• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ایک نادر مثالی مرکز

عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں اس وقت مختلف تجربات ہورہے ہیں۔ صاحبِ دل مسلمان مشکل حالات سے نکلنے اور دوسروں کو نکالنے کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کررہے ہیں۔ کوئی بھی کوشش ہر اعتبار سے مکمل نہیں کہلائی جاسکتی اور نہ مفید کوششوں کی افادیت کا انکار کیا جاسکتا ہے، لہٰذا مسلسل مشاہدہ کرنے، واقف رہنے اور سیکھتے رہنے کی ضرورت ہے۔

آج آپ کو ایسے ادارے سے واقف کرواتے ہیں جس سے ہماری شناسائی اتفاقاً ہی ہوگئی، لیکن اس کی کارکردگی کے کچھ پہلو ایسے تھے کہ یقینا قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ ہوا یوں کہ ترکی آمد کے موقع پر ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی ہماری کوشش تھی کہ مہمانوں کو تو ہوٹل میں ٹھہرادیں

مزید پڑھیے۔۔۔

اپنے حصے کا کام

عربی کا ایک مقولہ ہے جو انسان کو اچھی اور کامیاب زندگی گزارنے میں بہت مدد دیتا ہے: ’’الخیر فی ماوقع‘‘ یعنی ’’جو ہوا اسی میں ان شاء اللہ خیر اور بھلائی ہے۔‘‘ اسی طرح فارسی اور ترکی کا ایک مقولہ ہے جس کا ترجمہ کافی مشہور ہے اور آپ نے بھی کئی بار سنا ہوگا، لیکن اس کا مصداق ترکی میں جاکر جیسا واضح طور پر مشاہدے میں آتا ہے ایسا کم ہی کہیں اور نظر آئے گا۔ ’’دشمن برا چاہتا ہے، لیکن اللہ ربّ العزت اس سے بھی خیر سامنے لے آتا ہے۔‘‘ یہ جملہ جہاں انسان کو رضا بالقضاء کی تعلیم دیتا ہے اور انسان نامساعد حالات میں شکوہ شکایت کے بجائے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دینے کا عادی ہوجاتا ہے، وہیں اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اللہ ربّ العزت ایسا قادر مطلق ہے کہ جس طرح زندے سے مردہ اور مردے سے زندہ نکال دیتا ہے، اسی طرح خیر سے شر اور شر سے خیر برآمد کرنے کی قدرت کاملہ صرف اسی کے پاس ہے۔

انسان کو ناموافق حالات سے ہمت نہیں ہارنی چاہیے، ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا اور اسی سے خیر مانگتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہیں کایا پلٹ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم بھولے نہیں ہیں

کچھ چیزیں قوموں کی تاریخ میں ناقابل فراموش ہوتی ہیں۔ جو قوم انہیں بھلادے تو تاریخ انہیں بھلادیتی ہے اور جو ان یادگاروں کو سجا سنوار کر اگلی نسل کے حوالے کرے اس کے مستقبل کی تابنائی کو کوئی گدلا نہیں سکتا۔ ہماری تاریخ میں بھی چونڈہ کے محاذ سے لے کر بی آر بی نہر تک بہت سی ناقابل فراموش یادگاریں ایسی ہیں جو ہمیشہ ہمیں سر اٹھاکر جینے کا حوصلہ دیتے رہیں گے۔ 73ء کا آئین منظور ہونے سے لے کر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے تک بہت سے نظریاتی کارنامے ایسے ہیں جو رہتی دنیا تک ہماری سربلندی کے لیے کافی ہیں، لیکن جن چیزوں کی یادداشت ہر ذہن میں بٹھانی ضروری ہے ہم انہیں تو فراموش کردیتے ہیں اور جو الّم غلّم چیزیں دنیا بھر سے ملیں انہیں چوکوں میں لاکر سجادیتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روشنی کا سفر

