• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

گاندھی کا ہندوستان؟؟؟

گاندھی کے ’’سیکولر‘‘ ہندوستان میں اس وقت انتہاپسندی، دہشت گردی، غنڈہ گردی اور تنگ نظری کا ننگا ناچ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ جس دن سے مودی سرکار برسراقتدار آئی ہے ہندوستان کے اقلیتی مذاہب اور بالخصوص مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہوگیا ہے۔ واضح پتہ چلتا ہے کہ شیوسینا، بجرنگ دل اور دیگر ناموں سے سرگرم عمل ہندو انتہاپسند درحقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’’عسکری ونگ‘‘ ہیں جن کو فقط نام کی حد تک الگ شناخت دی گئی ہے۔ ایک مسلمان کو فقط اس شبہ میں لاٹھیاں اور پتھرمار مارکر ہلاک کردیا گیا کہ اس کے گھر میں گائے کے گوشت کی موجودگی کا شبہ تھا۔ جب گوشت کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا گیا تو وہ گائے کی بجائے بکرے کا گوشت نکلا۔ اسی مظلوم مقتول مسلمان کا بیٹا اس وقت بھی ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔ اسی طرح ایک اور مسلمان ٹرک ڈرائیور کو گائے ایک جگہ سے دسری جگہ لے جاتے ہوئے اسی الزام پر بہیمانہ تشدد کرکے شہید کردیا کہ وہ یہ گائے ذبح کرنے کے لیے لے جارہا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ترکی… مشکلات کا شکار

ترکی کو بجا طور پر عالم اسلام کے ماتھے کا جھومر قرار دیا جاسکتا ہے۔ اپنے شاندار ماضی کی بنیاد پر بھی اور آج کے ترکی نے جس استقامت سے قریب کے ستر، اسی سالوں کو چھوڑ کر اپنے عروج کے سابقہ دور کی اساس پر جن نئی منزلوں کا سفر شروع کیا ہے اس کے تناظر میں بھی۔ اگرچہ اسلام پسندوں کی ترکی میں حکومت کو کئی برس ہوچکے ہیں، مگر ہنوز مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آرہی۔ اس وقت طیب اردگان کی حکومت بیک وقت کئی محاذوں پر لڑتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

ایک طرف تو اس کو ملک کے سیکولر حلقوں کی شدید ترین مخالفت کا سامنا ہے جو یقینا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اپنے قیام اوّل دن سے ہی یہ حکومت سیکولر حلقوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔ ان سیکولر حلقوں نے اس حکومت کو بدنام کرنے، عوام الناس کی آنکھوں سے گرانے اور ہر ناجائز حربہ آزماکر اقتدار سے محروم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کبھی پارک کو مسئلہ بناکر تو کبھی کرپشن کا الزام لگاکر پورے ملک کو یرغمال بنانے کی کوششیں بارہا ہوچکی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اب وقت آگیا ہے کہ…

حسب روایت عیدالاضحی بھی اس بدمزگی اور دو دلی کا شکار ہوئی جس کے اب ہم خوب خوگر ہوچلے ہیں۔ یعنی دو، دو اور تین تین عیدیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں اس دفعہ میں ماضی کی طرح دو عیدیں ہوئیں۔ عوام الناس پریشان حال اِدھر اُدھر پوچھتے رہے تھے کہ اپنی قربانی جمعرات کو کریں یا جمعہ کو کریں۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے 26 اضلاع میں سے نو یا دس اضلاع میں عموماً جمعرات کو عید منائی گئی، مگر ان ہی اضلاع میں کچھ لوگوں نے جمعہ کو بھی منائی اور باقی پورے خیبرپختونخوا نے یعنی باقی ماندہ 16 اضلاع نے مرکز کے ساتھ جمعہ کو عید منائی۔ اس دفعہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جس نے عید تو جمعرات کو منائی، مگر اپنی قربانی میں احتیاط کرتے ہوئے جانور جمعہ کو ذبح کیے۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر عید کے موقع پر اس بدمزگی اور افراتفری کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ایک ہی شہر میں کئی کئی عیدیں ہوتی ہیں۔ پشاور شہر میں عموماً تین عیدیں ہوتی ہیں۔ افغان مہاجرین ہمیشہ سے سعودی عرب کی رئویت کے پابند ہیں۔ پشاور کے کچھ علاقے مقامی کمیٹی کے اور کچھ مرکزی کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں۔ اسی سال وزیراعلیٰ نے مقامی کمیٹی کے فیصلے پر اور گورنر نے مرکزی کمیٹی کے مطابق عیدالاضحی منائی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دو جذبے

