• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

جس طرح گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے راقم الحروف کو یاد فرمایا اور ایک طویل نشست میں گھریلو تشدد کے پنجاب اسمبلی کے بل پر ہماری باہم کافی گفتگو ہوئی۔ مولانا کی رائے تھی کہ اس حوالے سے CPRD ایک اجلاس بلائے جس میں فقہ اسلامی اور ملکی قانون کے ماہرین کو یکجا جمع کرکے اس نئے قانون پر تفصیلی مباحثہ کیا جائے۔ چنانچہ 9؍ مارچ کی تاریخ طے کرکے ہم نے چند حضرات کو دعوت دے دی، چونکہ وقت بہت کم تھا اور دوردراز کے حضرات کی تشریف آوری کو یقینی بنانا خاصا مشکل تھا، اس لیے مجلس کو مختصر رکھا گیا اور دستیاب حضرات کی موجودگی پر اکتفا کیا گیا۔

مجلس میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے موجودہ اور سابق پروفیسرز میں سے پروفیسر ڈاکٹر سلیم شاہ صاحب، پروفیسر ڈاکٹر قسیم منصور صاحب، ڈاکٹر عزیز الرحمن صاحب اور ڈاکٹر مشتاق صاحب مدعو تھے۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب سفر میں ہونے کی وجہ سے بذاتِ خود تو شریک نہ ہوسکے، مگر اپنی قیمتی آرا لکھ کر بھیج دیں جس کی مجلس میں خواندگی کرلی گئی۔ اسلامی نظریاتی کونسل سے مولانا انعام اللہ صاحب اور وفاقی شرعی عدالت کے ایڈوائزر ڈاکٹر مطیع اللہ صاحب شریک مجلس تھے۔

نامور مفکر مولانا زاہد الراشدی صاحب گوجرانوالہ سے خاص طور پر تشریف لائے۔ اسی طرح سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نامور قانون دان جناب کامران مرتضیٰ صاحب اور جناب جلال الدین ایڈوکیٹ صاحب بھی مجلس میں شریک ہوئے۔ نیز مولانا شریف ہزاروی، حافظ حسین احمد اور مفتی ابوبکر صاحب بھی تشریف لائے۔ پانچ گھنٹے کی اس طویل مجلس کی صدارت مولانا فضل الرحمن صاحب نے فرمائی اور سیکریٹری شپ کے فرائض راقم الحروف نے انجام دیے۔

مولانا فضل الرحمن صاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں تحفظ نسواں اور گھریلو تشدد کے حوالے سے گزشتہ سات آٹھ سال میں ہونے والی کوششوں اور پارلیمانی کاوشوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اہلِ مجلس کو بتایا کہ کس طرح اسی قسم کی قانون سازی اولاً مشرف دور میں اور پھر ثانیاً پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہوتی رہی اور بعض ایسے قوانین سامنے آتے رہے جو نہ صرف قرآن و سنت کے خلاف تھے، بلکہ ہمارے خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار سے بھی متصادم تھے۔ نیز انہوں نے اسی جدوجہد پر بھی روشنی ڈالی جو اسی قسم کی قانون سازی کو روکنے کے لیے مذہبی جماعتوں نے بالعموم اور جمعیت علماء اسلام نے بالخصوص پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کیں۔ مولانا کی گفتگو کو بہت توجہ اور دلچسپی سے سنا گیا اور بعض شرکائے مجلس کے لیے ان کی گفتگو کا بہت سا حصہ کسی خوشگوار انکشاف سے کم نہ تھا۔ نامور مفکر اور محقق عالم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اس نوع کی قانون سازی کے تہذیبی اور سماجی اثرات پر گفتگو کی اور بتایا کہ

