• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دینی مدارس سے ان زاہدوں اور متوکلوں کی جماعت کے آخری آخری ارکان ایک ایک کرکے رخصت ہورہے ہیں جو اپنے اساتذہ اور مشائخ کی جانب سے جہاں ایک دفعہ بٹھلادیے گئے تو زندگی کے آخری سانس تک وہاں بیٹھے رہے۔ زمانہ کہیں سے کہیں چلاگیا، خود ان کے سامنے اپنی ترقی و خوشحالی کے بے شمار مواقع آئے، مگر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑنے کا کبھی تصور بھی نہ کیا۔ اگر استاذ نے کسی جنگل میں بٹھادیا تو جنگل میں بیٹھ گئے، اگر شیخ نے کسی ادارے کی خدمت کا کہہ دیا تو اپنا تن من دھن سب کچھ اس کو سپرد کردیا۔ عمر کے آخری حصہ میں اگر کوئی حساب لگائے کہ انہوں نے اپنے اداروں کو دیا کیا اور ان اداروں سے کتنا فائدہ اور منفعت اُٹھائی تو پتہ چلے گا کہ ان ہی کی طرف سے بے لوث عطا ہی عطا تھی اور لینا کچھ نہیں۔ قوت لایموت پر گزران کیے یہ بزرگ اپنی عمر، اپنی جوانی، اپنی علمیت و استعداد، اپنی بزرگی و نیک نامی غرض اپنے پلّے کی ہر چیز ان اداروں کے لیے وقف کردیتے ہیں اور لیتے بس فقط اتنا ہیں جس سے زندگی اور سانس کا رشتہ برقرار رہے۔ ایسی مثالیں ہمارے دینی تعلیمی اداروں میں پہلے بہت تھیں، مگر اب جیسے جیسے مادّیت کی چکاچوند میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ مزاج بھی معدوم ہوتا چلا جارہا ہے۔ اب ہر کوئی اپنی قدر و قیمت اور صلاحیت و استعداد کے بقدر پورے پورے معاوضہ و مشاہرہ کا طالب ہوتا ہے جو مل جائے تو ٹھیک ورنہ یہ کہتا ہوا اپنی دنیا آپ بنانے نکل کھڑا ہوتا ہے


زمین خدا تنگ نیست
پائے گدا لنگ نیست
اللہ تعالیٰ کی بہت بہت رحمتیں ہیں حضرت مولانا محمد صدیق صاحبؒ پر جنہوں نے قیامِ پاکستان سے قبل جالندھر میں قائم ’’خیرالمدارس‘‘ میں داخلہ لیا اور پھر اپنے شیخ، استاذ اور مربّی حضرت مولانا خیر محمد صاحبؒ کے ساتھ وہ وفا نبھائی کہ کامل پون صدی تک اس ادارے کو اپنے خون پسینے سے سینچتے رہے۔ ادارہ ہندوستان سے پاکستان منتقل ہوگیا اور پاک طینت وفا شعاروں کی یہ جماعت بھی ساتھ ہی ادھر آگئی۔
ان درویشانِ خدا مست کا پہلا اور آخری عشق نبوت کے علوم تھے۔ یہی ان کا اوڑھنا اور یہی بچھونا تھا۔ طالبانِ علومِ نبوت کے درمیان اُن ہی جیسا رہن سہن اور طور اطوار رکھتی یہ جماعت اپنی جوانی، ادھیڑ عمری، بڑھاپا اور بالآخر بالکل پیرانہ سالی کا دور ایک ہی ترتیب، ایک ہی انداز، حددرجہ جفاکشی اور کمال سادگی سے گزار کر اپنے اللہ کے حضور ہلکے پھلکے پہنچ جاتے ہیں۔ نہ ان کے اوپر لوگوں کی امانتوں اور زکوٰۃ صدقاۃ کے مشکل ترین حسابات کا بوجھ ہوتا ہے اور نہ انہوں نے علم دین کو اپنی شہرت، ناموری یا دنیا کی راحتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہوتا ہے۔ ان جفاکش سادہ مزاجوں کا مدارس کے ناقابلِ یقین حد تک معمولی مشاہروں پر بڑی اچھی گزر بسر ہوجاتی ہے۔ دنیا کی زیادہ آسائشوں کی عادت نہیں ہوتی، ناموری اور شہرت کا شوق نہیں ہوتا، کتابوں اور طلبہ سے دل لگا ہوتا ہے اور بس…
اللہ اللہ یہ پاکیزہ نفوس اب ڈھونڈے کہاں ملیں گے؟ اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے اور اس مبارک گروہ کے جو چند ایک لوگ بقید حیات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے اور ہم سب کو ان کی قدردانی کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یاربّ العالمین!