• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ملک کس سمت جارہا ہے؟

نومبر 2017ء کا مہینہ پاکستانیوں کو یاد رہے گاجس کے اثرات سے قوم ابھی تک باہر نہیں آئی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ملکی سیاسی کے انجر پنجر ڈھیلے ہوچکے ہیں۔ حالات انتظامیہ کے بس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک چھوٹے سے غیرمعروف گروہ نے اسلام آباد کے قلب میں دھرنادیا۔ دارالحکومت اور اس سے ملحقہ شہروں کی آبادی کا جینا دوبھر ہوگیا۔ مریضوں سے ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں دم توڑا۔ لوگوں کی پروازیں اورٹرینیں چھوٹ گئیں۔ روزانہ لاکھوں افراد دھرنے والوں کی وجہ سے سڑکوں پر خوار ہوتے رہے جن میں بچے، بوڑھے، عورتیں، مریض اور معذور افراد بھی تھے، مگر کسی کو توفیق نہ ہوئی کہ حکمت، تدبر اور جرأت کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دھرنا گروپ کے کچھ پُراسرار سیاسی مفادات تھے۔ وہ اس وقت میدان میں آیا جب پاکستان کی بڑی مذہبی دینی جماعتیں حکومت پر پُرامن دباؤ ڈال کر ختم نبوت کے حوالے سے اپنے مطالبات منواچکی تھیں۔ اس وقت دھرنا گروپ نے آکر دوسریوں کی برات میں اپنے سر سہرا بندھوانے کی نہایت بھونڈ ی کوشش کی۔

ایک محدود اور متعصب طبقے کے سوا اس پر تمام مبصرین متفق ہیں کہ اس دھرنے کا قادیانیت دشمنی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ سراسر سیاسی اغراض پر مبنی ایک ناٹک تھا، اسی لیے صفِ اول کے مذہبی رہنماؤں اور علماء و مشایخ نے اس سے لاتعلقی کاکھلم کھلا اظہار کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

وقت کی پکار

میاں محمد نوازشریف کی برطرفی کے بعدملک میں سیاسی بحران بڑھتا جارہا ہے۔ ایک مضبوط حکومت کی جگہ کمزور حکومت کو لانے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکولر لابی کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ دینی جماعتوں کے اثرو رسوخ کوختم کردیا جائے اور سیاسی عمل میں مذہبی رہنماؤں کی کوئی اہمیت نہ رہے۔ مذہبی طبقے کے خلاف یہ سازشیں کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ہردور میں مفاد پرست طبقے کو یہ فکر لاحق رہی ہے کہ کہیں سیاست پردین حاوی نہ ہوجائے، کیونکہ اسلام جو آفاقی قیود اور اخلاقی پابندیاں عائد کرتا ہے، وہ انہیں قطعاً پسند نہیں۔ یہ مادرپدر آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر قارون کی طرح خزانے بھرنا مقصدِ حیات سمجھتے ہیں۔ اس کے بالمقابل دوسراطبقہ یہ سمجھتاہے کہ تمام انفرادی واجتماعی مسائل کاحل دین میں ہے۔ سیاست کوبھی دین کاتابع ہوناچاہیے اورملکی سیاست میں اہلِ دین کاقرارِ واقعی حصہ ہونالازم ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آئی ہے، اس لیے اس کی نظریاتی اساس کودیکھتے ہوئے قطعاً ممکن نہیں کہ یہ ملک علماء کی رہنمائی کے بغیر اسی اساس پر آگے بڑھ سکے اوراپنے آئین ودستور کے مطابق صحیح نشونما پاسکے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شہدائے تبلیغ

رائے ونڈ کاعالمی اجتماع جاری ہے، پہلامرحلہ ختم ہوچکاہے اوردوسرامرحلہ جاری ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید اجتماع میں شرکت کے لیے جوق در جوق جمع ہیں۔ اس دوران بدھ 8 نومبر کو اس خبر نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کررکھ دیاکہ اجتماع کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے لیے کوہاٹ سے آنے والی ایک بس تلہ گنگ کے قریب ایک گہری کھائی میں جاگری جس کے باعث 77 مسافروں میں سے 24 جاں بحق اور 53 زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے 12 شخص شدید زخمی ہیں۔

