• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

طاقتور پاکستان

دنیا کی تاریخ جنگوں سے عبارت ہے۔ ہر وقت کسی نہ کسی جگہ، بلکہ جگہ جگہ جنگیں چلتی رہی ہیں، لیکن ان جنگوں میں مختلف مذاہب، ممالک اور عناصر باہم مقابل رہے ہیں۔ آج کا دور جس طرح گزر رہا ہے اور دنیا بھر میں جہاں خوفناک خونریزی اور جنگیں ہورہی ہیں۔ ان میں اگر بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو ہر جگہ ایک فریق مسلمان ہے اور یہ وہ فریق ہے جس کے لیے شکست لکھی ہوئی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب اور مختلف نظریات رکھنے والی طاقتیں مسلمانوں ہی سے لڑرہی ہیں۔ اس وقت خطۂ عرب میں جنگوں کی آگ کے شعلے انتہائی بلندیوں پر ہیں۔ عراق، یمن، شام، فلسطین اور افریقا میں لیبیا، سوڈان، وسطی افریقا، جنوبی ایشیا میں بھارت، برما اور مشرق بعید میں انڈونیشیا وغیرہ میں مسلمان قتل عام کا سامنا کررہے ہیں۔ یعنی ساری دنیا اپنے تمام ہتھیاروں سے مسلمان آبادیو ںپر حملہ آور ہے۔ مسلمانوں کے پاس دفاعی قوت اور سیاسی سمجھ بوجھ انتہائی کمزور ہے۔

کئی جگہ ان حملہ آور دشمنوں نے حملہ کرکے جنگ بھڑکادی، پھر وہاں کی مسلم آبادی کو دو حصوں میں یا کئی حصوں میں تقسیم کرکے اس آگ کا ایندھن بننے پر لگادیا اور خود دور بیٹھ کر تماشا کرنے لگے۔ نتیجہ یہ کہ اس وقت پاکستان کے علاوہ کوئی مسلم ملک ایسا نہیں ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی عسکری طاقتوں میں پاکستان کی حیثیت

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں پاکستانی فوج کا گیارہواں نمبر ہے۔ آیندہ دہائی میں پاکستان دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی قوت بن جائے گا۔ دفاعی سازو سامان کی تعداد اور پیداوار پر مبنی اس رپورٹ میں جنگی تربیت اور مہارتوں کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ اس درجہ بندی میں بھارت کا پانچواں نمبر ہے جس پر بھارتی میڈیا خوب خوب اچھل رہا ہے، حالانکہ اس میں اس بات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے کہ کس ملک نے کتنی جنگیں کس سطح کی لڑی ہیں اور اس کی کامیابی کا تناسب کیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے حوالے سے پہلے بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں خبریں نشر ہوتی رہی ہیں۔ خصوصاً پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی جو جدید ترین ہونے کے ساتھ ساتھ دومار اور ایٹمی صلاحیت کی حامل بھی ہے، اس سے دنیا کے طاقت ور ممالک پاکستان کو ایک قریب ترین طاقتور مدمقابل کے طور پر جاننے لگتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کی غیرمعمولی عسکری تیاریوں اور اسرائیل و امریکا سے عسکری معاہدوں کی وجہ سے خطے کے تمام ممالک اپنے آپ کو ایک خطرے میں محسوس کرتے ہیں، لیکن پاکستان کی دفاعی اور عسکری صلاحیت کا اعتراف جب عالمی سطح پر کیا جاتا ہے تو بھارت کی دھاک کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خونیں شطرنج

