• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دینی جماعتوں کا اتحاد… وقت کی ضرورت

اسلام آباد میں مجلس احرار اسلام کی کوششوں سے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا جو اجلاس ہوا وہ بہت خوش آیند ہے اور ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ عالمِ اسلام میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم جو تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں اور جس طرح پوری دنیا کے نقشہ کو تبدیل کرنے اور اسلامی ملکوں کو نئی جغرافیائی حدود میں بانٹنے کا عمل جس چالاکی و چابک دستی سے ہورہا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ پاکستان میں ملک و ملت کے خیرخواہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور ہر وقت اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی تدابیر بروقت سوچیں جس کی سرکش موجیں اب ہمارے ساحلوں سے ٹکرارہی ہیں۔

اس قسم کی ایک کوشش سانحہ تعلیم القرآن کے بعد بھی ہوئی تھی، مگر اس اولین مجلس کے بعد اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اب دوبارہ یہ کاوش مجلس احرار اسلام اور اس کے جہاندیدہ و سرگرم چشیدہ رہنما حضرت سیّد عطاء المؤمن شاہ بخاری صاحب کے اخلاص و دردِ دل کی مرہون منت ہے جس کے لیے تمام جماعتوں کے کارکنان دست بدعا رہے کہ اللہ تعالیٰ اب اس کوشش کو قبول اور ثمر خیز و نتیجہ انگیز فرمائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حق مغفرت کرے

گذشتہ روز ایک خاندانی صدمے سے گزرنا پڑا۔ میرے تایا جان جناب سیّد محمد طیب کاکاخیل صاحب 81 سال کی عمر میں دارِ فانی سے انتقال فرماگئے۔ اس وقت وہ خاندان کی سب سے بزرگ شخصیت تھے۔ والد صاحبؒ سے عمر میں 3 سال بڑے تھے، مگر دونوں نے ابتدائی کتب اکھٹے ہی زیارت کاکا صاحب اور پھر چارسدہ کے دارالعلوم اسلامیہ میں شروع کیں اور یہ غالباً 50 کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔ والد صاحبؒ کی تو 1958ء میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون سے تکمیل ہوگئی اور پھر وہیں تدریس کی ذمہ داریاں بھی سپرد ہوگئیں، مگر تایاجان کی تعلیم بوجوہ جاری نہ رہ سکی۔

40ء کی دہائی کے ابتدائی سال تھے اور شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ زیارت کاکاصاحب ضلع نوشہرہ میں ہمارے آبائی مکان میں دادا جان حضرت مولانا عبدالحق نافع گلؒ کے مہمان تھے۔ والد صاحب مرحوم کی عمر کوئی 5 سال ہوگی اور تایاجان کی 8 سال۔ جب یہ دونوں حضرت اقدس شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ سے ملنے کے لیے حاضر ہوئے تو ان دونوں پر نگاہ پڑتے ہی حضرت مدنیؒ نے بے ساختہ مولانا نافع گلؒ کو مخاطب کرکے فرمایا:

مزید پڑھیے۔۔۔

آہ!!! حضرت مولانا مجاہد خان الحسینیؒ

شیخ العرب و العجم مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ کی محبت و عقیدت تو ان کی نس نس میں سمائی ہوئی تھی، اس لیے اپنے نام کے ساتھ حضرت مدنی کی طرف نسبت کرکے ’’الحسینی‘‘ کا اضافہ کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے تقسیم ہند سے پہلے کے فضلاء میں سے اب معدودے چند باقی رہ گئے تھے جن میں سے ایک اور نامور و باکمال فاضل دیوبند مولانا مجاہد خان الحسینی گزشتہ شب اللہ اللہ کرتے اپنے اللہ سے جاملے۔ عمر مبارک کوئی 98 برس کے لگ بھگ ہوگی۔ قمری اعتبار سے تو شاید سو برس کے ہوں۔ میں نے ایک دفعہ پوچھا: ’’حضرت! آپ کا خالص پشتونوں کا ایک روایتی قبیلہ ہے جس میں علمِ دین کا کوئی رواج نہ تھا، آپ کس طرح دارالعلوم دیوبند پہنچ گئے؟‘‘ فرمانے لگے: ’’آپ کے دادا حضرت مولانا عبدالحق نافع گل صاحبؒ اپنے قصبہ زیارت کاکا صاحب سے دیوبند جانے کے لیے نوشہرہ سے ٹرین میں جایا کرتے تھے۔ اور میرے والد صاحب ریلوے میں ملازم تھے، چونکہ علاقہ ایک ہی تھا اس لیے جلد ہی والد صاحب کا مولانا سے تعلق قائم ہوگیا اور پھر اسی تعلق کی برکت سے والد صاحب کو شوق ہوا کہ میں بھی اپنے بیٹے کو پڑھنے کے لیے دارالعلوم دیوبند بھیجوں۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا نافع گل صاحب نے ترغیب بھی دی ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعلیم کو ترجیح بنانا ہوگا

