• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

’’ہیلو… آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے… بہت نازک صورتحال ہے… جلدی ہسپتال پہنچیں…‘‘ یہ وہ اطلاع ہے جو کسی زمانے میں ہر یکم اپریل کو اکثر گھرانوں کو موصول ہوتی تھی اور پریشانی کی لہر دوڑا دیا کرتی تھی، اور فون کرنے والے اسے اپریل فول کا نام دے کر تمسخر اڑایا کرتے تھے، لیکن فول بنانے کا یہ سلسلہ اب ایک دن اور ایک طریقے تک محدود نہیں رہا، اب سال کے 365دن نت نئے انداز سے ’’فول‘‘ بنانے میں گزرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اپریل فول افسوس ناک تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ غرناطہ پر قابض عیسائی حکمران فرڈی ننڈکے دور میں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا شروع کیا۔ ایک آرڈیننس جاری کیا گیا کہ مسلمان یا تو عیسائی ہوجائیں یا نہ ہونے کے عوض 50 ہزار سونے کے سکے دیں، ایسا نہ کرنے والا سولی پر لٹکا دیا جاتا تھا، یا انتہائی اذیت ناک سزا کا مرتکب قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے

علاوہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو بپتسمہ دیا جاتا تھا۔ مسلمانوں نے حالات کے پیش نظر اور جان کے خوف سے عیسائی مذہب قبول کرلیا تھا لیکن یہ سب ظاہری تھا، جب بچے گھر آتے تو ان کا منہ فوراً دھویا جاتا تاکہ بپتسمہ کا اثر ختم ہوجائے، جب مسلمان نکاح کرنا چاہتے تو وہ پہلے گرجا میں جاکر عیسائی طریقے سے شادی کرتے اور گھر آکر دوبارہ نکاح کرتے ۔ کچھ عرصے بعد یہ اعلان ہوا کہ مسلمان عیسائی لباس پہنیں گے۔ پھر عیسائی حکمرانوں نے ایک چال چلی کہ بچے کھچے مسلمانوں سے کہا گیا کہ ان کو افریقا بھیج دیا جائے گا، وہ اسپین چھوڑ دیں۔ مسلمان اس جھانسے میں آگئے اور انھوں نے اپنا تمام مال و اسباب اور علمی ذخیرہ جمع کیا اور عیسائیوں کی جانب سے فراہم کردہ بحری جہازوں میں سوار ہوگئے، ان مسلمانوں کو علم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، بندرگاہ پرحکومت کے اہلکاروں اور جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کہا اور ان کو رخصت کیا، بیچ سمندر میں پہنچ کر منصوبہ بندی کے تحت ان جہازوں کو غرق کیا گیا، اس کے باعث سینکڑوں مسلمان شہید ہوگئے اور ساتھ ساتھ وہ قیمتی و علمی ذخیرہ بھی برباد ہوگیا جو مسلمانوں نے بڑی مشکل سے جمع کیا تھا۔ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیا تھا اور یہ گیارویں صدی عیسوی کے اوائل کا واقعہ ہے۔اس سازش پر اسپین بھر میں جشن منایا گیا کہ کس طرح مسلمانوں کو بے وقوف بنایا گیا اور اس کو فرسٹ اپریل فول کا نام دیا گیا یعنی یکم اپریل کے بے وقوف، اس کے بعد یہ اپریل فول کا دن اسپین سے نکل کر پورے یورپ میں پھیل گیا۔

مسلمانوں کو فول بنانے کی یہ رسم آج بھی جاری ہے۔ نائن الیون کے مشکوک سانحے کی آڑ میں سات سمندر پار کوہساروں کی سرزمین افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی۔ عراق میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا جھوٹا الزام لگا کر پورے ملک کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔

فلسطین میں راکٹ باری کا جواز گھڑ کر غزہ والوں کی نسلیں اجاڑ دی گئیں۔ شام میں مسجدوں اور مدرسوں پر بمباری کے لیے داعش کے ٹھکانوں کا عذر تراشا گیا۔ لیبیا میں جمہوریت کا علم بلند کرکے زندگی کی آخری رمق تک چھین لی گئی۔ مصر میں آمریت کے ہاتھوں شب خون کو نظریہ ضرورت کا روپ دے دیا گیا۔

یورپ میں مکھی بھی مرجائے، اس میں مسلمان کا ہاتھ ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ طرح طرح کی پُرکاری سے مسلمانوں کو دہشت گرد بنادیا گیا۔ دلائل کے پہاڑ کھڑے کرکے مسلمان ممالک کو بھی قائل کرلیا گیا، آج تمام مسلم ممالک اپنے دکھڑے بھول کر’ دہشت گردی‘ کی بیخ کنی میں مصروف ہیں۔ کل کے فرڈی نینڈ نے تو مسلمانوں کو ایک دن فول بنایا تھا، آج کا فرڈی نینڈ پورا سال، ہر دن، ہر لمحہ ہمیں فول بنانے میں مصروف ہے ۔ آج کا سامراج کسی اصول، ضابطے، قاعدے، اخلاقیات یا انسانیت کا پابند نہیں، اس کا مفاد ہی اس کے نزدیک سب سے بڑا قانون ہے۔ہم سب اس کے اسی قانون کے ہاتھوں فول بن رہے ہیں اور شایدبنتے ہی رہیں گے کیونکہ حالات اس وقت بدلتے ہیں جب کوئی بدلنا چاہے اور ہم خود کو بدلنا چاہتے ہی نہیں، ہم تو سامراج پر اعتبار کیے بیٹھے ہیں، اس کی ساری عہد شکنیاںہماری نظروں سے اوجھل ہیں، ہم آج بھی اس کی مان کر چل رہے ہیں۔