• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

یومِ آزادی… اس پرچم کے سائے تلے…

ہمارا یومِ آزادی قریب ہے۔ کیا ہم اس سے قبل کے گنے چنے دنوں کوایک بہترین اور انتہائی ضروری مہم کے لیے کارآمد بنا سکتے ہیں؟ یہ مہم ہے اپنے ملک سے اپنے جذبۂ محبت سے اظہار کی، اس ملک سے دلی وابستگی کے مظاہرے کی، وطن کی جغرافیائی اورنظریاتی سرحدوں کومحفوظ رکھنے کے عزائم کوبیدارکرنے کی۔ ملک کی سلامتی اوربقا کے لیے سربکف ہونے کی، اس کے دشمنوں کوکیفرِکردار تک پہنچانے کے لیے کمرباندھنے کی۔ مایوسی اورگھٹن کی فضاؤں سے نکل کر امیدوں سے سجی کھلی شاہراہِ عمل پرآنے کی۔


ہر سال 14؍ اَگست آتا ہے اورہمیں ایک موقع دے کرجاتا ہے، مگر معدودے کچھ لوگوں کے سوا، ہم اجتماعی حیثیت سے ا س موقعے کوضایع کردیتے ہیں۔ ایک بہت بڑاطبقہ وہ ہے جو 14؍ اگست کا مقصد سرے سے جانتاہی نہیں۔ اسے پاکستان کے بارے میں اتنا معلوم ہے کہ یہ ہمارا ملک ہے۔ جس طرح ہر ملک کے لوگ اپنے ملک سے پیارکرتے ہیں اور اس کے بارے میں حساس ہوتے ہیں، یہ لوگ بھی اپنے ملک سے پیارکرتے ہیں، اس کے بارے میں حسا س ہیں۔ وہ اس کی شکست چاہے کھیل ہی کے میدان میں ہو، برداشت نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہماراملک اتنا ترقی یافتہ ہوکہ ہم دنیا کے سامنے فخر کرسکیں، مگر یہ لوگ پاکستان کی اس اساس سے ناواقف ہیں جس پریہ معرضِ وجود میں آیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

متبادل دیانت دار قیادت کی ضرورت

جناب نواز شریف کا جانا ٹھہرگیا ہے۔ نون لیگ کے جو ارکان اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کو تعصب اور جھوٹ پر مبنی قرارد ے رہے ہیں، وہ اپنی ساکھ خود خراب کررہے ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ سے جو انکشافات ہوئے ہیں ان کے بعد میاں نواشریف پر استعفیٰ دینے کے لیے شدید دباؤ ہے اور ممکن ہے یہ سطور منظرعام پر آنے تک وہ وزراتِ عظمیٰ سے مستعفی ہوچکے ہوں۔

میاں نواز شریف خاندانی شرافت، اقتصادی و سیاسی شعور، شائستہ کلامی اوراعتدال پسندانہ سیاست سمیت گوناں گو خوبیوںکے حامل سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ لیاقت علی خان کی شہاد ت کے بعد تحریکِ پاکستان کی قائدجماعت مسلم لیگ انتشار کاشکار ہوکرعوامی اعتماد کھو بیٹھی تھی۔ میاں نواز شریف نے 40 برس بعد 1990ء کی انتخابی مہم میں اس کے تنِ مردہ میں نئی روح پھونکی اور الیکشن جیت لیا۔ اس کے بعدپاکستان مسلم لیگ (ن) ملکی سیاست کی اہم ترین جماعتوں میں شمار ہوتی رہی اوریہی وجہ کہ میاںنوازشریف وقفے وقفے سے تین بار وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پرفائز ہوئے۔ ہر بار انہیں شدید الزامات کانشانہ بناکر ایک مجرم کی طرح رخصت کیا گیا، مگر چند سالوں بعد وہ دوبارہ سہ بارہ ایک ہیروکی طرح اقتدار میں واپس آئے۔ اس کی وجہ کیا تھی ؟یہی کہ ملک کے پاس کوئی بہتر متبادل قیادت نہیں تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرحبا مرحبا

