• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

فضلائے مدراس سے چند باتیں

دینی مدارس میں تعلیمی سال کااختتام ہورہاہے۔ سالانہ امتحانات کی دن رات محنت ہورہی ہے۔ رَ ت جگے بھی کیے جارہے ہیں۔ کچھ دنوں بعد طلبہ اپنے گھروں کو رخصت ہوجائیں گے۔ یہ معمول سالہا سال سے قائم ہے۔ دارالعلوم دیوبند جہاں سے علم کی یہ نہریں جاری ہوئیں کہ ہرسال اسی طرح شعبان میں تعطیلات ہوتیں، طلبہ رخصت ہوتے، ماہِ رمضان عبادت وریاضت اورذکروتلاوت میں گزرتااورشوال میں دوبارہ تعلیمی مصروفیات شروع ہوجاتیں۔

اس میں بھلاکیاشک ہے کہ مسلمانوں کاظاہری وباطنی، دینی ودنیوی عروج ہمیشہ علم کی آبیاری سے وابستہ رہا۔ جب جب اورجہاں جہاں مسلمانوں نے مدارس کوآباد کیا، علماء کی پیروی کی اورطلبہ کی کفالت کواپنافرض سمجھا تو وہ دنیا پر چھائے رہے۔ کیونکہ مسلمانوںکی کامیابی کاانحصار رجالِ کار مہیا ہونے پرہے اوررجالِ کار انہی تعلیم گاہوں سے پیداہوتے ہیں جہاں اللہ اوررسول کاعلم سکھایاجائے۔ ورنہ وحی کی روشنی کے بغیر علم کے نام پر جہالت اوراخلاق باختگی جنم لیتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

متاعِ گمشدہ کی تلاش

یہ 1920ء کی بات ہے۔ جاں بلب خلافتِ عثمانیہ کو بچانے کے لیے ہندوستان میں تحریکِ خلافت شروع ہوچکی تھی۔ اس تحریک میںقوم کاجذبہ اس وقت جنوں کی حدتک پہنچ گیاجب مالٹا سے شیخ الہند مولانامحمود حسنؒ، ا ن کے تلمیذِ رشید مولانا حسین احمد مدنیؒ اوردیگرعلماء کی رہائی عمل میں آئی۔ 8؍ جون 1920ء (20؍ رمضان 1338ھ) کو ان کاجہاز بمبئی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ 69 سالہ حضرت شیخ الہند ابھی جہاز سے اترے بھی نہ تھے کہ ایک سرکاری شخص نے ہمدرد کے روپ میں آکر انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستان کے سیاسی معاملات سے دور رہیں، تحریکِ خلافت والوں کے ہاتھ نہ پڑیں اور سیدھا دیوبند چلے جائیں، مگر مالٹا کی قید وبند نے وقت کے صاحبِ عزیمت کی ہمت میں ذرا بھی شکستگی پیدانہیں کی تھی۔ بمبئی کی بندرگاہ پرشیخ الہند کے استقبال کے لیے پورے برصغیر کے سیاسی قائدین جمع تھے جن میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانامحمد احمدؒ (بن مولاناقاسم نانوتویؒ) مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ، مولانامرتضیٰ حسن چاندپوریؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور گاندھی جی شامل تھے۔ ان سب کی خواہش تھی کہ حضرت شیخ الہندؒ اس تحریک کی سرپرستی قبول فرمالیں۔ شیخ الہندؒ تیار ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تین مناظر ایک سبق

یکم رجب 660ھ کو چنگیزخان کے پوتے برکہ خان نے اپنے اور اپنی قوم کے مشرف بااسلام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایک خط لکھ کر مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو یہ اطلاع دی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے چچازاد ہلاکوخان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے مصر سے اتحاد کرنا چاہتا ہے۔ سلطان بیبرس نے یہ پیش کش بخوشی قبول کرتے ہوئے ائمہ حرمین شریفین کو برکہ خان کے لیے دعاؤں کا حکم لکھ بھیجا۔ تمام شہروں میں بھی فرمان بھیجا گیا کہ جمعہ کے خطبے میں خلیفہ اور سلطان کے بعد برکہ خان کے لیے دعا کی جائے۔

