• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

عصمتوں کی حفاظت کامحمدی پیکیج

قصور میں ایک معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ پورے ملک میں ہل چل مچ گئی۔ یہ سطور لکھنے تک اطلاعات یہی ہیں کہ قاتل درندہ اب تک پولیس کی پہنچ سے باہر ہے۔ بلاشبہ اس واقعے کا چیف جسٹس نے جس طرح نوٹس لیا اور جس طرح آرمی چیف نے اس کی سنگینی کا احساس کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ اگرچہ بعض بیمار ذہنیت کے زعماء نے حسبِ معمول اس واقعے کو بھی خواہ مخواہ اپنا سیاسی قد اونچا کرنے کا بہانہ بنانے کی کوشش کی ہے، تاہم مجموعی طور پر پورے ملک میں ایک تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ادارے الرٹ ہوگئے اور درندہ صفت قاتل کی گرفتاری کے لیے غیرمعمولی کوششیں شروع ہوگئیں۔ سیاسی لیڈروں نے اپنے غم و غصے کا اظہار بھی کیا۔ ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوئے۔ بہرحال ماں باپ پر جو قیامت ٹوٹنا تھی ٹوٹ چکی۔ اس کا مداوا تو کبھی نہیں ہوسکتا چاہے قاتل کو ہزار بار پھانسی پر لٹکایا جائے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

نیاسال… کچھ اسباق… کچھ تقاضے

2017ء بھی حال سے گزر کر ماضی کی کھائی میں جاگرا، جہاں اس سے پہلے لامتناہی سال گم ہوچکے ہیں۔ سالوں، مہینوں اورشب وروز کایہ سفر کب سے جاری ہے اورکب تک جاری رہے گا۔ یہ وہی ذاتِ واحد جانتی ہے جو اس سارے نظام ہست وبود کی خالق ہے۔ انسان کاعلم نہایت محدود ہے۔ اسی محدود علم میں سے کچھ حصہ وہ ہے جس کی بناء پر وہ اتنا جانتا ہے کہ ہزاروں برس پہلے اس دھرتی پر پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کی آمد ہوئی تھی، پھر بنی نوعِ انسان کی افزائش ہوئی، لوگوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے لاکھوں کروڑوں اوراربوں تک جاپہنچی۔ ہزاروں قبیلے وجود میں آئے، ان کی لاکھوں شاخیں بنیں۔ ان میں کبھی دوستیاں اورکبھی دشمنیاں پروان چڑھیں، زبانوں اوربولیوں میں فرق آتا چلاگیا، رہن سہن اوروضع قطع بدلتی چلی گئی۔ الگ الگ علاقوں پر ان کاقبضہ ہوا۔ حکومتیں اوربادشاہتیں آتی جاتی رہیں۔ یہ سب کچھ ہوتار ہااور کچھ ظاہری آثار اورعنوانات کے فرق کے ساتھ اب بھی ہورہا ہے اورتاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا، مگر سوال یہ ہے کہ اس سارے نظام میں انسان کااصل مقام کیا ہے ؟ اس کاوظیفہ حیات کیا ہے؟کوئی یہ بتانے والے ہے بھی یا نہیں ؟ اورکیا انسان خود یہ طے کرے گا کہ وہ دنیا میں کس لیے آیا ہے یا کوئی اسے بتائے گا؟اس سوال کے غلط جوابات بہت سے ہیں جو فلاسفہ، اوردہریے مفکرین نے اپنے اپنے طورپر اختراع کیے ہیں،

مزید پڑھیے۔۔۔

یک نکاتی فارمولا

پاکستان میںجوں جوں سیاسی ہل چل میں اضافہ ہورہا ہے، اس کے ساتھ ہی لوگوں میں بے یقینی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کسی کومعلوم نہیں کہ مملکتِ خداداد کے اگلے قدم کس سمت اُٹھیں گے۔ اس کشتی کے مسافروں کی حالت ِ زار کا اندازہ لگانا ہو جس کے ملاح طوفانِ خیز موجوں میں باہم دست و گریباں ہوں تو اہلِ پاکستان کی حالت کو دیکھ لیں جہاں سیاست دان عام شہری کے مسائل اور ضروریات سے بے نیاز ہوکر بس یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ اقتدار آنے کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے یا ہاتھ آئی ہوئی کرسی پر تاقیامت براجمان رہنے کے لیے کون سا نسخہ کارآمد ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا کوئی نسخہ غیرملکی آقاؤں کی طرف سے امدادی پیکیج یا سرپرستی کے وعدوں کی شکل میں مل جائے تو جملہ شرائط سمیت اسے قبول کرلیا جاتا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