فتنوں کے اس دور میں اندھیریاں بھی بہت ہیں، لیکن امت محمدیہ کی کرامت یہی ہے کہ روشنی کا سفر جاری ہے۔ جہاں اندھیرے مایوسی پھیلائے ہوئے ہیں وہیں روشنی کی پھوٹنی کرنیں تلاش کا سفر جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی رہتی ہیں۔ اس عاجز کا ترکی کا پہلا سفر آج سے تقریباً پانچ چھ سال پہلے اس تحریک کے مشاہداتی مطالعے کے لیے تھا جو ترکی کے اصلاح پسندوں نے واپسی کے سفر کے طور پر شروع کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ترک معاشرے کو بدلنے میں کامیاب ہوتے چلے گئے۔ پھر شام میں مسلمانوں کے جبری انخلا کا سانحہ پیش آیا تو ان اسفار کا رُخ رفاہی سرگرمیوں کی طرف پھرگیا۔ اب موجودہ سفر میں وفاق المدارس کے سیکریٹری جنرل حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم کی آمد ان شاء اللہ ان علمی سرگرمیوں کو فروغ دے گی جس سے برصغیر کے اہلِ علم کا وہ قیمتی تجربہ اور عدیم النظیر جذبۂ فروغ علم اور مثالی نظامِ تعلیم ترکی منتقل ہونے کا آغاز ہوگا جو یہاں کے علماء کی خصوصیت ہے اور دنیا مانے یا نہ مانے، یہ اس میں اپنی مثال آپ ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خالی جگہ بھریں

دنیا میں بنوامیہ اور بنوعباس کی شاندار عرب تہذیبوں کے بعد اب تک تین تہذیبیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اسلام کو قائم، نافذ اور غالب کیا۔ آج کل دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان ان تینوں میں سے کسی ایک کے وارث ہیں۔ ان تینوں میں کچھ صفات تھیں جن کے باقی رکھنے پر اور پروان چڑھانے پر ان تہذیبوں کی باقیات کی بقا موقوف ہے۔ دنیا بھر کی کوشش ہے کہ نہ تو یہ اپنی اصل کی طرف لوٹنے پائیں اور نہ ایک دوسرے سے تعاون کرسکیں۔ ان میں سے ایک تہذیب تو اپنے ورثے کی سرے سے حفاظت ہی نہ کرسکی، لہٰذا وہ مخالفت آندھی کی نذر ہوگئی۔ بقیہ دو کی کشمکش تاحال جاری ہے اور ان کی فلاح و نجات اس پر موقوف ہے کہ اپنی اصل کی تلاش کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون اس انداز میں حاصل کریں کہ وہ تعاون علی البرّ والتقویٰ میں تبدیل ہوجائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خاموش کھلاڑی بولتا کھیل

سانپ تیزی سے حرکت کررہا ہے۔ یہ سانپ نہیں اژدھا ہے۔ سانپوں کو تو عصائے موسوی نگل گیا تھا۔ یہ وہ اژدھا ہے جو سامری وقت کی پٹاری سے برآمد ہوا ہے۔ اس اژدھا نے دم کو اپنی جگہ ٹکاکر منہ کی طرف سے حرکت شروع کی تھی۔ یہ حرکت تقریباً ستر سال پہلے (1948ئ) میں شروع ہوئی تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دس قبیلے ’’یروشلم واپسی‘‘ کی مہم کے تحت ’’ارض موعود‘‘ میں آآکر بسنا شروع ہوگئے تھے۔ اب گیارہویں قبیلے کے لیے ’’آزاد کردستان‘‘ کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ جو قوم غیراسرائیلی خون کو ’’جنٹائل‘‘ اور ’’گویم‘‘ قرار دے کر اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتی، وہ سیکولر کردوں کو یوں گلے سے لگائے کھڑی ہے جیسے وہ اس کا بچھڑا ہوا گیارہواں بھائی ہو۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تو پھر کیوں بھٹک گیا انسان