الحمدللہ! عیدالاضحی پورے مذہبی جوش و خروش سے منائی گئی اور پوری امت مسلمہ نے ابراہیم خلیل اللہ سے وابستہ اس اہم ترین فریضے کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہوئے پورے اہتمام سے لاکھوں جانوروں کو راہِ خداوندی میں قربان کیا۔ ایک عالمی سروے کے مطابق قربانی کے اس فریضے میں پاکستان پوری دنیا میں سرفہرست رہا اور سب سے زیادہ جانور پاکستان میں قربان کیے گئے۔ الحمدللہ! مملکت خداداد میں رمضان، تراویح اور قربانی کے شعائر ایک نمایاں امتیاز اور خصوصیت کے ساتھ دیگر عالم اسلام کے مقابلے میں نہایت اہتمام سے زندہ ہیں اور ان مواقع پر اہلیان مملکت کا جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ جن پر شاید ان کی تنگ دستی کی وجہ سے قربانی واجب بھی نہ ہو محض اپنے ذوق و شوق اور اللہ کی محبت میں اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں۔

جہاں ایک طرف یہ جذبہ، یہ ولولہ اور یہ جوش و خروش ہوتا ہے وہاں دوسری طرف ایک قلیل اقلیت ایک اور فکر کی ترجمانی کرتی ہوئی بھی نظر آرہی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خوش آمدی، خوش آمدی

یہ جامعۃ الرشید کی تاریخ کے بابرکت دنوں میں سے ایک تھا جب برکۃ العصر، ریحانۃ الہند، قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے صاحبزادے اور جانشین حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی دامت برکاتہم حضرت شیخ الحدیث صاحب کے نامور، باکمال اور اَجل خلفاء کی معیت میں جامعۃ الرشید تشریف لائے۔ حضرت کے ہمراہ تشریف لانے والوں میں مختار الامۃ حضرت اقدس مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب، حضرت مولانا عزیزالرحمن ہزاروی صاحب، حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب اور دیگر حضرات تھے۔ الحمدللہ! جامعۃ الرشید میں فجر کی نماز سے قبل روزانہ باقاعدگی سے مجلس ذکر رئیس الجامعۃ کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔ ان حضرات کی تشریف آوری کی مناسبت سے یہ مجلس فجر سے قبل کرنے کی بجائے فجر کے بعد کردی گئی تاکہ اہلِ شہر بھی اس میں شرک فرماسکیں۔

حضرات اکابر کا یہ مبارک قافلہ رات 10 بجے کے لگ بھگ جامعہ پہنچا تو طلبہ و اساتذہ سراپا انتظار تھے، چونکہ جامعۃ الرشید میں پڑھنے والے طلبہ اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد مختار الأمۃ حضرت اقدس مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب سے بیعت ہے، اس لیے بھی طلبہ میں بہت جوش و خروش تھا کہ ان کے مرشد اپنے شیخ زادے کے ہمراہ تشریف لارہے تھے۔ حضرات اکابر کی آمد کی مناسبت سے جامعہ کے تمام طلبہ نے روزہ رکھا اور قیام اللیل کا اہتمام کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کی وفات حسرت آیات پر چند سطریں

