• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں

رمضان عبادت و ریاضت کا مہینہ ہے۔ اللہ سے لو لگانے کا مہینہ ہے۔ قرآن پڑھنے پڑھانے، سننے سنانے کا مہینہ ہے۔ نیکیاں کمانے کا سیزن ہے۔ پہلے عشرے میں رحمتوں کی بارش شروع ہوتی ہے۔ دوسرے عشرے میں مغفرت کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں۔ تیسرا عشرہ آگ سے آزادی کاہے۔ اسی تیسرے عشرے کی سب سے اہم اور ممتاز عبادت ’’اعتکاف‘‘ ہے جو سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی ہرمحلے کے بعض افراد کا مسجد میں اعتکاف کرنا لازمی ہے، کسی نے بھی نہ کیا تو سب گناہ گار ہوں گے۔ کچھ نے کرلیا تو سب کے ذمے سے گناہ ساقط ہوجائے گا۔ ہمت کی بات تو یہ ہے کہ ہر محلے کے زیادہ سے زیادہ لوگ اعتکاف کریں، مسجدوں کو نماز، ذکر، تلاوت، دین سیکھنے سکھانے اور دعا و مناجات سے آباد کریں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف؟

پاکستان کی سرحدیں چار ممالک کے ساتھ لگتی ہیں۔ دو پاکستان سے بڑے ہیں یعنی بھارت اور چین۔ دو پاکستان سے چھوٹے ہیں، یعنی افغانستان اور ایران۔ بھارت سے پاکستان کو سلامتی کے شدید خطرات لاحق رہے ہیں، اس لیے پاکستان کی بھارت سے تعلق کی پالیسی اپنے تحفظ کو ترجیح دینے پر مبنی ہے۔ چین سے پاکستان کے تعلقات دوطرفہ تعاون اور دوستی کے رہے ہیں اور چین نے اس تعلق کی ہمیشہ لاج رکھی ہے۔ وجہ بھارت کا مشترکہ خطرہ ہے جو دونوں ممالک کو لاحق ہے۔ رہے افغانستان اور ایران، تو عالمی مسلم براردری کا حصہ ہونے کے علاوہ پاکستان کے ہمسایے ہونے کے ناتے پاکستان کی ان کے بارے میں پالیسی نیک نیتی اور خیرخواہانہ اسلوب پر مبنی رہی ہے۔ بسا اوقات اس خیرخواہی میں اپنے مفادات بھی پامال ہوتے رہے ہیں، مگر پاکستان نے ان دونوں ممالک کے بارے میں ہمیشہ ایثار کا مظاہرہ ہی کیا ہے۔ ایران سے پاکستان کے تعلقات شروع میں بہت اچھے تھے، ایران پاکستان کو سب سے پہلے قبول کرنے والے ممالک میں سے تھا۔ شاہِ ایران کے دور میں پاک ایران سے تعلقات بہت گہرے ہوگئے۔ اس تعلق کا دائرہ ترکی تک وسیع ہوگیا اور آر، سی، ڈی منصوبہ تیار ہوا جس کے مطابق تینوں ملکوں کے درمیان مشترکہ تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی امیدیں روشن ہوئیں، مگرانقلابِ ایران کے بعدا یران اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کھنڈت پڑنے لگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

مشرقِ وسطیٰ کا طویل دورہ کرکے امریکی صدر ٹرمپ کی واپسی ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے پہلے سعودی عرب جاکر وہاں کی قیادت سے ملاقات کی۔ پھر ریاض سے تل ابیب کی سمت پروا ز ہوئی۔ کہاجارہا ہے کہ سعودی عرب کی تاریخ میں ریاض سے تل ابیب کی طرف یہ پہلی پرواز تھی۔ ٹرمپ نے اسرائیل جاکر وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو سے راز ونیاز کیے۔ پھر فلسطینی صدر محمود عباس سے الگ ملاقات کی اور امید دلائی کہ فلسطین کاقضیہ حل ہوجائے گا۔ ٹرمپ کاکہنا تھا :مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کا قوی امکان ہے۔ اوباما کے دور میں امریکا کے سعودی عرب سے تعلقات کشیدہ رہے تھے۔

