• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

عید کا اصل پیغام

اللہ تعالیٰ اپنے حضور دی گئی قربانیوں کا کس قدر قدردان ہے اس کی یاد ہر بار عیدقربان پر تازہ ہوجاتی ہے۔ منتوں مرادوں سے بڑھاپے میں ملے بیٹے کو اللہ کے خلیل نے ایک اشارے پر ذبح کے لیے لٹادیا اور تسلیم و رضا کے پیکر اور پیغمبرانہ تربیت کے مظہر بیٹے نے باپ کے جذبے کو مزید مہمیز لگائی۔ شاید چشم فلک نے اس سے قبل ایسا نظارہ نہ دیکھا ہو۔ خالق کائنات نے اپنے خلیل کا امتحان لیا اور سیّدنا ابراہیم نے اطاعت و عبدیت کا امتحان لیا اور سیّدنا ابراہیمؑ نے اطاعت و عبدیت کی سرمدی مثال قائم کردی۔ اللہ جل شانہٗ کو ادا بھاگئی اور قیامت تک آنے والوں سے مطالبہ ہوا کہ سال میں ایک دن اس یاد کو تازہ کرتے رہیں۔ اس دن کو پوری ابراہیمی ملت کی عید کا دن قرار دیا اور جنت سے آئے مینڈھے کی جگہ دنیا میں پائے جانے والے حلال چوپائے اس دن قربان کیے جانے ٹھہرائے گئے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

بھنور میں پھنسی مسلم دنیا

واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ ملک عزیز، مملکت خداداد پاکستان چاروں طرف سے اپنے بدخواہوں کے گھیرے میں آچکا ہے۔ ابھی وطن عزیز میں آزادی کی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے دن آنے کو تھے کہ کوئٹہ سول ہسپتال میں ہونے والے اندوہناک حادثے نے پورے ملک کی فضا انتہائی سوگوار کردی۔ یہ حادثہ اس اعتبار سے بھی بہت خونیں ثابت ہوا کہ کوئٹہ بار کی تقریباً تمام قیادت اور نوجوان وکلا کی ایک بڑی تعداد اس بدترین دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئی۔

دشمن کے غیرمعمولی بے باک اور فعال ہونے کا اندازہ اس بات سے لگتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے صوبہ بلوچستان عملاً سیکیورٹی فورسز کے ہاتھ میں ہے۔ کوئٹہ کی کوئی سڑک ایسی نہیں ہے جس پر ناکے نہ لگے ہوں۔ اس سبب کے باوجود دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعات کا ہوجانا یقینا کوئی آسانی سے نظرانداز کرنے والی چیز نہیں ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کشمیر لہو لہو

کشمیر کے چناروں میں ایک بار پھر ظلم و دہشت کی آگ لگ گئی ہے۔ جنت نظیر وادی کی سڑکیں پھر بے گناہوں کی لاشوں سے بھرگئی ہیں۔ مائوں اور بہنوں کی آہ و فغان آسمان کا کلیجہ چیر رہی ہیں۔ بوڑھی خمیدہ کمر کے کندھوں پر جوان بیٹوں کے لاشے دھر دیے گئے ہیں۔ ایک قیامت کا سا سماں اور ایک عجیب ہنگامہ ہے، مگر آفرین ہے بین الاقوامی برادری کو کہ مجال ہے کہ کشمیر سے اٹھی کسی پکار پر کوئی کان دھرنے والا ہو۔ ایسا لگتا ہے ساری دنیا کانوں میں تیل ڈالے سکون کے عالم میں ہو اور وادی کا پتہ پتہ ظلم و دہشت کی داستان سنارہا ہو۔

ایک دون دن کی بات نہیں کامل ستر برس ہوئے ہیں۔ ستر سال کہنے کو دو لفظ ہیں، مگر جب ظلم و ستم کی سیاہ رات ہو اور دہشت و موت کے انڈے بچے دیتے دن کو یہ مدت ہزاروں سال محسوس ہوتی ہے۔ کشمیر کا تصور آتے ہی روتی پیٹتی، بین کرتی اور اپنے جوان بیٹوں کی خون خون لاشوں پر جھکی مائوں بہنوں کی تصویریں ذہن میں تازہ ہوجاتی ہیں۔ سفید ریش بوڑھوں کو بندوقوں کے بٹ مارتے، سڑکوں پر گھسیٹتے خونخوار فوجی اور سامنے نہتی خلق خدا جس کو یہ مظالم سہتے ستر برس ہوگئے ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