برکہ خان کی سلطنت قفقاز کے کوہساروں سے بلغاریہ کی حدودتک وسیع تھی۔ شوال 660ھ (ستمبر 1262ئ) میں ہلاکو شام اور مصر پر دوبارہ حملے کی تیاری کررہا تھا کہ برکہ خان کی فوج قفقاز کے فلک بوس درّوں سے نمودار ہونے لگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجدیدِ عہدِ وفا کا دن

1940ء کاآغاز ہوا تومسلم لیگ اورکانگریس کے راستے ہمیشہ کے لیے الگ ہوچکے تھے۔ دوسری عالمی جنگ چھڑ چکی تھی اورقوی امکان تھاکہ جنگ کے خاتمے پرہندوستان کو آزادکردیاجائے۔ مسلم قیادت کی اجتماعی بصیرت نے یہ فیصلہ کیاکہ انہیں اب الگ مسلم ریاست کامطالبہ کردیناچاہیے۔ یہ وہ فیصلہ تھا جسے شرعی قواعد کی بناء پر حضر ت تھانویؒ نے جون 1928ء میں پیش کیاتھااورجسے اقبالؒ نے اپنے خطبۂ الہٰ آبادمیں واضح شکل دی تھی۔ آخر کارمارچ 1940ء میں لاہورمیں مسلم لیگ کاسالانہ اجلاس غیرمعمولی شان وشوکت کے ساتھ منعقد کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ اس اجتماع سے قائدِ اعظم کاخطاب تاریخ سازتھا۔ انہوںنے واشگاف الفاظ میں کہا:

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک اور سازش

ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلام دنیا بھر میں نہایت تیز ی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور 2050ء تک یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔‘‘ اس قسم کی رپورٹیں ہم مسلمانوں کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ دنیا بھر کی کفریہ طاقتیں مل کر جس گہری منصوبہ بندی، چالاکی، جبروتشدد اوراستحصال واستیصال کے ساتھ اسلام اورمسلمانوں کومٹانے کے درپے ہیں، اس کے پیشِ نظر ستم زدہ مسلمانوں کوکبھی کبھی مایوسی بھی ہونے لگتی ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کشمیر پربھارتی راج کوسات عشرے گزرنے کے باوجود مسلمانوں کوحقِ خودارادیت نہیں ملا، افغانستان میں امریکی جارحیت پندرہ سال بعد بھی جاری ہے اوروہاں امن کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے، عراقی مسلمان بدستور غلام اورشامی کے فرزندان توحید بے گھر اوربے آسراہیں، فلسطینی اسی طرح خانماں برباداورقبلہ اوّل نوحہ کناں ہے توایسے میں یہ محسوس ہونے لگتاہے کہ شاید اگلے دور میں ہرطرف کفرہی کفر ہو۔ مگر حالات کے اس تاریک رُخ کے برعکس ایک روشن پہلو بھی ہے جواسلام کی آفاقی فتح اورکفریہ طاقتوں کی پسپائی کے امکانات واضح کرتاہے۔ خود مغربی تحقیقی ادارے اسے تسلیم کررہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تحفظِ ناموسِ رسالت، تحریکِ پاکستان کی اساس

کوئی بھی قوم اپنے مذہبی پیشواؤں کی توہین برداشت نہیں کرسکتی۔ پھر پیشوا جس درجے کا ہو اور قوم کی مذہبی حمیت جس سطح پر ہو، ایسی گستاخانہ حرکات پر ردِعمل بھی اسی شدت کا ہوتا ہے۔ حضور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات سے بڑھ کر کوئی ہستی کائنات میں ہوئی نہ ہوگی۔ وہ شخصیت کہ جس کے اخلاقِ حسنہ نے جانی دشمنوں کو بھی دوست بنالیا، وہ رہبر کہ جس کی صفات پر لاکھوں صفحات لکھ کر بھی تعریف کا حق ادا نہیں کیا جاسکا، وہ محسنِ انسانیت کہ غیرجانب دار لوگوں نے بھی اس کی عظمت کا اعتراف کیا۔ ایک مغربی مؤرخ نے دنیا کی سو بڑی شخصیات کو منتخب کیا تو ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا نام نامی اور تعارف سب سے پہلے رکھا۔ غیرمتعصب ہندوؤں تک نے