دینی مدارس میں نیا تعلیمی سال شروع ہورہاہے۔ درسگاہوں کی رونقیں بحال ہورہی ہیں۔ طالبانِ علوم نبوت عارضی استراحت کے بعد ایک بارپھر اپناسفر وہیں شروع کرنے کوہیں جہاں شعبان میں رُکا تھا۔ علوم نبوت کایہ سفر بلاشک وشبہ انہی مقاصد کے لیے ہے جن کے لیے سرورانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی۔ یہ مقاصد ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہیں۔ ان کاتعلق فرد کی زندگی سے عالمی اجتماعی زندگی تک، حیاتِ فانی سے حیاتِ جاودانی تک اورعالم شہود سے عالم غیب تک ہے۔ ہمیں تعلیم حاصل کرتے ہوئے یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہم محض پڑھنے اورامتحان دے کر پاس ہونے کے لیے مدرسے میں نہیں آئے۔ ایک سند حاصل کرلینا اوراچھے نمبر لے لینا بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں۔ مقصدا س دُکھی انسانیت کی حقیقی اورصحیح رہنمائی ہے جو صدیوں سے ظالمانہ نظاموں کے بے رحم پنجوں میں سسک رہی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ساری کوتاہی ہماری اپنی ہے

بہارِ رحمت کے جھونکے گزر گئے۔ روزوشب بدل گئے۔ وہ ایمان افروز نظارے جیسے خواب تھے جو رمضان میں جاگتی آنکھوںسے دکھائی دیتے تھے۔ مساجد نمازیوں سے آباد تھیں۔ ذکر کا الگ مزہ تھا۔ تلاوت جتنی بھی کرلیں جی نہیں بھرتا تھا۔ ہر طرف ماحول میں ایک عجیب سی روحانی مسرت گھلی ہوئی تھی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ تین بجے جبکہ عام دنوں میں خوابِ خرگوش کاوقت ہوتا ہے، ہر طرف چہل پہل ہوجاتی تھی۔ جاگنے والے سونے والوں کو جگارہے ہوتے تھے۔ ’’ اٹھو بیٹا! اٹھیے بھائی!سحری کرلیں۔ ‘‘ مساجد سے صدائیں بلند ہوتیں:’’حضرات سحری کاوقت ختم ہونے میں ایک گھنٹہ رہ گیا ہے۔ کھاپی لیں، سحری سے فارغ ہوجائیں۔ سحری کرنا سنت ہے اورروزہ رکھنا فرض۔ ‘‘

 

مزید پڑھیے۔۔۔

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں

رمضان عبادت و ریاضت کا مہینہ ہے۔ اللہ سے لو لگانے کا مہینہ ہے۔ قرآن پڑھنے پڑھانے، سننے سنانے کا مہینہ ہے۔ نیکیاں کمانے کا سیزن ہے۔ پہلے عشرے میں رحمتوں کی بارش شروع ہوتی ہے۔ دوسرے عشرے میں مغفرت کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں۔ تیسرا عشرہ آگ سے آزادی کاہے۔ اسی تیسرے عشرے کی سب سے اہم اور ممتاز عبادت ’’اعتکاف‘‘ ہے جو سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی ہرمحلے کے بعض افراد کا مسجد میں اعتکاف کرنا لازمی ہے، کسی نے بھی نہ کیا تو سب گناہ گار ہوں گے۔ کچھ نے کرلیا تو سب کے ذمے سے گناہ ساقط ہوجائے گا۔ ہمت کی بات تو یہ ہے کہ ہر محلے کے زیادہ سے زیادہ لوگ اعتکاف کریں، مسجدوں کو نماز، ذکر، تلاوت، دین سیکھنے سکھانے اور دعا و مناجات سے آباد کریں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف؟

پاکستان کی سرحدیں چار ممالک کے ساتھ لگتی ہیں۔ دو پاکستان سے بڑے ہیں یعنی بھارت اور چین۔ دو پاکستان سے چھوٹے ہیں، یعنی افغانستان اور ایران۔ بھارت سے پاکستان کو سلامتی کے شدید خطرات لاحق رہے ہیں، اس لیے پاکستان کی بھارت سے تعلق کی پالیسی اپنے تحفظ کو ترجیح دینے پر مبنی ہے۔ چین سے پاکستان کے تعلقات دوطرفہ تعاون اور دوستی کے رہے ہیں اور چین نے اس تعلق کی ہمیشہ لاج رکھی ہے۔ وجہ بھارت کا مشترکہ خطرہ ہے جو دونوں ممالک کو لاحق ہے۔ رہے افغانستان اور ایران، تو عالمی مسلم براردری کا حصہ ہونے کے علاوہ پاکستان کے ہمسایے ہونے کے ناتے پاکستان کی ان کے بارے میں پالیسی نیک نیتی اور خیرخواہانہ اسلوب پر مبنی رہی ہے۔ بسا اوقات اس خیرخواہی میں اپنے مفادات بھی پامال ہوتے رہے ہیں، مگر پاکستان نے ان دونوں ممالک کے بارے میں ہمیشہ ایثار کا مظاہرہ ہی کیا ہے۔ ایران سے پاکستان کے تعلقات شروع میں بہت اچھے تھے، ایران پاکستان کو سب سے پہلے قبول کرنے والے ممالک میں سے تھا۔ شاہِ ایران کے دور میں پاک ایران سے تعلقات بہت گہرے ہوگئے۔ اس تعلق کا دائرہ ترکی تک وسیع ہوگیا اور آر، سی، ڈی منصوبہ تیار ہوا جس کے مطابق تینوں ملکوں کے درمیان مشترکہ تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی امیدیں روشن ہوئیں، مگرانقلابِ ایران کے بعدا یران اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کھنڈت پڑنے لگی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

