• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

صندل باباجیؒ

اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے ایک دن اس نے جانا ہے۔ اس قانون کو اہلِ ایمان دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور دہریوں، ملحدوں کے لیے بھی اسے مانے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ چل چلائو کے اس دور میں بعض اوقات ایسی ہستیاں بھی دارالفناء سے دارالبقاء کی راہ لیتی ہیں کہ ان کے جانے سے سارا عالم اندھیر اور ساری دنیا تیرہ و تاریک لگنے لگتی ہے۔ ان کو اپنے تقویٰ و طہارت، راست بازی و راست گوئی، عبدیت و بندگی اور خوئے دلنوازی و دلداری کی وجہ سے لاکھوںا انسانوں پر ایسا مشرف و تفضل عطا ہوجاتا ہے کہ لوگ ان کی ایک ایک حرکت و سکون سے ہدایت پاتے اور راہ یاب ہوتے ہیں۔ ان کا وجود ایک گھنے شجر سایہ دار درخت کی مانند ہوجاتا ہے جس کے پرسکون سائے تلے ایک خلق خدا ڈیرہ ڈالے ہوتی ہے۔ ان کی ذات ستودہ صفات سے گویا خیر اور برکت کے چشمے جاری ہوتے ہیں اور ہر کوئی اپنے اپنے ظرف کے بقدر ان سے مستفیض ہورہا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وما علینا الا البلاغ

ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی کی تازہ لہر نے ہمارے کارپردازوں کے اوسان خطا کردیے ہیں۔ اب ہم اس عفریت کا باقاعدہ سدباب کرنے کی بجائے عارضی اور بے سود اقدامات کے ذریعے قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اب اس اقدام کو ہی لے لیجیے۔ تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اے پی ایس پشاور اور باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے واقعات نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ پورا ملک ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا کہ اب دیگر تعلیمی اداروں کی حفاظت کے حوالے سے کیا پالیسی سامنے آتی ہے، تاکہ اس قسم کے تھرا دینے والے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ ہمارے بزرجمہر طویل اجلاس میں سر جوڑے بیٹھے رہے اور جب اُٹھے تو قوم کو یہ نوید سنائی کہ تعلیمی اداروں کی حفاظت کے حوالے سے انتہائی اہم قدم اُٹھاتے ہوئے تبلیغی جماعتوں کی آمد پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔ واہ سبحان اللہ! آپ کی ’’نگاہ دوربین‘‘ پڑی بھی تو کہاں پڑی؟ جن کی امن پسندی کا پورے عالم میں شہرہ ہے اور جن کو بلاروک ٹوک ساری دنیا میں اپنی انسانیت دوستی کے جذبات کے ساتھ آنے جانے کی کھلی اجازت ہے، جنہوں نے ہر قسم کی تقسیم اور اختلاف و انتشار سے بالاتر ہوکر انسانیت کو امت واحدہ کی لڑی میں پرونے کی کامیاب ترین کوششیں کی ہیں آپ نے امن و سلامتی کے ان ہی داعیوں کا راستہ روک دیا؟؟؟

مزید پڑھیے۔۔۔

لاہور اور گوجرانوالہ میں تین دن

لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے اور ’’جامعہ اشرفیہ‘‘ کو بجا طور پر لاہور کا دل کہا جا سکتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی اس صف اوّل کی دانش گاہ کو یہ منفرد اعزاز حاصل رہا ہے کہ کئی چوٹی کے جبال علم اس مبارک درس گاہ سے بیک وقت وابستہ رہے ہیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد کئی مدارس وجود میں آئے جن میں سب سے زیادہ شخصیات جامعہ اشرفیہ لاہور کے حصے میں آئیں۔ بانیٔ جامعہ حضرت مولانا محمد حسن امرتسریؒ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے اجل خلیفہ تھے اور اپنی غیرمعمولی علمیت و فقاہت اور للہیت و روحانیت کی وجہ سے علماء عصر میں ممتاز تھے۔ ان تمام کمالات ظاہری و باطنی کے ساتھ ساتھ اس قدر متواضع، منکسر المزاج اور عاجزی کا پیکر تھے کہ فنائیت کے آخری درجے پر فائز معلوم ہوتے تھے۔ ان کے تین صاحبزادوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی علمی و روحانی میراث سے حظ وافر نصیب فرمایا ہے۔

گزشتہ روز دو دن کے لیے جامعہ اشرفیہ حاضری کا موقع ملا۔ جامعۃ الرشید کا ایک وفد کچھ ضروری کاموں کے سلسلے میں لاہور کے لیے عازم ہوا تو حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب، نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ کا ہمیشہ کی طرح محبت بھرا اصرار ہوا کہ قیام ان کے ہاں ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلام آباد میں فیملی بزنس پر شاندار سیمینار

