• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اب کیا ہوگا

جب قلم ہی انکار کردے تو انسان کیا کرے؟ میرے عزیز دوست انور غازی کا حسب معمول اصرار پیہم ہے کہ جلدی کرو، اخبار کی کاپی جانے والی ہے، آخری تحریر (جو ہمیشہ اس عاجز ہی کی ہوتی ہے) کا انتظار ہے، مگر حقیقت ہے کہ دماغ مائوف اور اعصاب شل ہیں۔ اگست کے مہینے کے یہ 20 دن جس طرح گزرے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ جو انقلابات گزشتہ چار پانچ سال میں ہم نے عالم اسلام میں دیکھے اس نے ہمیں ایک اَن دیکھے خوف میں مبتلا کردیا ہو اور اب ہر غیرمعمولی واقعہ ہماری خوفزدہ نفسیات کے کیس کو مزید پیچیدہ کررہا ہو۔ ’’عرب بہار‘‘ کے نام پر مصر میں جو کچھ ہوا یا آج شام میں جو کچھ ہورہا ہے، عراق اور اس کے بعد لیبیا جس قیامت سے گزرے، نہ جانے کیوں رہ رہ کر دل میں یہی آتا ہے کہ جس عفریت نے ان ملکوں میں ادھم مچایا اب اس کی پوری توجہ پاکستان کی طرف ہوچکی ہے۔
اسلام آباد میں جاری ہنگاموں نے جن نئی روایات کی داغ بیل ڈالی ہے اس کا سلسلہ دراز ہوتے ہوتے کہاں تک جائے گا؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کرلیتے ہیں کہ موجودہ حکومت رخصت ہوگئی تو کیا حکمران جماعت کے حمایتی خاموش ہوکر بیٹھ جائیں گے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

اللہ مبارک کرے

شوال کے وسط میں حسب روایت دینی مدارس کا نیا تعلیمی سال شروع ہوگیا ہے۔ پُرنور چہروں، روشن جبینوں، زندہ دلوں اور جفاکش طبیعتوں کے گہر لیے مہمانان رسولؐ اپنی اپنی مادر علمی کی شفیق و مہربان آغوش میں پناہ لے چکے ہیں۔ اساتذہ نے بھی کمر ہمت باندھ لی ہے اور درس گاہوں کی مبارک فضائیں ایک بار پھر قال اللہ اور قال الرسول کے دلکش نغموں سے گونج اُٹھیں ہیں۔
مدارس دینیہ کی شکل میں اللہ جل شانہٗ کی یہ عظیم الشان نعمت بھی پورے عالم اسلام میں گنتی کے چند ہی ملکوں کو دستیاب ہے، جہاں قرآن و سنت کی تعلیم و تعلّم کا نظام سرکاری جکڑ بندیوں اور مصلحت کوش نااہل حکمرانوں کے قبضہ سے آزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک میں مذہبی آزادی تاقیامت قائم رکھے اور دیندار طبقے کو اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی توفیق نصیب فرمائے۔
ہمارے ہاں یونیورسٹیوں سے تعلیم مکمل کرکے علوم دینیہ حاصل کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے کلیۃ الشریعہ کے نام سے ایک شعبہ کا اجراء آج سے تقریباً 11 برس قبل کیا گیا تھا۔ ان دنوں اس شعبہ کے بارہویں بیج کے داخلوں کا عمل چل رہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