خصوصاً ایران کے معاملے میں امریکا سعودی عرب کے مخالف کاز کوتقویت دے رہاتھا۔ ٹرمپ نے صدربن کرجو ابتدائی اقدامات کیے، ان سے بھی یہی ظاہر ہورہاتھاکہ امریکا کی پالیسی مسلم ممالک کے لیے سخت تر ہوتی جائے گی، مگر ٹرمپ کے اس دورے سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اوباما کی پالیسی تبدیل کردی گئی ہے۔ امریکا سعودی عرب کے قریب آناچاہ رہاہے اورفلسطینی مسئلے کو بھی زیادہ بگاڑنانہیں چاہتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غریب کا بجٹ کون بنائے گا؟

انسان کی بنیادی ضروریات کیا ہیں؟ پانی، خوراک، صحت اور تعلیم۔ جی ہاں! یہ ہر عام و خاص کی پہلی ضروریات ہیں، اس سے تیلی محلے کا شیدا بری الذمہ ہوسکتا ہے نہ ہی امیر شہر کا جیدا۔ آپ پاکستان میں پینے کے پانی کی صورتحال دیکھئے۔ 85 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، لوگ مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں جس سے ڈائریا، دست اور ہیپا ٹائٹس سی جیسے موذی امراض وباء کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ میں گزشتہ دنوں راولپنڈی سے متعلق ایک رپورٹ دیکھ کر چونک گیا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا صرف راولپنڈی شہر میں ہر ماہ ایک سو سے زائد ہیپاٹائٹس کے کیسز رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے راولپنڈی کا یہ شہر وفاقی حکومت کی عین ناک کے نیچے ہے۔ اگر اس شہر کی یہ حالت ہے تو خضدار، لسبیلہ، لودھراں، کندھ کوٹ، سکھر، رحیم یار خان اور ٹانک کی حالت کیا ہوگی؟ کراچی سوا دو کروڑ افراد کا شہر ہے۔ یہ پاکستان کا معاشی حب بھی ہے۔ اسے پاکستان کی معاشی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے مگر اس شہر میں 70 فیصد عوام کو پانی کی سہولت موجود نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

استقبالِ رمضان

ایک بارپھر نیکیوں کاموسمِ بہار آیاچاہتاہے۔ اللہ والے بصداشتیاق اس کے منتظر ہیں جبکہ عام مسلمان سوچ رہے ہیں کہ دیکھیے اس سال رمضان کیسا گزرے گا؟ تین عشروں بعد ایسارمضان آرہا ہے جو تقریباً پورا، ماہ جون کے ساتھ ساتھ چلے گا۔ یعنی سال کے گرم ترین مہینے میں روزے رکھے جائیں گے۔ رمضان کانام رَمض سے بناہے جس کامطلب تپش اورگرمی ہے، جب ابتداء میں عربوںنے مہینوںکے یہ نام رکھے تھے، تب رمضان شدیدگرمی کے موسم میں آتا تھا، اس لیے اسے رمضان کہاجانے لگا۔ تواس سال ایک طرف سورج کی تپش روزہ داروں کی ہمت آزمائے گی اور دوسری طرف ماہِ رمضان کی برکتیں ان پر سایہ فگن ہوکر انہیں اندرونی ٹھنڈک سے آشناکریں گی۔ رمضان کی برکتوں کاکیاکہنا! شروع سے آخر تک برکت ہی برکت، رحمت ہی رحمت۔

حضرت ابوہریرہؓ سے منقول حدیث تو سب ہی نے سنی ہوگی۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیںا ور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ)

