• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

سیاست کا کھیل

منظرنامہ بڑے ہی نازک موڑ کی عکاسی کررہا ہے اور ہم ہیں کہ خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں۔ سوئٹز لینڈ کے بعد برطانیہ میں بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف تشہیری مہم چلائی گئی، اگرچہ پاکستانی حکومت کے بروقت اقدامات سے اس سطح پر اسے کامیابی نہیں مل سکی جس کی شرپسندوں کو توقع تھی تاہم برطانیہ میں رہنے والوں اور اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے والوں تک بہرحال ایک پیغام ضرور پہنچا ہے جس نے کئی چہروں پر تشویش کے جالے بُن دیے ہیں۔ اگرچہ پاکستان برطانیہ کی سابق محکوم ریاست ہے، اس کے باوجود پاک برطانیہ تعلقات قیام پاکستان کے بعد کبھی اس نوعیت تک نہیں پہنچے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوسکے۔ ایک ایسے ملک میں پاکستان مخالف نعروں کے چلتے پھرتے اشتہاروں کا منظر عام پر آنا جسے اکثر پاکستانی سیاستدانوں کی جائے پناہ کہا جاتا ہے، کسی دھچکے سے کم نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افواہوں کی فیکٹریاں

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جس کام سے روکا تھا، ہم وہی آج بڑی شدو مد سے کررہے ہیں اور افسوس کی بات ہے ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔

چند دن پہلے کی بات ہے۔ میں ایک دکان پر کھڑا بچوں کے کھانے کی چیزیں لے رہا تھا۔ اچانک میرے ساتھ ایک ادھیڑ عمر کی عورت آکر کھڑی ہوئی اور دکاندار سے گھی کے ریٹ پوچھے، اتنے میں ایک بچی بھی دکان سے چیز لینے آئی۔ اب اس عورت نے توجہ دکان سے ہٹاکر اس بچی پر مرکوز کرلیں۔ کہنے لگی کہ ’’بیٹا! زیادہ گھر سے نہ نکلا کرو، آج کل چھرامار گروپ نکلا ہوا ہے، پتا چلا آج محلے میں دو خواتین کو چھرا مارا ہے، ان میں سے ایک شدید زخمی ہے اور ایک مر گئی…‘‘ یہ سن کر بچی خوف سے کانپنے لگی، مجھے بھی ہلکا سا ڈر محسوس ہوا۔ اس بات پر شاید یقین آجاتا اگر یہ اتفاق نہ ہوا ہوتا کہ جس عورت کو مبینہ طور پر چھرا مارا گیا تھا وہ ہمارے والد صاحب کی فیکٹری میں ملازمت کرنے والے لڑکے کی اماں نکلی۔ پتا یہ چلا کہ وہ روزانہ کی طرح گھر میں کام کرنے کے سلسلے میں جارہی تھی کہ اچانک موٹر سائیکل سوار نے تیز رفتاری میں اسے ٹکر ماردی، جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوئی،وہ جس گھر میں کام کرنے جاتی تھی، انہوں نے چھرا مار حملے کا شبہ ظاہر کیا، پولیس کو اطلاع دی گئی، میڈیا کو بھی بھنک پڑگئی اور پھر آئو دیکھا نہ تائو، بریکنگ نیوز کا آسمان سر پر اٹھالیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ کی غیرت

دونوں طرف سے دلائل کے انبار لگائے جارہے تھے۔ گاہے ماحول اونچی آوازوں کی وجہ سے تلخ ہوجاتا، مگر جرگے میں بیٹھے کچھ دانش مند بات کو سنبھال لیتے۔ ایسے لوگ جہاں کہیں بھی ہوں انمول ہیرے سے کم نہیں ہوتے، جو جھگڑے کو ایک حد تک محدود کیے رکھتے ہیں۔ کہیں آنچ تیز ہوئی نہیں اور یہ بے قرار ہوئے نہیں۔ یہ جرگہ میاں بیوی، سسرال سمدھیانے کے مسائل کو نمٹانے بیٹھا تھا۔ لڑکے کے گھروالوں کو لڑکی سے ان گنت شکایات تھی، لڑکی سسرال کے رویے اور روک ٹوک پر شکوہ کناں تھی۔ لڑکے کا پلڑا بھی لڑکی والوں کے حق میں جھکا تھا، اسی لیے لڑکے والوں کی کوشش تھی کہ لڑکے کو جرگے میں نہ بلایا جائے، مگرصورتحال ایسے رخ پر پہنچ گئی کہ اسے بلاتے ہی بنی، اب لڑکی کے گھر والے مطمئن تھے جبکہ لڑکے کے گھر والوں کے چہرے شکست خوردہ تھے لیکن حیران کن طور پر لڑکے سے اس کا موقف پوچھا گیا تو اس نے اپنے ماں باپ کے موقف کے خلاف ایک بھی لفظ کہنے سے انکار کردیا۔ اس پر فیصلہ لڑکے کے گھر والوں کے حق میں ہوا ۔ بعد میں لڑکے کے والد نے اس سے جرگے کے سامنے اس اقدام کی وجہ دریافت کی تو لڑکے کا کہنا تھا کہ وہ دوسروں کے سامنے اپنوں کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