’’امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی نے اعتراف کیا ہے کہ افغان جنگ شروع ہونے کے محض دو ماہ بعد ہی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو گھیرلیا گیا تھا۔ انہیں راستہ فراہم کرکے جانے دیا گیا۔ یاد رہے کہ افغانستان میں برطانوی افواج کا ایک کمانڈر اسامہ کے مسئلے پر افغان جنگ سے اچانک کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے وطن واپس آگیا تھا، جہاں اس نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے اُسامہ بن لادن کو ایک پہاڑ سے اُترتے ہوئے دیکھا جس کے بعد گھیرے میں لیا، تاہم اعلیٰ امریکی فوجی کمان نے انہیں سختی سے حکم دیا کہ القاعدہ سربراہ کو گرفتار نہ کیا جائے۔ اب طویل عرصے بعد امریکی سینیٹ کی محکمہ خارجہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کرلیا ہے۔ امریکی خارجہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے اس اقدام کے اصل مقصد افغانستان میں اپنے قیام کو طویل کرنے کے لیے جواز فراہم رکھنا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں اپنے قبضے کو طویل تر کرنے کے لیے طالبان کو ختم نہیں ہونے دے گا۔ واشنگٹن کی اپنی حکمت عملی اب داعش کے متعلق بھی موثر ہوتی نظر آرہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا نے چشم پوشی کرکے داعش عسکریت پسندوں کو اکٹھا ہونے دیا ہے تاکہ وہ پھر اس کی مدد سے اپنی جنگ کو طول دے سکے اور اپنے مقاصد حاصل کرے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

مثبت سوچ کے امکانات

بسا اوقات بندہ عجیب مخمصے کی کیفیت سے گزرتا ہے کہ کوئی صاحب اس کو اچھے نہیں لگ رہے ہوتے، لیکن اس پر تبصرہ کرنے کے لیے بندہ کے پاس کوئی جواز بھی نہیں ہوتا۔ اگرچہ سامنے والے کے پیرہن میں ہزار پیوند ہیں، اس کے بارے میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے اور کہا جاتا ہے، مگر بندے کو کسی نے یہ ذمہ داری نہیں سونپی کہ فلاں کے اعمال و کردار پر کڑی نظر رکھو، اس لیے کسی صاحب کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اگر کبھی تبصرہ کرنا ہے تو منفی کے بجائے مثبت تبصرہ کیا جائے۔ مثلاً: ’’کسی‘‘ کی ٹوپی کی مخصوص ہیات کو تعریف و توصیف سے نوازنے کا ارادہ ہو تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی ٹوپی اس مضبوطی سے اس کے سر پر جمی ہوئی ہے کہ لگاتار تیسرے تھپڑ تک بھی نہیں اُچھلتی۔ اس کے بعد میں کئی احتمالات و امکانات ہیں۔ مثلاً: آگے کے تھپڑوں میں بھی حسبِ سابق 360 ڈگری گھوم کر دوبارہ سر پر جم جائے یا پھر مسلسل تھپڑ بازی کی تاب نہ لاتے ہوئے ٹوپی پھٹ جائے یا اچھل کر دو گز دور جاگرے، وغیرہ۔ (دو گز سے زیادہ دور اچھلنے کا امکان کمزور ہے۔)

مزید پڑھیے۔۔۔

پاک بھارت کشیدگی عوام کدھر جائیں؟

دبے الفاظ میں خطرات و خدشات کا اظہار پاکستانی سیاست اور حکمرانوں کے کرم فرمائوں کے سامنے بالکل بے سود و بے اثر ہے، اس لیے اب اگر عوام کو زندگی چاہیے تو زندگی کی بھیک چیخ چیخ کر مانگنی چاہیے۔ کھلے عام یہ فریاد کرنی چاہیے کہ ملک کی سیاست اور حکمران ہمیں جینے کا حق خدا کے واسطے دیدیں۔ ہمیں زندہ مارنے کی کوشش نہ کریں، ہم نے اس ملک کے ہر ادارے کو اپنا پیٹ کاٹ کر پالا ہے۔ سیاسی اشرافیہ ہو یا حکمران سب کی بے پناہ کمائی کا واحد ذریعہ عوام اور ان کے وسائل اور املاک ہیں۔ ہم نے اس ملک کو اپنی خوشیاں، اپنی تمنائیں، اپنی زندگی، وسائل، دعائیں اور خلوص دیا ہے۔ کیا ہمیں اس میں انسانوں کی طرح جینے کا حق بھی نہیں دیا جارہا؟ ہمیں بتادیا جائے کہ ہم کس کس کے دوست ہیں؟ اور کس کس کے دُشمن؟ اور اگر کسی کے دوست ہیں تو اس کی دوستی سے ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ اور اگر ہم کسی کے دُشمن ہیں تو اس کی دُشمنی سے ہم کس حد تک محفوظ ہیں؟

