• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

فول

’’ہیلو… آپ کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے… بہت نازک صورتحال ہے… جلدی ہسپتال پہنچیں…‘‘ یہ وہ اطلاع ہے جو کسی زمانے میں ہر یکم اپریل کو اکثر گھرانوں کو موصول ہوتی تھی اور پریشانی کی لہر دوڑا دیا کرتی تھی، اور فون کرنے والے اسے اپریل فول کا نام دے کر تمسخر اڑایا کرتے تھے، لیکن فول بنانے کا یہ سلسلہ اب ایک دن اور ایک طریقے تک محدود نہیں رہا، اب سال کے 365دن نت نئے انداز سے ’’فول‘‘ بنانے میں گزرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اپریل فول افسوس ناک تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ غرناطہ پر قابض عیسائی حکمران فرڈی ننڈکے دور میں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا شروع کیا۔ ایک آرڈیننس جاری کیا گیا کہ مسلمان یا تو عیسائی ہوجائیں یا نہ ہونے کے عوض 50 ہزار سونے کے سکے دیں، ایسا نہ کرنے والا سولی پر لٹکا دیا جاتا تھا، یا انتہائی اذیت ناک سزا کا مرتکب قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان کی سوچ

آپ نے کوئی ادارہ، تنظیم یا سیاسی جماعت بنانی ہو، کوئی دفتر، فیکٹری یا عمارت کھڑی کرنی ہو تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں؟

سوچتے ہیں۔ جی ہاں! سوچ یا ارادے کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم سوچتے ہیں تبھی پہلی اینٹ رکھتے ہیں۔ یہ سوچ ہماری راہ، ہمار ا مقصد اور ہماری منزل متعین کرتی ہے۔ یہ سوچ ہمیں عالی شان عمارتوں کے تہ منظر میں بھی نظر آتی ہے اور ترقی کے زینے تیزی سے چڑھنے والے انسانوں کے پس منظر میں بھی۔

افراد کی طرح قوموں کی اصل زندگی کا آغاز بھی سوچ سے ہوتا ہے۔ 23مارچ 1940ء کو برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی ہی سوچ کا اظہار کیا تھا۔ منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاستوں کی قرارداد پیش کرتے وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ صرف 7سال بعدوہ اس قرارداد پر ایک ملک کی شکل میں عمل کے ثمرات سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے اور یہی لاہور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت قرار پاچکا ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سوال یہ ہے کہ…

کمزوری کہاں ہے، ہم حق پر ہوتے ہوئے اپنا حق کیوں حاصل نہیں کرپاتے، دنیا ہمارے ثبوتوں، ہمارے ڈوزیئر اور ہمارے موقف کو اہمیت کیوں نہیں دے رہی اور عالمی برادری اور ادارے بیوروکریسی کی طرح ہماری درخواستوں کو سردخانے کی نذر کیوں کردیتے ہیں؟… زیر نظر بیانات پڑھیے اور خود فیصلہ کیجیے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی طور پر دنیا میں تنہا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کا پانی روک سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اسے کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا، پاکستان نے دہشت گردوں کی مدد بند نہ کی تو اسے 10ٹکڑوں میں تقسیم کردیں گے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

تباہ کن شہر

امریکی جریدے فارن پالیسی نے دسمبر 2015ء کی اشاعت میں پہلی بار بھارت کی جانب سے شیر میسور ٹیپو سلطان کی جائے پیدائش کرناٹک شہر کے جنگلات سے اٹے علاقے چاکیرہ میں خفیہ ایٹمی شہر کا انکشاف کیا تھا۔ اس رپورٹ میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس ایٹمی شہر کی بنیاد 2010ء میں رکھی گئی اور اس کی تکمیل ایشیا کے سب سے بڑے ایٹمی شہر کے طور پر ہوگی۔ اس کا رقبہ 9ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے اور اس کا سندھ کے دارالحکومت کراچی سے فاصلہ صرف 12سو کلومیٹر ہے۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد بھارتی بحریہ کو ایٹمی آبدوزوں سے لیس کرنا اور خطے کی تمام بندرگاہوں پر تسلط حاصل کرنا تھا۔ لیکن سابق بھارتی فوجیوں اور اس پلان پر کام کرنے والے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کچھ اہلکاروں نے انکشاف کیا کہ اس میں دنیا کے خطرناک ترین اور زہریلے ہائیڈروجن بموں کے علاوہ کیمیکل ہتھیار بھی تیار کیے جائیں گے۔ اس شہر کی تکمیل 2017ء کے ہی کسی مہینے میں ہوگی۔ وزیر اعظم بھارت کا دفتر براہ راست منصوبے کی نگرانی کررہا ہے جبکہ نریندر مودی کے آنے کے بعد تعمیراتی کام پر 100فیصد تیزی آئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سبق

