• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

آپ کی غیرت

دونوں طرف سے دلائل کے انبار لگائے جارہے تھے۔ گاہے ماحول اونچی آوازوں کی وجہ سے تلخ ہوجاتا، مگر جرگے میں بیٹھے کچھ دانش مند بات کو سنبھال لیتے۔ ایسے لوگ جہاں کہیں بھی ہوں انمول ہیرے سے کم نہیں ہوتے، جو جھگڑے کو ایک حد تک محدود کیے رکھتے ہیں۔ کہیں آنچ تیز ہوئی نہیں اور یہ بے قرار ہوئے نہیں۔ یہ جرگہ میاں بیوی، سسرال سمدھیانے کے مسائل کو نمٹانے بیٹھا تھا۔ لڑکے کے گھروالوں کو لڑکی سے ان گنت شکایات تھی، لڑکی سسرال کے رویے اور روک ٹوک پر شکوہ کناں تھی۔ لڑکے کا پلڑا بھی لڑکی والوں کے حق میں جھکا تھا، اسی لیے لڑکے والوں کی کوشش تھی کہ لڑکے کو جرگے میں نہ بلایا جائے، مگرصورتحال ایسے رخ پر پہنچ گئی کہ اسے بلاتے ہی بنی، اب لڑکی کے گھر والے مطمئن تھے جبکہ لڑکے کے گھر والوں کے چہرے شکست خوردہ تھے لیکن حیران کن طور پر لڑکے سے اس کا موقف پوچھا گیا تو اس نے اپنے ماں باپ کے موقف کے خلاف ایک بھی لفظ کہنے سے انکار کردیا۔ اس پر فیصلہ لڑکے کے گھر والوں کے حق میں ہوا ۔ بعد میں لڑکے کے والد نے اس سے جرگے کے سامنے اس اقدام کی وجہ دریافت کی تو لڑکے کا کہنا تھا کہ وہ دوسروں کے سامنے اپنوں کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

70سال

ذرا تصور کریں 70سالہ بوڑھا بستر پر ہے، متعدد بیماریوں سے لڑ رہا ہے، اس کے کئی زخم ایسے ہیں جن سے مسلسل خون رستا ہے، وہ چل بھی نہیں سکتا، وہ خود اٹھ کر کوئی کام نہیں کرسکتا، وہ ہر لمحے کسی سہارے کا محتاج ہے۔ جسمانی کے ساتھ ساتھ اسے ذہنی اذیت کا بھی سامنا ہے۔ اس کے پڑوسی اس پر زندگی مزید تنگ کرنے کے خواب بُن رہے ہیں۔ وہ آئے روز چھت پر کوئی نہ کوئی چیز پھینک کر اپنی دہشت بڑھاتے ہیں، یہی وجہ ہے چوبیس گھنٹے محتاط رہنا پڑتا ہے، رات کو ذرا سے کھڑاک پر ہی بوڑھے کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اسے مالی مسائل نے بھی اپنے گھیرے میںلیا ہوا ہے۔ پیسوں میں برکت ہی نہیں رہی، گھر میں جتنے آتے ہیں چند گھنٹوں میں خرچ ہوجاتے ہیں، شاید بیماریاں پیسا بھی کھا رہی ہیں۔ ایسے میں رشتہ دار تو اس کے درپے تھے ہی، سات سمندر پار بیٹھے دوست نے بھی آنکھیں پھیر لی ہیں… یہ تمام پریشانیاں اپنی جگہ ، مگر ان دنوں اس کا پالا ایک نئی فکر سے پڑ گیا ہے۔

اس کے پانچوں بیٹے اور ان کی اولادیں بات بے بات آپس میں لڑنے لگے ہیں۔ان کے رویے، ان کے لہجوں کی شائستگی سیاست نے نگل لی اور اب یہ ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں ۔ آج تو حد ہی ہوگئی، ایسے وقت میں جب بوڑھے کی دوائی کا وقت ہورہا تھا

مزید پڑھیے۔۔۔

مسلمان کا پیمانہ

میں جیسے ہی مسجد میں وضو کے بعد تیسری صف میں بیٹھنے لگا، میرے کندھے کسی نے تھپتھپائے، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی میری طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’جی فرمائیے!‘‘