یہ کون سی مغربی سے ہے جس کو اہلِ مشرق کے حلق سے اُتارنے کی پرزور کوششیں ہورہی ہیں۔ ان کی رائے تھی کہ اس حوالے سے سنجیدہ مغربی مفکرین، ماہرین عمرانیات اور سماج و بشریات کے علوم پر نظر رکھنے والوں کے کام سے بھی استفادہ کیا جانا چاہیے جنہوں نے اس حوالے سے مغرب کی مشکلات اور پریشانیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور خاندان کے ادارے کی تباہی کو مغربی تہذیب کے زوال کی پہلی اینٹ سمجھا ہے۔ اسی طرح مرد و زن کے حقوق و فرائض میں جو فطری منطقی اور عقلی تفریق کو نظرانداز کردینے سے معاشرے کی جو شکل بنتی ہے اور عورت پر دہری، تہری ذمہ داریوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے، وہ گھر کے یونٹ کو کس طرح تہہ و بالا کردیتا ہے اور اس معاشرتی اکائی کے ڈسٹرب ہوجانے سے پورا معاشرہ کیسا زیرو زبر ہوتا ہے، اس پر مسلمان مفکرین کو اپنی تحقیقات کا خلاصہ پیش کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے استاذ اور ماہر قانون نیز صدرِ جامعہ کے لیگل ایڈوائزر ڈاکٹر عزیز الرحمن صاحب نے بہت ٹو دی پوائنٹ گفتگو فرمائی۔ انہوں نے بل کا شق وار جائزہ پیش کیا اور اس بل میں ویمن پروٹیکشن آفیسرز کو گھر کی چار دیواری کی پامالی کے جو اختیارات دیے گئے ہیں، اسی طرح صلح، صفائی اور ثالثی کے بجائے عدالتی کھینچا تانی، نفرت انگیزی، انتقامی کارروائیوں کے امکانات نیز گھر میں موجود دیگر خواتین کے ساتھ کسی خاتون کے معمول کے خانگی جھگڑوں کے نتیجے میں لاحاصل و لامتناہی عدالتی کارروائیاں وغیرہ وغیرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کسی گھر میں دہشت گرد کی موجودگی کی یقینی اطلاع ہو تب بھی عدالت عظمیٰ نے پولیس کو پابند کیا ہے کہ وہ اس گھر میں داخلہ کی خصوصی و استثنائی اجازت کو کس طرح استعمال کرے گی اور کن چیزوں کو باقاعدہ ڈاکومنٹ کرکے کسی گھر میں موجود دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے بغیر وارنٹ داخل ہوسکے گی۔ جب کہ اس بل میں ویمن پروٹیکشن آفیسر کو جو کوئی مرد بھی ہوسکتا ہے، کو کسی بھی گھر میں کسی بھی وقت داخل ہوجانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں چادر و چار دیواری کا تقدس کس طرح پامال ہوگا۔ یہ ہمارے ماحول سے باخبر لوگوں پر مخفی نہیں ہے۔

مولانا انعام اللہ صاحب نے بل کی وہ دفعات جو قرآن و سنت کے احکامات سے متصادم ہیں، اس پر تفصیلی شق وار گفتگو کی اور پھر اپنی تمام تحقیق کو باقاعدہ تحریری شکل میں مجلس مشاورت کو پیش کرنے کا وعدہ فرمایا۔ ڈاکٹر قسیم منصور صاحب نے بھی بہت مدلل گفتگو کی اور آخر میں تجویز دی کہ اس بل کی اصلاح تقریباً ناممکن ہے، اس لیے دینی جماعتیں گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے باقاعدہ اپنا مستقل بل لے کر آئیں تاکہ یہ تاثر زائل ہو کہ دینی قوتیں گھریلو تشدد روکنے میں سنجیدہ نہیں، بلکہ بتایا جائے کہ ہم اس حوالے سے بھرپور قانون سازی کے قائل ہیں، مگر قرآن و سنت کے احکامات سے مطابقت اور ملکی دستور و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ان شاء اللہ! جلد اس مجلس مذاکرہ کی تفصیلی رپورٹ شائع کردی جائے گی جس سے اندازہ ہوسکے گا کہ اس بل پر اہل فکر و نظر کے تحفظات کیا ہیں؟