• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ابھی کل ہی کی تو بات تھی جو ہم استقبال رمضان کی تیاریاں کر رہے تھے اور اب دیکھتے ہی دیکھتے آدھا ماہ گزرنے کو ہے۔ حقیقت ہے کہ رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں بھری گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں۔ جس تیزی سے یہ دن گزرے ہیں باقی کو بھی پلک جھپکنے کی دیر ہے۔ سچی بات ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس بیش بہا نعمت کو اپنی غفلتوں اور لاپرواہیوں کی نذر کردیتے ہیں۔ کہاں چشم بینا رکھنے والوں کے انداز کہ اس مہینے کی ایک ایک ساعت کو کنجوس کی پونجی کی طرح استعمال کریں اور کہاں ہمارے اطوار کہ اس مہینے کو معمول سے زیادہ سوکر اور ہمیشہ سے زیادہ کھا پی کر گزاردیا۔ دن کے روزے اور رات کی تراویح کی توفیق اگر ارزاں ہوگئی تو گویا پورے مہینے کا حق ادا کردیا۔ بلاشبہ روزہ وتراویح بہت بڑی سعادت کی چیزیں ہیں، مگر اس میں جان اور زور کیسے پیدا ہو، تاکہ ’’لعلکم تتقون‘‘ کا مقصد حاصل ہو؟ اس کا ایک حل تو ہمارے بزرگوں نے یہ نکالا کہ پورا مہینہ اللہ کے گھر میں گزارا جائے، چنانچہ مشائخ عظام کو ایک بڑی تعداد رمضان المبارک کا پورا مہینہ معتکف رہتی ہے اور ان کے متعلقین حسب توفیق جتنے ہوسکیں، اتنے دن ان کی صحبت میں رہ کر حقیقتِ رمضان کو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم نے اپنے محبوب استاذ شہید مظلوم، امین الملت والدین حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کو ان کی زندگی کے آخری دس سالوں میں ہمیشہ پورے رمضان المبارک کا اعتکاف کرتے ہوئے دیکھا۔ چونکہ بہت بڑے عالم اور اس عصر کے بڑے محدث تھے۔ اس لیے اعتکاف میں عبادت کے ساتھ ساتھ علمی مشاغل جاری رہتے۔ چار پانچ سو کے لگ بھگ کتابیں کتب خانے سے نکال کر ان کے معتکف میں پہنچائی جاتیں، جو اکثر علم حدیث، رجال اور جرح وتعدیل سے متعلق ہوتیں۔ چاند رات کی قدر لیلۃ القدر کی طرح کرتے اور ان کے معمول کو دیکھ کر پتا چلتا کہ واقعی یہ لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات) ہے اور اب مزدوروں کو مزدوری ملنے کا وقت ہے۔ اس وقت کو غفلت وبے توجہی تمام اعمال کے اجر کو اکارت نہ کردے۔

قریب کے زمانے کے اکابر میں قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے ہاں رمضان المبارک کا غایت درجے کا اہتمام تھا۔ مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد رمضان المبارک کے اعتکاف کے لیے دنیا بھر کے مختلف ممالک کا سفر فرماتے تاکہ جابجا عبادت وتزکیہ اور ذکروشغل کا ماحول بنایا جائے۔ اکثر وبیشتر اسفار ’’غیبی اشاروں‘‘ پر فرماتے ورنہ ہر کوئی جانتاہے کہ مہاجر مدنی رمضان المبارک میں مدینہ شریف چھوڑنے پر کب آمادہ ہوتا ہے؟ حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ کی زندگی کے آخری اسفار میں فیصل آباد اور اسٹینگر (سائوتھ افریقہ) کے شہرہ آفاق اسفار بھی تھے جس نے پوری پوری دنیا میں سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے غلغلے بلند کردیے۔ جوق درجوق لوگ بیعت ہوئے اور ذکر حق اور نعرہ ہائے ہو کے وہ زمزمے بلند ہوئے کہ آج بھی اہلِ قلوب یاد کرتے اور آنکھیں بھگوتے ہیں۔ حضرت پر رمضان المبارک کے اوقات کو قیمتی بنانے اور وصول کرنے کی عجیب دھن اور لگن طاری تھی۔ ’’فضائل رمضان‘‘ اور ’’اکابر کا رمضان‘‘ کی سطر سطر حضرت کی کیفیت کا حال کہہ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ حضرت شیخ الحدیثؒ کی سی کیفیت اور ان کے درد وبے چینی سے ان کے خلفائے کرام کو خوب خوب حصہ دیا ہے۔ جہاں جہاں حضرات کے خلفائے کرام ہیں، وہاں رمضان المبارک اسی غایت درجے کے اہتمام اور گھڑی گھڑی کی حفاظت کے معمولات کے ساتھ گزارا جاتا ہے۔