راولپنڈی اور اسلام آباد میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی تقریب تھی۔ کراچی میں مدارس دینیہ کی برکت اور علمائے کرام کی کثرت کی وجہ سے اہلِ شہر کو ایسے مواقع بار بار ملتے ہیں، مگر جڑواں شہروں (اسلام آباد، راولپنڈی) کے عوام کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ ایک دینی مدرسے نے تاجر برادری کو پیش آنے والے ایک بہت ہی اہم مسئلے کی جانب توجہ کی اور اس پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔

سیمینار کا عنوان تھا ’’فیملی بزنس: شراکت، وراثت مسائل اور شریعت کی روشنی میں حل‘‘۔ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کہ اولین مخاطب تاجر برادری تھی، مگر یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ تعلیم و تدریس سے وابستہ حضرات اور دیگر طبقات کے افراد نے بھی اس میں بھرپور انداز میں شرکت کی۔ پانچ سو سے زاید افراد کے لیے ہال میں بیٹھنے کی گنجائش تھی، مگر تھوڑی ہی دیر میں ہال اپنی تمام وسعتوں سمیت تنگی داماں کا منظر پیش کررہا تھا۔ خواتین کی ایک معقول تعداد دوسرے باپردہ ہال میں تشریف فرما تھی۔ اس پروگرام میں لوگوں کی دلچسپی کا یہ عالم بھی دیکھا کہ کارڈ میں دیے گئے وقت مقرر سے آدھا گھنٹہ پہلے لوگوں کی آمد شروع ہوچکی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان حلال اتھارٹی ایکٹ 2015ء

کھانا پینا تمام انسانوں کی بنیادی ضرورت ہے، اور دنیا میں انسان کے فکر و تردد کا بڑا باعث اور اس کی تگ و دو کا بہت بڑا محرک۔ آسمانی ادیان نے ہر شریعت میں کھانے پینے کے حوالے سے بڑی واضح اور دوٹوک ہدایات دی ہیں اور اللہ کو ماننے والو ںکو صریح الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ تم نے کیا کھانا ہے؟ کیا پینا ہے اور کیا نہیں کھانا، کیا نہیں پینا؟ اس سلسلے میں قرآن پاک نے ایک اصولی فیصلہ تو یہ کیا ہے کہ ’’کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتْ‘‘ کہ پاکیزہ چیزیں کھائو۔

اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے امت مسلمہ پر اس کے ہاں کتے، بلی، گیدڑ، سانپ، بچھو، بندر اور اس نوعیت کی تمام چیزیں حرام قرار پاکر ہمارے دسترخوانوں سے دور ہیں۔

اگر آپ کو کبھی عالمی اسفار کا موقع ملا ہو تو آپ آسمانی ہدایات سے محروم اقوام کے خورونوش کو دیکھ لیں تو کئی دنوں تک کچھ کھا پی نہ سکیں۔ گوشت کے بازاروں میں باقاعدہ لٹکے ہوئے کتے اور خنزیر، شیشے کے شوکیسوں میں بل کھاتے ہوئے سانپ اور ترازو میں تلتے ہوئے مینڈک اور بچھو دیکھ کر آپ تو شاید وہیں قے کر دیں، مگر چینیوں، جاپانیوں، تھائی لینڈ اور آس پاس کے بہت سے ممالک کے باشندوں کی یہ من پسند اور فیورٹ ڈشز ہیں۔ چین میں سنا ہے کہ ایک خاص قسم کی ڈش بہت مہنگی ہے اور صرف مالدار لوگ ہی اسے افورڈ کرسکتے ہیں، اور اس کے کھانے کا طریقہ بھی بہت نرالا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا تیسری عالمی جنگ چھڑنے کو ہے؟؟

ترکی نے اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روسی جنگی جہاز کو مار گراکر عالمی سیاست میں ایک بھونچال برپا کردیا ہے۔ روسی صدر نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی نامناسب اور غیرمہذب لب و لہجہ میں ترکی کو من حیث القوم اور ترک صدر رجب طیب ارودغان کو نام لے کر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق ترک سفیر کو طلب کرکے دو گھنٹہ تک روس نے اپنے غیض و غضب کا اظہار کیا اور شدت غضب سے روسی صدر کے منہ سے ایسے لفظ بھی نکل گئے جس کا مطلب یہ لیا گیا کہ روس چاہے تو رجب ارودغان کو قتل بھی کراسکتا ہے۔ روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک ترکی نے اپنی اس سنگین ترین غلطی پر روس سے معذرت نہیں جس کا ترکی کو خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