جھوٹ کے پاءوں

اس بات میں دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ پاکستانی میڈیا نے ترکی کی ناکام بغاوت، اس کے پس پردہ عوامل اور پھر اس سے نمٹنے کے لیے طیب اردوغان کی حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی جانبدارانہ، غیرمنصفانہ اور خلاف واقعہ رپورٹنگ اور تبصرہ بازی کی۔ پاکستان کے بڑے بڑے میڈیا ہائوسز کا اس بات پر ایک عجیب و غریب ’’پراسرار اجماع‘‘ دیکھنے میں آرہا تھا کہ جو بات ایک چینل بغیر کسی حوالے اور سند کے بطور پروپیگنڈا نشر کررہا ہے وہی بات دوسرے معرف میڈیا گروپ کا کالم نگار لکھ رہا ہے۔ صاف معلوم ہورہا تھا کہ سب کی ڈوریں کہیں اور سے ہلائی جارہی ہیں اور واضح طور پر یہ ایجنڈا دیا گیا تھا کہ طیب اردوغان کی مبینہ کرپشن، شاہانہ طرز زندگی، اقربا پروری اور انتقامی سیاست کی جھوٹی کہانیاں گھڑ گھڑ کر قوم کو سنائیں جائیں اور پاکستان میں اس کی غیرمعمولی مقبولیت محبوبیت کو جہاں تک ممکن ہوسکے نیچے لایا جائے۔

اس مہم کے پیچھے ان مالیاتی اداروں کے کارپردازوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو میڈیا گروپس کو بڑی بڑی رقومات بطور ڈونیشن دیتے ہیں۔ امریکا نے ایک ایسی NGO کا باقاعدہ اعتراف کیا ہے جس کا مقصد ہی میڈیا ہائوسز جیسے ’’غریب‘‘ اور ’’نادار‘‘ اداروں کی ’’مالی مدد‘‘ کرنا ہے۔ پاکستانی میڈیا پر بھی اس حوالے سے خاصی زوردار فنڈنگ کی تفصیلات خبروں کی زینت بن چکی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرد بحران طیب اردگان

ترکی کے مردِ بحران رجب طیب اردغان نے ایک اور حملہ پسپا کردیا۔ امریکا میں بیٹھے ایک سازشی شیطان نے عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے فوج میں اپنے زیر اثر ایک حلقے کو استعمال کرتے ہوئے ترکی کی منتخب اور مقبول حکومت کو فوجی بوٹوں تلے روندنے کی کوشش کی، مگر اس کو منہ کی کھانی پڑی۔ طیب اردوغان کے ایک ویڈیو پیغام پر لاکھوں کی تعداد میں ترک عوام سڑکوں پر نکل آئی۔

استنبول کی شاہراہوں نے، انقرہ کے چوکوں نے، ازمیر کے چوراہوں نے اور اناطولیہ کی سڑکوں نے ایسے مناظر پہلے کب دیکھے تھے۔ کیا مرد، کیا عورتیں، کیا بوڑھے اور کیا جوان سب ہی سڑکوں اور چوکوں پر تھے۔ جہاں جہاں باغیوں کے فوجی کنٹرول سنبھالے بیٹھے تھے وہاں عوام الناس ٹولیوں کی شکل میں پہنچے اور مار مار کر باغیوں کے حلیے بگاڑدیے۔ سوشل میڈیا پر جاری تصاویر دیکھ کر آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ باغی فوجی دونوں ہاتھ جوڑے عوام الناس سے معافی مانگتے دکھائی دے رہے تھے۔ چند ہی گھنٹوں میں مطلع صاف تھا اور رجب طیب اردوغان ایک نئے جوش، ایک نئے ولولے کے ساتھ قوم سے خطاب کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہمان رخصت ہونے کو ہے

ابھی کل ہی کی تو بات تھی جو ہم استقبال رمضان کی تیاریاں کر رہے تھے اور اب دیکھتے ہی دیکھتے آدھا ماہ گزرنے کو ہے۔ حقیقت ہے کہ رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں بھری گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں۔ جس تیزی سے یہ دن گزرے ہیں باقی کو بھی پلک جھپکنے کی دیر ہے۔ سچی بات ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس بیش بہا نعمت کو اپنی غفلتوں اور لاپرواہیوں کی نذر کردیتے ہیں۔ کہاں چشم بینا رکھنے والوں کے انداز کہ اس مہینے کی ایک ایک ساعت کو کنجوس کی پونجی کی طرح استعمال کریں اور کہاں ہمارے اطوار کہ اس مہینے کو معمول سے زیادہ سوکر اور ہمیشہ سے زیادہ کھا پی کر گزاردیا۔ دن کے روزے اور رات کی تراویح کی توفیق اگر ارزاں ہوگئی تو گویا پورے مہینے کا حق ادا کردیا۔ بلاشبہ روزہ وتراویح بہت بڑی سعادت کی چیزیں ہیں، مگر اس میں جان اور زور کیسے پیدا ہو، تاکہ ’’لعلکم تتقون‘‘ کا مقصد حاصل ہو؟ اس کا ایک حل تو ہمارے بزرگوں نے یہ نکالا کہ پورا مہینہ اللہ کے گھر میں گزارا جائے، چنانچہ مشائخ عظام کو ایک بڑی تعداد رمضان المبارک کا پورا مہینہ معتکف رہتی ہے اور ان کے متعلقین حسب توفیق جتنے ہوسکیں، اتنے دن ان کی صحبت میں رہ کر حقیقتِ رمضان کو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رحمتوں کی بارش