قومی زندگی گذشتہ دو ہفتوں سے مکمل طور پر مفلوج ہے۔ کاروبار حیات معطل اور نظامِ زندگی جام ہے۔ یہ سطور 16 اگست کی سہ پہر کو لکھی جارہی ہیں اور ہنوز بے یقینی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہر چہرہ پر سوال ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ ایک سیاسی اور دوسرے انقلابی رہنما نے وفاقی دارالحکومت تک مشتعل ہجوم پہنچادیے ہیں۔ دونوں رہنمائوں کا خیال ہے کہ عوام پر عرصۂ حیات تنگ ہے اور ان کے پاس تمام مشکلات کا حل ہے۔ دونوں کے ایجنڈے الگ الگ، مگر تاریخ ایک ہے۔دونوں کے نزدیک مشکلات کی گرداب سے نکلنے کے راستے جدا جدا، مگر موجودہ نظام کو درہم برہم کرنے کی ترکیب ایک ہی ہے۔  انقلاب کے داعی ’’حضرت‘‘ کو تو ایک جہاں جانتا ہے۔ موجودہ نظام کو جڑ سے اُکھاڑ کر وہ اس حرماں نصیب قوم کو کیا نظام عطا کریں گے، ہنوز یہ بلی تھیلے سے باہر نہیں آسکی۔ تجزیہ نگار پوچھ پوچھ کر تھک گئے کہ چلیے! ہم کچھ دیر کو فرض کرلیتے ہیں کہ موجودہ نظام کی عمارت زمیں بوس ہوگئی، حکمران بھاگ گئے، اسمبلیاں ٹوٹ گئیں، آئین ختم ہوگیا، حکومت رخصت ہوگئی… اب فرمائیے کہ گلشن کا کاروبار چلے تو کس طور چلے؟ اس کے جواب میں فرمایا جاتا ہے کہ جب وقت آئے گا تو بتایا جائے گا کہ آیندہ کیا ہوگا؟ اس سے زیادہ سنگین مذاق اور کیا ہوسکتا ہے کہ کروڑوں افراد کے اس ملک کو ایک مخبوط الحواس شخص کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے جس کے کسی دو بیانات کو اُٹھالیجیے اور ان میں کسی قسم کی مطابقت، تسلسل یا معقولیت کو تلاش کرتے کرتے آپ کے اعصاب چٹخ جائیں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ خواب کہاں اُٹھا رکھیں؟؟

خالد کنول کہتا ہے کہ ہر سال اگست میں ہمارے گھر پر عجیب یاسیت اور اُداسی چھا جاتی ہے۔ دادی اماں کے کمرے سے تو باقاعدہ سسکیوں کی آوازیں آتی ہیں۔ اباجان جو ہر روز صبح ناشتہ دادی اماں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ بھی وہاں جاتے ہوئے کترانے لگتے ہیں۔ لاہور کے ایک متوسط محلے میں قیام پذیر یہ خاندان امرتسر کے ایک نواحی گائوں سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ دادی اماں جو اب نوے کے پیٹے میں ہیں، کو 40ء کی دہائی کے سارے ہنگامے اچھی طرح یاد ہیں۔ تحریک آزادی اور اس کے نتیجہ میں ملنے والی مملکت خداداد سے دادی اماں کا تعلق عجیب جذبات و کیفیات لیے ہوئے ہے۔
دادی اماں کی یادداشتیں نری یادیں نہیں ہیں، بلکہ ہر قصے کے ساتھ جذبات کا ایک طوفان ہے جو امڈا چلا آتا ہے۔ ایک دفعہ خالد ملنے آیا تو بہت مغموم اور آزردہ تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ بھی اگست کا مہینہ اور یومِ آزادی سے آگے پیچھے کا کوئی دن تھا۔ کہنے لگا آج پھر ہمارے گھر میں شام غریباں برپا ہوئی۔ دادی نے قصے سنائے، اور ہر قصہ کے دوران کئی دفعہ اپنی موٹے موٹے شیشوں والی عینک اُتار کر دوپٹے کے پلو سے اپنی گیلی آنکھیں رگڑیں۔
40ء کی دہائی کے درمیانے سال قیامت کے ہنگاموں کے سال تھے۔ دادی اماں کو امرتسر کے نواحی گائوں کے اس گنجان محلے میں اپنے مکان کا ایک ایک گوشہ، اپنی گلی اور محلہ کا سارا نقشہ خوب یاد ہے۔ راتوں کو دیر تک اپنی سکھیوں ہم جولیوں کے ساتھ بیٹھ کر سبز پرچم سینے کے مقابلے ہوتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لہو لہو غزہ کیا کہتا ہے؟