مزید پڑھیے۔۔۔

آپریشن ردالفسا

امریکا نے نیوورلڈ آرڈر کے بعد ’’بنیاد پرستی‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ کے خلا ف جس عالمی جنگ کا آغاز کیا تھا، اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان پہلی صف میں ہے۔ کچھ ملک ایسے تھے جو آتش و آہن کے اس خونی کھیل میں اپنی حکومتیں گنوابیٹھے، اس طرح تباہ و برباد ہوئے کہ ملک کے الگ الگ حصوں پر متعدد گروہ قابض ہیں۔ شام، عراق اور افغانستان کا حال کچھ ایسا ہی ہے، مگر پاکستان کی کہانی سب سے عجیب ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اس وقت براہ ِ راست امریکی حملے سے بچنے کے لیے امریکی مہم کے پُرجوش اتحادی بننے کافیصلہ کیاجس کانتیجہ یہ نکلاکہ پاکستان خارجی اور داخلی دونوں اعتبار سے غیرمحفوظ ہوگیا۔ خارجی اعتبار سے اس طرح کہ افغانستان میں ایک دشمن حکومت قائم ہوگئی جہاں آج ’’را‘‘ کے تربیتی کیمپ قائم ہیں اور بھارت کا وہاں اس قدر اثرو رسوخ ہوچکا ہے جو گزشتہ چھ سات دہائیوں کی تاریخ میں نہیں ملتا۔ داخلی انتشار اس طرح ظاہر ہوا کہ خود امریکا کا ساتھ دینے نہ دینے پر پاکستان بیوروکریسی سے ڈیموکریسی تک، ہر سطح، ہر طبقے اورہر اسٹیج پرمختلف الرائے ہوگیا۔ اکثریت امریکا مخالف تھی اور ایسا ہونا ہی چاہیے تھا کہ پاک امریکا تعلقات کبھی ثمر بار ثابت نہیں ہوئے،

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی کا جواب

ایسا لگتا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کمر توڑدی گئی ہے، وہ اپنے انجام کوپہنچ گئے ہیں یا بلوں میں چھپ گئے ہیں، ضربِ عضب کی کامیابی نے قوم کومحفوظ ہونے کاآسرادیاتھا۔ سابق آرمی چیف راحیل شریف فتوحا ت کے پرچم گاڑتے ہوئے رخصت ہوئے تھے، مگر ملک ایک بارپھر دہشت گردی کی بدترین لہر کی لپیٹ میں ہے، پیر 13 ؍ فروری کو لاہور کے مال روڈ پر خود کش دھماکا ہوا جس میں اعلیٰ پولیس افسران اور سپاہیوں سمیت متعددمعصوم شہری جاں بحق ہوگئے۔ بدھ 15؍ فروری کو تین مقامات پر دھماکے ہوئے، جن میں سے 2 کا نشانہ مہمند ایجنسی کے قصبات بنے۔ اسی دن پشاور کے علاقے حیات آباد میں جج حضرات کی گاڑی کوخود کش حملے کانشانہ بنایا گیا جس میں ڈرائیور جاں بحق، جبکہ 4 جج زخمی ہوگئے۔ اس سے اگلے دن جمعرات کو سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہجوم میں خوفناک دھماکے ہوئے، 76 زائرین جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کاخوف

گزشتہ ماہ کے اواخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 45 ویں صدر کا حلف اٹھاکر جوتقریر کی وہ دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے ایک تشویش انگیز اور غیریقینی صورتحال پیدا کرنے کا پیش خیمہ تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ کا نعرہ کچھ اسی طرح لگایا جس طرح جنرل پرویز مشرف نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا تھا، مگر جنرل پرویز کا پاکستان ایک چھوٹا ملک تھا جس کی اوّلیت کے نعر ے کے پیچھے ملک کو امریکا کی ڈکٹیشن کے مطابق چلانا تھا، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نعر ے کے پیچھے قوم پرستی کا وہ جذبہ کارفرما ہے جسے یہودی مسلسل شہ دے کر اسے مسلم دنیا کے خلاف مزید شد و مد سے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ گوانتاموبے جیل کو دوبارہ بھردے گا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی کا بنیادی نقطہ مسلمانوں کے لیے (جنہیں مغربی میڈیا شدت پسندی اور انتہاپسندی کا طعنہ دیتا ہے) جنگ کی آگ کو تیز کرنا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ پالیسی امریکا کو لے ڈوبے گی