رائے ونڈ کے اجتماع میں حاضری معمولی بات نہیں، بہت بڑی سعادت ہے۔ اس امتحان گاہ ِ عشق کا رُخ کرنااچھا خاصامجاہدہ ہے۔ پہلے تواپنے گھربار، کاروبار اورملازمت کوچھوڑکر چارپانچ دن کا وقت فارغ کرنا ہی کوئی آسان بات نہیں۔ پھر سفر کرکے رائے ونڈ پہنچنا ایک مستقل مہم ہے، بسوں اور ٹرینوں میں اجتماع کے موقع پر بڑارش ہوتا ہے، اسے بارِخاطر نہ سمجھ کر، ساتھیوں کااکرام اور باجماعت نمازوں کی پابندی کرتے ہوئے رائے ونڈ کے دورافتادہ چھوٹے سے شہر پہنچنا اوریہ سب اللہ کی رضاکے لیے کرنا اچھی خاصی ریاضت ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لوہار کی ضرب

کراچی کے جس محلے میں، میں نے زندگی کا طویل وقت گزارا، وہاں بسنے والی مختلف برادریوں میں سے ایک لوہار برادری بھی تھی جس کے کچھ گھر اب بھی اس محلے میں موجودہیں۔ اس برادری کے مختلف گھرانوں کے ساتھ ہمارے ایسے ہی تعلقات قائم رہے جیسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بعض بزرگوں کاتوہم اپنے بچپن اور لڑکپن میںبرادری کے لڑکوں سے بڑھ کر احترام کیا کرتے تھے۔ جن بزرگوں کو میں تا حیات نہیں بھول پاؤں گا، ان میں سے ایک حاجی شفیع مرحوم بھی تھے جو برادری میں ماما شفیع کہلاتے تھے۔ تند ومند، بھاری بھرکم اور اسی کے حساب سے غصہ ور، ساتھ ہی بلا کے مہمان نواز اور دینی کاموں میں پیش پیش۔ ان کے ہاتھ لوہے کی طرح ہی مضبوط تھے اور اچھے خاصے جوان ان سے پنجہ نہیں لڑا پاتے تھے۔ وہ لوہے کو بھاری ہتھوڑے سے کوٹ پیٹ کر برابر کردیا کرتے تھے۔ لوہے پر ہتھوڑے کی ضرب اور ان کی بات کا وزن ایک جیسا ہی محسوس ہوتا تھا۔ وہ کوئی بات کہہ ڈالتے تو بس اسے پتھر پر لکیر کر دیتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیا پاکستان؟

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے دورۂ پاکستان کا پس منظر کیا ہے اور پیش منظر کیا ہوگا؟ اس پر مختلف مبصرین اور تجزیہ کار اپنے اپنے طور پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکا کو پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہے اور وہ خطے میںپاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتا،لیکن اس کے ساتھ ہی کابل میں دیے گئے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے بیان کو پالیسی میٹر کے طور پر بھی دیکھا گیاہے جس میں انہوں نے پاکستان کے متعلق گفتگوکرتے ہوئے سفارتی آداب کے منافی لہجہ اختیار کیا تھا۔پاکستان میں یقینی طور پر اس لہجے کا برا منایا گیا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اس بیان کا کڑا نوٹس لیا اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کو ہدایات دیں کہ وہ سینیٹ میںآکر وزارت خارجہ پاکستان کا موقف پیش کریں۔بعد ازاں جب امریکی وزیر خارجہ پاکستان پہنچے تو پاکستانی قیادت نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ’’ جیسے کو تیسا‘‘ کا برتاؤکر کے امریکا کو میسج دے دیا کہ پاکستان بدل چکا ہے اور آئندہ پاکستان کے لیے کوئی امریکی نمائندہ وائسرائے جیسا لب ولہجہ اختیار نہ کرے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غلطی یا شرارت

قادیانیوں نے پاکستان کے آئین میں ہونے والی اس ترمیم کو کبھی قبول نہیں کیا جس کی رو سے انھیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اس دستوری ترمیم کے خاتمے کے لیے قادیانیوں نے ہر قسم کوششیں کی ہیں کیوں کہ یہ قانون یورپ میں بھی قادیانیت پھیلانے کی راہ میں آڑے آرہا ہے اور اس کی وجہ سے اسرائیل کی سرپرستی اور یورپ کی حمایت کے باوجود قادیانیت کو اسلام کے لبادے میں پیش کرنے کی سازشیں پوری طرح کامیاب نہیں ہورہی ہیں۔ قادیانی لابی اندون خانہ پاکستان میں بھی اس قانون کو متنازعہ بنانے، اسے استحصال پر مشتمل قرار دینے اور اس کے بتدریج خاتمے کے لیے چپکے چپکے سرگرم رہتی ہے۔ عقیدہ ٔختم نبوت کے تحفظ کی خاطر جدوجہد کرنے والے حلقے عوام الناس کو قادیانیوں کی شرارتوں سے باخبر رکھنے کے فرائض انجام دیتے رہتے ہیںیہی وجہ ہے قادیانیوں کی شرارتیں کامیاب نہیں ہورہی ہیں کیوں کہ عوام اس متعلق بیدار ہیں وہ فورا جواب دینے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ قادیانیوں نے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قادیانی نواز لابی کو اس کی اعلی قیادت کی قربت حاصل ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