اس دفعہ تیسری صوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کی میزبان حکومت آزاد کشمیر تھی اور مشاورتی کمیٹی کے ممبران کی حیثیت سے ہم بھی مدعو تھے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت کی میزبانی میں 3 ماہ قبل بھی یہی کانفرنس اسلام آباد میں ہوچکی تھی۔ اس بات کی خوشی ہے کہ وزارت تعلیم کا قلمدان انجینئر محمد بلیغ الرحمن صاحب کے پاس ہے جو بہاولپور سے قومی اسمبلی کے ممبر ہیں اور بہت اچھے خیالات کے آدمی ہیں۔ جب سے انہوں نے تعلیم کی وزارت کا قلمدان سنبھالا ہے اس وقت سے پورے شعبہ میں ایک نئی روح دوڑا دی ہے۔ ورنہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سے یہ وزارت تقریباً بے روح ہوچکی تھی۔ اگرچہ بہت سے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، مگر صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن اور ان کو مکمل رہنمائی و مشاورت فراہم کرنا بہرحال وفاق ہی کا کام ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وفاق میں موجود افراد اپنی ذمہ داریوں کی نزاکت اور اہمیت سے بخوبی واقف ہوں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا پھر عشق کو معرکہ درپیش ہے؟

عدالت نے شاتم رسول آسیہ کی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا دیا پورے عالمی میڈیا میں ایک کہرام برپا ہوگیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کی اس خبر سے دلچسپی اور اس کے مختلف پہلوئوں پر سیر حاصل بحث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس حوالے سے کیا ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مغربی دنیا ہر قیمت پر آزادی اظہار کے اپنے پیمانوں کو اس دنیا کے ہر معاشرے میں قابلِ قبول اور بہرصورت قابل عمل بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے مسلمانوں کے جذبات و معیارات سے ان کو کوئی سروکار نہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ دنیا کے ہر ملک پر دبائو اور دھونس کے ذریعہ اپنی ترجیحات کو مسلط کرسکیں۔

مغربی دنیا کی اس جارحانہ پیش قدمی کا ایک بڑا سبب عالم اسلام کی سیاسی قیادت بھی ہے۔ شاید ہی اسلامی دنیا کو کوئی ایسا حکمران نصیب ہو جو مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ترجیحات پر کوئی اسٹینڈ لے سکے۔ تقریباً سارے مسلم حکمران مغربی آقائوں کے سامنے اپنے عوام کی جہالت و جذباتیت کا رونا روتے رہتے ہیں اور ان کو پوری طرح اپنی کامل اطاعت اور وفاداری کا یقین دلاتے نہیں تھکتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نئی زندگی مبارک ہو