’’ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔‘‘ یہ جملہ ہم اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کا کوئی لیکچر اس کے بغیر ختم نہیں ہوتا۔ ہمارے صدر، وزیر اعظم اور سیاستدانوں کے ہر مذہبی تہوار پر آنے والے بیانات اس کے بنا نامکمل ہیں۔ ہماری مذہبی قیادت کاکوئی جلسہ، جلوس، ریلی، سیمینار، کانفرنس اس کے بغیر ’’وما علینا الا البلاغ‘‘ نہیں کہتی۔

قلعہ کی اصطلاح شطرنج میں جابجا استعمال ہوتی ہے۔ جب بساط پر بادشاہ کا مہرہ مشکل میں پھنس جاتا ہے اور اس کا گرنا یقینی ہونے والا ہوتا ہے تو قلعہ بنایا جاتا ہے ، یعنی مہروں کا حصار بادشاہ کے گرد بنایا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب فوجیں کسی ملک، کسی خطہ ارضی پر حملہ کرتی تھیں تو انہیں قبضہ کرنے کے لیے پورا ملک درکار نہیں ہوتا تھا، وہ دارالخلافہ یا دارالحکومت کو نشانہ بناتی تھیں، اور دارالحکومت کا گیٹ یا مرکزی دروازہ کھل جانا یا وہاں دشمن فوجوں کا فتح یاب ہوجانا دراصل پورے دارالحکومت پر قبضے کی ایک علامت یا سگنل ہوا کرتا تھا۔ اس لیے دارالحکومتوں کی حفاظت کے لیے گیٹ یا دروازے پر قلعہ بنایا جاتا تھاجس کے چاروں طرف تیرانداز تعینات ہوتے تھے جو دور سے ہی دشمن کو تاک لیا کرتے تھے۔اس لیے قلعے پر تعینات لوگوں کو خریدنا دشمن فوجیوں کی ترجیح ہوا کرتا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

گھر کی صفائی

عام طور سے یہ کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں تین ’ج‘ کے احتساب کی روایت نہیں۔ یہ تین ’’ج‘‘ جج، جرنیل اور جرنلسٹ ہیں۔ ججوں کو اس حصار سے کہ ان سے پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی، سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے نکالا تھا جب انہوں نے ایمرجنسی لگانے کی منظوری دینے والے جسٹس ڈوگر اور دیگر ججوں کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔ 10سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے الزام میں اسلام آباد کے سیشن جج راجا خرم علی خان کا انصاف کے شکنجے میں جکڑے جانا دراصل اسی ریت کا تسلسل ہے۔ حاضر سروس جرنیلوں کے احتساب کا سہرا جنرل (ر) راحیل شریف کے سر ہے۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف سیاستدانوں کو خبردار کرنے کے لیے گھر سے صفائی شروع کی تھی۔ گزشتہ سال اپریل میں راحیل شریف نے گھپلوں اور خردبرد پر تحقیقات کے بعد 11سینئر آرمی افسران کو برطرف کردیا تھا ۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق تو فوج اور عدلیہ میں احتساب کا یہ نظام اب بھی قائم ہے۔ اب سوال صرف یہاں تک محدود رہ گیا ہے کہ اس تیسرے’ج‘ میں احتساب کا عمل کب شروع ہوگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کہاں جارہے ہو؟

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم ٹھہر کر سوچیں کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ نئے سال کا پہلا مہینہ ہی سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ماروی ہاسٹل کے ایک کمرے سے نہایت بری خبر لایا۔ یہاں پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش کسی اور کی نہیں، اسی یونیورسٹی میں سندھی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے گزشتہ سال ایوارڈحاصل کرنے والی نائلہ رند کی تھی۔ وہ ماسٹرز کے فائنل ائیر میں تھی اور سال نو میں اس کی تعلیم مکمل ہونے والی تھی۔ کسے علم تھا کہ تعلیم مکمل ہونے سے پہلے اس کی عمر مکمل ہوجائے گی۔ دین سے دوری، بے قابو جذبات اور سہانے خوابوں نے اسے ایسی موت کا ہار پہنادیا جس پر سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

