• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

غلطی یا شرارت

قادیانیوں نے پاکستان کے آئین میں ہونے والی اس ترمیم کو کبھی قبول نہیں کیا جس کی رو سے انھیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اس دستوری ترمیم کے خاتمے کے لیے قادیانیوں نے ہر قسم کوششیں کی ہیں کیوں کہ یہ قانون یورپ میں بھی قادیانیت پھیلانے کی راہ میں آڑے آرہا ہے اور اس کی وجہ سے اسرائیل کی سرپرستی اور یورپ کی حمایت کے باوجود قادیانیت کو اسلام کے لبادے میں پیش کرنے کی سازشیں پوری طرح کامیاب نہیں ہورہی ہیں۔ قادیانی لابی اندون خانہ پاکستان میں بھی اس قانون کو متنازعہ بنانے، اسے استحصال پر مشتمل قرار دینے اور اس کے بتدریج خاتمے کے لیے چپکے چپکے سرگرم رہتی ہے۔ عقیدہ ٔختم نبوت کے تحفظ کی خاطر جدوجہد کرنے والے حلقے عوام الناس کو قادیانیوں کی شرارتوں سے باخبر رکھنے کے فرائض انجام دیتے رہتے ہیںیہی وجہ ہے قادیانیوں کی شرارتیں کامیاب نہیں ہورہی ہیں کیوں کہ عوام اس متعلق بیدار ہیں وہ فورا جواب دینے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ قادیانیوں نے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ قادیانی نواز لابی کو اس کی اعلی قیادت کی قربت حاصل ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

تر نوالہ یا لوہے کے چنے؟؟

سلطنتِ عثمانیہ تین صدیوں تک دنیا پر چھائی رہی۔ اس کے بیڑے چار سمندروں پر راج کرتے تھے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں اس کازوال شرو ع ہوا، مگر اس کے باوجود دو صدیوں تک وہ عالمی طاغوتی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر رہی۔ اس زمانے میں دنیائے کفر خصوصاً فرانس، اسپین، برطانیہ اور رُوس کی کوشش یہ تھی کہ سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف کسی بھی بہانے سے جنگ چھیڑی جائے اور اسے کمزور سے کمزورتر کرکے رفتہ رفتہ ختم کردیا جائے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے جن خلفاء نے اس دورِ زوال میں حکومت سنبھالی، ان کے پاس سلیمان عالی شان یا سلطان محمد فاتح جیسے وسائل اور مواقع نہیں تھے۔ اس لیے انہوںنے رُوس اور یورپی طاقتوں کے مشترکہ حملے سے بچنے کے لیے ڈپلومیسی سے کام لیا۔ ان میں سے بعض کے ساتھ دفاعی معاہدے کرکے انہیں اتحادی بنالیا۔ شروع میں سلطنتِ عثمانیہ کا سب سے بڑا اِتحادی فرانس تھا جسے اسپین کے خلاف اتحادی بنایا گیا۔ کئی مہمات میں دونوں کے سپاہی مشترکہ طور پر شریک ہوئے، مگر سترہویں صدی کے درمیان یہ واضح ہوگیا کہ فرانس محض اپنے مفاد کے لیے معاہدے میں شامل ہے اور وقت پڑنے پر کبھی بھی بھرپور ساتھ نہیں دیتا۔ عثمانی خلفاء کو سب سے زیادہ خطرہ رُوس سے تھا، چنانچہ انہوں نے روس کے مقابلے میں برطانیہ سے دوستی لگالی جو لگ بھگ ایک صدی تک چلی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عمر لاز… ہماری متاعِ گم گشتہ

چودہ صدیاں قبل کی بات ہے کہ ایک درویش نے دنیا کی کایاپلٹ کردکھائی تھی۔ اس شخص نے نہ تو کسی اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی نہ کسی یونی ورسٹی کی کوئی سند اس کے پاس تھی۔ اس کالڑکپن اونٹ چَراتے ہوئے گزراتھا، اپنی غیرمعمولی ذہانت کی بناء پر اس نے لکھنا پڑھنا ضرور سیکھ لیا تھا جواس دور کے معاشرے میں ایک کم یاب صفت تھی۔ جوانی میں تجارتی سفربھی کیے، مگراس کی اصل تعلیم وتربیت حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آکر ہوئی تھی۔ یہ تھے حضرت عمرؓ، جب اسلام قبول کیا تو عمر لگ بھگ 28 برس تھی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت گیارہ ہجری میں ہوئی۔ اس لحاظ سے انہوںنے اس بے مثل درسگاہ میں 18 برس گزارے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی سوادوسالہ خلافت میں ان کی حیثیت وزیر کی تھی۔ 13 ہجری کے وسط میں اسلامی خلافت کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں آگئی۔ اب تاریخ کاایک نیا دور شروع ہوا۔ دنیا کے ظالم وجابر حکمرانوں کایوم حساب آگیا۔ قیصر وکسریٰ کے تاج کچلے گئے۔ چین کی سرحدوں سے افریقہ کے ریگزاروں تک ہر باطل طاقت سرنگوں ہوگئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بُرے انجام سے بچیں