حجاج کے قافلوں نے واپسی کے لیے رخت سفر باندھ لیا ہے۔ رسم عاشقی نبھاکر وطن لوٹنے والوں کے دلوں میں دو کیفیات بیک وقت آن کھڑی ہوتی ہیں۔ فریضۂ حج سے سبکدوشی اور امر الٰہی کے امتثال پر یک گو نہ خوشی اور اطمینان و تشکر کی کیفیت اور اسی گھڑی اللہ کے گھر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے رخصتی کے حددرجہ غمگین اور افسردہ کردینے والے جذبات۔ وہاں رہتے ہوئے تو جب چاہا اپنے کمرے سے نکلے حرم میں داخل ہوئے اور خانہ خدا کے دلکش منظر سے آنکھوں کو تازہ کرلیا۔
اسی طرح جب حجاج مدینہ شریف میں ہوں تو جب شوق انگڑائی لے تو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک کی جالیوں کے سامنے اپنی تمام شرمندگیوں کے ساتھ جاکھڑے ہوئے۔ صلوٰۃ والسلام بھی پیش کیا اور دل میں موجود سالوں اور مدتوں کے حسرت زدہ ارمان بھی کچھ آنسوئوں اور کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہے ڈالے۔ اور اس ڈیڑھ مہینے میں اگر سفر بھی کیا تو کیسا؟ کبھی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تو کبھی مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ، کبھی مکہ مکرمہ سے منیٰ اور کبھی منیٰ سے عرفات اور کبھی عرفات سے مزدفلہ اور کبھی مزدلفہ سے منیٰ اور پھر منیٰ سے مکہ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت نیا نصاب متعارف کرانے جارہی ہے۔ نئی کتب کی جس قدر تفاصیل دستیاب ہوسکیں، وہ بڑی ہوشربا ہیں۔ مدتوں سے مغربی دنیا کا یہ خیال ہے کہ پاکستانی عوام کی اپنے مذہب سے جذباتی لگائو میں سب سے بڑا قصور ہمارے نصاب کا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ سب و شتم اور الزام و دشنام کا شکار جنرل ضیاء الحق مرحوم رہتے ہیں۔ مغرب زدہ آزاد خیال خواتین دانت چبا چباکر مرحوم کو ’’ایصالِ ثواب‘‘ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ جنرل صاحب مرحوم کو اس دارِفانی سے رخصت ہوئے 26 برس ہوچکے ہیں۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی کی تین اور پرویز مشرف کی ایک طویل ترین حکومت گزرچکی ہے، مگر اب تک نصاب کو مغربی دنیا کے مطلوب معیارات تک پہنچانے کی کوششیں پورے شد و مد سے جاری ہیں۔ جنرل پرویز مشرف صاحب تو اس مد میں بین الاقوامی برادری سے اچھی خاصی تگڑی رقم بھی بار بار ہتھیاتے رہے اور اپنے نصاب کو ان کی خواہشات کا تختہ مشق بنائے رکھا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر برائے تعلیم اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن برائون صاحب بھی اس سلسلے میں بار بار پاکستان حاضری دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حج کا پیغام

دنیا کے ہر گوشے سے فرزندانِ اسلام اپنے مقدس مرکز کی جانب سفر شروع کرچکے ہیں۔ مشرق کے ایک کنارے سے لے کر مغرب کے دوسرے گوشے تک کون سا ملک ایسا ہے جس سے حج بیت اللہ کے لیے احرام نہ باندھے گئے ہوں۔ پتھروں سے تعمیر ہوئے اس گھر کے گرد دیوانہ وار چکر لگاتے لوگوں کی رنگت، زبان، نسل اور ملکوں کا تنوع دیکھ کر پورا عالم ورطۂ حیرت میں پڑجاتا ہے کہ آخر کون سی کشش ہے جو یوں سب کو کشاں کشاں یہاں کھینچے لے آتی ہے؟ آج تو پھر اس صحراء نے تیل کے خزانے اُگل کر صحرا نشینوں کو مالدار کردیا ہے ورنہ تیرہ سو سالوں تک تو یہاں فقط اللہ کا نام ہی ہوتا تھا۔ صحراء تھا، ریت تھی، ٹیلے تھے، گرم موسم اور حجاج کرام ہوا کرتے تھے۔ اس وقت بھی شوق و وارفتگی کی یہی کیفیت اور جذبات کے یہی طوفان تھے اور خلقت تھی کہ اُمڈے چلی آتی تھی۔ آج جب رسل وسائل کے تمام اسباب مہیا اور راحت کے تمام سامان دستیاب ہیں تو بھی بندگانِ خدا ہیں کہ ٹوتے پڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بابرکت گھر پر کچھ ایسی محبت وشوق کی کچھ ایسی تجلی فرمائی ہے کہ یہاں سے لوگوں کا دل بھرتا ہی نہیں۔ جانے والا شوق میں تڑپتا ہے اور واپس آنے والا جدائی و ہجر کا دُکھ لیے آہیں بھرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پھر رسمِ عاشقی نبھانے چلے

ذرا کلیجے پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اکلوتے جگر گوشے کے حلق پر چھری پھیرنا کیسا ہے؟؟ جگر گوشہ بھی وہ جو مدتوں دعائیں مانگ مانگ کر تمام نااُمیدیوں میں ایک اُمید بن کر طلوع ہوا ہو۔ بوڑھی ماں اور سن رسیدہ باپ کا اس معصوم بچے سے جو تعلق ہوسکتا ہے کیا اس کا تصور آسان ہے؟ واقعی اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء کرام کی قربانیاں اور حق تعالیٰ کے ساتھ ان کی والہانہ محبت اور بے مثال و بے نظیر اطاعت پوری انسانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اگر یہ روشن مثالیں اور بے مثال جذبے نہ ہوتے، طاعت و عبدیت کے یہ روشن چراغ نہ جلتے تو انسانیت کہاں سے روشنی پاتی؟ نفس کے بندوں اور خواہشات کے غلاموں کے لیے تو آج ان واقعات پر یقین کرنا مشکل ہورہا ہے، کجا ان سے سبق لینا اور آج ان سے منسلک احکامات بجالانا۔
اللہ جل شانہٗ کو بھی اپنے پیغمبر کی ادا کس قدر پسند آئی اور قدر دان ذات عالی نے طاعت و عبدیت کے اس بے مثال و لازوال منظر کو کیسے رہتی دنیا تک محفوظ فرمادیا۔ ہر سال عید قربان آتی ہے اور سنت ابراہیمی کے سارے عالم میں ڈنکے بجتے ہیں۔ ازسرنو تذکرے ہوتے ہیں، عشاق اپنے قلوب گرماتے اور لاکھوں، کروڑوں جانوروں کے حلق پر چھری پھیر کر سیّدنا ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مبارک سنت کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مفید اور کارآمد سلسلہ