آسمان علم و معرفت کے ستاروں میں سے ایک تارہ اور ٹوٹ گیا۔ اخلاص و تقویٰ کے روشن چراغوں میں سے ایک دیا اور بجھ گیا۔ گزرے وقتوں کے باخدا بزرگوں اور پچھلے زمانوں کے ربانی علماء کی ایک جیتی جاگتی نشانی شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمہ اللہ بھی خلد آشیان ہوگئے۔ اللہ اللہ کیسی مبارک زندگی اور اللہ اللہ کتنی پیاری موت۔ 81 برس قبل لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ اسکول پڑھتے تھے تو کہیں شیخ الحدیث والعجم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ پر نگاہ پڑگئی۔ وہیں سے دل کی دنیا پلٹ گئی۔ اسکول چھوڑ کر مدرسہ میں داخلہ لیا اور ایسا داخلہ لیا کہ کامل 67، 66 برس ایک دن کے لیے بھی مدرسہ سے چھٹی نہ لی۔ حتیٰ کہ جس دن انتقال ہوا اس دن بھی بخاری شریف کا سبق پڑھاکر ’’تحفظ مدارس دینیہ‘‘ کے حوالے سے ایک پروگرام کی صدارت فرمارہے تھے۔

حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں خوبیوں اور اپنے پورے طبقہ میں بعض اختصاصی امتیازات سے نوازا تھا۔ آپ کی شخصیت کا نمایاں ترین پہلو آپ کی اپنے بزرگوں کا، سلف صالحین سے والہانہ محبت اور ان کی تحقیقات و تعبیرات پر غیرمتزلزل اعتماد تھا۔ مسلک سلف پر سختی سے کاربند اور اس سے سرموانحراف کے سخت مخالف تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا

سیّدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ صاحبہ اور مدتوں کی آرزوئوں کے بعد پیدا ہونے والے عالی مقام صاحبزادے کو لے کر وادی ’’غیرذی زرع‘‘ پہنچے تو پیغمبرانہ فراست کے ساتھ ایک دعا فرمائی۔ دیکھیے! اس وقت اس بے آب و گیاہ صحراء میں دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہ تھا۔ کبھی کبھار کوئی راہ چلتا قبیلہ چند دن کے لیے فروکش ہوجاتا تو وہ اور بات تھی، مگر سیّدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور اولوالعزم پیغمبر تھے۔ انسانوں میں سب سے زیادہ عقلمند، سب سے زیادہ سوجھ بوجھ والے، فہم و فراست کے مالک انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے جن کے علم کے ذرائع زمینی نہ ہوں، بلکہ آسمانی ہوں اور جن کو پڑھانے والے انسان نہ ہوں، بلکہ خالقِ کائنات ہو، ان کے علم و فضل اور فہم و فراست کا کوئی انسان کیسے اور کیونکر مقابلہ کرسکتا ہے؟ تو باوجود اس وقت ظاہری طور پر اس صحراء میں تمدن کے کوئی آثار نہ تھے، مگر سیّدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اہل خانہ کو وہاں بساتے ہوئے جو دعا اللہ تعالیٰ سے مانگی وہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے:

’’رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَد اٰمِنًا‘‘… ’’یااللہ! اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا۔‘‘
اس کا مطلب ہے کہ انسانوں کے معاشرے اور سماج کی پہلی ضرورت ’’امن‘‘ ہے۔ امن ہوگا تو معاشرہ ترقی کرے گا اور سماج میں سدھار ہوگا۔ اگر کسی معاشرے کا امن رخصت ہوگیا تو کچھ بھی نہیں بچ پائے گا۔ معاشی ترقی بھی امن ہی کی مرہون منت ہے۔ معاشرتی اقدار بھی امن کے زیر سایہ پروان چڑھتی ہیں۔ تعلیم و ترقی کا سفر بھی امن کے زینوں پر ہی طے کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اللہ والوں سے فائدہ اُٹھائیے

اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم اور فضل رہا کہ چھوٹی عمر سے بزرگوں اور اللہ والوں کی جوتیاں سیدھی کرنے کی توفیق ملتی رہی۔ سب سے پہلی شخصیت جن سے دل متاثر ہوا وہ عزیز الرحمن ہزاروی صاحب دامت برکاتہم تھے جو برکۃ العصر ریحانۃ الہند قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ کے خلیفہ ہیں اور راولپنڈی کے علاقے الیہ آباد چوھڑ چوک میں ان کی مسجد صدیق اکبر ہے۔ حضرت کا پرجوش بیان اور غیرت دینی سے بھرپور تقاریر آج بھی کانوں میں گونجتی ہیں۔ جمعہ کی نماز کے بعد مجلس ذکر ہوا کرتی تھی اور اس کے بعد مٹی کی بنی ہوئی بڑی بڑی پلیٹوں میں سادہ سا کھانا کھلایا جاتا تھا۔ آج اللہ تعالیٰ نے ان کو ترنول میں کم و بیش ڈیڑھ سو کنال کی وسیع و عریض جگہ اور اسی پر شاندار دارالعلوم زکریا کی تعمیر کی توفیق بھی عنایت فرمادی ہے۔ پورے ملک میں اصلاح و ارشاد کا کام بھی جاری ہے اور تعلیم و تعلّم کا بھی الحمدللہ۔ جب ہماری مدرسہ کی طالب علمی شروع ہوئی تو اللہ نے اپنے بے پناہ فضل و کرم سے استاذ العلماء شہید مظلوم امام الجرح والتعدیل حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کے قدموں میں پہنچادیا۔ حضرت امین الملۃ الدین مولانا محمد اورکزئی شہید کی اس ناکارہ پر ایسی شفقتیں اور محبتیں رہیں کہ آج بھی سوچتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ سراپا اخلاص اور پیکر محبت تھے۔ صورت اتنی من موہنی کہ نور ہی نور محسوس ہوتے تھے۔ علم اتنا گہرا اور مطالعہ اس قدر وسیع کہ اچھے اچھے علماء انگشت بدنداں رہ جاتے۔ حضرت کا علاقہ ہنگو تھا اور ہنگو سے تھوڑا سا ہی آگے کربوغہ شریف ہے۔ اس طرف آنا جانا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مختار الامۃ حضرت اقدس مفتی سیّد مختار الدین شاہ صاحب کی خدمت میں پہنچادیا جو کہ برکۃ العصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے خلیفہ ہیں اور معرورف بزرگ اور اس پورے علاقے کے غوث و قطب سمجھے جانے والے ولی اللہ مولانا سیّد عمر شاہ صاحب المعروف کربوغہ صاحب مبارک کے پڑپوتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا عشق کو پھر معرکہ درپیش ہے

پونے دو ارب مسلمانوں کے دل زخمی اور روحیں چھلنی ہیں۔ ایک دفعہ پھر مسلمانوں کی عقیدت کے مرکز، ان کی محبت کے محور، ان کے محسنِ اعظم، ان کے ایمان اور عقیدے پر حیاسوختہ، ننگ انسانیت دُشمنوں نے شرمناک حملہ کیا ہے۔ عالمِ اسلام کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک دُکھ اور اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ مراکش سے لے کر سوڈان تک اُمت مسلمہ چیخ چیخ کر اس مجرمانہ جسارت اور بھیانک ترین جرم پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کررہی ہے۔ حرکت اس قدر شنیع اور قبیح ہے کہ پوپ کے لیے بھی اس کی مذمت کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ اس کو بھی کہنا پڑا کہ اگر آپ میری ماں کو گالیاں دیں گے تو جوابی مکہ کا منتظر رہنا چاہیے۔‘‘

مغرب کے دوہرے معیارات اور اسلام دُشمنی پر فقید المثال اتحاد و اتفاق کے مناظر دیکھ کر انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ پیرس کے واقعہ کے بعد جس طرح مغربی دنیا کی چوٹی کی قیادت نے مجتمع ہوکر پیرس کی سڑکوں پر واک کی اور جو اس واک میں شرکت سے بوجوہ رہ گیا اس نے جس طرح اس پر معذرت کی وہ تمام مناظر حیران کن ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی دل آزاری اور ان کے ایمان و عقیدے کو تضحیک کا نشانہ بنانے پر پوری مغربی دنیا میں کس قدر غیرمعمولی اتحاد و اتفاق پایا جاتا ہے۔ گویا اب ’’اسلام دُشمنی‘‘ ہی وہ واحد ایجنڈا رہ گیا ہے جس پر مغرب و امریکا اپنے تمام اختلافات بھلاکر یک جان ہوسکتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اُمت مسلمہ کی حالت قابل رحم حد تک دگرگوں ہے۔ اسلامی دنیا کے حکمران، ان کے وزرائے خارجہ اور فارن آفسز اپنے جمہور عوام کے جذبات کی ترجمانی تک کرنے سے قاصر ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