دنیا جہاں ایک دوسرے سے قریب ہورہی ہے وہیں دور بھی ہورہی ہے۔ جتنی پھیل رہی ہے اتنی سمٹ بھی رہی ہے۔ عالمی سطح پر نئے تعلقات وجود میں آرہے ہیں، نئے معاہدے ہورہے ہیں، نئی دوستیوں کی بنیاد رکھی جارہی ہیں اور نئی مخالفتوں، بے بیجا کھلی دشمنیوں کا آغاز بھی ہورہا ہے۔ جو ملک دور دور تھے وہ قریب آرہے ہیں اور جو نہ ختم ہونے والے تعلقات کے حوالے سے مشہور تھے وہ دور جارہے ہیں۔ ’’اور ہم ہی ہیں جو تمہارے درمیان حالات کو بدلتے سدلتے رہتے ہیں۔‘‘ (آل عمران: 140)

جو قومیں اپنے نظریات کے دفاع اور قومی مفادات کے تناظر میں آزادانہ فیصلے کرتی ہیں ان کی روشنیاں پائیدار اور دشمنیاں نبھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ ان کے دوست دانا اور دشمن نادان ہوتے ہیں۔ اور جن قوموں کے فیصلے بیرونی دبائو یا ذاتی مفاد کے تحت ہوتے ہیں انہیں ہمیشہ ناداں دوست اور دانا دشمنوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ ان کی روشنیاں ناپائیدار اور دشمنیاں سدابہار ہوتی ہیں۔ ان کے دوست ان پر فخر نہیں کرسکتے اور ایک وقت آتا ہے کہ دشمن بھی ان پر ترس کھانے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شہداء کربلا کے سچے وارث

آج نئے اسلامی سال کا پہلا ہفتہ ہے۔ اسلامی سال کا پہلا مہینہ قدرتی طور پر دین کی خاطر قربانی دینے اور پھر اس قربانی کی یادگار کو شریعت کے تابع رہ کر زندہ رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اس حوالے سے میں آپ کو شیخ خضر کا واقعہ سنانا چاہتا ہوں جو دین کے سچے خادموں پر آنے والے کربلا کے تسلسل کی علامت ہے اور اس میں یہ سبق ہے کہ کس طرح ہم مشکلات کے باوجود دین کی سربلندی کی محنت کو رکھ سکتے ہیں۔

شیخ خضر شہیدؒ شمالی ترکی کے رہنے والے تھے۔ صدر اردگان اور شیخ محمود آفندی دامت برکاتہم بھی شمالی ترکی کے رہنے والے ہیں۔ ترکی کے شمال میں بحراسود ہے۔ اس کے کنارے واقع ساحلی شہر اپنی فطری خوب صورتی، صحت بخش آب و ہوا کے علاوہ مردم خیز خطہ ہونے کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ شیخ خضر جنہیں ترکی کے علماء و مشایخ نے ’’شہید محراب‘‘ کا لقب دیا، راسخ العلم عالم ، صحیح المشرب صوفی اورمتبع سنت بزرگ ہونے کے علاوہ بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ ان کی حق گوئی اور بے باکی ضرب المثل تھی۔ استنبول کے علاقے ’’فاتح‘‘ کے قریب جامع مسجد سلطان یاہو سلیم ایک بلند ٹیلہ نما مسطح رقبہ پر واقع ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہولوگرام ٹیکنالوجی

شرک کی دنیا میں بہت سی قسمیں ہیں، لیکن سب سے بدترین قسم آخر زمانہ میں ظاہر ہوگی۔ فتنے دنیا میں بہت آئے، لیکن عظیم ترین فتنہ آخری زمانہ (اینڈ آف دی ٹائم) میں ظہور کرے گا۔ فتنۂ عظمیٰ کے زمانے میں شرک عظیم کا ظہور ہوگا۔ عقیدے کی کمزوری اور توھم پرستی میں اضافے کی وجہ سے شرک کی قسماقسم صورتیں وجود میں آرہی ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ مادّیت پرست دنیا ’’شرکِ عظیم‘‘ کے لیے ذہنی طور پر تیار ہورہی ہے یا کی جارہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے فتنوں کے ظہور کی کثرت اس امر کی نشانی ہے کہ دنیا اپنی تاریخ کے سب سے بڑے فتنے کی طرف جارہی ہے۔ زمانۂ جاہلیت قدیمہ میں انسان شرک کی سادہ قسمیں گھڑتا تھا۔ مٹی پتھر، لکڑی لوہے کے بت بنالیے۔ زیادہ ہی عقیدت کا جوش چڑھا اور وسائل کی فراوانی حاصل ہوئی تو سونے چاندی کی مورتیوں تک جاپہنچا، لیکن یہ سب مخلوقات ہیں۔ مخلوق کو خالق کا شریک جاننا صریح اور واضح حماقت ہے۔ ایسے شرک میں دلیل سرے سے مفقود اور عقلیت یکسر ناپید ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہم مصطفوی ہیں