بیت المقدس میں اسرائیلی پایۂ تخت؟

اسرائیل کے سرپرست امریکا نے مقبوضہ بیت ا لمقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردینے کی حمایت کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا ہے۔ بیت المقدس کی شاہراہوں اور اہم عمارات پر اسرائیلی اور امریکی پرچم ایک ساتھ لہرارہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ سات دھائیوں میں یہ امریکا کی طرف سے اسرائیل کی کھلی حمایت کے حوالے سے سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ مذموم قدم اٹھاتے ہوئے حسبِ عادت اس بات کا قطعاً خیال نہیں کیا کہ دنیائے اسلام اس پر کیا ردِعمل ظاہر کرے گی۔

اگر ماضی کو دیکھا جائے تو اسرائیل کی حمایت اور سرپرستی کے باوجود امریکا نے کبھی اس حد تک آگے جانے کی جسارت نہیں کی۔ امریکا نے مئی 1948ء میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کے وجود میں آتے ہی اسے تسلیم کرلیا تھا۔ جون 1968ء میں اردن پر اسرائیلی حملے اور بیت المقدس پر اس کے قبضے کو بھی امریکا کی درپردہ اعانت حاصل تھی۔ بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے کی صہیونی خواہش کی تکمیل کا منصوبہ تدریجاً آگے بڑھایا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملک کس سمت جارہا ہے؟

نومبر 2017ء کا مہینہ پاکستانیوں کو یاد رہے گاجس کے اثرات سے قوم ابھی تک باہر نہیں آئی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ملکی سیاسی کے انجر پنجر ڈھیلے ہوچکے ہیں۔ حالات انتظامیہ کے بس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک چھوٹے سے غیرمعروف گروہ نے اسلام آباد کے قلب میں دھرنادیا۔ دارالحکومت اور اس سے ملحقہ شہروں کی آبادی کا جینا دوبھر ہوگیا۔ مریضوں سے ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں دم توڑا۔ لوگوں کی پروازیں اورٹرینیں چھوٹ گئیں۔ روزانہ لاکھوں افراد دھرنے والوں کی وجہ سے سڑکوں پر خوار ہوتے رہے جن میں بچے، بوڑھے، عورتیں، مریض اور معذور افراد بھی تھے، مگر کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ حکمت، تدبر اور جرأت کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دھرنا گروپ کے کچھ پُراسرار سیاسی مفادات تھے۔ وہ اس وقت میدان میں آیا جب پاکستان کی بڑی مذہبی دینی جماعتیں حکومت پر پُرامن دباؤ ڈال کر ختم نبوت کے حوالے سے اپنے مطالبات منواچکی تھیں۔ اس وقت دھرنا گروپ نے آکر دوسریوں کی برات میں اپنے سر سہرا بندھوانے کی نہایت بھونڈ ی کوشش کی۔

ایک محدود اور متعصب طبقے کے سوا اس پر تمام مبصرین متفق ہیں کہ اس دھرنے کا قادیانیت دشمنی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ سراسر سیاسی اغراض پر مبنی ایک ناٹک تھا، اسی لیے صفِ اول کے مذہبی رہنماؤں اور علماء و مشایخ نے اس سے لاتعلقی کاکھلم کھلا اظہار کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وقت کی پکار

میاں محمد نوازشریف کی برطرفی کے بعدملک میں سیاسی بحران بڑھتا جارہا ہے۔ ایک مضبوط حکومت کی جگہ کمزور حکومت کو لانے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکولر لابی کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ دینی جماعتوں کے اثرو رسوخ کوختم کردیا جائے اور سیاسی عمل میں مذہبی رہنماؤں کی کوئی اہمیت نہ رہے۔ مذہبی طبقے کے خلاف یہ سازشیں کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ہردور میں مفاد پرست طبقے کو یہ فکر لاحق رہی ہے کہ کہیں سیاست پردین حاوی نہ ہوجائے، کیونکہ اسلام جو آفاقی قیود اور اخلاقی پابندیاں عائد کرتا ہے، وہ انہیں قطعاً پسند نہیں۔ یہ مادرپدر آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر قارون کی طرح خزانے بھرنا مقصدِ حیات سمجھتے ہیں۔ اس کے بالمقابل دوسراطبقہ یہ سمجھتاہے کہ تمام انفرادی واجتماعی مسائل کاحل دین میں ہے۔ سیاست کوبھی دین کاتابع ہوناچاہیے اورملکی سیاست میں اہلِ دین کاقرارِ واقعی حصہ ہونالازم ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آئی ہے، اس لیے اس کی نظریاتی اساس کودیکھتے ہوئے قطعاً ممکن نہیں کہ یہ ملک علماء کی رہنمائی کے بغیر اسی اساس پر آگے بڑھ سکے اوراپنے آئین ودستور کے مطابق صحیح نشونما پاسکے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شہدائے تبلیغ