مزید پڑھیے۔۔۔

مشرقی پنجاب سے کشمیر تک

ہر سال اپریل کے وسط میں ’’حسن ابدال‘‘ سکھوں سے آباد ہوجاتا ہے۔ نہ صرف پاکستان میں رہنے بسنے والے، بلکہ بھارت اور پوری دنیا سے سکھوں کی بہت بڑی تعداد بیساکھ میلے میں حصہ لینے آتی ہے۔ حسن ابدال میں سکھوں کا اہم مذہبی مقام ’’گوردوارہ پنجہ صاحب‘‘ واقع ہے۔ اپریل کے وسط میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ حسن ابدال دین سے محب رکھنے والے خوش اخلاق اور متواضع طبع مسلمانوں کا مسکن ہے، جن میں روایتی دین داری اور حب الوطنی کا عنصر بہت واضح دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ یہاں کی انتظامیہ اور مقامی لوگ سکھوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنے دیتے۔ ان کا پورا خیال رکھا جاتا ہے، حالانکہ سکھوں کا ہر قافلہ جو حسن ابدال آتا ہے، 1947ء کے بھیانک فسادات کی یاد دلاکر دلوں کو تڑپا دیتا ہے۔ اس حقیقت سے کون نا آشنا ہے کہ جب پاکستان بنا تو سب سے زیادہ مسلم نسل کشی مشرقی پنجاب میں ہوئی، حالانکہ بانیٔ پاکستان نے اس موقع پر جو منصوبہ بندی کی تھی اگر اس پر عمل ہوجاتا تو ایسی نوبت نہ آتی۔ انہوں نے سکھوں کی قیادت کوپیش کش کی تھی کہ وہ پاکستان میں شمولیت اختیار کرلیں تو انہیں مشرقی پنجاب میں ایک ملحقہ آزاد ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ پیش کش بڑی حکمت پر مبنی تھی، اگر سکھ لیڈر سردا ربلدیوسنگھ اور ماسٹر تاراسنگھ اسے تسلیم کرلیتے تو نہ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کو مغربی پنجاب کی طرف دھکیلا جاتا، نہ مغربی پنجاب سے سکھوں کو یکایک بھاگ کر مشرقی پنجا ب میں پناہ لینا پڑتی۔ وحشت و بہیمیت کا وہ طوفان نہ امنڈ آتا جس نے انسانوں کودرندہ بنادیا۔ انتقالِ آبادی اگر ہوتا توکئی سالوں میں آہستہ آہستہ اپنی مرضی اورمنشاء کے ساتھ ہوتا۔ کسی کو کوئی پریشانی نہ ہوتی۔ مزید یہ کہ پاکستان کی حامی سکھ ریاست بھارت کے راستے میں ایک دیوار بن جاتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فضلائے مدراس سے چند باتیں

دینی مدارس میں تعلیمی سال کااختتام ہورہاہے۔ سالانہ امتحانات کی دن رات محنت ہورہی ہے۔ رَ ت جگے بھی کیے جارہے ہیں۔ کچھ دنوں بعد طلبہ اپنے گھروں کو رخصت ہوجائیں گے۔ یہ معمول سالہا سال سے قائم ہے۔ دارالعلوم دیوبند جہاں سے علم کی یہ نہریں جاری ہوئیں کہ ہرسال اسی طرح شعبان میں تعطیلات ہوتیں، طلبہ رخصت ہوتے، ماہِ رمضان عبادت وریاضت اورذکروتلاوت میں گزرتااورشوال میں دوبارہ تعلیمی مصروفیات شروع ہوجاتیں۔

اس میں بھلاکیاشک ہے کہ مسلمانوں کاظاہری وباطنی، دینی ودنیوی عروج ہمیشہ علم کی آبیاری سے وابستہ رہا۔ جب جب اورجہاں جہاں مسلمانوں نے مدارس کوآباد کیا، علماء کی پیروی کی اورطلبہ کی کفالت کواپنافرض سمجھا تو وہ دنیا پر چھائے رہے۔ کیونکہ مسلمانوںکی کامیابی کاانحصار رجالِ کار مہیا ہونے پرہے اوررجالِ کار انہی تعلیم گاہوں سے پیداہوتے ہیں جہاں اللہ اوررسول کاعلم سکھایاجائے۔ ورنہ وحی کی روشنی کے بغیر علم کے نام پر جہالت اوراخلاق باختگی جنم لیتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

متاعِ گمشدہ کی تلاش

یہ 1920ء کی بات ہے۔ جاں بلب خلافتِ عثمانیہ کو بچانے کے لیے ہندوستان میں تحریکِ خلافت شروع ہوچکی تھی۔ اس تحریک میںقوم کاجذبہ اس وقت جنوں کی حدتک پہنچ گیاجب مالٹا سے شیخ الہند مولانامحمود حسنؒ، ا ن کے تلمیذِ رشید مولانا حسین احمد مدنیؒ اوردیگرعلماء کی رہائی عمل میں آئی۔ 8؍ جون 1920ء (20؍ رمضان 1338ھ) کو ان کاجہاز بمبئی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ 69 سالہ حضرت شیخ الہند ابھی جہاز سے اترے بھی نہ تھے کہ ایک سرکاری شخص نے ہمدرد کے روپ میں آکر انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستان کے سیاسی معاملات سے دور رہیں، تحریکِ خلافت والوں کے ہاتھ نہ پڑیں اور سیدھا دیوبند چلے جائیں، مگر مالٹا کی قید وبند نے وقت کے صاحبِ عزیمت کی ہمت میں ذرا بھی شکستگی پیدانہیں کی تھی۔ بمبئی کی بندرگاہ پرشیخ الہند کے استقبال کے لیے پورے برصغیر کے سیاسی قائدین جمع تھے جن میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانامحمد احمدؒ (بن مولاناقاسم نانوتویؒ) مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ، مولانامرتضیٰ حسن چاندپوریؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور گاندھی جی شامل تھے۔ ان سب کی خواہش تھی کہ حضرت شیخ الہندؒ اس تحریک کی سرپرستی قبول فرمالیں۔ شیخ الہندؒ تیار ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تین مناظر ایک سبق