مشرقِ وسطیٰ کا طویل دورہ کرکے امریکی صدر ٹرمپ کی واپسی ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے پہلے سعودی عرب جاکر وہاں کی قیادت سے ملاقات کی۔ پھر ریاض سے تل ابیب کی سمت پروا ز ہوئی۔ کہاجارہا ہے کہ سعودی عرب کی تاریخ میں ریاض سے تل ابیب کی طرف یہ پہلی پرواز تھی۔ ٹرمپ نے اسرائیل جاکر وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو سے راز ونیاز کیے۔ پھر فلسطینی صدر محمود عباس سے الگ ملاقات کی اور امید دلائی کہ فلسطین کاقضیہ حل ہوجائے گا۔ ٹرمپ کاکہنا تھا :مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کا قوی امکان ہے۔ اوباما کے دور میں امریکا کے سعودی عرب سے تعلقات کشیدہ رہے تھے۔

خصوصاً ایران کے معاملے میں امریکا سعودی عرب کے مخالف کاز کوتقویت دے رہاتھا۔ ٹرمپ نے صدربن کرجو ابتدائی اقدامات کیے، ان سے بھی یہی ظاہر ہورہاتھاکہ امریکا کی پالیسی مسلم ممالک کے لیے سخت تر ہوتی جائے گی، مگر ٹرمپ کے اس دورے سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اوباما کی پالیسی تبدیل کردی گئی ہے۔ امریکا سعودی عرب کے قریب آناچاہ رہاہے اورفلسطینی مسئلے کو بھی زیادہ بگاڑنانہیں چاہتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غریب کا بجٹ کون بنائے گا؟

انسان کی بنیادی ضروریات کیا ہیں؟ پانی، خوراک، صحت اور تعلیم۔ جی ہاں! یہ ہر عام و خاص کی پہلی ضروریات ہیں، اس سے تیلی محلے کا شیدا بری الذمہ ہوسکتا ہے نہ ہی امیر شہر کا جیدا۔ آپ پاکستان میں پینے کے پانی کی صورتحال دیکھئے۔ 85 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، لوگ مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں جس سے ڈائریا، دست اور ہیپا ٹائٹس سی جیسے موذی امراض وباء کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ میں گزشتہ دنوں راولپنڈی سے متعلق ایک رپورٹ دیکھ کر چونک گیا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا صرف راولپنڈی شہر میں ہر ماہ ایک سو سے زائد ہیپاٹائٹس کے کیسز رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے راولپنڈی کا یہ شہر وفاقی حکومت کی عین ناک کے نیچے ہے۔ اگر اس شہر کی یہ حالت ہے تو خضدار، لسبیلہ، لودھراں، کندھ کوٹ، سکھر، رحیم یار خان اور ٹانک کی حالت کیا ہوگی؟ کراچی سوا دو کروڑ افراد کا شہر ہے۔ یہ پاکستان کا معاشی حب بھی ہے۔ اسے پاکستان کی معاشی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے مگر اس شہر میں 70 فیصد عوام کو پانی کی سہولت موجود نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

استقبالِ رمضان

ایک بارپھر نیکیوں کاموسمِ بہار آیاچاہتاہے۔ اللہ والے بصداشتیاق اس کے منتظر ہیں جبکہ عام مسلمان سوچ رہے ہیں کہ دیکھیے اس سال رمضان کیسا گزرے گا؟ تین عشروں بعد ایسارمضان آرہا ہے جو تقریباً پورا، ماہ جون کے ساتھ ساتھ چلے گا۔ یعنی سال کے گرم ترین مہینے میں روزے رکھے جائیں گے۔ رمضان کانام رَمض سے بناہے جس کامطلب تپش اورگرمی ہے، جب ابتداء میں عربوںنے مہینوںکے یہ نام رکھے تھے، تب رمضان شدیدگرمی کے موسم میں آتا تھا، اس لیے اسے رمضان کہاجانے لگا۔ تواس سال ایک طرف سورج کی تپش روزہ داروں کی ہمت آزمائے گی اور دوسری طرف ماہِ رمضان کی برکتیں ان پر سایہ فگن ہوکر انہیں اندرونی ٹھنڈک سے آشناکریں گی۔ رمضان کی برکتوں کاکیاکہنا! شروع سے آخر تک برکت ہی برکت، رحمت ہی رحمت۔

