• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

اللہ تعالیٰ اپنے حضور دی گئی قربانیوں کا کس قدر قدردان ہے اس کی یاد ہر بار عیدقربان پر تازہ ہوجاتی ہے۔ منتوں مرادوں سے بڑھاپے میں ملے بیٹے کو اللہ کے خلیل نے ایک اشارے پر ذبح کے لیے لٹادیا اور تسلیم و رضا کے پیکر اور پیغمبرانہ تربیت کے مظہر بیٹے نے باپ کے جذبے کو مزید مہمیز لگائی۔ شاید چشم فلک نے اس سے قبل ایسا نظارہ نہ دیکھا ہو۔ خالق کائنات نے اپنے خلیل کا امتحان لیا اور سیّدنا ابراہیم نے اطاعت و عبدیت کا امتحان لیا اور سیّدنا ابراہیمؑ نے اطاعت و عبدیت کی سرمدی مثال قائم کردی۔ اللہ جل شانہٗ کو ادا بھاگئی اور قیامت تک آنے والوں سے مطالبہ ہوا کہ سال میں ایک دن اس یاد کو تازہ کرتے رہیں۔ اس دن کو پوری ابراہیمی ملت کی عید کا دن قرار دیا اور جنت سے آئے مینڈھے کی جگہ دنیا میں پائے جانے والے حلال چوپائے اس دن قربان کیے جانے ٹھہرائے گئے۔

 

ذی الحجہ کے ان دس دنوں کے فضائل میں اس قدر مرویات ہیں کہ بیان سے باہر… رمضان المبارک کے بعد ان دنوں کو سال کے سب سے مبارک ایام قرار دیا گیا ہے۔ گویا پورا عشرہ تقریب الٰہی کے قدم اُٹھاتے اٹھاتے انسان قربانی یا حج تک پہنچتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی اہم عبادت سے پہلے اس کے لیے تیار ہونا، اپنا تزکیہ کرنا، معاصی اور گناہوں کے گرد و غبار کو دور کرنا اور اخلاص و احسان کی کیفیات پیدا کرنا کس قدر ضروری ہے۔

عیدالاضحی اس جذبے کی یادگار ہے نہ کہ فقط گوشت کھانے کا ایک موقع۔ عبادات سے روح نکل جائے تو ایک بے اثر رسم باقی رہ جاتی ہے۔ جانور کی خریداری، اس کی خیال داری اور پھر اس کے ذبح سے لے کر گوشت تقسیم کرنے کے تمام مراحل اسی جذبے اور سپرٹ کے ساتھ ہونے چاہییں جس بنا پر اس ابراہیمی سنت کے احیاء و تازگی کا حکم ہے۔ خواہشاتِ نفس کی قربانی اور دلی جذبوں پر اللہ تعالیٰ کے احکام کو فوقیت دینا اس عید کا اصل پیغام ہے۔ اگر دن دنوں یہ پیغام ہم اپنے نفوس میں نہ اُتار سکے تو پھر بقول اقبال مرحوم اذان رہ جائے گی، مگر روحِ بلالی اسی سے نکل جائے گی۔ جانوروں کی خرید و فروخت میں اعتدال و اخلاص اور گوشت کی تقسیم میں ہمدردی و خیرخواہی اور غریب پروری کے جذبات اس عبادت کا حسن ہیں۔ کسی مرحلے پر بھی اس کو رسم بننے سے روکنا اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔ قربانی کے احکامات جاننا اور اپنی قربانی کو ضائع ہونے سے بچانا انتہائی ضروری ہے۔ فقط جانور کے حلق پر چھری پھیرنے کو قربانی سمجھنا نادانی ہوگا۔ یہ ایک عبادت ہے اور کسی بھی عبادت کی طرح اس کے باقاعدہ احکامات ہیں۔ اخلاص اس کی بھی شرط اول ہے اور اتقان و احسان اس کے ثواب میں خوب اخوب اضافہ کرتے ہیں۔ ہمدردی و خیرخواہی اس کو چار چاند لگاتی ہے اور احکامِ خداوندی کو ہر چیز پر بالا کردینے کا عزم بالجزم اس کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیو ںکو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس کے ثمرات و اثرات سے دنیا و آخرت میں سرفراز فرمائے۔