• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دوستو! رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں بھری گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں۔ حقیقت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس بیش بہا نعمت کو اپنی غفلتوں اور لاپرواہیوں کی نذر کردیتے ہیں۔ کہاں چشم بینا رکھنے والوں کے انداز کہ اس مہینے کی ایک ایک ساعت کو کنجوس کی پونجی کی طرح استعمال کریں۔ کہاں ہمارے اطوار کہ اس مہینے کو معمول سے زیادہ سوکر اور ہمیشہ سے زیادہ کھا پی کر گزاردیا۔ دن کے روزے اور رات کی تراویح کی توفیق اگر ارزاں ہوگئی تو گویا پورے مہینے کا حق ادا کردیا۔ بلاشبہ روزہ وتراویح بہت بڑی سعادت کی چیزیں ہیں، مگر اس میں جان اور زور کیسے پیدا ہو، تاکہ ’’لعلکم تتقون‘‘ کا مقصد حاصل ہو۔ مشائخ و اکابر حضرات نے تقویٰ کے کئی انعامات ذکر فرمائے ہیں۔ مثلاً: ٭کام میں آسانی: ’’وَمَنْ یَّتَقِ اللّہَ یَجْعلْ لَّہٗ مِنْ أَمْرِہٖ یُسْرًا‘… ’’اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو ہم تمہارے سب کام آسان کردیں گے۔‘‘

٭مصائب سے چھٹکارا: ’’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہٗ مَخْرَجًا۔‘‘کہ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کو مصیبت سے جلد نکال دیں گے اس کو مصائب سے نکلنے کا راستہ ملے گا۔ ٭روزی کا وعدہ: ’’وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘‘…’’ جو تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالی اس کو ایسے راستہ سے روزی دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوگا۔

‘‘ ٭عزت و احترام: ’’إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ أَتْقَاکُمْ‘‘… ’’درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہو۔‘‘ ٭گناہوں کا کفارہ: ’’وَمَنْ یَّتَقِ اللّٰہَ یُکَّفِرْ عَنْہٗ سَیِّئَاتِہٖ۔‘‘… ’’جو کوئی اللہ سے ڈر ے گا تو اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ تقویٰ کیسے حاصل ہو؟ اس کا ایک حل تو ہمارے بزرگوں نے یہ نکالا کہ پورا مہینہ اللہ کے گھر میں گزارا جائے، چنانچہ مشائخ عظام کو ایک بڑی تعداد رمضان المبارک کا پورا مہینہ معتکف رہتی ہے اور ان کے متعلقین حسب توفیق جتنے ہوسکیں، اتنے دن ان کی صحبت میں رہ کر حقیقتِ رمضان کو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال کرنا ہوگا کہیں یہ قیمتی دن بھی یوں ہی غفلت میں نہ گزر جائیں۔ آسمان سے رحمتوں کی چھاجھوں چھاج بارش ہے۔

سرکش شیاطین قید ہیں اور نفس کو آلائشوں سے پاک کرنے کے لیے قدرت نے بھوکے پیاسے رہنے کی ایک پاکیزہ مشق کا پابند کردیا ہے۔ اس قیمتی مہینے کو غفلت، سستی اور آرام طلبی سے بچانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ یہ مہینہ پورا یا آدھا یا کم ازکم اس کا آخری عشرہ ہمت والے اولوالعزم بزرگوں کی صحبت میں گزارا جائے۔ ان حضرات کی ہمت وعزم اور عبادت وطاعت کی برکت سے ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ غافل سے غافل دل بھی اثر لینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اپنے شاہکار مکتوبات میں لکھا ہے: ’’جس کا رمضان منتشر اور بے ترتیب گزرے گا، اس کا پورا سال انتشار وبے ترتیبی کا شکار رہے گا اور جس کا رمضان مجتمع اور قیمتی گزرے گا اس کا پورا سال ایسا ہی ہوگا۔‘‘ احادیث مبارکہ کی روایات سے بھی پتا چلتا ہے رمضان المبارک کے معمولات پورے سال پر اثرانداز رہتے ہیں۔

جیسا رمضان گزرے گا ویسا ہی پورا سال گزرے گا۔ جیسے یہ ایک ماہ رمضان گزارا جاتا ہے، باقی زندگی اسی نمونے پر گزارلو۔ جیسے رمضان کے چند دن بعد ختم ہوجانے والا ہے، ایسے ہی عمر بھی تھوڑی سی ہے۔ اس کو رمضان کے ایک ماہ پر قیاس کرلو جو تمہاری اس تھوڑی عمر کو تقویٰ والی زندگی بنادے گا اور اللہ اس کی مدد کرے گا۔ رمضان کے بعد عید کا دن خوشی کا دن ہوتا ہے، ایسے ہی عمر کو پابندیوں کے ساتھ گزار لیا جائے تو پھر خوشی کا دن آئے گا۔ اصل خوشی کا دن (دخول جنت) کبھی ختم نہ ہوگا۔ خواہ کتنے ارب سال گزر جائیں۔ زندگی تھوڑی سی ہے اور پھر ہمیشہ خوشی کے دن کی طرف انتقال ہے۔ زندگی تقویٰ پر گزارلی تو عید ہمیشہ کو ملے گی۔ بس تم موت تک تقویٰ کو اختیار کرلو تو پھر عید کا چاند ایسا طلوع ہوگا جس کا غروب نہیں، اس لیے ان باقی ماندہ گھڑیوں کی بہت قدر اور حد درجہ حفاظت کرنی چاہیے۔ ملک میں جابجا اللہ والے معرفت کی دُکانیں کھولے بیٹھے ہیں کہ کوئی خریدار تو آئے جس کو اتنا قیمتی سودا بے مول دے دیا جائے۔ ان کی قدر کرنی چاہیے اور رمضان المبارک کو اپنی اصلاح، فکر آخرت اور تعلق مع اللہ کے لیے خاص کردینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک مہینے میں خوش بخت سعادت مندوں کی فہرست میں شامل کردے اور بداعمالیوں کی نحوست وشقاوت کو ہمارے نامہ اعمال سے دھودے۔ آمین یارب العالمین۔