حضرت ابوہریرہؓ سے منقول حدیث تو سب ہی نے سنی ہوگی۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیںا ور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (متفق علیہ)

مزید پڑھیے۔۔۔

مشرقی پنجاب سے کشمیر تک

ہر سال اپریل کے وسط میں ’’حسن ابدال‘‘ سکھوں سے آباد ہوجاتا ہے۔ نہ صرف پاکستان میں رہنے بسنے والے، بلکہ بھارت اور پوری دنیا سے سکھوں کی بہت بڑی تعداد بیساکھ میلے میں حصہ لینے آتی ہے۔ حسن ابدال میں سکھوں کا اہم مذہبی مقام ’’گوردوارہ پنجہ صاحب‘‘ واقع ہے۔ اپریل کے وسط میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ حسن ابدال دین سے محب رکھنے والے خوش اخلاق اور متواضع طبع مسلمانوں کا مسکن ہے، جن میں روایتی دین داری اور حب الوطنی کا عنصر بہت واضح دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ یہاں کی انتظامیہ اور مقامی لوگ سکھوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنے دیتے۔ ان کا پورا خیال رکھا جاتا ہے، حالانکہ سکھوں کا ہر قافلہ جو حسن ابدال آتا ہے، 1947ء کے بھیانک فسادات کی یاد دلاکر دلوں کو تڑپا دیتا ہے۔ اس حقیقت سے کون نا آشنا ہے کہ جب پاکستان بنا تو سب سے زیادہ مسلم نسل کشی مشرقی پنجاب میں ہوئی، حالانکہ بانیٔ پاکستان نے اس موقع پر جو منصوبہ بندی کی تھی اگر اس پر عمل ہوجاتا تو ایسی نوبت نہ آتی۔ انہوں نے سکھوں کی قیادت کوپیش کش کی تھی کہ وہ پاکستان میں شمولیت اختیار کرلیں تو انہیں مشرقی پنجاب میں ایک ملحقہ آزاد ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ پیش کش بڑی حکمت پر مبنی تھی، اگر سکھ لیڈر سردا ربلدیوسنگھ اور ماسٹر تاراسنگھ اسے تسلیم کرلیتے تو نہ مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کو مغربی پنجاب کی طرف دھکیلا جاتا، نہ مغربی پنجاب سے سکھوں کو یکایک بھاگ کر مشرقی پنجا ب میں پناہ لینا پڑتی۔ وحشت و بہیمیت کا وہ طوفان نہ امنڈ آتا جس نے انسانوں کودرندہ بنادیا۔ انتقالِ آبادی اگر ہوتا توکئی سالوں میں آہستہ آہستہ اپنی مرضی اورمنشاء کے ساتھ ہوتا۔ کسی کو کوئی پریشانی نہ ہوتی۔ مزید یہ کہ پاکستان کی حامی سکھ ریاست بھارت کے راستے میں ایک دیوار بن جاتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فضلائے مدراس سے چند باتیں

دینی مدارس میں تعلیمی سال کااختتام ہورہاہے۔ سالانہ امتحانات کی دن رات محنت ہورہی ہے۔ رَ ت جگے بھی کیے جارہے ہیں۔ کچھ دنوں بعد طلبہ اپنے گھروں کو رخصت ہوجائیں گے۔ یہ معمول سالہا سال سے قائم ہے۔ دارالعلوم دیوبند جہاں سے علم کی یہ نہریں جاری ہوئیں کہ ہرسال اسی طرح شعبان میں تعطیلات ہوتیں، طلبہ رخصت ہوتے، ماہِ رمضان عبادت وریاضت اورذکروتلاوت میں گزرتااورشوال میں دوبارہ تعلیمی مصروفیات شروع ہوجاتیں۔

اس میں بھلاکیاشک ہے کہ مسلمانوں کاظاہری وباطنی، دینی ودنیوی عروج ہمیشہ علم کی آبیاری سے وابستہ رہا۔ جب جب اورجہاں جہاں مسلمانوں نے مدارس کوآباد کیا، علماء کی پیروی کی اورطلبہ کی کفالت کواپنافرض سمجھا تو وہ دنیا پر چھائے رہے۔ کیونکہ مسلمانوںکی کامیابی کاانحصار رجالِ کار مہیا ہونے پرہے اوررجالِ کار انہی تعلیم گاہوں سے پیداہوتے ہیں جہاں اللہ اوررسول کاعلم سکھایاجائے۔ ورنہ وحی کی روشنی کے بغیر علم کے نام پر جہالت اوراخلاق باختگی جنم لیتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