• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ترکی کے مردِ بحران رجب طیب اردغان نے ایک اور حملہ پسپا کردیا۔ امریکا میں بیٹھے ایک سازشی شیطان نے عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے فوج میں اپنے زیر اثر ایک حلقے کو استعمال کرتے ہوئے ترکی کی منتخب اور مقبول حکومت کو فوجی بوٹوں تلے روندنے کی کوشش کی، مگر اس کو منہ کی کھانی پڑی۔ طیب اردوغان کے ایک ویڈیو پیغام پر لاکھوں کی تعداد میں ترک عوام سڑکوں پر نکل آئی۔

استنبول کی شاہراہوں نے، انقرہ کے چوکوں نے، ازمیر کے چوراہوں نے اور اناطولیہ کی سڑکوں نے ایسے مناظر پہلے کب دیکھے تھے۔ کیا مرد، کیا عورتیں، کیا بوڑھے اور کیا جوان سب ہی سڑکوں اور چوکوں پر تھے۔ جہاں جہاں باغیوں کے فوجی کنٹرول سنبھالے بیٹھے تھے وہاں عوام الناس ٹولیوں کی شکل میں پہنچے اور مار مار کر باغیوں کے حلیے بگاڑدیے۔ سوشل میڈیا پر جاری تصاویر دیکھ کر آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ باغی فوجی دونوں ہاتھ جوڑے عوام الناس سے معافی مانگتے دکھائی دے رہے تھے۔ چند ہی گھنٹوں میں مطلع صاف تھا اور رجب طیب اردوغان ایک نئے جوش، ایک نئے ولولے کے ساتھ قوم سے خطاب کرتے دکھائی دے رہے تھے۔


اس بات کے واضح اشارے بلکہ ماضی کے کئی اقدامات پہلے سے موجود تھے کہ امریکا میں بیٹھے فتح اللہ گولن مسلسل ترکی کی موجودہ حکومت کو گرانے کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف ہیں، مگر یہ ان کی آخری اور انتہائی کوشش تھی جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بری طرح ناکام ہوئی۔ اب اردوغان کے لیے سازشی عناصر کو چھانٹ چھانٹ کر نظام سے باہر نکالنا آسان ہوجائے گا۔ ترکی میں جبر کی یہ آخری ہچکی تھی اور اب ان شاء اللہ! اس کے بعد ایسی کسی مہم جوئی کا امکان کم نظر آتا ہے۔

اس موقع پر دیکھنے میں آیا کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے انتہائی غیرذمہ دارانہ، حددرجہ شاطرانہ اور خالص جانبدارانہ کردار ادا کیا۔ ابھی فقط بغاوت کی خبر ہی آئی تھی کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور ان کے پاکستانی ہم نوا انگریزی اخبارات نے بغاوت کی کامیابی کے شادیانے پیٹنے شروع کردیے۔ کسی نے اسی آمرانہ اقدام کی جھوٹے منہ مذمت کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ جب بغاوت ٹھنڈی کردی گئی تو بی بی سی کا شکست خوردہ تبصرہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ البتہ سوشل میڈیا چونکہ ایک عوامی ہتھیار ہے، اس لیے اس نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور اس کو ترک حکومت اور عوام کے حق میں موڑے رکھا۔

ترکی کے واقعے میں دنیا بھر کے سیاستدانوں کے لیے عبرت ہے۔ اگر حکومتیں واقعی ڈلیور کررہی ہوں اور عوام کے دلوں میں دھڑک رہی ہوں تو بغاوت کی کوششوں کو اس طرح ناکام بنایا جاتا ہے، مگر اگر حکومتیں ایسی ہوں جیسی ہمارے ہاں ہوتی ہیں تو پھر ان پر رونے والا کوئی نہیں ہوتا۔