یکم رجب 660ھ کو چنگیزخان کے پوتے برکہ خان نے اپنے اور اپنی قوم کے مشرف بااسلام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایک خط لکھ کر مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو یہ اطلاع دی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے چچازاد ہلاکوخان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے مصر سے اتحاد کرنا چاہتا ہے۔ سلطان بیبرس نے یہ پیش کش بخوشی قبول کرتے ہوئے ائمہ حرمین شریفین کو برکہ خان کے لیے دعاؤں کا حکم لکھ بھیجا۔ تمام شہروں میں بھی فرمان بھیجا گیا کہ جمعہ کے خطبے میں خلیفہ اور سلطان کے بعد برکہ خان کے لیے دعا کی جائے۔

برکہ خان کی سلطنت قفقاز کے کوہساروں سے بلغاریہ کی حدودتک وسیع تھی۔ شوال 660ھ (ستمبر 1262ئ) میں ہلاکو شام اور مصر پر دوبارہ حملے کی تیاری کررہا تھا کہ برکہ خان کی فوج قفقاز کے فلک بوس درّوں سے نمودار ہونے لگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجدیدِ عہدِ وفا کا دن

1940ء کاآغاز ہوا تومسلم لیگ اورکانگریس کے راستے ہمیشہ کے لیے الگ ہوچکے تھے۔ دوسری عالمی جنگ چھڑ چکی تھی اورقوی امکان تھاکہ جنگ کے خاتمے پرہندوستان کو آزادکردیاجائے۔ مسلم قیادت کی اجتماعی بصیرت نے یہ فیصلہ کیاکہ انہیں اب الگ مسلم ریاست کامطالبہ کردیناچاہیے۔ یہ وہ فیصلہ تھا جسے شرعی قواعد کی بناء پر حضر ت تھانویؒ نے جون 1928ء میں پیش کیاتھااورجسے اقبالؒ نے اپنے خطبۂ الہٰ آبادمیں واضح شکل دی تھی۔ آخر کارمارچ 1940ء میں لاہورمیں مسلم لیگ کاسالانہ اجلاس غیرمعمولی شان وشوکت کے ساتھ منعقد کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ اس اجتماع سے قائدِ اعظم کاخطاب تاریخ سازتھا۔ انہوںنے واشگاف الفاظ میں کہا:

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک اور سازش

ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلام دنیا بھر میں نہایت تیز ی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور 2050ء تک یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔‘‘ اس قسم کی رپورٹیں ہم مسلمانوں کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ دنیا بھر کی کفریہ طاقتیں مل کر جس گہری منصوبہ بندی، چالاکی، جبروتشدد اوراستحصال واستیصال کے ساتھ اسلام اورمسلمانوں کومٹانے کے درپے ہیں، اس کے پیشِ نظر ستم زدہ مسلمانوں کوکبھی کبھی مایوسی بھی ہونے لگتی ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کشمیر پربھارتی راج کوسات عشرے گزرنے کے باوجود مسلمانوں کوحقِ خودارادیت نہیں ملا، افغانستان میں امریکی جارحیت پندرہ سال بعد بھی جاری ہے اوروہاں امن کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے، عراقی مسلمان بدستور غلام اورشامی کے فرزندان توحید بے گھر اوربے آسراہیں، فلسطینی اسی طرح خانماں برباداورقبلہ اوّل نوحہ کناں ہے توایسے میں یہ محسوس ہونے لگتاہے کہ شاید اگلے دور میں ہرطرف کفرہی کفر ہو۔ مگر حالات کے اس تاریک رُخ کے برعکس ایک روشن پہلو بھی ہے جواسلام کی آفاقی فتح اورکفریہ طاقتوں کی پسپائی کے امکانات واضح کرتاہے۔ خود مغربی تحقیقی ادارے اسے تسلیم کررہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