غزہ ایک دفعہ پھر لہو لہو ہے۔ اسرائیل نے آگ و بارود سے قیامت برپا کردی۔ اس دفعہ تو تاک تاک کر عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گرد یہودیوں نے ہسپتالوں، اسکولوں، بازاروں، پارکوں حتیٰ کہ زخمیوں کو لے کر دوڑتی بھاگتی ایمبولینسوں کو بھی آگ و خون میں نہلادیا۔ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کو نصف صدی سے زیادہ بیت گیا ہے اور اس عرصے میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب مظلوم فلسطینیوں نے بدبخت یہودیوں سے کوئی زخم نہ کھایا ہو، مگر اس دفعہ کے حملے نے تو ظلم و ستم کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ فقط آسمان سے ہی بمباری یا راکٹ باری نہیں ہوئی، بلکہ اونچے مقامات پر تعینات یہودی فوجی شوٹرز نے اسنائپر کے ذریعہ پرخچے اُڑانے کا اعتراف کیا ہے۔
بین الاقوامی خبررساں اداروں کے نمایندے غزہ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے موٹے موٹے آنسوئوں سے روتے رہے، حالانکہ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اور صحافی کے کلیجے میں عام آدمی کی طرح کا دل نہیں ہوتا، مگر معصوم بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں، بکھرے ہوئے اعضاء اور خواتین کی حددرجہ مظلومانہ اور بے بسی کی شہادتوں نے عالمی ذرائع ابلاغ کے نمایندوں کو بھی رُلادیا۔
دنیا بھر میں رہنے والے مسلمان بلکہ مسلمان کیا ہر انصاف پسند انسان اس وقت غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا اور سراپا احتجاج ہے۔ گلی گلی، شہر شہر احتجاج ہورہا ہے۔ جلسہ جلوس، تقاریر اور تحاریر کے ذریعہ اس المناک انسانی المیہ کی مذمت ہورہی ہے، مگر اگر شرمناک بے حسی

مزید پڑھیے۔۔۔

چند گھڑیاں اللہ والوں کے ساتھ

کربوغہ شریف میں دو چیزیں انتہائی باعث کشش ہیں۔ ایک حضرت اقدس مختار الأمۃ مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم (خلیفہ مجاز قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ) کی ذات والا صفات اور دوسرا ’’دارالایمان والتقویٰ‘‘ کا نورانی اور روحانی ماحول۔ حضرت مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب تو سرتاپا محبت میں ڈھلی ہوئی ایک ہستی ہیں جن کی خدمت میں پہنچ کر بندہ دنیا کی تمام فکر و پریشانی سے خود کو ایک دَم آزاد محسوس کرنے لگتا ہے۔ مزاج مبارک میں شفقت ہی شفقت ہے، عنایت ہی عنایت اور عطاء ہی عطائ۔ گذشتہ زمانوں کے اولیائے کرام کی نشانی ہیں اور سلف صالحین جیسے ہی معمولات۔ ان کے ہاں تو سارا سال ہی گویا رمضان رہتا ہے، مگر جب ماہِ مبارک سایہ افگن ہوتا ہے تو سالکین میں بہرحال ایک نیا جذبہ دوڑ جاتا ہے۔ پورے ملک سے کھچ کھچ کر لوگ وہاں پہنچتے ہیں۔ اکثر لوگ تو چلّے یعنی چالیس دن کے لیے آتے ہیں، مگر کم اوقات لے کر آنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے۔ کوئی ہفتہ کے لیے اور کوئی دس دن کے لیے۔
پھر آخری عشرے میں تو خوب ٹھٹھ لگتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب کے بیشتر خلفاء کرام بھی تشریف لے آتے ہیں۔ جاتے رمضان المبارک کی آخری گھڑیاں اور ساعتیں غنیمت جان کر سالکین ایک عجب عالم وارفتگی میں ہوتے ہیں ایک ایک لمحہ کو وصول کرنے کی فکر اور اپنی مغفرت و بخشش کی دھن دیکھنے والے کو صاف نظر آتی ہے۔ اُدھر حضرت مفتی صاحب کے معمولات دیکھ دیکھ کر حیرت و استعجاب کے ساتھ ساتھ ہمت و حوصلہ ملتا رہتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رحمتوں کی برسات