فلسطینی سربراہِ مملکت جناب محمود عباس پاکستان کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور ان کی گرم جوش ملاقات سے ایک مثبت تاثر سامنے آرہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین پر فلسطینی مسلمانوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور اسرائیلی زیادتیوں کی مذمت کی ہے۔ متحدہ برصغیر سے آج تک اس خطے کے مسلمانوں کا مشرقِ وسطیٰ، مقاماتِ مقدسہ اور ارضِ القدس و فلسطین سے گہرا تعلق رہا ہے۔ جب مسئلہ فلسطین کو پیدا کیا گیا اور وہاں یہودیوں کی ناجائز آباد کاری شروع کی گئی تو اس وقت بھی ہمارے سیاسی و مذہبی زعماء نے ہر سطح پر اس طرزِ عمل پر شدید نکتہ چینی کی تھی۔ ہمارے اکابر نے یہودیوں کے ہاتھوں فلسطینی اراضی فروخت کرنے کی حرمت کا فتویٰ بھی دیا۔ اس دور میں دنیا میں یہودیوں کا سب سے بڑا پشت پناہ برطانیہ تھا جس کی کھلی زیادتیوں سے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا۔ عرب کا بٹوارہ ہوا۔ شام، فلسطین، اردن اور لبنان الگ الگ کیے گئے۔ حصے بخرے ہونے کے بعد وہاں یہود کاتسلط آسان تر ہوگیا۔ یہ سب توڑپھوڑ 1918ء میں دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر کی گئی جس کے بعد 1919ء سے 1945ء تک فلسطین میں یہودیوں کو تیزی کے ساتھ بسایا گیا۔ روس، پولینڈ، رومانیہ اور دوسرے ملکوں سے لاکھوں یہودی فلسطین پہنچائے گئے، بہت بڑے پیمانے پر فلسطین کی زمین ہتھیائی گئی۔ یہودیوں کے

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمارے منتخب نمائیندے قوم کو کیا سکھا رہے ہیں

چند دن پہلے سندھ اسمبلی کے ایک مرد رکن نے ایک خاتون رکن سے ایسی بدکلامی کی کہ انسانیت اپنا سر پیٹ کر رہ گئی۔ ہنگامہ برپا ہونا ہی تھا، سو ہوا اور اس شخص کو معذرت کرنا پڑی۔ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں تحریکِ انصاف اور نون لیگ کے نمایندوں کے درمیان لپاڈگی ہوئی، کھلم کھلا دست درازی ہوئی، گالیاں بکی گئیں، منہ نوچ لیے گئے، کپڑے پھاڑ دیے گئے، کوئی اخلا قی حد حائل ہوئی نہ کوئی ضابطہ آڑے آیا۔ پورے ملک نے یہ تماشادیکھا کہ منتخب نمایندے ایوانِ اقتدار میں کس طرح دست و گریباں ہوتے ہیں؟ حالاں کہ کون سی قیامت تھی جس پر اتنا ہنگامہ ہوا۔ اگر کسی فریق کو دوسرے فریق کے اقتدار سے بالکل ہی انکار ہے تو بھی اس ا فسوس ناک دھینگامشتی کی کوئی گنجائش نہیں تھی جس سے عام آدمی بھی شرم محسوس کرے گا۔

اختلاف تو صحابہ کرامؓ کے درمیان بھی ہوا۔ بعض اوقات معاملات اس سے کہیں زیادہ بڑے اور اہم تھے، مگر شرافت اور اصول پسندی کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا گیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے سقیفہ بنوساعدہ میں بحث ضرور ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