• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ ملک عزیز، مملکت خداداد پاکستان چاروں طرف سے اپنے بدخواہوں کے گھیرے میں آچکا ہے۔ ابھی وطن عزیز میں آزادی کی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے دن آنے کو تھے کہ کوئٹہ سول ہسپتال میں ہونے والے اندوہناک حادثے نے پورے ملک کی فضا انتہائی سوگوار کردی۔ یہ حادثہ اس اعتبار سے بھی بہت خونیں ثابت ہوا کہ کوئٹہ بار کی تقریباً تمام قیادت اور نوجوان وکلا کی ایک بڑی تعداد اس بدترین دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئی۔

دشمن کے غیرمعمولی بے باک اور فعال ہونے کا اندازہ اس بات سے لگتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے صوبہ بلوچستان عملاً سیکیورٹی فورسز کے ہاتھ میں ہے۔ کوئٹہ کی کوئی سڑک ایسی نہیں ہے جس پر ناکے نہ لگے ہوں۔ اس سبب کے باوجود دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعات کا ہوجانا یقینا کوئی آسانی سے نظرانداز کرنے والی چیز نہیں ہے۔


٭ پاکستان اپنی سالمیت اور بقا کی فیصلہ کن جنگ لڑرہا ہے۔ آئیے! تاریخ کے اس نازک ترین موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔ ٭ آئیے! تمام مذہبی، لسانی، علاقائی، قومی اور صوبائی اختلافات پس پشت ڈال کر پاکستان اور اسلام کے نام پر ایک ہوجائیں۔ ٭

پاکستان میں ہونے والے ان واقعات کو عالم اسلام کے دیگر خطوں میں جاری نارکی، خانہ جنگی، افراتفری اور بدامنی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ واضح طور پر معلوم ہورہا ہے کہ اسلامی دنیا کی نئی جغرافیائی حد بندیاں کرنے کا عالمی منصوبہ پوری تیزی سے اپنے انجام تک پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے کیے گئے تو دیکھیے کس قدر چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی اسلامی ریاستیں وجود میں لائی گئیں۔ چند ایک ممالک کسی نہ کسی درجے میں ایک طاقتور جغرافیائی اکائی رکھنے والے باقی رہ گئے تھے، اب عالمی جنگ کے اس مرحلے میں ان کو تقسیم درتقسیم کرنے کے پرانے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

سوڈان، مصر، عراق، سعودی عرب، افغانستان اور پاکستان عالم اسلام کے وہ چھ بڑے ممالک ہیں تو ہر اعتبار سے قدرت کے انعامات سے مالامال اور اسلامی اُمت کا ایک اہم ترین حصہ ہیں۔

سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے۔ مزید تقسیم کرنے کے منصوبوں پر عمل جاری ہے۔ عراق کو شیعہ، سنی اور کرد بنیادو ںپر تین حصوں میں کاٹ دینے کی کوششیں اب فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکی ہیں اور اگر عراقی عوام نے خانہ جنگی کی اب کیفیت سے باہر نکل کر کوئی لائحہ عمل نہ اپنایا تو یہ عظیم اسلامی ریاست بھی اپنی جغرافیائی وحدت برقرار رکھتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ مصر میں صدر مرسی کی منتخب حکومت کی جس طرح بساط لپیٹی گئی اور اس وقت دین پسند عوام جس ریاستی جبر و تشدد کا شکار ہیں، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ تیسرا ملک سعودی عرب ہے۔ سعودی عرب کے چاروں طرف سخت خطرات کے مہیب بادل منڈلا رہے ہیں۔ سعودی سرحدات پر واقع تمام ممالک میں خانہ جنگی ہے۔ عراق، شام، یمن اور بحرین سعودی عرب کے سرحدی ممالک ہیں اور چاروں میں سخت قسم کی خانہ جنگی اور افراتفری کی فضا ہے۔ اس افراتفری کو سعودی عرب کے اندر منتقل کرنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ سعودی شاہی خاندان کا داخلی انتشار بھی سعودی عرب کی یکجہتی و سالمیت اور نظام کے استحکام میں سخت رکاوٹ ہے۔ بااثر شہزادوں کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں اور بے اثر شہزادے ان بااثر کو بھی بے اثر دیکھنا چاہتے ہیں۔

افغانستان کو دیکھیے تو وہاں گزشتہ چالیس سال سے امن کا دن کسی نے نہیں دیکھا۔ ہر صبح خون اور بارود کی بو کے ساتھ طلوع ہوتی ہے اور لاشوں کا تحفہ دے کر غروب ہوتی ہے۔ اب افغانستان کو پانچ حصوں میں بانٹنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ افغان اور فارسی عصبیت کو اس حد تک پہنچادیا گیا ہے کہ واپسی مشکل لگ رہی ہے۔ آنے والے دس پندرہ سالوں میں خاک و خون کے اس درددناک منظر سے افغانستان کاباہر نکلنا مشکل نظر آرہا ہے۔

ان سب مناظر اور حرکیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کی طرف آئیے تو پھر اندازہ ہوگا کہ معاملہ اس قدر سادہ نہیں۔ پاکستان اپنی سالمیت اور بقا کی فیصلہ کن جنگ لڑرہا ہے۔ آئیے! تاریخ کے اس نازک ترین موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوجائیں۔ آئیے! تمام مذہبی، لسانی، علاقائی، قومی اور صوبائی اختلافات پس پشت ڈال کر پاکستان اور اسلام کے نام پر ایک ہوجائیں۔