• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

وومن پروٹیکشن ایکٹ 2016ء کے نام سے پنجاب اسمبلی نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے جو بل پاس کیا ہے۔ اس کے تفصیلی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بل قرآن و سنت، آئین و قانون کے بنیادی ڈھانچے، معاشرتی اقدار اور خاندانی نظام سب کے خلاف ہے۔ بل کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں کی گئی قانون سازی کو چند معمولی تبدیلیوں کے ساتھ بڑی عجلت کے ساتھ اس ملک میں نافذ کردیا گیا ۔

بل فرد کی آزادی و حقوق سے لے کر دستور میں طے کی گئی بعض بنیادی اور اصولی چیزوں سے ٹکراتا ہوا نظر آتا ہے۔ ذیل میں بل کی چند چیدہ چیدہ چیزوں پر سرسری نظر ڈالتے ہیں، اس سے آپ کو بخوبی بل کی ’’روح‘‘ کا اندازہ ہوجائے گا۔ تعریفات (Defination) کے باب میں لکھا ہے کہ ’’عدالت‘‘ سے مراد ’’فیملی کورٹ‘‘ ہے۔ واضح رہے کہ فیملی کورٹ کی جج ہمیشہ خاتون ہوتی ہے اور یہ باقاعدہ نہیں، بلکہ سرسری سماعت کی عدالتیں تصور کی جاتی ہیں۔


زیرکفالت بچوں میں ’’متبنیٰ‘‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے اور اس کو بھی میاں یا بیوی کے بچوں کی طرح ٹریٹ کیا گیا ہے، حالانکہ لے پالک کی کوئی شرعی حیثیت، نان، نفقہ، سکنی یا میراث کے اعتبار سے نہیں ہے۔

خاتون پر ’’تشدد‘‘ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں گھریلو تشدد، جنسی تشدد، نفسیاتی تشدد، معاشی زیادتی، کسی مرد کا اپنی بیوی کا تعاقب کرنا اور سائبر کرائم سب کو شامل کرتے ہوئے ’’نفسیاتی تشدد‘‘ کی جو شکل بیان کی ہے وہ حیران کن ہے۔ اگر کسی خاتون کی بھوک اُڑگئی یا کوئی اعصابی، نفسیاتی عارضہ پیدا ہوگیا تو اس کا ذمہ دار مرد کو سمجھا جائے گا۔ کسی میڈیکل بورڈ نے یہ کہہ دیا کہ اس نفسیاتی عارضہ کی وجہ مرد ہے تو اسی کو ’’نفسیاتی تشدد‘‘ کہا جائے گا۔ اب ڈاکٹر حضرات بتائیں کہ کیا کسی بیماری کی تعیین میں کسی شخص، فرد، زید، بکر کو حتمی ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟؟؟ نیز خاتون ایک خاص کی ’’Freedom of Movment‘‘ یعنی آزادانہ پوری دنیا میں بلااجازت گھومنے پھرنے کی آزادی پر کسی مرد نے کوئی قدغن لگائی تو اس پر بھی وہ اس بل کے تحت ماخوذ ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ شق آئین کے آرٹیکل 15 کے خلاف ہے۔

اسی طرح مرد کو ٹریکر لگاکر اس کی تمام حرکات کو سکنات کو چیک کرنے کی شق آئین کے آرٹیکل 14، آرٹیکل 7 اور آرٹیکل 25 کے خلاف ہے۔ مرد کو گھر سے بے دخل کرنا، اس کو اپنی جائیداد اور ملکیت ہر تصرف سے روکنا آئین کے آرٹیکل 9 اور 23، 24 کے خلاف ہے۔ اسی طرح اپنی حفاظت کے لیے رکھے گئے قانونی اور لائسنس یافتہ اسلحہ سے محروم کردینا سیلف ڈیفنس کے خلاف ہے۔ اگر اسی دوران کسی اور نے اس کے نہتے ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کو قتل کردیا یا نقصان پہنچایا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟

اسی طرح اس بل میں اس کیس کی سماعت کرنے والی فیملی کورٹس کو ایک قسم کے سوموٹو ایکشن کی اجازت دی گئی ہے، حالانکہ آئین کا آرٹیکل 185، 184 واضح طور پر بتاتا ہے کہ سوموٹو ایکشن صرف سپریم کورٹ لے سکتی ہے۔ اسی طرح جھگڑے کے دوران مرد نہ صرف گھر سے نکلے گا، بلکہ خاتون کی آمد و رفت والی تمام جگہوں اور اس کی جائے ملازمت وغیرہ تمام جگہوں پر جانے سے روک دیا جائے گا۔

نان نفقہ کے شرعی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بل میں جھگڑے کے نتیجے میں خاتون کے لیے جو کچھ طے کیا گیا ہے وہ مرد کے فرائض سے زیادہ ہے۔ اس جبر کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔

ان مختصر سطور میں زیادہ تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی، البتہ ایک دلچسپ شق قانون بنانے والوں کے پیچھے بیٹھوں کے عزائم طشت ازبام کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اس قانون کی تنقید کرنے والی کمیٹی عطیات، زمینیں، گاڑیاں اور دیگر سازوسامان کی ڈونیشن قبول کرسکتی ہے۔ مطلب بین الاقوامی فنڈنگ کا ایک راستہ نکال لیا گیا ہے اور غالباً اس قانون کو پاس کرنے کی پرکشش ترغیبات میں سے ایک یہ بھی ہو کہ قانون کی تنفیذ کے تمام تراخراجات بمع تمام ترتعیشات بین الاقوامی ڈونرز کے ذمے ہوں گے۔

گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے اسی معاملے پر یاد فرمایا اور ان کے ساتھ ایک تفصیلی نشست میں سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ JUI اس حوالے سے اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔ اللہ کرے کے تمام مذہبی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے یہ بل تمام نقائص سے پاک ہوکر مظلوم خواتین کی حقیقی داد رسی کا باعث بنے۔ موجودہ حالت میں یہ معاشرے کو سوائے انتشار، اختلاف، خلفشار اور خاندانی نظام کی تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