بھارت ہمارا دُشمن ہے، ہوگا، لیکن دُشمن کی تاریخ بھی اتنی ہی ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

جھلکیاں

24 اکتوبر کی صبح محمد اعجاز مصطفی نے منفرد انداز میں درس قرآن ارشاد فرمایا جو کہ سامعین نے ہمہ تن گوش ہو کر سماعت کیا۔
چنیوٹ، سرگودھا، جھنگ، فیصل آباداور چناب نگر کے قرب و جوار سے مجاہدین ختم نبوت موٹر سائیکل ریلیوں اور قافلوں کی صورت میں شریک ہوئے۔
سیکورٹی پر مورچہ زن رضا کاران ختم نبوت شرکاء کے ساتھ مثالی ڈسپلن، اپنائیت اور خندہ پیشانی سے پیش آتے رہے۔
سیکورٹی پلان کے انچارج جناب عبدالرؤف روفی حضرت مولانا غلام فرید تھے۔ ان کی سر پر ستی مولانا محمد اکرم طوفانی کررہے تھے۔
مغرب کی نماز کے بعد مولانا غلام رسول دین پوری نے مجلس ذکر کرائی۔ مولانا عبدالرؤف چشتی کا مسحورکن اور وجدآفرین بیان ہوا، جوکہ علمی نکات پر مشتمل تھا۔
ملک کے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے شرکاء نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، تحفظ ناموس رسالت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے پنڈال پہنچے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لاجواب

ایک تصویر میں وزیراعظم برطانیہ ریل میں کھڑے سفر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تصویر کے کیپشن کے مطابق وزیراعظم کو بیٹھنے کے لیے نشست نہیں ملی۔ دوسرے لوگوں نے بھی وزیراعظم کو محض ایک برطانوی شخص ہی تصور کیا۔ کوئی بھی برطانوی شخص سیٹ نہ ملنے کی صورت میں کھڑا ہوجاتا ہے۔ جس کو سیٹ ملتی ہے وہ بیٹھ جاتا ہے۔ برطانوی وزیراعظم بھی اس مقام پر کوئی اضافی استحقاق نہیں رکھتا، اس لیے انہیں کھڑا ہونا پڑا۔ ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ وزیراعظم کی موجودگی سے بالکل بے خبر بیٹھے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے کہ ریل میں چڑھتے وقت وزیراعظم سے ہیلو ہائے بھی کسی نے نہیں کی ہے۔ اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم بھی اپنی اس ناقدری پر برہم نظر آنے کی بجائے سکون سے کھڑے ہیں، بلکہ کسی کتاب کا مطالعہ کررہے ہیں۔
درج بالا معلومات، خبریں یا واقعات برطانوی معاشرے میں تو شاید معمول کے حقائق ہوں، لیکن ہمارے ہاں مذکورہ باتیں افواہیں، داستانیں اور فقط دُشمنوں کا پروپیگنڈہ محسوس ہوتی ہیں۔ مذکورہ بالا کہانی میں جس شخص کو وزیراعظم بتایا گیا ہے کہ وہ ہمارے ہاں وزیراعظم نہیں، بلکہ ایک پرانی وضع کے کسی پروفیسر سے زیادہ مشابہ ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کی صورتحال میں قیاسی طور پر صرف ایک ہی مخلوق مبتلا ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حج سے ہی سبق سیکھو