دوسری طرف پوری ترک قوم اپنے بے مثال اور محبوب زعیم رجب طیب ارودغان کے ساتھ پورے قد کے ساتھ کھڑی ہے اور روس کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں طیب ارودغان نے کہا ہے کہ معذرت وہ کرے گا جو ناحق پر ہوگا۔ ترکی اپنی سرحدوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرے گا اور اس کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کا یہی انجام ہوگا جو روسی جنگی جہاز کا ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اک درویش لکھاری

حقیقت ہے کہ ان جیسا درویش خدا مست اور سلیم الفکر لکھاری ادیبوں کی برادری میں ڈھونڈھنا اچھا خاصا مشکل کام ہے۔ نثر کی اصناف ہوں یا شعر کی، بدقسمتی یہ ضروری سمجھ لیا گیا ہے کہ قلم کے کمال کے ساتھ بے راہ روی اور آزادی کے نام پر آوارگی لازم ملزوم ہے۔ ہمارے اس قدرے قدیم مشرقی معاشرے کے نامی گرامی شعراء اور سکہ بند ادیب بڑے دھڑلے اور ڈھٹائی سے اپنے نائو نوش کے قصے اور عشق کی داستانیں مزے لے لے کر سناتے ہیں اور اس کو اس برادری کا طرئہ امتیاز سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح جاسوسی ادب میں ہیجان خیز جنسیت کا امتزاج بھی ضروری سمجھ لیا گیا ہے۔ جس قدر جاسوسی ادب تخلیق کیا گیا ہے اور دنیا کی جس زبان میں بھی کیا گیا ہے اس میں جنسی جذبات برانگیختہ کیے بغیر کوئی پلاٹ مکمل نہیں سمجھا جاتا۔

اشتیاق احمد صاحب مرحوم نے اس سارے ماحول میں اپنی انفرادیت اور ندرت نہ صرف برقرار رکھی، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تحریر میں مقصدیت مزید بڑھتی چلی گئی۔ وہ زمانے کی روش کے خلاف اور پانی کی مخالف سمت میں تیر رہے تھے، مگر ایک لمحہ کے لیے بھی ان کے اوسان خطا ہوئے نہ جذبات سرد اور نہ اعصاب پر کسی قسم کی کمزوری طاری ہونے دی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آگ یورپ کے دامن تک پہنچ گئی ؟؟

فرانس میں ہونے والے ہلاکت خیز دھماکوں سے پوری دنیا لرز اُٹھی ہے۔ فٹ بال اسٹیڈیم میں ہونے والے لرزہ خیز دھماکوں کو ابھی فقط تین گھنٹے ہوئے ہیں اور درست تفصیلات سامنے نہیں ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 2 سو کے لگ بھگ افراد ان دھماکوں کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں۔ حملہ آوروں میں سے 8 کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن میں سے اکثریت نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ جس اسٹیڈیم میں یہ دھماکے ہوئے ہیں وہاں اس وقت فرانس اور جرمنی کو فٹ بال ٹیموں کے درمیان میچ جاری تھا جس کو دیکھنے کے لیے 80 ہزار سے زاید تماشائیوں کے ساتھ فرانس کے صدر بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ فرانس کے صدر ’’فرانسو اولاند‘‘ نے ایمرجنسی کی حالت کا نفاذ کردیا ہے۔ اور بتایا جارہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ پیرس میں ایمرجنسی حالت کا نفاذ ہوا ہے۔

اس وقت بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی اسکرینوں پر قیامت کا سا سماں ہے۔ تمام تر نشریات روک کر صرف اور صرف پیرس دھماکوں کو کوریج دی جارہی ہے۔ اس سنگین واقعے کو یورپ کا نائن الیون قرار دیا جارہا ہے۔ اولین واہلہ میں حملوں کی ذمہ داری داعش یا القاعدہ پر ڈالی جارہی ہے، مگر ان سطروں کے تحریر کرتے وقت تک کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مبارک… ارودغان مبارک

طیب ارودغان کی جماعت نے اعصاب شکن انتخابی جنگ کے بعد ایک دفعہ پھر فتح مبین کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ترکی کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع تھا کہ معاملات کے پوائنٹ اف نوریٹرن تک پہنچ جانے کی وجہ سے اسلام پسند حکمران جماعت کو قبل از وقت انتخابات میں جانا پڑا۔ اس سے پہلے قصر صدارت میں حجاب والی خاتون اوّل کے مسئلہ پر بھی طیب ارودغان کی جماعت کو ٹف ٹائم دیا جاچکا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرخرو کرکے نکالا۔