والدین نے اسے تعلیم حاصل کرنے کے لیے یہاں بھیجا تھا، لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اسی مشغلے کا شکار ہوگئی جس کا آغاز رانگ نمبر، فیس بک ریکویسٹ اور پہلی ملاقات سے ہوتا اور انجام ڈپریشن، رسوائی اور ایک کچی قبر کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مٹکے کا سوراخ

یہ تقریباً15سال پہلے کی بات ہوگی تب ہر چیز پیک شدہ اور ہر سامان ایک چھت تلے ملنے کا دعویٰ کرنے والے ڈیپارٹمنٹل اسٹور پاکستان میں عام نہیں ہوئے تھے۔ انہی دنوں ملک بھر میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا شور اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے طوفان کی شکل اختیار کرگیا۔ اسی دوران ہمیں بھی پتا چلا کہ دودھ فروشوں کو ایک حد تک دودھ میں پانی ملانے کی اجازت ہوتی ہے کہ اس سے دودھ کو محفوظ کرنا اور خرابی سے بچانا آسان ہوتا ہے تاہم دودھ فروشوں کی جانب سے اسے مہنگا ترین دودھ بیچنے کے باوجود پانی ملا کر دودھ کی مقدار بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ کھلا دودھ بیچنے والوں کی یہ من مانیاں اور خلاف ورزیاں جاری تھیں جب ملک میں موجود واحد الیکٹرانک میڈیا سرکاری ٹی وی پر ڈبہ بند دودھ کی تعریف پر مشتمل اشتہار چلنا شروع ہوئے۔ اس میں بتایا جاتا تھا کہ گوالے نہ صرف دودھ میں پانی ملاتے ہیں بلکہ دودھ بڑھانے کے لیے کیمیکل کا استعمال کرتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ٹیٹرا پیک دودھ عالمی معیار کی تسلیم شدہ مشینوں کی مدد سے پیک اور محفوظ کیا جاتا ہے۔ عام دودھ تو فوری ابالا نہ جائے تو بے کار ہوجاتا ہے جبکہ ڈبہ بند دودھ کو فریج میں رکھیں اور جب چاہے جتنا چاہیں استعمال کریں۔ یہ ڈبہ بند دودھ کی شہرت کا دراصل نقطہ آغاز تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تراشے

یہ تین مختلف ممالک کی تصویریں ہیں مگر تینوں پر ایک ہی رنگ غالب ہے۔ ظلم کا اور ظلم کرتے ہوئے ننھی، معصوم اور بے ضرر جانوں کا بھی لحاظ نہ کرنے کا۔ پوری دنیا 20نومبر کو انہی معصوموں، ننھوں اور بے ضرر سعید روحوں کا دن مناتی ہے۔ ’چلڈرن ڈے‘ کے نام سے اقوام متحدہ کے تحت سیمینار اور کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ یونیسیف بچوں کے حقوق کے حوالے سے رپورٹیں جاری کرتا ہے، تشویش کا رسمی اظہار ہوتا ہے اور بس! اس لیے کہ شاید بچے ظالموں کے ہی ہوتے ہیں، مظلوموںکے بچوں کو تو بچے کہلوانے کا بھی حق نہیں ہوتا۔ تبھی تو ظالموں کے بچوں کو محفوظ کرنے، ان کے چہروں کی مسکان کے لیے مظلوموں کے بچوں کو جنگوں کا ایندھن بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ شام ہو، کشمیر ہو یا فلسطین، اب تک ہزاروں بچے اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کسی کی آنکھ میں آنسو نہیں آتا۔ کسی کا دل نہیں تڑپتا اور کسی کا گلا نہیں رندھتا۔ ہمارے بچے اگر پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے اخبار بیچیں یا کسی ورکشاپ میں چھوٹے کا روپ دھاریں تو دنیا میں تہلکہ مچ جاتا ہے کہ ظلم ہورہا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اصل مجرم