70سال

ذرا تصور کریں 70سالہ بوڑھا بستر پر ہے، متعدد بیماریوں سے لڑ رہا ہے، اس کے کئی زخم ایسے ہیں جن سے مسلسل خون رستا ہے، وہ چل بھی نہیں سکتا، وہ خود اٹھ کر کوئی کام نہیں کرسکتا، وہ ہر لمحے کسی سہارے کا محتاج ہے۔ جسمانی کے ساتھ ساتھ اسے ذہنی اذیت کا بھی سامنا ہے۔ اس کے پڑوسی اس پر زندگی مزید تنگ کرنے کے خواب بُن رہے ہیں۔ وہ آئے روز چھت پر کوئی نہ کوئی چیز پھینک کر اپنی دہشت بڑھاتے ہیں، یہی وجہ ہے چوبیس گھنٹے محتاط رہنا پڑتا ہے، رات کو ذرا سے کھڑاک پر ہی بوڑھے کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اسے مالی مسائل نے بھی اپنے گھیرے میںلیا ہوا ہے۔ پیسوں میں برکت ہی نہیں رہی، گھر میں جتنے آتے ہیں چند گھنٹوں میں خرچ ہوجاتے ہیں، شاید بیماریاں پیسا بھی کھا رہی ہیں۔ ایسے میں رشتہ دار تو اس کے درپے تھے ہی، سات سمندر پار بیٹھے دوست نے بھی آنکھیں پھیر لی ہیں… یہ تمام پریشانیاں اپنی جگہ ، مگر ان دنوں اس کا پالا ایک نئی فکر سے پڑ گیا ہے۔

اس کے پانچوں بیٹے اور ان کی اولادیں بات بے بات آپس میں لڑنے لگے ہیں۔ان کے رویے، ان کے لہجوں کی شائستگی سیاست نے نگل لی اور اب یہ ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں ۔ آج تو حد ہی ہوگئی، ایسے وقت میں جب بوڑھے کی دوائی کا وقت ہورہا تھا

مزید پڑھیے۔۔۔

مسلمان کا پیمانہ

میں جیسے ہی مسجد میں وضو کے بعد تیسری صف میں بیٹھنے لگا، میرے کندھے کسی نے تھپتھپائے، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی میری طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’جی فرمائیے!‘‘

’’ وہ میں نے پوچھنا تھا کہ میں آپ کی چپل پہن کر وضو کرنے چلا جائوں؟ اصل میں میرے شوز ہیں، بار بار کھول کر پہن نہیں سکتا…‘‘
’’جی جی بالکل…‘‘
یہ بات نہ یاد رکھنے کی تھی نہ ذکر کرنے کی، لیکن یہ اس لیے احاطہ تحریر میں لانا پڑی کہ اسی سے اگلی یعنی عشا کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو دیکھا میری چپل غائب تھی۔ میں نے پوری مسجد کا کونا کونا چھان مارا، دعا ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ پڑھی، دو رکعت نفل پڑھے، مگر چپل نہ ملی۔ ابھی میں مایوس ہو کر ننگے پائوں واپس جانے کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ سامنے بیت الخلا سے ایک صاحب گیلی چپل لیے وضوخانے میں گئے،