’’ وہ میں نے پوچھنا تھا کہ میں آپ کی چپل پہن کر وضو کرنے چلا جائوں؟ اصل میں میرے شوز ہیں، بار بار کھول کر پہن نہیں سکتا…‘‘
’’جی جی بالکل…‘‘
یہ بات نہ یاد رکھنے کی تھی نہ ذکر کرنے کی، لیکن یہ اس لیے احاطہ تحریر میں لانا پڑی کہ اسی سے اگلی یعنی عشا کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو دیکھا میری چپل غائب تھی۔ میں نے پوری مسجد کا کونا کونا چھان مارا، دعا ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ پڑھی، دو رکعت نفل پڑھے، مگر چپل نہ ملی۔ ابھی میں مایوس ہو کر ننگے پائوں واپس جانے کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ سامنے بیت الخلا سے ایک صاحب گیلی چپل لیے وضوخانے میں گئے،

مزید پڑھیے۔۔۔

خراب حال

’’بیٹا! بات سننا…‘‘ میں جیسے ہی ایم فل کا فارم جمع کرانے یونیورسٹی کی راہداری میں داخل ہوا، ایک لرزتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی تھی۔ ’’جی فرمائیے!‘‘ میں نے کہا۔
’’بیٹا! یہ بینک کس طرف پڑے گا…‘‘
میں نے انکل کو جگہ سمجھاتے ہوئے وجہ دریافت کرنا چاہی تو پتا چلا کہ وہ اپنی بیٹی کا فارم جمع کرانے آئے ہیں ، ان کا کوئی بیٹا نہیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی یونیورسٹی کی لمبی لائنوں میں خوار ہو، سو وہ خود آپہنچے تھے۔ انکل کی عمر 70سال کے لگ بھگ ہوگی، وہ تھوڑا پائوں گھسیٹ کر تیزی تیزی سے چلنے کی کوشش کررہے تھے۔ میں دل ہی دل میں افسوس کرتے ہوئے ان سے آگے نکل کر لمبے ڈگ بھرتا ہوا بینک کے گیٹ پر جاپہنچا، وہاں حسب معمول لمبی لائن تھی اور گزشتہ سال کی طرح محض ایک چھوٹی سی کھڑکی کھول کر صرف ایک خاتون اہلکار 200،300طلبہ طالبات کے ہجوم کے پے آرڈر بنارہی تھی اورایک طالب علم کو نمٹانے میں بلامبالغہ آدھا گھنٹہ لگ رہا تھا۔ابھی 15منٹ گزرے ہوں گے، وہ انکل بھی ہانپتے کانپتے بینک آگئے۔ لڑکوں نے انہیں سب سے آگے جگہ دے دی، آدھے گھنٹے بعد ان کی باری آئی تو پتا چلا کہ پے آرڈر بنوانے کے لیے اسٹوڈنٹ کے دستخط بہت ضروری ہیں، لہٰذا ان کی بیٹی کو آنا ہوگا۔ انکل پسینے سے شرابور ناکام واپس آئے، انہیں ایک بار پھر ہانپتے کانپتے ہوئے گھر جانا تھا،

مزید پڑھیے۔۔۔

سچ کہاں ہے؟

’’ آج کے زمانے میں جدید ٹیکنالوجی اور آزاد میڈیا کے ہوتے ہوئے حقائق چھپانا بہت مشکل ہوگیا ہے۔‘‘ یہ وہ عمومی تاثر ہے جو الیکٹرانک میڈیا کے بارے میں لوگوں کی اکثریت کا ہے، صحافت کے کنویں میں چھلانگ لگانے سے پہلے یہ تاثر ہماری رائے ہوتا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پتا چلا کہ خبر چھاپنا ہی نہیں، خبر چھپانا بھی ایک فن ہے، اور اس میں اب پرنٹ میڈیا کے بعد الیکٹرانک میڈیا بھی بہت حد تک ماہر ہوچکا ہے۔