یہ 6سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت ہم نئے نئے انچارج بنے تھے۔ اخبار کے شعبے میں نیوز سینس یا خبر کی بو محسوس کرنے کی صلاحیت کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہمارے بڑے ہمیں کہا کرتے ہیں کہ تم میں یہ حس بہت ہے۔ لیکن اسی حس نے ہمیں ایک روز بھنور میں پھنسا دیا تھا۔ ہمارے پاس ایک چٹپٹی سی خبر آئی، ہم نے اس کی مصالحہ دار سرخی نکالی اور اخبار کے پیچ پر مین لیڈ کے عین نیچے پیسٹ کروادیا۔ اگلے دن ہم سو کر اٹھے تو ہمارے نمبر پرکئی مس کالیں تھیں جبکہ متعدد میسجز نیوز ایڈیٹر کی جانب سے تھے اور سارے پیغامات اسی خبر کے حوالے سے تھے، سب کا لب لباب یہی تھاکہ یہ آپ نے کیا کردیا؟ ہمارا اخبارپہلے بھی پرویز مشرف دور میں پابندیوں کا سامنا کرچکا تھا۔ جس طرح بڑی سے بڑی بیماری سے انسان صحت یاب تو ہوہی جاتا ہے لیکن بیماری اپنے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور چھوڑ جاتی ہے، اسی طرح پابندیاں ہٹنے کے بعد اخبار دوبارہ چمکنے ضرور لگتا ہے مگر پہلی سی آب تاب باقی نہیں رہتی۔ یہ ایک حقیقت ہے اسے دوبارہ بلندیوں تک پہنچنے میں ایک عمر چاہیے ہوتی ہے۔ ہمارا اخبار بھی پابندیوں کے بعد کے اسی دور سے گزر رہا تھا، چنانچہ بہت زیادہ احتیاط اس کا تقاضا کررہی تھی۔ ہم چونکہ نئے تھے، اسی لیے ہمیں اس کی حساسیت کا اتنا اندازہ نہیں تھا۔ اس روز ہماری دفتر سے چھٹی تھی، ہم نے وہ پورا دن پریشانی میں گزارا۔ اس لیے کہ کہیں ہماری ایک لغزش دوبارہ ادارے کو بحران میں نہ دھکیل دے۔ صد شکر کہ ایسا کچھ نہ ہوا لیکن ایک نصیحت ضرور پلو سے باندھ لی کہ ہر خبر اشاعت کے قابل نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اے کاش! ایسا نہ ہوتا

آج جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں 17ستمبر کا دن ہے۔ آج سے تقریباً 25دن قبل ایم کیو ایم کے زیر اہتمام ایک تقریب میں پاکستان مخالف نعرے لگے۔ ایسی ایسی باتیں کی گئیں جو شاید سقوط ڈھاکا کے وقت پاکستان مخالفین نے بھی نہ کی ہوں۔ یہ جملے اگر مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، سراج الحق یا ان جیسے دوسرے مذہبی پس منظر والے سیاستدانوں کے منہ سے نکلے ہوتے تو ابھی تک یہ سب لوگ کال کوٹھری میں ہوتے۔ ایک 92سالہ باریش شخص نے جمہوریت کو کفر کہا تھا تو ایک ہنگامہ برپا کردیا گیا اور شاید اسی کے اثرات کے طور پر وہ ابھی تک جیل سے کئی مقدمات میں بری ہونے کے باوجود رہا نہیں ہوسکا۔ چونکہ پاکستان کے خلاف باتیں ایک ایسے شخص کے منہ سے نکلیں جو ایک عرصے تک ہماری حکومتوں کے ماتھے کا جھومر رہا، جس کی رہائش گاہ پر بڑے بڑے حکمران آکر دہلیز کو چوما کرتے تھے، اور جو آج بھی برطانوی خفیہ ایجنسی کی گود میں بیٹھا ہے، اس لیے شاید اور اس لیے یقینا سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیںہوسکا۔ ہم نے کچھ دن اس پر جذباتی انداز میں تقریریں کیں، کسی نے اپنا غصہ نکالا تو کسی نے اپنا سر بچانے کے لیے اپنی پگڑی گرادی اور بس! سب توجہ ہٹائو مہم کے زیر اثر ہوکر سب کچھ بھول گئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