رائے ونڈ کاعالمی اجتماع جاری ہے، پہلامرحلہ ختم ہوچکاہے اوردوسرامرحلہ جاری ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید اجتماع میں شرکت کے لیے جوق در جوق جمع ہیں۔ اس دوران بدھ 8 نومبر کو اس خبر نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کررکھ دیاکہ اجتماع کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے کوہاٹ سے آنے والی ایک بس تلہ گنگ کے قریب ایک گہری کھائی میں جاگری جس کے باعث 77 مسافروں میں سے 24 جاں بحق اور 53 زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے 12 شخص شدید زخمی ہیں۔

رائے ونڈ کے اجتماع میں حاضری معمولی بات نہیں، بہت بڑی سعادت ہے۔ اس امتحان گاہ ِ عشق کا رُخ کرنااچھا خاصامجاہدہ ہے۔ پہلے تواپنے گھربار، کاروبار اورملازمت کوچھوڑکر چارپانچ دن کا وقت فارغ کرنا ہی کوئی آسان بات نہیں۔ پھر سفر کرکے رائے ونڈ پہنچنا ایک مستقل مہم ہے، بسوں اور ٹرینوں میں اجتماع کے موقع پر بڑارش ہوتا ہے، اسے بارِخاطر نہ سمجھ کر، ساتھیوں کااکرام اور باجماعت نمازوں کی پابندی کرتے ہوئے رائے ونڈ کے دورافتادہ چھوٹے سے شہر پہنچنا اوریہ سب اللہ کی رضاکے لیے کرنا اچھی خاصی ریاضت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لوہار کی ضرب

کراچی کے جس محلے میں، میں نے زندگی کا طویل وقت گزارا، وہاں بسنے والی مختلف برادریوں میں سے ایک لوہار برادری بھی تھی جس کے کچھ گھر اب بھی اس محلے میں موجودہیں۔ اس برادری کے مختلف گھرانوں کے ساتھ ہمارے ایسے ہی تعلقات قائم رہے جیسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بعض بزرگوں کاتوہم اپنے بچپن اور لڑکپن میںبرادری کے لڑکوں سے بڑھ کر احترام کیا کرتے تھے۔ جن بزرگوں کو میں تا حیات نہیں بھول پاؤں گا، ان میں سے ایک حاجی شفیع مرحوم بھی تھے جو برادری میں ماما شفیع کہلاتے تھے۔ تند ومند، بھاری بھرکم اور اسی کے حساب سے غصہ ور، ساتھ ہی بلا کے مہمان نواز اور دینی کاموں میں پیش پیش۔ ان کے ہاتھ لوہے کی طرح ہی مضبوط تھے اور اچھے خاصے جوان ان سے پنجہ نہیں لڑا پاتے تھے۔ وہ لوہے کو بھاری ہتھوڑے سے کوٹ پیٹ کر برابر کردیا کرتے تھے۔ لوہے پر ہتھوڑے کی ضرب اور ان کی بات کا وزن ایک جیسا ہی محسوس ہوتا تھا۔ وہ کوئی بات کہہ ڈالتے تو بس اسے پتھر پر لکیر کر دیتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیا پاکستان؟