دوستو! رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں بھری گھڑیاں تیزی سے گزر رہی ہیں۔ حقیقت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس بیش بہا نعمت کو اپنی غفلتوں اور لاپرواہیوں کی نذر کردیتے ہیں۔ کہاں چشم بینا رکھنے والوں کے انداز کہ اس مہینے کی ایک ایک ساعت کو کنجوس کی پونجی کی طرح استعمال کریں۔ کہاں ہمارے اطوار کہ اس مہینے کو معمول سے زیادہ سوکر اور ہمیشہ سے زیادہ کھا پی کر گزاردیا۔ دن کے روزے اور رات کی تراویح کی توفیق اگر ارزاں ہوگئی تو گویا پورے مہینے کا حق ادا کردیا۔ بلاشبہ روزہ وتراویح بہت بڑی سعادت کی چیزیں ہیں، مگر اس میں جان اور زور کیسے پیدا ہو، تاکہ ’’لعلکم تتقون‘‘ کا مقصد حاصل ہو۔ مشائخ و اکابر حضرات نے تقویٰ کے کئی انعامات ذکر فرمائے ہیں۔ مثلاً: ٭کام میں آسانی: ’’وَمَنْ یَّتَقِ اللّہَ یَجْعلْ لَّہٗ مِنْ أَمْرِہٖ یُسْرًا‘… ’’اگر تم تقویٰ اختیار کرو گے تو ہم تمہارے سب کام آسان کردیں گے۔‘‘

٭مصائب سے چھٹکارا: ’’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہٗ مَخْرَجًا۔‘‘کہ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کو مصیبت سے جلد نکال دیں گے اس کو مصائب سے نکلنے کا راستہ ملے گا۔ ٭روزی کا وعدہ: ’’وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘‘…’’ جو تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالی اس کو ایسے راستہ سے روزی دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

بالآخر دھونس جیت گئی اور عدل و انصاف ہار گیا۔ قوت کے مراکز نے طاقت کے زور پر سابق آئین شکن فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کی بجائے ملک سے فرار کرادیا۔ ایک بار پھر پوری قوم کو یہ پیغام دیا گیا کہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے، طاقتور کا محاسبہ کرنے اور اس کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہمارا نظامِ عدل مکمل طور پر بے بس اور لاچار ثابت ہوا۔ بقول شخصے ٹریفک سگنل توڑنے پر تو قانون حرکت میں آتا ہے، مگر آئین توڑنے پر نہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ یہ سماجی تفریق اس ملک مستقبل کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔ جو معاشرے کسی کی بھی حیثیت، طبقہ اور پس منظر کو خاطر میں لائے بغیر عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ثابت ہوجائیں وہ اپنے زندہ رہنے کا استحقاق کھو بیٹھتے ہیں۔

سابق فراری آمر کی زندگی کئی اعتبار سے عبرتناک ہے۔ اپنے دورِ عروج میں زیادہ سے زیادہ اختیارات کے حصول کی ہوس نے تمام اہم عہدے اپنی ذات میں مرکوز کرنے کی راہ دکھلائی۔ پھر طاقت کے نشہ میں چُور ہوکر رعونت و تکبر کے لہجے میں اپنی قوم سے خطاب کی عادت اپنائی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا ایک نیا سماجی انقلاب لایا جارہا ہے؟

جس طرح گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے راقم الحروف کو یاد فرمایا اور ایک طویل نشست میں گھریلو تشدد کے پنجاب اسمبلی کے بل پر ہماری باہم کافی گفتگو ہوئی۔ مولانا کی رائے تھی کہ اس حوالے سے CPRD ایک اجلاس بلائے جس میں فقہ اسلامی اور ملکی قانون کے ماہرین کو یکجا جمع کرکے اس نئے قانون پر تفصیلی مباحثہ کیا جائے۔ چنانچہ 9؍ مارچ کی تاریخ طے کرکے ہم نے چند حضرات کو دعوت دے دی، چونکہ وقت بہت کم تھا اور دوردراز کے حضرات کی تشریف آوری کو یقینی بنانا خاصا مشکل تھا، اس لیے مجلس کو مختصر رکھا گیا اور دستیاب حضرات کی موجودگی پر اکتفا کیا گیا۔