تر نوالہ یا لوہے کے چنے؟؟

سلطنتِ عثمانیہ تین صدیوں تک دنیا پر چھائی رہی۔ اس کے بیڑے چار سمندروں پر راج کرتے تھے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں اس کازوال شرو ع ہوا، مگر اس کے باوجود دو صدیوں تک وہ عالمی طاغوتی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر رہی۔ اس زمانے میں دنیائے کفر خصوصاً فرانس، اسپین، برطانیہ اور رُوس کی کوشش یہ تھی کہ سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف کسی بھی بہانے سے جنگ چھیڑی جائے اور اسے کمزور سے کمزورتر کرکے رفتہ رفتہ ختم کردیا جائے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے جن خلفاء نے اس دورِ زوال میں حکومت سنبھالی، ان کے پاس سلیمان عالی شان یا سلطان محمد فاتح جیسے وسائل اور مواقع نہیں تھے۔ اس لیے انہوںنے رُوس اور یورپی طاقتوں کے مشترکہ حملے سے بچنے کے لیے ڈپلومیسی سے کام لیا۔ ان میں سے بعض کے ساتھ دفاعی معاہدے کرکے انہیں اتحادی بنالیا۔ شروع میں سلطنتِ عثمانیہ کا سب سے بڑا اِتحادی فرانس تھا جسے اسپین کے خلاف اتحادی بنایا گیا۔ کئی مہمات میں دونوں کے سپاہی مشترکہ طور پر شریک ہوئے، مگر سترہویں صدی کے درمیان یہ واضح ہوگیا کہ فرانس محض اپنے مفاد کے لیے معاہدے میں شامل ہے اور وقت پڑنے پر کبھی بھی بھرپور ساتھ نہیں دیتا۔ عثمانی خلفاء کو سب سے زیادہ خطرہ رُوس سے تھا، چنانچہ انہوں نے روس کے مقابلے میں برطانیہ سے دوستی لگالی جو لگ بھگ ایک صدی تک چلی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عمر لاز… ہماری متاعِ گم گشتہ

چودہ صدیاں قبل کی بات ہے کہ ایک درویش نے دنیا کی کایاپلٹ کردکھائی تھی۔ اس شخص نے نہ تو کسی اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی نہ کسی یونی ورسٹی کی کوئی سند اس کے پاس تھی۔ اس کالڑکپن اونٹ چَراتے ہوئے گزراتھا، اپنی غیرمعمولی ذہانت کی بناء پر اس نے لکھنا پڑھنا ضرور سیکھ لیا تھا جواس دور کے معاشرے میں ایک کم یاب صفت تھی۔ جوانی میں تجارتی سفربھی کیے، مگراس کی اصل تعلیم وتربیت حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آکر ہوئی تھی۔ یہ تھے حضرت عمرؓ، جب اسلام قبول کیا تو عمر لگ بھگ 28 برس تھی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت گیارہ ہجری میں ہوئی۔ اس لحاظ سے انہوںنے اس بے مثل درسگاہ میں 18 برس گزارے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی سوادوسالہ خلافت میں ان کی حیثیت وزیر کی تھی۔ 13 ہجری کے وسط میں اسلامی خلافت کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں آگئی۔ اب تاریخ کاایک نیا دور شروع ہوا۔ دنیا کے ظالم وجابر حکمرانوں کایوم حساب آگیا۔ قیصر وکسریٰ کے تاج کچلے گئے۔ چین کی سرحدوں سے افریقہ کے ریگزاروں تک ہر باطل طاقت سرنگوں ہوگئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بُرے انجام سے بچیں