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے دورۂ پاکستان کا پس منظر کیا ہے اور پیش منظر کیا ہوگا؟ اس پر مختلف مبصرین اور تجزیہ کار اپنے اپنے طور پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکا کو پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہے اور وہ خطے میںپاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتا،لیکن اس کے ساتھ ہی کابل میں دیے گئے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے بیان کو پالیسی میٹر کے طور پر بھی دیکھا گیاہے جس میں انہوں نے پاکستان کے متعلق گفتگوکرتے ہوئے سفارتی آداب کے منافی لہجہ اختیار کیا تھا۔پاکستان میں یقینی طور پر اس لہجے کا برا منایا گیا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اس بیان کا کڑا نوٹس لیا اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کو ہدایات دیں کہ وہ سینیٹ میںآکر وزارت خارجہ پاکستان کا موقف پیش کریں۔بعد ازاں جب امریکی وزیر خارجہ پاکستان پہنچے تو پاکستانی قیادت نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ’’ جیسے کو تیسا‘‘ کا برتاؤکر کے امریکا کو میسج دے دیا کہ پاکستان بدل چکا ہے اور آئندہ پاکستان کے لیے کوئی امریکی نمائندہ وائسرائے جیسا لب ولہجہ اختیار نہ کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غلطی یا شرارت

قادیانیوں نے پاکستان کے آئین میں ہونے والی اس ترمیم کو کبھی قبول نہیں کیا جس کی رو سے انھیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اس دستوری ترمیم کے خاتمے کے لیے قادیانیوں نے ہر قسم کوششیں کی ہیں کیوں کہ یہ قانون یورپ میں بھی قادیانیت پھیلانے کی راہ میں آڑے آرہا ہے اور اس کی وجہ سے اسرائیل کی سرپرستی اور یورپ کی حمایت کے باوجود قادیانیت کو اسلام کے لبادے میں پیش کرنے کی سازشیں پوری طرح کامیاب نہیں ہورہی ہیں۔ قادیانی لابی اندون خانہ پاکستان میں بھی اس قانون کو متنازعہ بنانے، اسے استحصال پر مشتمل قرار دینے اور اس کے بتدریج خاتمے کے لیے چپکے چپکے سرگرم رہتی ہے۔ عقیدہ ٔختم نبوت کے تحفظ کی خاطر جدوجہد کرنے والے حلقے عوام الناس کو قادیانیوں کی شرارتوں سے باخبر رکھنے کے فرائض انجام دیتے رہتے ہیںیہی وجہ ہے قادیانیوں کی شرارتیں کامیاب نہیں ہورہی ہیں کیوں کہ عوام اس متعلق بیدار ہیں وہ فورا جواب دینے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ قادیانیوں نے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قادیانی نواز لابی کو اس کی اعلی قیادت کی قربت حاصل ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

تر نوالہ یا لوہے کے چنے؟؟

سلطنتِ عثمانیہ تین صدیوں تک دنیا پر چھائی رہی۔ اس کے بیڑے چار سمندروں پر راج کرتے تھے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں اس کازوال شرو ع ہوا، مگر اس کے باوجود دو صدیوں تک وہ عالمی طاغوتی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر رہی۔ اس زمانے میں دنیائے کفر خصوصاً فرانس، اسپین، برطانیہ اور رُوس کی کوشش یہ تھی کہ سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف کسی بھی بہانے سے جنگ چھیڑی جائے اور اسے کمزور سے کمزورتر کرکے رفتہ رفتہ ختم کردیا جائے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے جن خلفاء نے اس دورِ زوال میں حکومت سنبھالی، ان کے پاس سلیمان عالی شان یا سلطان محمد فاتح جیسے وسائل اور مواقع نہیں تھے۔ اس لیے انہوںنے رُوس اور یورپی طاقتوں کے مشترکہ حملے سے بچنے کے لیے ڈپلومیسی سے کام لیا۔ ان میں سے بعض کے ساتھ دفاعی معاہدے کرکے انہیں اتحادی بنالیا۔ شروع میں سلطنتِ عثمانیہ کا سب سے بڑا اِتحادی فرانس تھا جسے اسپین کے خلاف اتحادی بنایا گیا۔ کئی مہمات میں دونوں کے سپاہی مشترکہ طور پر شریک ہوئے، مگر سترہویں صدی کے درمیان یہ واضح ہوگیا کہ فرانس محض اپنے مفاد کے لیے معاہدے میں شامل ہے اور وقت پڑنے پر کبھی بھی بھرپور ساتھ نہیں دیتا۔ عثمانی خلفاء کو سب سے زیادہ خطرہ رُوس سے تھا، چنانچہ انہوں نے روس کے مقابلے میں برطانیہ سے دوستی لگالی جو لگ بھگ ایک صدی تک چلی۔

مزید پڑھیے۔۔۔