• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کشمیر کے چناروں میں ایک بار پھر ظلم و دہشت کی آگ لگ گئی ہے۔ جنت نظیر وادی کی سڑکیں پھر بے گناہوں کی لاشوں سے بھرگئی ہیں۔ مائوں اور بہنوں کی آہ و فغان آسمان کا کلیجہ چیر رہی ہیں۔ بوڑھی خمیدہ کمر کے کندھوں پر جوان بیٹوں کے لاشے دھر دیے گئے ہیں۔ ایک قیامت کا سا سماں اور ایک عجیب ہنگامہ ہے، مگر آفرین ہے بین الاقوامی برادری کو کہ مجال ہے کہ کشمیر سے اٹھی کسی پکار پر کوئی کان دھرنے والا ہو۔ ایسا لگتا ہے ساری دنیا کانوں میں تیل ڈالے سکون کے عالم میں ہو اور وادی کا پتہ پتہ ظلم و دہشت کی داستان سنارہا ہو۔

ایک دون دن کی بات نہیں کامل ستر برس ہوئے ہیں۔ ستر سال کہنے کو دو لفظ ہیں، مگر جب ظلم و ستم کی سیاہ رات ہو اور دہشت و موت کے انڈے بچے دیتے دن کو یہ مدت ہزاروں سال محسوس ہوتی ہے۔ کشمیر کا تصور آتے ہی روتی پیٹتی، بین کرتی اور اپنے جوان بیٹوں کی خون خون لاشوں پر جھکی مائوں بہنوں کی تصویریں ذہن میں تازہ ہوجاتی ہیں۔ سفید ریش بوڑھوں کو بندوقوں کے بٹ مارتے، سڑکوں پر گھسیٹتے خونخوار فوجی اور سامنے نہتی خلق خدا جس کو یہ مظالم سہتے ستر برس ہوگئے ہیں۔

 

پاکستان کی حکومت نے بھی جس نیم دلانہ انداز میں اس جبر و تشدد کی مذمت کی ہے وہ ہر گز کافی نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی غیرمعمولی سست روی کا شکار ہے۔ کس قدر شرم کی بات ہے کہ وہاں پاکستان کا جھنڈا اٹھائے نہتی عوام ظالم فوجیوں کی سنگینوں کے سامنے ہو اور یہاں ہم ’’اسلامی مدد‘‘ کے تقاضے بھی پورے نہ کرسکیں۔

کشمیر کا کیس پاکستان کے علاوہ کوئی نہیں اٹھاسکتا۔ ہم کو فی الفور چین اور دیگر دوست ممالک کے تعاون سے عالمی برادری کو متوجہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے جس حد تک ممکن ہے ہمدرد ممالک کے ذریعہ ایک بین الاقوامی لابنگ کرنی ہوگی۔ اگر ہم کشمیر کو فوری طور پر بھارت کے پنجے سے چھڑا نہیں سکتے تو کم از کم مظالم بند کروانے میں ہی اپنا کردار ادا کریں۔ بھارت اپنی شدت پسندی اور انتہاپسندی کی وجہ سے عالمی دنیا میں ازحد بدنام ہوچکا ہے۔ بہت سارے بین الاقوامی ادارے بھارت میں پڑھتے ہوئے تشدد اور انتہاپسندانہ رجحانات پر شدید تحفظات ظاہر کرچکے ہیں۔ یہ بہت مناسب وقت ہے کہ اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لایا جائے اور کشمیریوں کی دادرسی کی جائے۔