حج کا موسم آگیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں اہلِ ایمان منیٰ و عرفات میں اسلام کے عظیم رکن ’’حج‘‘ کی ادائیگی کریں گے۔ یہ لوگ دنیا کے مختلف خطوں سے آتے ہیں۔ ساتوں برہائے اعظم سے مسلمانوں کی نمایندگی حج کے اجتماع میں ہوتی ہے۔ مسلم ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں حجاج کرام تشریف لاتے ہیں۔ یہ اپنے اپنے وطن، قبائل اور علاقوں کے نمایندے ہوتے ہیں۔ ہر سال حج کا یہ اجتماع ایک عظیم تاریخی واقعہ یاد دلاتا ہے جس کو حجۃ الوداع کے نام سے اہلِ تاریخ اور اہلِ سیرت کے ہاں شہرت عام حاصل ہے۔ جہاں پیغمبر انسانیت، فخر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم دین کی تکمیل کا اعلان فرمارہے تھے۔ اپنی امت کے نمایندوں کو آخری ہدایات دے رہے تھے۔ اسلام کی آفاقیت بتارہے تھے۔ خطبۂ حجۃ الوداع انسانی مساوات اور انصاف کا عالمی منشور ہے، یہ وہ سب سے اولین منشور ہے جو انسانوں کے درمیان بہت سے غلط تفرقوں اور ناجائز امتیازات کا خاتمہ کرکے تمام افراد بشر کو ایک پیمانے پر لاتا ہے۔ اس خطبے میں حقوق کی بڑی تاکید ہے، اپنا حق لینے کی نہیں۔ جیسے آج کے جمہوری ادوار میں لوگوں کو لڑانے کے لیے یہی نعرہ دیا جاتا ہے کہ اپنے حق کے لیے لڑو اور مرو، یہ نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا اہتمام کرو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آفات، اقوامِ عالم اور ہم

جاپان کو زلزلوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ وہاں ہلکے اور درمیانے درجے کے زلزلوں کا آنا ایک معمول ہے، چنانچہ وہاں کے شہری زمین کی جنبش سے نہیں چونکتے، جس طرح ہمارے ہاں افراتفری، بھگ دَڑ اور نفسا نفسی پھیلتی ہے، وہاں یہ نہیں ہوتا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہر فرد شایدا س بات کا اندازہ کرنے کے لیے متوجہ ہوجائے کہ زلزلے کی شدت کتنی ہے۔ اگر ہلکی تھی تو کوئی مسئلہ نہیں، سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ کوئی لکھ رہا تھا تو تحریر جاری رکھتا ہے اور اس کے خیالوں کی ترتیب میں کوئی غیرمعمولی فرق نہیں آتا۔ کوئی انجینئر نقشہ بنارہا ہے تو اس کی ذہنی صلاحیت اور کارکردگی کی رفتار متاثر نہیں ہوتی۔ کوئی معمار عمارت بنارہا ہے، مزدور مزدوری کررہا ہے، کسان کھیت میں ہے، ڈرائیور گاڑی چلارہا ہے، سب اپنے اپنے کاموں میں مکمل مگن ہیں۔ کسی غیرجاپانی کو یہ صورتحال سخت پریشان کردیتی ہے اور شاید جاپانیوں کی ذہنی حالت پر اس کو شبہ بھی ہونے لگتا ہے کہ یہ لوگ شاید نارمل نہیں ہیں، ورنہ زلزلوں میں کام جاری رکھنا کسی ہوش و حواس والے انسان کا کام نہیں۔ تاہم جاپانی عوام عموماً ہلکے اور درمیان زلزلوں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ ایک تو اس لیے کہ یہ چیز وہاں کے معمولات میں سے ہے، سالانہ کئی دفعہ وہاں اس قسم کے زلزلے آتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہاں کی حکومتوں نے زلزلوں کی شدت