یہ ٹھیک ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ریٹنگ کی ہوس آپ کو حقائق کھول کھول کر بیان کرنے کے لیے بے تاب کرتی ہے، مگرآپ اور ہم سب جانتے ہیں موجودہ دنیا کارپوریٹ دنیا ہے، اس میں جڑے افراد اور کمپنیاں ہر چیز کو کاروباری پیمانے میں تولتی ہیں، کوئی بات، اطلاع، خبر یا واقعہ چاہے جتنا بھی اہم ہو، اگر اس سے کاروباری مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہو، یا یہ فائدہ نہ پہنچائے تو اتنی ہی بے وقعت ٹھہرتی ہے جتنا پھیکا خربوزہ یا چوسی ہوئی گنڈیری۔ پھر ریٹنگ ، مقبولیت اور ’’یہ سچ سب سے پہلے ناظرین ہم آپ تک پہنچارہے ہیں… ‘‘ کی باتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہنگے سستے

یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔ میں ایک سبزی والے کی ریڑھی پر کھڑا تھا۔ ملک بھر میں عید کا چاند دیکھا جارہا تھا۔ امکان یہی تھا کہ کل عید ہوجائے گی۔ اچانک چاند کا اعلان ہوگیا۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ اتنے میں سبزی والے کی بھتیجی بھاگتی ہوئی آئی۔ شاید معصومیت کی بنا پر وہ سب کے سامنے یہ بول گئی۔ ’’چاچو! ابو کہہ رہے ہیں عید کا اعلان ہوگیا ہے۔۔۔ لہسن 80سے 140روپے اور دوسری سبزیوں پر 30روپے بڑھادو۔۔۔‘‘ اور یہ چند روز پہلے کی بات ہے۔ میں نے ایک پھل والے سے سیب کے ریٹ پوچھے، یقین جانیے رمضان کی آمد سے پہلے جو سیب وہ 60روپے کلو میں بیچ رہا تھا اسی درجہ سوئم کے سیب کے اب 150روپے کلو مانگ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ149روپے بھی نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سیاسی اخلاقیات

پاناما کرپشن کیس کے فیصلے سے تمام سیاسی جماعتیں مایوس دکھائی دے رہی ہیں، ہر عدالتی فیصلہ قبول ہونے کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والی سیاسی قوتیں سڑکوں پر آنے، میدان سجانے اور دما دم مست قلندر کو تیار بیٹھی ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وزیر اعظم کو یکسر نااہل کردیا جائے۔ان کی امید تھی کہ عدالت کا پلڑا ان کے حق میں جھک جائے گا۔ سیاسی اخلاقیات کادرس دینے والی اپوزیشن جماعتیں اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فیصلے سے قبل ہی خود کو عوام قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کررہی تھیں کہ اگر فیصلہ ’’عوامی امنگوں‘‘ کے خلاف آیا تو چوکوں اور چوراہوں پر عوام خود عدالتیں لگالیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں فیصلوں کو ماننے کی روایت کم ہی رہی ہے۔ الیکشن کے دنوں میں ہر سیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ عوام اس کے ساتھ ہیں، تانگہ پارٹیاں بھی کہتی نظر آتی ہیں کہ عوام کی اکثریت ہمیں چاہتی ہے، یہ فریب، یہ سراب جب انتخابات میں کھلتا ہے تو حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ عدالت حق میں فیصلہ دے دے تو عدالتوں کا احترام، خلاف آجائے تو عدالتوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا اعلان … یہ ناپسندیدہ ہی سہی، ہماری روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ سیاسی مقدمات میں لوگ اپنی مرضی کا فیصلہ ہی چاہتے ہیں، قانون گیا بھاڑ میں…! اسی لیے ایسے کیسز میں جہاں سیاسی جماعتوں کی خواہشوں کو عوامی امنگوں کا روپ دے دیا جائے، وہاں عدالتی فیصلہ بھی اکثریتی آتا ہے، متفقہ نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