یوں لگتا ہے ہمارے محترم دوست مولانا انور غازی صاحب نے اپنے نام آنے والی ساری ڈاک کے جوابات کو تحریری شکل دے ڈالی ہے۔ قلم کاروں کی ڈاک ہوتی کیا ہے؟ کچھ شکوے شکایتیں، تعریف و تحسین کے جملے اور اکثر و بیشتر مشورے اور مشورے۔ یہ کام کیسے کیا جائے؟ اس معاملے میں کیا کریں؟ ایک پریشانی ہے کوئی حل تجویز کریں، سخت تشویش لاحق ہے کوئی دعا بتائیے، یہ اُلجھن ہے کوئی وظیفہ دے دیجیے… غرض اس قسم کے خطوط، میسجز اور ای میلز کا ایک تانتا ہوتا ہے جو اکثر لکھنے والوں خصوصاً دینی موضوعات پر لکھنے والوں کے ہاں بندھا رہتا ہے۔
پاکستانی سماج میں اپنی پریشانیوں، دُکھوں، تکلیفوں، اُلجھنوں اور رکاوٹوں کے معاملات میں دینداروں، علمائ، صلحاء اور مشائخ کی طرف رجوع کرنے کا رجحان ازحد غالب ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ رجحان سادہ لوح اور کم علم لوگوں کو بسا اوقات وہاں بھی پہنچادیتا ہے جہاں ان کی ضروریات اور مسائل پر باقاعدہ بیوپار کیا جاتا ہے۔ اور بیوپار بھی کچھ یوں نہیں کہ لے دے کر کام کردیا جائے بلکہ خالص جعل سازی، دھوکہ بازی اور جھوٹ کا ایک بازار ہے جو گرم ہے۔ آئے دن ان جعلسازوں کے ہاتھوں لٹتے سادہ لوح لوگوں کے قصے اخبارات و جرائد میں لوگوں کی نظروں سے گزرتے رہتے ہیں، مگر پھر

مزید پڑھیے۔۔۔

اہلِ قلوب کیا کہتے ہیں؟؟

اسلام آباد میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری ناخوشگوار اور ناپسندیدہ صورتحال پر ہم ان صفحات میں مسلسل اپنی تشویش و خدشات کا اظہار کرتے رہے اور اس طریقہ کار کے قطعی طور پر غلط و ناجائز اور انقلاب کے نام سے کھڑے ہونے والوں کے ماضی و حال کو دیکھتے ہوئے ان پر پوری قوم کے عدم اعتماد کی کیفیت کو بھی لکھتے رہے۔ ہمارے بعض خیرخواہوں کو سیاسی معاملات پر ہماری لب کشائی پسند نہ آئی اور ہم کو اس سے دور رہنے کا مشورہ تواتر سے دیتے رہے۔ ہمارے خیال میں جب قومیں اس قسم کے بحرانوں میں میں گھر جائیں اور ایسی پیچیدہ آزمائش کا شکار ہوجائیں تو اپنی حیثیت میں ہر شخص کی ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ ہمارے اس خیال کو زوردار تائید اور زبردست تقویت اس وقت ملی جب کربوغہ شریف سے پیغام آیا کہ حضرت اقدس مختار الأمۃ مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم خلیفہ مجاز قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے اس صورتحال پر بیان جاری فرمایا ہے، اس کو اشاعت کے لیے بھیج دیا جائے۔ جو لوگ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کو جانتے ہیں ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ’’مروّجہ سیاست‘‘ کے بارے میں حضرت کے کیا خیالات ہیں اور انہوں نے کسی بھی جماعت کی غیرضروری تائید یا مخالفت سے خود کو کتنا دور رکھا ہے، مگر یقینا جب قوم اس قدر بڑی آزمائش

مزید پڑھیے۔۔۔