’’مینانمار‘‘ کے مسلمانوں کی جو حالت ہے، اس کی ایک جھلک دیکھنے سے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جس قدر بے رحمی سے انہیں مارا جارہا ہے، اس طرح تو کوئی کیڑے مکوڑوں کو بھی تڑپا تڑپاکر نہیں مارتا۔ یہ بے چارے نہ تو افغان مہاجرین کی طرح خوش قسمت ہیں کہ انہیں قریب میں پاکستان جیسا کوئی ملک اور جنرل ضیاء جیسا کوئی مسلم حکمران نصیب ہو جس نے مہاجرین کے لیے سرحدیں پاٹوں پاٹ کھول دی تھیں۔ ان برمی مسلمانوں میں نہ فلسطینی مسلمانوں کی طرح جذبۂ جہاد زندہ ہے جو پتھروں سے بھی اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ یہ نہ لڑ سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جاسکتے ہیں۔ عورتوں کی اجتماعی عصمت دری کی جارہی ہے۔ زندہ انسانوں کے اعضا ء کاٹے جارہے ہیں۔ دس دس بارہ بارہ سال کے بچوں کو قطاروں میں لگاکر ان کے ہاتھ کچلے جارہے ہیں۔ یہ سب ہورہا ہے، مگر عالمی میڈیا خاموش ہے۔ عالمی طاقتیں چپ سادھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اورا س کے ماتحت یونیسکو، یونی سیف اور اس قسم کی ہزاروں این جی اوز بلوں میں چھپ گئی ہیں۔ کسی کو اتنی توفیق بھی نہیں کہ وہ ارکان مسلمانوں کاحال دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ متاثر ہ علاقے کتھرائن کادورہ ہی کرلے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قوم آنکھیں کھولے

عدالت ِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق 28؍ جولائی کو میاں محمد نوازشریف وزراتِ عظمیٰ کے لیے نااہل قراردے دیے گئے۔ جلد ہی شاہد خاقان عباسی نے نئے وزیرِ اعظم کے طورپر حلف اٹھالیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں ایک نئی سیاسی ہل چل پیداہوگئی۔ اب ہرسیاست دان اس کوشش میں ہے کہ عوام کو اپنے پیچھے لگائے اوراگلی باراقتدار کے مزے لوٹے۔ سیاست دانوں کے مزوں میں عوام کی کیاحالت ہورہی ہے، اس کی کسی کوپروانہیں۔ پاکستان کے عوام گوناگوں مسائل کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ مسائل کی ایک طویل فہرست ہے، مگر چند مسائل ایسے ہیں جولوگوں کوزندہ درگورکیے ہوئے ہیں۔

مسلمانانِ پاکستان کاپہلا مسئلہ انصاف ہے۔ لوگ سب کچھ فراموش کرسکتے ہیں، مگر ان کے ساتھ بے انصافی ہو، جبر وتشددہو، ظلم وستم ہو، تووہ اسے کبھی معاف نہیں کر سکتے۔ ایسامعاشرہ درحقیقت انسانی معاشرہ نہیں بلکہ جنگل ہے جہاں طاقت کے بل پراپنا حق حاصل کیاجاتاہواورطاقت کے بل پر دوسرے کاحق چھیناجاتاہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک تاریخ ساز دن