ترکی کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے دانشور اچھی طرح جانتے ہیں کہ ترکی کا سیکولر حلقہ اب ہذیانی کیفیت کا شکار ہوچکا ہے۔ بدلتے ہوئے ترکی کو ’’کمال ازم‘‘ کی موت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ سیکولر حلقہ اپنے لبرل ہم خیالوں کو ’’دورِ عثمانی‘‘ کی واپسی کے ’’بھیانک انجام‘‘ سے ڈرا رہے ہیں۔ لبرل اور سیکولر اخبارات و جرائد اور میڈیا کے ادارے چیخ چیخ کر حشر برپا کیے ہوئے ہیں کہ ترکی میں وقت کا پہیہ الٹی طرف چل رہا ہے۔ جس مذہبیت اور اسلامیت سے بہت جتن کرکے بڑی مشکل سے پیچھا چھڑایا گیا تھا وہ اب ایک ’’عفریت‘‘ کی صورت میں دوبارہ معاشرے کی رگوں میں دوڑتا ہوا دکھایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

زمیں کو پکڑ کر تھوڑا سا ہلا دیتا ہے

زمین نے ایک بار پھر جھرجھری لی۔ قیمتی انسانی جانوں کے ناقابل تلافی نقصان کے ساتھ ساتھ آن کی آن میں محنتوں مرادوں سے بنائے ہزارہا انسانی گھروندے زمین بوس ہوگئے۔ چترال، دیر اور شانگلہ سمیت کتنے ہی علاقوں میں لوگ اپنے مکانات کے ملبوں پر بیٹھے حسرت سے مٹی کے اس ڈھیر کو دیکھ رہے ہیں جو کبھی ان کا نشیمن تھا۔ وہ اپنے ہونے کا یوں بھی پتہ دیتا ہے… زمیں کو پکڑ کر تھوڑا سا ہلا دیتا ہے… کے بعد یہ سخت ترین زلزلہ ہے اور نقصانات بھی معمولی نہیں ہیں۔ اس میں جہاں ہم سب کو آگے بڑھ کر اپنے بھائیوں کی مدد کرنی ہے وہاں اس بات کو بھی نہیں بھولنا کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور مالکیت کے شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے۔ اللہ کو ناراض کر کے کوئی عافیت نہیں خریدی جاسکتی۔

اس حوالے سے سعودی عرب کی ’’کنگ سعود یونیورسٹی ریاض‘‘ کے ایک استاذ مدثرایوب صاحب نے وزیراعظم پاکستان کے نام ایک دردمندانہ خط لکھا ہے۔ ہم سے کہا ہے کہ اس خط کو اپنے کالم میں شائع کر دیں۔ اُمید ہے کہ وزیراعظم کی میڈیا کو مانیٹر کرنے والی ٹیم پردیس میں بیٹھے ایک محب وطن پاکستانی کی صدا ان کے کانوں تک پہنچا دے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آہ! حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ المدنیؒ

60 سال سے زاید عرصہ قال اللہ اور قال رسول اللہ کے مبارک ترین مشغلہ میں صرف کرکے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب المدنی بھی خلد آشیاں ہوگئے۔ خوش خلق، شیریں دہن، ہر دم فعال اور متحرک رہنے والے اور اب گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک بھر میں ختم بخاری کے حوالے سے سب سے زیادہ سفر کرنے والے حضرت مولانا شیر علی شاہ صاحب فقط ایک جید مدرس اور صاحبِ قلم ادب نہ تھے بلکہ تحریکات، تنظیمات اور جوش و ولولہ کی دنیا کے بھی سرخیل تھے۔ افغان جہاد اور افغان طالبان سے غیرمعمولی محبت و عقیدت تھی اور افغانستان کے دینی حلقوں میں ’’استاذ الکل‘‘ کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ افغانستان میں جب طالبان کا دور تھا تو مولانا کو ’’دورہ تفسیر‘‘ کے لیے خاص طور پر مدعو کیا جاتا تھا اور طالبان کی مرکزی قیادت کے حضرات بھی ذوق و شوق سے مولانا کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کرنا اپنی سعادت سمجھتے تھے۔

زندگی کا ایک بڑا حصہ مدینہ منورہ میں گزارا تھا، اس لیے عربی میں اہلِ زبان کی سی فصاحت و بلاغت تھی۔ فی البدیہہ عربی تقریر کرتے تھے اور خوب کرتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