کے لیے تھا جو ترکی کے اصلاح پسندوں نے واپسی کے سفر کے طور پر شروع کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ترک معاشرے کو بدلنے میں کامیاب ہوتے چلے گئے۔ پھر شام میں مسلمانوں کے جبری انخلا کا سانحہ پیش آیا تو ان اسفار کا رُخ رفاہی سرگرمیوں کی طرف پھرگیا۔ اب موجودہ سفر میں وفاق المدارس کے سیکریٹری جنرل حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم کی آمد ان شاء اللہ ان علمی سرگرمیوں کو فروغ دے گی جس سے برصغیر کے اہلِ علم کا وہ قیمتی تجربہ اور عدیم النظیر جذبۂ فروغ علم اور مثالی نظامِ تعلیم ترکی منتقل ہونے کا آغاز ہوگا جو یہاں کے علماء کی خصوصیت ہے اور دنیا مانے یا نہ مانے، یہ اس میں اپنی مثال آپ ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خالی جگہ بھریں

دنیا میں بنوامیہ اور بنوعباس کی شاندار عرب تہذیبوں کے بعد اب تک تین تہذیبیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اسلام کو قائم، نافذ اور غالب کیا۔ آج کل دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان ان تینوں میں سے کسی ایک کے وارث ہیں۔ ان تینوں میں کچھ صفات تھیں جن کے باقی رکھنے پر اور پروان چڑھانے پر ان تہذیبوں کی باقیات کی بقا موقوف ہے۔ دنیا بھر کی کوشش ہے کہ نہ تو یہ اپنی اصل کی طرف لوٹنے پائیں اور نہ ایک دوسرے سے تعاون کرسکیں۔ ان میں سے ایک تہذیب تو اپنے ورثے کی سرے سے حفاظت ہی نہ کرسکی، لہٰذا وہ مخالفت آندھی کی نذر ہوگئی۔ بقیہ دو کی کشمکش تاحال جاری ہے اور ان کی فلاح و نجات اس پر موقوف ہے کہ اپنی اصل کی تلاش کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون اس انداز میں حاصل کریں کہ وہ تعاون علی البرّ والتقویٰ میں تبدیل ہوجائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خاموش کھلاڑی بولتا کھیل

سانپ تیزی سے حرکت کررہا ہے۔ یہ سانپ نہیں اژدھا ہے۔ سانپوں کو تو عصائے موسوی نگل گیا تھا۔ یہ وہ اژدھا ہے جو سامری وقت کی پٹاری سے برآمد ہوا ہے۔ اس اژدھا نے دم کو اپنی جگہ ٹکاکر منہ کی طرف سے حرکت شروع کی تھی۔ یہ حرکت تقریباً ستر سال پہلے (1948ئ) میں شروع ہوئی تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دس قبیلے ’’یروشلم واپسی‘‘ کی مہم کے تحت ’’ارض موعود‘‘ میں آآکر بسنا شروع ہوگئے تھے۔ اب گیارہویں قبیلے کے لیے ’’آزاد کردستان‘‘ کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ جو قوم غیراسرائیلی خون کو ’’جنٹائل‘‘ اور ’’گویم‘‘ قرار دے کر اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتی، وہ سیکولر کردوں کو یوں گلے سے لگائے کھڑی ہے جیسے وہ اس کا بچھڑا ہوا گیارہواں بھائی ہو۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تو پھر کیوں بھٹک گیا انسان

دنیا جہاں ایک دوسرے سے قریب ہورہی ہے وہیں دور بھی ہورہی ہے۔ جتنی پھیل رہی ہے اتنی سمٹ بھی رہی ہے۔ عالمی سطح پر نئے تعلقات وجود میں آرہے ہیں، نئے معاہدے ہورہے ہیں، نئی دوستیوں کی بنیاد رکھی جارہی ہیں اور نئی مخالفتوں، بے بیجا کھلی دشمنیوں کا آغاز بھی ہورہا ہے۔ جو ملک دور دور تھے وہ قریب آرہے ہیں اور جو نہ ختم ہونے والے تعلقات کے حوالے سے مشہور تھے وہ دور جارہے ہیں۔ ’’اور ہم ہی ہیں جو تمہارے درمیان حالات کو بدلتے سدلتے رہتے ہیں۔‘‘ (آل عمران: 140)

جو قومیں اپنے نظریات کے دفاع اور قومی مفادات کے تناظر میں آزادانہ فیصلے کرتی ہیں ان کی روشنیاں پائیدار اور دشمنیاں نبھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ ان کے دوست دانا اور دشمن نادان ہوتے ہیں۔ اور جن قوموں کے فیصلے بیرونی دبائو یا ذاتی مفاد کے تحت ہوتے ہیں انہیں ہمیشہ ناداں دوست اور دانا دشمنوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ ان کی روشنیاں ناپائیدار اور دشمنیاں سدابہار ہوتی ہیں۔ ان کے دوست ان پر فخر نہیں کرسکتے اور ایک وقت آتا ہے کہ دشمن بھی ان پر ترس کھانے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