مجلس میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے موجودہ اور سابق پروفیسرز میں سے پروفیسر ڈاکٹر سلیم شاہ صاحب، پروفیسر ڈاکٹر قسیم منصور صاحب، ڈاکٹر عزیز الرحمن صاحب اور ڈاکٹر مشتاق صاحب مدعو تھے۔ ڈاکٹر مشتاق صاحب سفر میں ہونے کی وجہ سے بذاتِ خود تو شریک نہ ہوسکے، مگر اپنی قیمتی آرا لکھ کر بھیج دیں جس کی مجلس میں خواندگی کرلی گئی۔ اسلامی نظریاتی کونسل سے مولانا انعام اللہ صاحب اور وفاقی شرعی عدالت کے ایڈوائزر ڈاکٹر مطیع اللہ صاحب شریک مجلس تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2016ء

وومن پروٹیکشن ایکٹ 2016ء کے نام سے پنجاب اسمبلی نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے جو بل پاس کیا ہے۔ اس کے تفصیلی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بل قرآن و سنت، آئین و قانون کے بنیادی ڈھانچے، معاشرتی اقدار اور خاندانی نظام سب کے خلاف ہے۔ بل کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں کی گئی قانون سازی کو چند معمولی تبدیلیوں کے ساتھ بڑی عجلت کے ساتھ اس ملک میں نافذ کردیا گیا ۔

بل فرد کی آزادی و حقوق سے لے کر دستور میں طے کی گئی بعض بنیادی اور اصولی چیزوں سے ٹکراتا ہوا نظر آتا ہے۔ ذیل میں بل کی چند چیدہ چیدہ چیزوں پر سرسری نظر ڈالتے ہیں، اس سے آپ کو بخوبی بل کی ’’روح‘‘ کا اندازہ ہوجائے گا۔ تعریفات (Defination) کے باب میں لکھا ہے کہ ’’عدالت‘‘ سے مراد ’’فیملی کورٹ‘‘ ہے۔ واضح رہے کہ فیملی کورٹ کی جج ہمیشہ خاتون ہوتی ہے اور یہ باقاعدہ نہیں، بلکہ سرسری سماعت کی عدالتیں تصور کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آہ! مولانا صدیق صاحب بھی چلے دیے

دینی مدارس سے ان زاہدوں اور متوکلوں کی جماعت کے آخری آخری ارکان ایک ایک کرکے رخصت ہورہے ہیں جو اپنے اساتذہ اور مشائخ کی جانب سے جہاں ایک دفعہ بٹھلادیے گئے تو زندگی کے آخری سانس تک وہاں بیٹھے رہے۔ زمانہ کہیں سے کہیں چلاگیا، خود ان کے سامنے اپنی ترقی و خوشحالی کے بے شمار مواقع آئے، مگر انہوں نے اپنی جگہ چھوڑنے کا کبھی تصور بھی نہ کیا۔ اگر استاذ نے کسی جنگل میں بٹھادیا تو جنگل میں بیٹھ گئے، اگر شیخ نے کسی ادارے کی خدمت کا کہہ دیا تو اپنا تن من دھن سب کچھ اس کو سپرد کردیا۔ عمر کے آخری حصہ میں اگر کوئی حساب لگائے کہ انہوں نے اپنے اداروں کو دیا کیا اور ان اداروں سے کتنا فائدہ اور منفعت اُٹھائی تو پتہ چلے گا کہ ان ہی کی طرف سے بے لوث عطا ہی عطا تھی اور لینا کچھ نہیں۔ قوت لایموت پر گزران کیے یہ بزرگ اپنی عمر، اپنی جوانی، اپنی علمیت و استعداد، اپنی بزرگی و نیک نامی غرض اپنے پلّے کی ہر چیز ان اداروں کے لیے وقف کردیتے ہیں اور لیتے بس فقط اتنا ہیں جس سے زندگی اور سانس کا رشتہ برقرار رہے۔ ایسی مثالیں ہمارے دینی تعلیمی اداروں میں پہلے بہت تھیں، مگر اب جیسے جیسے مادّیت کی چکاچوند میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ مزاج بھی معدوم ہوتا چلا جارہا ہے۔ اب ہر کوئی اپنی قدر و قیمت اور صلاحیت و استعداد کے بقدر پورے پورے معاوضہ و مشاہرہ کا طالب ہوتا ہے جو مل جائے تو ٹھیک ورنہ یہ کہتا ہوا اپنی دنیا آپ بنانے نکل کھڑا ہوتا ہے

مزید پڑھیے۔۔۔