سپہ سالار وطن جنرل راحیل شریف کا بیان آیا ہے کہ ’’این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘ یقینا یہ وہ بات ہے جو ہم ان صفحات میں گذشتہ کئی سال سے بڑے زور اور پورے تواتر سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہماری قومی سلامتی کے اداروں پر مخفی نہیں ہوگا کہ غیرملکی این جی اوز اس وقت ملکِ عزیز کے حساس سیکٹرز میں کس حد تک دخیل ہوچکی ہیں، اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے بے پناہ سرمائے اور مستحکم انفرااسٹرکچر کی بنیاد پر ہماری کمزور اور لولی لنگڑی حکومتوں کے لیے کتنا بڑا خطرہ اور ملکی مفادات پر اثرانداز ہونے کی کس قدر غیرمعمولی صلاحیت حاصل کرچکی ہیں۔

ایک تعلیم کا شعبہ ہی لے لیجیے۔ میں گزشتہ ایک سال سے اس ایڈوائری کمیٹی کارکن ہوں جو تعلیمی امور میں حکومت اور صوبوں کو مشاورت دیتی ہے۔ وہاں بیٹھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ’’ڈونر ایجنسیوں‘‘ کے نام پر پاکستان کے تعلیمی نظام پر کس طرح اربوں کھربوں روپے کی غیرملکی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ یو ایس ایڈ، یورپین یونین، آسٹریلیا، اقوام متحدہ کے یونیسیف اور یونیسکو سے لے کر کوریا جاپان تک کے ادارے پاکستان کے نظامِ تعلیم کی ’’اصلاح‘‘ میں غیرمعمولی دلچسپی رکھتے ہیں اور بے تماشہ سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ڈاکٹر خالد سومرو شہید… وادی مہران کا بے باک سپوت

سندھ کی دھرتی اپنے اس سپورت کو مدتوں روئے گی۔ وادی مہران میں اب اس بے باک مجاہد کی گرجدار آواز کبھی نہیں گونجے گی۔ مولانا علی محمد حقانی نے اپنے فرمانبردار بیٹے اور سائیں بیر والا حضرت مولانا عبدالکریم قریشی نے اپنے جانثار مرید کو یاد کیا ہوگا جو ڈاکٹر خالد محمود سومرو یوں بھری محفل چھوڑ کر آخرت کے راہی ہوگئے۔ ہفتہ کی صبح یہ خبر ملی تو اللہ ہی جانتا ہے دل پر کیسی قیامت گزری؟ یقین نہیںآرہا تھا کہ جلسوں کو اپنی گرجدار آواز اور شیر کی سی للکار سے گرما دینے والا، ہمیشہ سفر اور حرکت میں رہنے والا یہ پُرجوش و گرم جوش شخص اتنی جلدی دنیا سے منہ موڑ گیا۔ شہادت بھی کیسی مبارک کہ رات گئے تک ’’پیغامِ امن کانفرنس‘‘ میں دنیا کو امن کا پیغام دیتے رہے اور پھر فجر کی نماز کے لیے مسجد آئے تو سیّدنا عمر فاروقؓ جیسی سعادت مند و قابل رَشک شہادت ان کی منتظر تھی۔

آج سے سولہ سترہ برس پہلے کی بات ہوگی۔ میں صادق آباد میں امام الصرف و النحو حضرت مولانا نصراللہ خان صاحب مرحوم کے پاس زیر تعلیم تھا۔ رحیم آباد کے قریب ہی ایک قصبہ کوٹ سبزل کے نام سے ہے جہاں مولانا نعیم اللہ صاحب کا معروف مدرسہ ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