مشرقی پنجاب کے ضلع گورداس پور کا قادیان، فقط ایک حوالے سے معروف ہے کہ وہاں برطانیہ نے ایک زہریلاپوداکاشت کیاجس کی خاردارشاخیں دوردورتک پھیل گئیں۔ جہاں جہاں اس کا منحوس سایہ پڑا، وہاں ایمان کی بستیاں اجڑ گئیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے انگریز کی سرپرستی میں جھوٹی نبوت کاڈھونگ کچھ اس طر ح رچایاکہ بہت سے بدقسمت لوگ اس دھوکے میں آگئے۔ برصغیر تقسیم ہواتو فوج اورمنتظمہ بھی تقسیم ہوئی جس میں بہت سے قادیانی بھی تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جوانگریز سرکار کی مہربانی سے اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گئے تھے۔ پاکستان کوفوج اوربیوروکریسی میں ایسے لوگ وراثت میں ملے۔ ان لوگوں نے بڑی تیزی سے پاکستان کوقادیانی اسٹیٹ بنانے کی مہم شروع کردی۔ اس خطر ے کوبھانپتے ہوئے علماء نے 1953ء کی تحریکِ ختم نبوت چلائی جس میں مسلمانانِ پاکستان نے بے شمار قربانیاں دیں۔ کچھ ہنگامی حالات اورکچھ نادیدہ کے ہاتھوں باعث اس تحریک کا رُخ حکومت کے خلاف ہوگیا۔ کرفیو کے باوجودجلوس نکلے، گولیاں چلیں، شہداء کے جنازے اٹھیں، جیلیں بھری گئیں۔ بڑی مشکل سے حالات قابو میں آئے۔ تحریک اپنے اہداف توحاصل نہ کرسکی، مگر یہ بات سب پر واضح ہوگئی کہ پاکستان میں قادیانیوں کاتسلط برداشت نہیں کیاجائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مقبول قربانی

عیدالاضحی مسلمانانِ عالم کے لیے خوشیوں کے پیغامات لاتی ہے۔ اس دن سنتِ ابراہیمی کو زندہ کیا جاتا ہے۔ اللہ کے نام پرجانورذبح کیے جاتے ہیں۔ مسلمان اللہ کی دی ہوئی ضیافت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ قربانی ہرمسلمان صاحبِ نصاب پرواجب ہے، مگر افسوس کہ بہت سے لوگ استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی دیکھاگیاہے کہ ہمیں اڑوس پڑوس اوراعزہ واقارب سے اتنا گوشت مل جاتاہے توخود قربانی کی کیاضرورت۔ گویا قربانی کا مقصد فقط گوشت کھاناہے۔ اللہ کے حکم کی کوئی حیثیت ہی نہیں (نعوذباللہ)

بعض جدت پسندحضرات ان ایام میں بزعمِ خودا سلام کی اصلاح کابیڑااُٹھا کریہ بھی فرمانے لگتے ہیں کہ قربانی محض مال کاضیاع ہے(العیاذباللہ)، اتنی رقم سے تو سینکڑوں اسکول، ہسپتال اوریتیم خانے بنائے جاسکتے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یومِ آزادی… اس پرچم کے سائے تلے…

ہمارا یومِ آزادی قریب ہے۔ کیا ہم اس سے قبل کے گنے چنے دنوں کوایک بہترین اور انتہائی ضروری مہم کے لیے کارآمد بنا سکتے ہیں؟ یہ مہم ہے اپنے ملک سے اپنے جذبۂ محبت سے اظہار کی، اس ملک سے دلی وابستگی کے مظاہرے کی، وطن کی جغرافیائی اورنظریاتی سرحدوں کومحفوظ رکھنے کے عزائم کوبیدارکرنے کی۔ ملک کی سلامتی اوربقا کے لیے سربکف ہونے کی، اس کے دشمنوں کوکیفرِکردار تک پہنچانے کے لیے کمرباندھنے کی۔ مایوسی اورگھٹن کی فضاؤں سے نکل کر امیدوں سے سجی کھلی شاہراہِ عمل پرآنے کی۔


ہر سال 14؍ اَگست آتا ہے اورہمیں ایک موقع دے کرجاتا ہے، مگر معدودے کچھ لوگوں کے سوا، ہم اجتماعی حیثیت سے ا س موقعے کوضایع کردیتے ہیں۔ ایک بہت بڑاطبقہ وہ ہے جو 14؍ اگست کا مقصد سرے سے جانتاہی نہیں۔ اسے پاکستان کے بارے میں اتنا معلوم ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے۔ جس طرح ہر ملک کے لوگ اپنے ملک سے پیارکرتے ہیں اور اس کے بارے میں حساس ہوتے ہیں، یہ لوگ بھی اپنے ملک سے پیارکرتے ہیں، اس کے بارے میں حسا س ہیں۔ وہ اس کی شکست چاہے کھیل ہی کے میدان میں ہو، برداشت نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہماراملک اتنا ترقی یافتہ ہوکہ ہم دنیا کے سامنے فخر کرسکیں، مگر یہ لوگ پاکستان کی اس اساس سے ناواقف ہیں جس پریہ معرضِ وجود میں آیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