مزید پڑھیے۔۔۔

خراب حال

’’بیٹا! بات سننا…‘‘ میں جیسے ہی ایم فل کا فارم جمع کرانے یونیورسٹی کی راہداری میں داخل ہوا، ایک لرزتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔ ’’جی فرمائیے!‘‘ میں نے کہا۔
’’بیٹا! یہ بینک کس طرف پڑے گا…‘‘
میں نے انکل کو جگہ سمجھاتے ہوئے وجہ دریافت کرنا چاہی تو پتا چلا کہ وہ اپنی بیٹی کا فارم جمع کرانے آئے ہیں ، ان کا کوئی بیٹا نہیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی یونیورسٹی کی لمبی لائنوں میں خوار ہو، سو وہ خود آپہنچے تھے۔ انکل کی عمر 70سال کے لگ بھگ ہوگی، وہ تھوڑا پائوں گھسیٹ کر تیزی تیزی سے چلنے کی کوشش کررہے تھے۔ میں دل ہی دل میں افسوس کرتے ہوئے ان سے آگے نکل کر لمبے ڈگ بھرتا ہوا بینک کے گیٹ پر جاپہنچا، وہاں حسب معمول لمبی لائن تھی اور گزشتہ سال کی طرح محض ایک چھوٹی سی کھڑکی کھول کر صرف ایک خاتون اہلکار 200،300طلبہ طالبات کے ہجوم کے پے آرڈر بنارہی تھی اورایک طالب علم کو نمٹانے میں بلامبالغہ آدھا گھنٹہ لگ رہا تھا۔ابھی 15منٹ گزرے ہوں گے، وہ انکل بھی ہانپتے کانپتے بینک آگئے۔ لڑکوں نے انہیں سب سے آگے جگہ دے دی، آدھے گھنٹے بعد ان کی باری آئی تو پتا چلا کہ پے آرڈر بنوانے کے لیے اسٹوڈنٹ کے دستخط بہت ضروری ہیں، لہٰذا ان کی بیٹی کو آنا ہوگا۔ انکل پسینے سے شرابور ناکام واپس آئے، انہیں ایک بار پھر ہانپتے کانپتے ہوئے گھر جانا تھا،

مزید پڑھیے۔۔۔

سچ کہاں ہے؟

’’ آج کے زمانے میں جدید ٹیکنالوجی اور آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے حقائق چھپانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔‘‘ یہ وہ عمومی تاثر ہے جو الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں لوگوں کی اکثریت کا ہے، صحافت کے کنویں میں چھلانگ لگانے سے پہلے یہ تاثر ہماری رائے ہوتا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پتا چلا کہ خبر چھاپنا ہی نہیں، خبر چھپانا بھی ایک فن ہے، اور اس میں اب پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی بہت حد تک ماہر ہوچکا ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ریٹنگ کی ہوس آپ کو حقائق کھول کھول کر بیان کرنے کے لیے بے تاب کرتی ہے، مگرآپ اور ہم سب جانتے ہیں موجودہ دنیا کارپوریٹ دنیا ہے، اس میں جڑے افراد اور کمپنیاں ہر چیز کو کاروباری پیمانے میں تولتی ہیں، کوئی بات، اطلاع، خبر یا واقعہ چاہے جتنا بھی اہم ہو، اگر اس سے کاروباری مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہو، یا یہ فائدہ نہ پہنچائے تو اتنی ہی بے وقعت ٹھہرتی ہے جتنا پھیکا خربوزہ یا چوسی ہوئی گنڈیری۔ پھر ریٹنگ ، مقبولیت اور ’’یہ سچ سب سے پہلے ناظرین ہم آپ تک پہنچارہے ہیں… ‘‘ کی باتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہنگے سستے

یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔ میں ایک سبزی والے کی ریڑھی پر کھڑا تھا۔ ملک بھر میں عید کا چاند دیکھا جارہا تھا۔ امکان یہی تھا کہ کل عید ہوجائے گی۔ اچانک چاند کا اعلان ہوگیا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ اتنے میں سبزی والے کی بھتیجی بھاگتی ہوئی آئی۔ شاید معصومیت کی بنا پر وہ سب کے سامنے یہ بول گئی۔ ’’چاچو! ابو کہہ رہے ہیں عید کا اعلان ہوگیا ہے۔۔۔ لہسن 80سے 140روپے اور دوسری سبزیوں پر 30روپے بڑھادو۔۔۔‘‘ اور یہ چند روز پہلے کی بات ہے۔ میں نے ایک پھل والے سے سیب کے ریٹ پوچھے، یقین جانیے رمضان کی آمد سے پہلے جو سیب وہ 60روپے کلو میں بیچ رہا تھا اسی درجہ سوئم کے سیب کے اب 150روپے کلو مانگ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ149روپے بھی نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاسی اخلاقیات