فول

’’ہیلو… آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے… بہت نازک صورتحال ہے… جلدی ہسپتال پہنچیں…‘‘ یہ وہ اطلاع ہے جو کسی زمانے میں ہر یکم اپریل کو اکثر گھرانوں کو موصول ہوتی تھی اور پریشانی کی لہر دوڑا دیا کرتی تھی، اور فون کرنے والے اسے اپریل فول کا نام دے کر تمسخر اڑایا کرتے تھے، لیکن فول بنانے کا یہ سلسلہ اب ایک دن اور ایک طریقے تک محدود نہیں رہا، اب سال کے 365دن نت نئے انداز سے ’’فول‘‘ بنانے میں گزرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اپریل فول افسوس ناک تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ غرناطہ پر قابض عیسائی حکمران فرڈی ننڈکے دور میں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا شروع کیا۔ ایک آرڈیننس جاری کیا گیا کہ مسلمان یا تو عیسائی ہوجائیں یا نہ ہونے کے عوض 50 ہزار سونے کے سکے دیں، ایسا نہ کرنے والا سولی پر لٹکا دیا جاتا تھا، یا انتہائی اذیت ناک سزا کا مرتکب قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان کی سوچ

آپ نے کوئی ادارہ، تنظیم یا سیاسی جماعت بنانی ہو، کوئی دفتر، فیکٹری یا عمارت کھڑی کرنی ہو تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں؟

سوچتے ہیں۔ جی ہاں! سوچ یا ارادے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم سوچتے ہیں تبھی پہلی اینٹ رکھتے ہیں۔ یہ سوچ ہماری راہ، ہمار ا مقصد اور ہماری منزل متعین کرتی ہے۔ یہ سوچ ہمیں عالی شان عمارتوں کے تہ منظر میں بھی نظر آتی ہے اور ترقی کے زینے تیزی سے چڑھنے والے انسانوں کے پس منظر میں بھی۔

افراد کی طرح قوموں کی اصل زندگی کا آغاز بھی سوچ سے ہوتا ہے۔ 23مارچ 1940ء کو برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی ہی سوچ کا اظہار کیا تھا۔ منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاستوں کی قرارداد پیش کرتے وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ صرف 7سال بعدوہ اس قرارداد پر ایک ملک کی شکل میں عمل کے ثمرات سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے اور یہی لاہور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت قرار پاچکا ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سوال یہ ہے کہ…

کمزوری کہاں ہے، ہم حق پر ہوتے ہوئے اپنا حق کیوں حاصل نہیں کرپاتے، دنیا ہمارے ثبوتوں، ہمارے ڈوزیئر اور ہمارے موقف کو اہمیت کیوں نہیں دے رہی اور عالمی برادری اور ادارے بیوروکریسی کی طرح ہماری درخواستوں کو سردخانے کی نذر کیوں کردیتے ہیں؟… زیر نظر بیانات پڑھیے اور خود فیصلہ کیجیے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی طور پر دنیا میں تنہا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کا پانی روک سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اسے کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا، پاکستان نے دہشت گردوں کی مدد بند نہ کی تو اسے 10ٹکڑوں میں تقسیم کردیں گے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تباہ کن شہر

امریکی جریدے فارن پالیسی نے دسمبر 2015ء کی اشاعت میں پہلی بار بھارت کی جانب سے شیر میسور ٹیپو سلطان کی جائے پیدائش کرناٹک شہر کے جنگلات سے اٹے علاقے چاکیرہ میں خفیہ ایٹمی شہر کا انکشاف کیا تھا۔ اس رپورٹ میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس ایٹمی شہر کی بنیاد 2010ء میں رکھی گئی اور اس کی تکمیل ایشیا کے سب سے بڑے ایٹمی شہر کے طور پر ہوگی۔ اس کا رقبہ 9ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے اور اس کا سندھ کے دارالحکومت کراچی سے فاصلہ صرف 12سو کلومیٹر ہے۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد بھارتی بحریہ کو ایٹمی آبدوزوں سے لیس کرنا اور خطے کی تمام بندرگاہوں پر تسلط حاصل کرنا تھا۔ لیکن سابق بھارتی فوجیوں اور اس پلان پر کام کرنے والے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کچھ اہلکاروں نے انکشاف کیا کہ اس میں دنیا کے خطرناک ترین اور زہریلے ہائیڈروجن بموں کے علاوہ کیمیکل ہتھیار بھی تیار کیے جائیں گے۔ اس شہر کی تکمیل 2017ء کے ہی کسی مہینے میں ہوگی۔ وزیر اعظم بھارت کا دفتر براہ راست منصوبے کی نگرانی کررہا ہے جبکہ نریندر مودی کے آنے کے بعد تعمیراتی کام پر 100فیصد تیزی آئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