باتیں تو کرنے کی کئی ہیں۔ دیکھیں کس کی باری کب آتی ہے۔ سب سے پہلی تو یہ کہ مایوسی یا پست حوصلگی کی قطعاً ضرورت نہیں، بلکہ گنجائش ہی نہیں۔ ہم نے ہر بار ثابت کیا ہے کہ ندامت کے آنسوئوں کی ذرا سی نمی چاہیے، اس کے بعد وہ زرخیزی دیکھنے کو ملے گی کہ ساقی حیران رہ جائے گا کہ یاربّ ایسی چنگاری بھی ہمارے خاکستر میں تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’دوڑ کر آئو میری طرف۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیر انسان کے ساتھ فضل و کرم کا پہلا معاملہ ہے۔ پھر انسان جب دنیا داری میں پڑ کر اپنے ربّ سے دور ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرا احسان یہ فرماتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً اسے احساس دلانے والے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ وہ اپنے ربّ کو دل کی گہرائیوں سے ایسا یاد کرے کہ غفلت کی اگلی پچھلی کسر نکل جائے اور ایسا رجوع نصیب ہو کہ صدیوں کا فاصلہ لمحہ بھر میں طے ہوجائے۔ دنیا نے ہمیں بہت طعنے دیے، لبرلز نے حوصلہ شکنی میں کسر نہیں چھوڑی، سیکولر لوگوں نے دل کھول کر پھپھولے پھوڑے، اب سب حیران و ششدر ہیں کہ مظلوم ہوکر اس اُمت کا یہ حال ہے تو فاتح بن کر اس کی اعلیٰ ظرفی اور بلندی حوصلگی کا کیا عالم ہوگا۔ واللہ العظیم! اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتی جو خود زخموں کے چور ہوکر جاں بہ بلب ہو، لیکن اس حالت میں بھی پانی کا پیالہ دوسرے کے لبوں سے لگانے پر اصرار کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسرائیل کا تیل کہاں سے آتا ہے؟

میڈیا… خصوصاً سوشل میڈیا… انسان کے نظریات سے کیسے کھیل رہا ہے؟ اور اس کا وار کیسا کاری ہوتا ہے کہ عام آدمی کا اس سے بچنا مشکل ہے؟ اس کا اندازہ اس پوسٹ سے کیا جاسکتا ہے جو کسی صاحب نے فیس بک سے لے کر بھیجی کہ یہ فیس بک کی بہتی گنگا میں ہر طرف گردش کررہی ہے، کیا آپ اس پر کوئی تبصرہ کرسکتے ہیں؟ اس عاجز نے جب پہلا جملہ پڑھا تو احساس ہوگیا کہ جھوٹ کے اس پلندے میں جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے جس فریب کاری سے کام لیا گیا ہے، وہ کس کا کمال ہے؟ پھر جب پوری پوسٹ میں بیان کیے گئے ’’حقائق‘‘ کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ایک طبقہ ہر حال میں، ہر قیمت پر، چاہے اسے جھوٹ باندھنے اور تہمت لگانے جیسا جرم کرنا پڑے، اس امر پر تلا ہوا ہے کہ ترکی کی موجودہ حکومت کے خلاف اتنا ذہن بنائے کہ کل کلاں خدانخواستہ اسے کوئی حادثہ پیش آجائے تو کوئی افسوس کرنے والا بھی ڈھونڈے سے نہ ملے۔ اس طرح کی اگر منفی ذہن سازی کی یہ پہلی کوشش نظر سے گزری ہوتی تو اسے نظرانداز کرنا بہتر تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