مزید پڑھیے۔۔۔

گرچہ تنہاہوں مگر عزم جواں ہے میرا

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔ اگرچہ یہ معاہدہ بھی ماضی کے تجربات کی رو سے ایک طاقتور ایک کمزور حریف کے درمیان جنگ کا ایک عارضی وقفہ ہی معلوم ہوتا ہے، اس جنگ بندی کو فریقین کے درمیان جنگ بندی کا عنوان دیتے ہوئے ضمیر شدید شرمندگی کا بوجھ محسوس کرتا ہے۔ کہاں اسرائیلی فضائیہ کی اندھا دھند بمباری، امریکا و یورپ سمیت بڑے ملکوں کی پشت پناہی، بے پناہ دولت اور سیاسی حمایت کا حامل اسرائیل اور کہاں غزہ کے محصور و مجبور بچے، جن کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں ہے؟ گزشتہ 8 سالوں سے وہ اسرائیل کے شدید محاصرے میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ اسرائیل کی مرضی کے بغیر ان کے لیے ایک دانۂ گندم بھی پہنچانا محال ہے۔ جن راستوں سے قریب ترین ملک مصر سے ان کی مدد ہوسکتی تھی، مصری فوج نے وہ گزرگاہیں اور سرنگیں بھی منہدم کردی ہیں۔ عالمی حمایت تو کجا، اپنے اسلامی ممالک میں غزہ کے باسیوں کو دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے۔ عالم اسلام میں فلسطین اور حماس کی حمایت فقط عوامی حلقوں تک محدود ہے، حکومتی سطح پر حماس سے بہت سے ممالک کو تحفظات ہیں، تحفظات نہ بھی ہوں تو اس مسئلے سے خاص دلچسپی حکومتی حلقوں میں نہیں پائی جاتی۔
حماس اور غزہ کے محصورین نے مسلم اور غیرمسلم دنیا سے کسی حمایت سے مکمل مایوسی کے باوجود اسرائیل کی

مزید پڑھیے۔۔۔

معاشرے کا محسن

قدرت اللہ شہاب مرحوم نے مولوی اور امام مسجد کے کردار پر ایک شاہکار مضمون لکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہاب صاحب مرحوم کے علاوہ بہت کم قلمکار ایسے ہیں جنہوں نے معاشرے کے اس محسن کردار کی حوصلہ افزائی کی کوشش کی ہے۔ اردو ادب قدیم و جدید میں اس کردار کی توہین و تضحیک پر تو کہاوتوں، ضروب الامثال اور استعارات و کنایات کے کئی ابواب ملیں گے۔ انواع و اقسام کے القاب و الفاظ اور طنز و تحقیر کے کئی عنوان ملیں گے، لیکن اس کی حوصلہ افزائی، تحسین و تکریم کے الفاظ خال خال ہی ملیں گے۔ جو لوگ نہ کبھی امام بنے، نہ مؤذن، نہ اہتمام سے جماعت میں شریک ہوئے، ان کو یہ احساس ہو نہیں سکتا کہ پانچ وقت روزانہ صحیح وقت پر ایک جگہ حاضری دینا کتنا مشکل کام ہے۔ ان پانچ اوقات میں فجر کا وہ وقت بھی ہے جب نیند سے لڑ کر اُٹھنا پڑتا ہے۔ پورے بدن پر ایک پہاڑ جیسا خمار اور بوجھ پڑا ہوا ہو تو اس کو ہٹاکر اُٹھنا اور دوسرے نمازیوں سے جلدی اُٹھ کر مسجد آباد کرنا، ایک دن نہیں سالہا سال بلاوقفہ ایسا کرنا عملی طور پر بہت مشکل اور مشقت اور ذمہ داری کا کام ہے۔
یہ جس کی ذمہ داری ہو، اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ دنیا کی مشکل ترین ڈیوٹی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