رحمتِ الٰہی کی گھٹا پھر چھاگئی ہے۔ ہم سب ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے ایک دفعہ پھر رحمتوں کی برسات کا مشاہدہ کرنا تھا۔ آقائے دو جہاں، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک دن گن کر اس ماہ مبارک کا انتظار فرمایا کرتے تھے۔ دو ماہ پہلے سے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ پھیلا لیا کرتے تھے کہ یااللہ! رمضان المبارک تک پہنچادیجیو۔ شعبان کے مہینے سے تو گویا رمضان المبارک کی ریہرسل شروع ہوجاتی تھی۔ کثرت سے روزے ہوتے تھے اور رمضان المبارک کی ساعات کی پوری پوری وصولی کی دُعائیں۔ اس مبارک مہینے میں رحمتِ الٰہی جوش میں ہوتی ہے اور طلب کی پھیلی جھولیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بھرا جاتا ہے۔ انسان اپنی بساط اور اوقات کے مطابق مانگتا ہے۔ کوتاہ عقل، ناتمام فہم اور بے زبان نطق کے محدود ذرائع ہی تو اس انسان کی کل کائنات ہیں، مگر رحمتِ الٰہی انسانوں کی اس بے بضاعتی کو نہیں دیکھتی، وہ اپنی بے پایاں وسعتوں اور بے کنار رحمتوں کے دھانے کھول دیتی ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں تو پہلے ہی ڈوبا ہوا ہے، اس مہینے تو بارانِ رحمت میں بھیگ بھیگ جاتا ہے۔
پہلا عشرہ چل رہا ہے۔ یہ صفائی کا عشرہ ہے اور یہ مہینوں، سالوں کا زنگ دھوتا ہے۔ اس زنگ کو اُتارے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں، زنگ آلود دل میں معرفتِ الٰہی کی برق دوڑے تو کس طور دوڑے؟ لامحالہ اس کو مانجھنا پڑے گا۔ استغفار اور توبہ دو ایسے مانجھنے ہیں جو پوری قوت سے دل پر رگڑے جائیں تو دل کو چمکاکر منور کردیں۔ پہلے عشرہ کا یہ کام اگر صحیح ہوجائے تو باقی دونوں عشروں کی بھرپور وصولی ممکن ہے۔ توبہ سے ابتدا کیجیے۔ استغفار کو شِعار بنائیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

محبتوں کا سفر

امام ربانی حضرت مولانا رشید گنگوہیؒ کے مزار مبارک پر سکون و سکینت کا ایک عجیب احساس ہوتا رہا۔ حضرت گنگوہیؒ کے ایک جانب ان کے صاحبزادے اور پائنتی کی طرف آپ کی محدثہ صاحبزادی مجذوبہ صفیہ صاحبہ کی قبور مبارک ہیں۔ مزار مبارک کے احاطے میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنی ہوئی ہے۔ مزار شریف کے متصل ایک وسیع و عریض اراضی لے کر حضرت مولانا اَرشد مدنی دامت برکاتہم نے ایک بڑا مدرسہ قائم کردیا ہے۔ جہاں قرآن پاک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس مدرسہ کی نگرانی بھی حضرت مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم کے ایک صاحبزادے کرتے ہیں۔ اس مدرسہ میں چائے وغیرہ کا پُرتکلف بندوبست کیا گیا تھا۔
مزار کے بعد ہم کو حضرت گنگوہیؒ کی خانقاہ اور مدرسہ دیکھنے جانا تھا۔ حضرت کا مدرسہ ہندوستان کے معروف ولی اللہ حضرت مولانا عبدالقدوس گنگوہیؒ کے مزار مبارک سے متصل ہے۔ مزار مبارک کے ساتھ ایک مسجد ہے اور مسجد کی پشت پر حضرت گنگوہیؒ کا چھوٹا سا حجرہ اور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا پلاٹ جہاں حضرت گنگوہیؒ حدیث شریف کا شہرہ آفاق درس دیا کرتے تھے۔ اس درسگاہ سے کیسے کیسے نابغۂ روزگار لوگ حدیث پڑھ کر اُٹھے، اس کا تصور کیجیے اور پھر اس جگہ کی سادگی دیکھیے کہ حقیقتاً تعجب ہوتا ہے۔ یہ ساری جگہ بمشکل دس بارہ مرلے کی ہوگی اور اس دس، بارہ مرلہ کی جگہ سے ہندوستان میں

مزید پڑھیے۔۔۔

عقیدت و محبت کے مرکز میں

دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشید میں اس عاجز کو اپنی معروضات پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی دامت برکاتہم نے راقم السطور کے دادا جان حضرت مولانا عبدالحق نافع گل (استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند و اوّلین شیخ الحدیث جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹائون، کراچی) اور اسیرِ مالٹا حضرت مولانا عزیر گلؒ کے حوالے سے تعارف کرایا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ علمائے کرام کی یہ نسل اگر ابنائے دارالعلوم (دارالعلوم کے بیٹے) نہیں ہے تو احفادِ دارالعلوم (دارالعلوم کے پوتے) ضرور ہے۔
راقم السطور نے دارالعلوم سے اپنے رشتے اور اس تعلق کی قدامت پر اظہارِ تشکر کے ساتھ ساتھ خانوادہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ کے ساتھ ایک صدی سے زیادہ قدیم تعلق پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ اس رشتہ مؤدت و محبت کی تجدید کو اپنی حاضری کے مقاصد میں سے ایک قرار دیا۔ اسی طرح پاکستان کے مدارس دینیہ میں زیرِ تعلیم طلبہ کے دل کسی طرح دارالعلوم کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور جب یہ عاجز سفرِ ہند پر روانہ ہورہا تھا تو کس طرح ہمارے عزیز طلبہ کے دل اپنے اکابر کے مزارات پر حاضری کے لیے مچل رہے تھے، ان کیفیات کو بھی بیان کیا گیا۔
مفتی سیّد مظہر صاحب نے اپنے خطاب میں صدر جمعیت علماء ہند کی جانب سے اس وفد کو پاکستان میں دارالعلوم دیوبند کے نمایندے اور حقیقی