آج قطب الاقطاب شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحبؒ کے رمضان کا منظر دیکھنا ہو تو ان کے خلیفہ اجل حضرت مفتی مختار الدین شاہ صاحب کے ہاں کربوغہ شریف ضلع ہنگو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ حضرت مفتی صاحب کے ہاں تو پورا سال تربیتی چلوّں کی ترتیب جاری رہتی ہے اور ملک بھر سے لوگ مختلف اوقات کے لیے کربوغہ شریف کا رُخ کرتے رہتے ہیں، تاکہ باطن کو صاف اور قلب کا رُخ درست کرسکیں، مگر رمضان المبارک میں تو کربوغہ شریف کی مبارک رونقوں کے کیا کہنے! ملک کے کونے کونے سے اللہ کا مبارک نام سیکھنے اور دل کے میل دھونے والوں کا جم غفیر وہاں کا رُخ کرتا ہے اور اکابر کی مبارک نسبت حاصل کرکے واپس لوٹتا ہے۔

راقم اللہ تعالی کے فضل سے کئی سال سے وہاں کا رمضان اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہے۔ حقیقت ہے کہ شیخ الحدیث کے مقبول رسالے ’’اکابر کا رمضان‘‘ کی عملی صورت کسی نے دیکھنی ہو تو کربوغہ شریف جاکر دیکھ سکتا ہے۔ ہزارہا ذاکرین ، صالحین ، علماء اور نیک لوگوں کا مجمع ہو اور اس ماہ مبارک میں اللہ پاک کی رضا کے حصول کے لیے اپنا راحت و آرام اور گھر کی سہولیات تج کر کے اس ویرانے میں آن پڑا ہو اور ایک ایک گھڑی لگے بندھے معمول میں کسی ہوء ہو تو خود سوچیے کہ اس جگہ کیسے کیسے انوارات برس رہے ہونگے۔ اس کا صحیح لطف تو وہی بیان کر سکتا ہے جس نے آنکھوں سے یہ مناظر دیکھے ہوں اور کچھ دن وہاں گزارے ہوں۔

اس تفصیل کے عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس قیمتی مہینے کو غفلت، سستی اور آرام طلبی سے بچانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ یہ مہینہ پورا یا آدھا یا کم ازکم اس کا آخری عشرہ ہمت والے اولوالعزم بزرگوں کی صحبت میں گزارا جائے۔ ان حضرات کی ہمت وعزم اور عبادت وطاعت کی برکت سے ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ غافل سے غافل دل بھی اثر لینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے شاہکار مکتوبات میں لکھا ہے: ’’جس کا رمضان منتشر اور بے ترتیب گزرے گا، اس کا پورا سال انتشار وبے ترتیبی کا شکار رہے گا اور جس کا رمضان مجتمع اور قیمتی گزرے گا اس کا پورا سال ایسا ہی ہوگا۔‘‘ احادیث مبارکہ کی روایات سے بھی پتا چلتا ہے رمضان المبارک کے معمولات پورے سال پر اثرانداز رہتے ہیں۔ جیسا رمضان ویسا سال۔ اس لیے ان باقی ماندہ گھڑیوں کی بہت قدر اور حد درجہ حفاظت کرنی چاہیے۔ خصوصاً آخری عشرے کا تو ایک لمحہ بھی ضائع کرنا خسرانِ عظیم ہے۔ ملک میں جابجا اللہ والے معرفت کی دُکانیں کھولے بیٹھے ہیں کہ کوئی خریدار تو آئے جس کو اتنا قیمتی سودا بے مول دے دیا جائے۔ ان کی قدر کرنی چاہیے اور رمضان المبارک کو اپنی اصلاح، فکر آخرت اور تعلق مع اللہ کے لیے خاص کردینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک مہینے میں خوش بخت سعادت مندوں کی فہرست میں شامل کردے اور بداعمالیوں کی نحوست وشقاوت کو ہمارے نامہ اعمال سے دھودے، آمین یارب العالمین!