متبادل دیانت دار قیادت کی ضرورت

جناب نواز شریف کا جانا ٹھہرگیا ہے۔ نون لیگ کے جو ارکان اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کو تعصب اور جھوٹ پر مبنی قرارد ے رہے ہیں، وہ اپنی ساکھ خود خراب کررہے ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے جو انکشافات ہوئے ہیں ان کے بعد میاں نواشریف پر استعفیٰ دینے کے لیے شدید دباؤ ہے اور ممکن ہے یہ سطور منظرعام پر آنے تک وہ وزراتِ عظمیٰ سے مستعفی ہوچکے ہوں۔

میاں نواز شریف خاندانی شرافت، اقتصادی و سیاسی شعور، شائستہ کلامی اوراعتدال پسندانہ سیاست سمیت گوناں گو خوبیوںکے حامل سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ لیاقت علی خان کی شہاد ت کے بعد تحریکِ پاکستان کی قائدجماعت مسلم لیگ انتشار کاشکار ہوکرعوامی اعتماد کھو بیٹھی تھی۔ میاں نواز شریف نے 40 برس بعد 1990ء کی انتخابی مہم میں اس کے تنِ مردہ میں نئی روح پھونکی اور الیکشن جیت لیا۔ اس کے بعدپاکستان مسلم لیگ (ن) ملکی سیاست کی اہم ترین جماعتوں میں شمار ہوتی رہی اوریہی وجہ کہ میاںنوازشریف وقفے وقفے سے تین بار وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پرفائز ہوئے۔ ہر بار انہیں شدید الزامات کانشانہ بناکر ایک مجرم کی طرح رخصت کیا گیا، مگر چند سالوں بعد وہ دوبارہ سہ بارہ ایک ہیروکی طرح اقتدار میں واپس آئے۔ اس کی وجہ کیا تھی ؟یہی کہ ملک کے پاس کوئی بہتر متبادل قیادت نہیں تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرحبا مرحبا

دینی مدارس میں نیا تعلیمی سال شروع ہورہاہے۔ درسگاہوں کی رونقیں بحال ہورہی ہیں۔ طالبانِ علوم نبوت عارضی استراحت کے بعد ایک بارپھر اپناسفر وہیں شروع کرنے کوہیں جہاں شعبان میں رُکا تھا۔ علوم نبوت کایہ سفر بلاشک وشبہ انہی مقاصد کے لیے ہے جن کے لیے سرورانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی۔ یہ مقاصد ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہیں۔ ان کاتعلق فرد کی زندگی سے عالمی اجتماعی زندگی تک، حیاتِ فانی سے حیاتِ جاودانی تک اورعالم شہود سے عالم غیب تک ہے۔ ہمیں تعلیم حاصل کرتے ہوئے یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہم محض پڑھنے اورامتحان دے کر پاس ہونے کے لیے مدرسے میں نہیں آئے۔ ایک سند حاصل کرلینا اوراچھے نمبر لے لینا بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں۔ مقصدا س دُکھی انسانیت کی حقیقی اورصحیح رہنمائی ہے جو صدیوں سے ظالمانہ نظاموں کے بے رحم پنجوں میں سسک رہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ساری کوتاہی ہماری اپنی ہے

بہارِ رحمت کے جھونکے گزر گئے۔ روزوشب بدل گئے۔ وہ ایمان افروز نظارے جیسے خواب تھے جو رمضان میں جاگتی آنکھوںسے دکھائی دیتے تھے۔ مساجد نمازیوں سے آباد تھیں۔ ذکر کا الگ مزہ تھا۔ تلاوت جتنی بھی کرلیں جی نہیں بھرتا تھا۔ ہر طرف ماحول میں ایک عجیب سی روحانی مسرت گھلی ہوئی تھی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ تین بجے جبکہ عام دنوں میں خوابِ خرگوش کاوقت ہوتا ہے، ہر طرف چہل پہل ہوجاتی تھی۔ جاگنے والے سونے والوں کو جگارہے ہوتے تھے۔ ’’ اٹھو بیٹا! اٹھیے بھائی!سحری کرلیں۔ ‘‘ مساجد سے صدائیں بلند ہوتیں:’’حضرات سحری کاوقت ختم ہونے میں ایک گھنٹہ رہ گیا ہے۔ کھاپی لیں، سحری سے فارغ ہوجائیں۔ سحری کرنا سنت ہے اورروزہ رکھنا فرض۔ ‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