مزید پڑھیے۔۔۔

عقیدت و محبت کے مرکز میں

دہلی میں پہلی رات جمعیت علماء ہند کے مہمان خانے میں بسر ہوئی۔ رات کے کھانے پر صدر جمعیت حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم بڑی محبت اور اپنائیت سے اپنے ہاتھ سے سب مہمانوں کی پلیٹوں میں کھانا ڈالتے رہے اور ہم نے بھی تبرک سمجھ کر جلد ہاتھ کھینچ لینے کو بے ادبی سمجھا۔ حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی صاحب کے معمولات جان کر اس قدر حیرت ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ ماشاء اللہ! 75 سال کی عمر مبارک ہے اور رقبہ کے اعتبار سے پاکستان سے 5 گنا بڑے ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی جماعت کی صدارت اور عالمِ اسلام کے مؤثر ترین دینی تعلیمی ادارے کی مسند حدیث جیسی اہم ترین ذمہ داریاں سپرد ہیں۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ملک کے طول و عرض میں جہاں بھی کوئی جلسہ ہو، کوئی مسئلہ ہو یا ملت اسلامیہ ہندیہ کی کوئی پریشانی یا اُلجھن ان کو وہاں لے جائے، کوشش فرماتے ہیں کہ رات گئے تک دہلی پہنچ جائیں۔ عموماً دہلی پہنچتے پہنچتے رات کے 12 یا
ایک تو بج ہی جاتے ہیں اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ تاخیر ہوجاتی ہے۔ خواہ کتنی ہی تاخیر سے کیوں نہ پہنچیں، ساڑھے تین بجے بیدار ہوکر تہجد کی نماز سے فراغت کے بعد اپنے ذکر، اذکار کے معمولات پورے فرماتے ہیں اور پھر دیوبند کی طرف سفر شروع کردیتے ہیں۔ فجر کی نماز کہیں راستے میں ادا کرتے ہیں۔ سات، سوا سات بجے دیوبند پہنچ

مزید پڑھیے۔۔۔

داستانِ محبت

دنیا میں شاید سب سے مشکل محبت کی داستان لکھنا ہے۔ سفر ہند سے واپس ہوئے دو ہفتے ہوچکے اور اس دوران شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ اس سفر کی روداد لکھنے کا خود سے داعیہ یا بزرگوں کی طرف سے شدید تقاضہ نہ کیا گیا ہو۔ سوچ سوچ کر رہ جاتا ہوں کہ کہاں سے شروع کروں؟ سندھ کے ساحل پر فاتح ہند محمد بن قاسمؒ کی بنائی ہوئی پہلی مسجد سے لے کر سہارنپور کی ایک تنگ گلی میں واقع شیخ الحدیث، قطب الاقطاب مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے ’’کچے گھر‘‘ کی تاریخ ایک ایسی عدیم النظیر اور بے مثال تاریخ ہے جس کے صفحے صفحے پر دعوت و جہاد، علم و عرفان، حقیقت و طریقت، سلطنت و عزیمت اور شوکت و سطوت کے ایسے لافانی نقوش ثبت ہیں جو زوال کے ان 200 سالوں میں ہزار کوششوں کے باوجود مٹائے نہ جاسکے۔
تقسیم ہند کے بعد بیشتر اسلامی آثار، مقاماتِ مقدسہ، اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے اکثر مزارات، نامور اور تاریخی علمی درس گاہیں اور شکوت اسلامی کی مظہر بیشتر تعمیرات سرحد کے اُسی پار رہ گئیں، لہٰذا سرحد کے اس پار رہنے والوں کے لیے سوائے بے جان نقوش سے عقیدت کی حرارت پیدا کرنے اور ٹھنڈے کاغذ سے محبت کی گرمی حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں بچی۔ اب تو علماء کرام کی اس نسل کے بھی دو، چار گنے چنے افراد بقید حیات ہیں

مزید پڑھیے۔۔۔