پاناما کرپشن کیس کے فیصلے سے تمام سیاسی جماعتیں مایوس دکھائی دے رہی ہیں، ہر عدالتی فیصلہ قبول ہونے کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والی سیاسی قوتیں سڑکوں پر آنے، میدان سجانے اور دما دم مست قلندر کو تیار بیٹھی ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وزیر اعظم کو یکسر نااہل کردیا جائے۔ان کی امید تھی کہ عدالت کا پلڑا ان کے حق میں جھک جائے گا۔ سیاسی اخلاقیات کادرس دینے والی اپوزیشن جماعتیں اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فیصلے سے قبل ہی خود کو عوام قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کررہی تھیں کہ اگر فیصلہ ’’عوامی امنگوں‘‘ کے خلاف آیا تو چوکوں اور چوراہوں پر عوام خود عدالتیں لگالیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں فیصلوں کو ماننے کی روایت کم ہی رہی ہے۔ الیکشن کے دنوں میں ہر سیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ عوام اس کے ساتھ ہیں، تانگہ پارٹیاں بھی کہتی نظر آتی ہیں کہ عوام کی اکثریت ہمیں چاہتی ہے، یہ فریب، یہ سراب جب انتخابات میں کھلتا ہے تو حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ عدالت حق میں فیصلہ دے دے تو عدالتوں کا احترام، خلاف آجائے تو عدالتوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان … یہ ناپسندیدہ ہی سہی، ہماری روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ سیاسی مقدمات میں لوگ اپنی مرضی کا فیصلہ ہی چاہتے ہیں، قانون گیا بھاڑ میں…! اسی لیے ایسے کیسز میں جہاں سیاسی جماعتوں کی خواہشوں کو عوامی امنگوں کا روپ دے دیا جائے، وہاں عدالتی فیصلہ بھی اکثریتی آتا ہے، متفقہ نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فول

’’ہیلو… آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے… بہت نازک صورتحال ہے… جلدی ہسپتال پہنچیں…‘‘ یہ وہ اطلاع ہے جو کسی زمانے میں ہر یکم اپریل کو اکثر گھرانوں کو موصول ہوتی تھی اور پریشانی کی لہر دوڑا دیا کرتی تھی، اور فون کرنے والے اسے اپریل فول کا نام دے کر تمسخر اڑایا کرتے تھے، لیکن فول بنانے کا یہ سلسلہ اب ایک دن اور ایک طریقے تک محدود نہیں رہا، اب سال کے 365دن نت نئے انداز سے ’’فول‘‘ بنانے میں گزرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اپریل فول افسوس ناک تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ غرناطہ پر قابض عیسائی حکمران فرڈی ننڈکے دور میں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا شروع کیا۔ ایک آرڈیننس جاری کیا گیا کہ مسلمان یا تو عیسائی ہوجائیں یا نہ ہونے کے عوض 50 ہزار سونے کے سکے دیں، ایسا نہ کرنے والا سولی پر لٹکا دیا جاتا تھا، یا انتہائی اذیت ناک سزا کا مرتکب قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان کی سوچ

آپ نے کوئی ادارہ، تنظیم یا سیاسی جماعت بنانی ہو، کوئی دفتر، فیکٹری یا عمارت کھڑی کرنی ہو تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں؟

سوچتے ہیں۔ جی ہاں! سوچ یا ارادے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم سوچتے ہیں تبھی پہلی اینٹ رکھتے ہیں۔ یہ سوچ ہماری راہ، ہمار ا مقصد اور ہماری منزل متعین کرتی ہے۔ یہ سوچ ہمیں عالی شان عمارتوں کے تہ منظر میں بھی نظر آتی ہے اور ترقی کے زینے تیزی سے چڑھنے والے انسانوں کے پس منظر میں بھی۔

افراد کی طرح قوموں کی اصل زندگی کا آغاز بھی سوچ سے ہوتا ہے۔ 23مارچ 1940ء کو برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی ہی سوچ کا اظہار کیا تھا۔ منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاستوں کی قرارداد پیش کرتے وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ صرف 7سال بعدوہ اس قرارداد پر ایک ملک کی شکل میں عمل کے ثمرات سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے اور یہی لاہور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت قرار پاچکا ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