’’مینانمار‘‘ کے مسلمانوں کی جو حالت ہے، اس کی ایک جھلک دیکھنے سے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جس قدر بے رحمی سے انہیں مارا جارہا ہے، اس طرح تو کوئی کیڑے مکوڑوں کو بھی تڑپا تڑپاکر نہیں مارتا۔ یہ بے چارے نہ تو افغان مہاجرین کی طرح خوش قسمت ہیں کہ انہیں قریب میں پاکستان جیسا کوئی ملک اور جنرل ضیاء جیسا کوئی مسلم حکمران نصیب ہو جس نے مہاجرین کے لیے سرحدیں پاٹوں پاٹ کھول دی تھیں۔ ان برمی مسلمانوں میں نہ فلسطینی مسلمانوں کی طرح جذبۂ جہاد زندہ ہے جو پتھروں سے بھی اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ یہ نہ لڑ سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جاسکتے ہیں۔ عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کی جارہی ہے۔ زندہ انسانوں کے اعضا ء کاٹے جارہے ہیں۔ دس دس بارہ بارہ سال کے بچوں کو قطاروں میں لگاکر ان کے ہاتھ کچلے جارہے ہیں۔ یہ سب ہورہا ہے، مگر عالمی میڈیا خاموش ہے۔ عالمی طاقتیں چپ سادھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اورا س کے ماتحت یونیسکو، یونی سیف اور اس قسم کی ہزاروں این جی اوز بلوں میں چھپ گئی ہیں۔ کسی کو اتنی توفیق بھی نہیں کہ وہ ارکان مسلمانوں کاحال دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ متاثر ہ علاقے کتھرائن کادورہ ہی کرلے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قوم آنکھیں کھولے

عدالت ِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق 28؍ جولائی کو میاں محمد نوازشریف وزراتِ عظمیٰ کے لیے نااہل قراردے دیے گئے۔ جلد ہی شاہد خاقان عباسی نے نئے وزیرِ اعظم کے طورپر حلف اٹھالیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں ایک نئی سیاسی ہل چل پیداہوگئی۔ اب ہرسیاست دان اس کوشش میں ہے کہ عوام کو اپنے پیچھے لگائے اوراگلی باراقتدار کے مزے لوٹے۔ سیاست دانوں کے مزوں میں عوام کی کیاحالت ہورہی ہے، اس کی کسی کوپروانہیں۔ پاکستان کے عوام گوناگوں مسائل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ مسائل کی ایک طویل فہرست ہے، مگر چند مسائل ایسے ہیں جولوگوں کوزندہ درگورکیے ہوئے ہیں۔

مسلمانانِ پاکستان کاپہلا مسئلہ انصاف ہے۔ لوگ سب کچھ فراموش کرسکتے ہیں، مگر ان کے ساتھ بے انصافی ہو، جبر وتشددہو، ظلم وستم ہو، تووہ اسے کبھی معاف نہیں کر سکتے۔ ایسامعاشرہ درحقیقت انسانی معاشرہ نہیں بلکہ جنگل ہے جہاں طاقت کے بل پراپنا حق حاصل کیاجاتاہواورطاقت کے بل پر دوسرے کاحق چھیناجاتاہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک تاریخ ساز دن

مشرقی پنجاب کے ضلع گورداس پور کا قادیان، فقط ایک حوالے سے معروف ہے کہ وہاں برطانیہ نے ایک زہریلاپوداکاشت کیاجس کی خاردارشاخیں دوردورتک پھیل گئیں۔ جہاں جہاں اس کا منحوس سایہ پڑا، وہاں ایمان کی بستیاں اجڑ گئیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے انگریز کی سرپرستی میں جھوٹی نبوت کاڈھونگ کچھ اس طر ح رچایاکہ بہت سے بدقسمت لوگ اس دھوکے میں آگئے۔ برصغیر تقسیم ہواتو فوج اورمنتظمہ بھی تقسیم ہوئی جس میں بہت سے قادیانی بھی تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جوانگریز سرکار کی مہربانی سے اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گئے تھے۔ پاکستان کوفوج اوربیوروکریسی میں ایسے لوگ وراثت میں ملے۔ ان لوگوں نے بڑی تیزی سے پاکستان کوقادیانی اسٹیٹ بنانے کی مہم شروع کردی۔ اس خطر ے کوبھانپتے ہوئے علماء نے 1953ء کی تحریکِ ختم نبوت چلائی جس میں مسلمانانِ پاکستان نے بے شمار قربانیاں دیں۔ کچھ ہنگامی حالات اورکچھ نادیدہ کے ہاتھوں باعث اس تحریک کا رُخ حکومت کے خلاف ہوگیا۔ کرفیو کے باوجودجلوس نکلے، گولیاں چلیں، شہداء کے جنازے اٹھیں، جیلیں بھری گئیں۔ بڑی مشکل سے حالات قابو میں آئے۔ تحریک اپنے اہداف توحاصل نہ کرسکی، مگر یہ بات سب پر واضح ہوگئی کہ پاکستان میں قادیانیوں کاتسلط برداشت نہیں کیاجائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