• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

خوشی کی بات

اخبارات کبھی کبھی دل خوش بھی کر دیتے ہیں.... ویسے تو اس میں ایک فیصد بھی شک نہیں کہ آج کل اخبارات سے بلڈ پریشر کی بیماری عام ہورہی ہے... جسے دیکھو، اپنا بی پی چیک کرتا نظر آرہا ہے.... ایک صاحب تو بلاناغہ صبح سویرے سب سے پہلے اپنا بی پی چیک کرتے ہیں.... اس کے بعد اخبارات کو ہاتھ لگاتے ہیں اور کالموں اور اخبارات کا چولی دامن کاساتھ ہے، بلکہ نہ جانے کس کس کا ساتھ ہے، اس لیے ان بے چاروں کو اخبارات پڑھے بغیر چارہ نہیں، یا رلوگ کہہ سکتے ہیں یارا نہیں.... اور میں کہا کرتاہوں وارہ نہیں.... جیسے پنجابی میں کہہ دیتے ہیںنا، یار یہ بات مجھے وارہ نہیں کھاتی.... لیجیے بات ادھر سے ادھر نکل پڑی.... کبھی کبھی اخبارات دل خوش کر دیتے ہیں، ابھی پرسوں کی بات ہے، ہمارے ملک کے وزیر ِ داخلہ محترم چوہدری نثار احمد.... اوہ نہیں، چوہدری نثار علی خان صاحب نے بیان دیا ہے : ’’ حجاب اور ڈاڑھی دہشت گردی نہیں۔ ‘‘ ’’مغرب اصل دہشت گرد ی کے خلاف جنگ کرے۔ ‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

دھاندلی... دھاندلی

ہمارے اس پیارے ملک میں دھاندلی کا لفظ روز بروز مقبول ہوتا جا رہا ہے... یوں لگتا ہے، ہماری ہر حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے۔ اب آپ سے کیا چھپانا، دھاندلی کا لفظ زندگی میں پہلی با ر 1970 کے انتخابات کے بعد سامنے آیا تھا... جب قومی اتحاد بھٹو صاحب کے مقابلے میں بری طرح شکست کھا گیا تھا تو کم ازکم میرے ہوش میں سب سے پہلے ا س مشترکہ جماعت نے یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اورہم اس کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ اس وقت قومی اتحاد میں ملک کی نو جماعتیں شامل تھیں... اور مولانا مفتی محمود اور شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور جیسے لوگ اس جماعت کے رہنما تھے... بلکہ ایر مارشل اصغر خان کانام رہ گیا... اس تحریک استقلال کے ایر مارشل اصغر خان، انہوں نے تو ان دنوں بہت نام کمایا تھا...

تحریک شروع ہوئی اور بہت زور شور سے شروع ہوئی... قومی اتحاد کے جلسے اس قدر زبردست ہوتے تھے کہ بس کیا بتائیں... اور جوش کاایسا عالم ہوتاتھا کہ پھر ایسا عالم نظر نہیں آیا... اتنے زبردست نعرے لگتے تھے کہ آج تک ان کی گونج یاد ہے... نام کمانے والے ایک شخص ایڈووکیٹ رفیق احمد باجوہ صاحب بھی تھے... ان کی دھواں دھار تقریر یں تو ایک سماں باندھ دیتی تھیں... اور پہلی بار انہی صاحب کی وجہ سے قومی اتحاد کی سبکی ہوئی تھی... کیونکہ انہوں نے خفیہ طورپر بھٹو صاحب سے ملاقات کر لی تھی...

مزید پڑھیے۔۔۔

شاید کہ اتر جائے دل میں میری بات

2015میں جب زلزلہ آیا تھا، اس سے صرف 3 دن پہلے میں بالا کوٹ میں تھا۔ 30 کے قریب دوستوں نے ان علاقوں کی سیر کا پروگرام بنایا تھا۔ ہم نے بڑے بڑے مزے سے بالا کوٹ کی سیر کی، سید اسماعیل شہید کے مزار پر گئے پھر سیدا احمد شہید کے مزار پر گئے... اس وقت ہم یہ گمان بھی نہیں کر سکتے تھے کہ 3 دن بعد یہاں قیامت ٹوٹنے والی ہے... بالا کوٹ کے علاوہ آس پاس کے دوسرے علاقوں کی سیر کرکے ہم واپس آگئے۔ اس کے ٹھیک تین دن بعد زلزلہ آیا... زلزلے کے تیز جھٹکے جھنگ میں بھی آئے تھے، اسی روز شام کو اس سیر کے ایک ساتھی عمر طارق شاہد صاحب نے مجھے فون کیا اور یہ روح فرسا خبر سنائی : ’’ اشتیا ق صاحب ! تین دن پہلے ہم جس بالا کوٹ میںتھے، آج وہ تباہ ہو گیا ہے، زلزلے نے اس شہر کو پتھروں کا شہر بنادیا ہے۔‘‘

میں سکتے میں آگیا... اخبارات میں تفاصیل دیکھیں، ان کا بیا ن درست تھا... اخبارات کا بلکہ سارے میڈیا کا یہی انداز تھا کہ سب سے زیادہ تباہی بالا کوٹ میں ہوئی ہے... بعد میں وہاں کی جو حالت لوگوں نے بیان کی یعنی چشم دید حالات سنائے،وہ اور زیادہ ہولناک تھے۔ رسائل اور اخبارات میں ایسے موقعوں پر مضامین اس عنوان کے تحت شائع ہوتے ہیں... ’’ زلزلے کیوں آتے ہیں۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

ہمیشہ سے بے نقاب چہرہ!

اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جانا چاہیے کہ ہم بھارت کے اور بھارت ہمارا دوست ہے ... اب معمولی معمولی باتوں پر تو دوستی کے رنگ میں بھنگ نہیں ڈالی جا سکتی ... دوستی کا رشتہ تو اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان گائے کا گوشت کھالے اور بھارت میں اسے قتل کر دیا جائے تو بھی اس دوستی کے آئینے میں کوئی بال نہیں آسکتا بلکہ اس واقعے یااس جیسے کئی واقعات پر تو ہمیں کوئی افسوس بھی نہیں ہونا چاہیے ...کیا ہوا جو اس بنیاد پر چند مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا ... دوستی میں تو سب چلتا ہے ... اور کیا ہوا، اگر انتہا پسند تنظیم شیوسینا کے کارکنوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا ہے جو ملاقات ہونی تھی، وہ نہ ہو سکی ... دوستی میں تو سب چلتا ہے اور یہ بھی کوئی خاص بات نہیں کہ جنونی ہندوئوں نے کشمیری رکن اسمبلی انجینئر عبدالرشید کے چہرے پر سیاہی مل دی، شیو سینا کے غنڈوں نے ان پر حملہ کردیا، حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے ملک کے دانشورسیاسی اور مذہبی رہنما اب یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں: ’’بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

بے خبریاں

عید گزر گئی، لیکن عید سے متعلق بے خبریاں باقی ہیں ... بلکہ عید قربان سے متعلق بے خبریاں باقی ہیں... ان کا ذکر کرنا یوں بھی ضروری ہے کہ شاید آیندہ سال کچھ بے خبر ان بے خبریوں میں کوئی خبر تلاش کر لیں یا اور خبریوں کے قبرستان سے باہر نکل آئیں ... لیجیے کالم کا ایک اور نام سامنے آگیا ... کیا خوب نام ہے۔

’’ بے خبریوں کا قبرستان۔‘‘ انوکھا نام ہے ... اور آپ یہ جاننے کے لیے بے چین ہو گئے ہوں گے کہ آخر وہ بے خبریاں ہیں کیا جو قبرستان تک جا پہنچیں ... یعنی عنوان کی حد تک ... عید سے پہلے میں نے اپنے ایک عزیز کو فون کیا اور ان سے پوچھا: ’’اس بار کیا قبربان کر رہے ہیں۔‘‘ شانِ بے نیازی سے بولے: ’’اس بار ہم قربانی نہیں کر رہے۔‘‘ میں حیران رہ گیا، کیونکہ کھاتا پیتا گھرانا ہے اور اس گھر میں کم ازکم پانچ کمانے والے اور ایک کمانے والی ہیں ... ان میں دو تو ہیںبھی بہت زیادہ پڑھے لکھے ... یعنی ایم اے اور ڈبل ایم اے وغیرہ وغیرہ...اپنی حیرت کو دور کرنے کے لیے ان سے پوچھنا پڑا ... ’’خیریت ! قربانی کیوں نہیں کر رہے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ بھی یہ شوق پال لیں

سنتوں پر عمل کرنے کا شوق بھی عجیب مزیدار شوق ہے ... یوں کہہ لیں یہ جستجو کی ایک نئی دنیا ہے اور جوں جوں آپ اس دنیا کے سمندر میں اترتے جاتے ہیں ...اتنی ہی زندگی زیادہ مزے دار لگنے لگتی ہے... 1982ء تک میں نے ڈاڑھی نہیں رکھی تھی ... روزانہ شیو کرتاتھا ... 1982 ء میں حج کے لیے گیا تو بھی ڈاڑھی نہ رکھی ... حج کے دنوں میں وہاں شیو تو نہیں کی، لیکن حج سے واپسی آتے ہی پھر شیو شروع کر دی ...لیکن پھر کیا ہوا ... ایک دن صبح سویرے شیو کرنے کی تیاری شروع کی ... گالوں پر صابن لگایا، پھر ریزر اٹھایا، لیکن ہاتھ گال تک نہ گیا ... اٹھا کا اٹھا رہ گیا ... خود وہیں آئینے کے سامنے کھڑا کا کھڑا رہ گیا... اس روز ریزر گال تک نہ آسکا ... نہ جانے کیا ہو گیا تھا ... کبھی کسی نے کہا تک نہیں تھا کہ ڈاڑھی رکھ لو... پھر دوسرے دن بھی شیونہ کی ... تیسرے دن بھی شیو نہ کی ... بیو ی کہنے لگی : ’’کیا بات ہے، آپ آج کل شیو نہیں کر رہے۔‘‘ جواب دیا : ’’جی نہیں چاہ رہا ... کرلوں گا جب جی چاہے گا۔‘‘ کئی دن گزرگئے ... شیوکرنے کو جی نہ چاہا اور اس طرح ڈاڑھی رکھ لی ... لیکن ایک بہت عجیب سوال ذہن میں ابھرا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بچوں کا استحصال کرنے والے

میر ا یہ کالم آپ کو حیرت زدہ کردے گا... کیونکہ اس کے لکھنے سے پہلے میں خود حیرت زدہ رہ گیا ہوں... رات عشا کے بعد مفتی صاحب کا فون آیا۔ کہہ رہے تھے: ’’ وہ لڑکا واپس آگیا ہے۔‘‘

میں نے حیرا ن ہوکر پوچھا: ’’کون سا لڑکا جنا ب...؟‘‘ تب انہوں نے یاد دلایا: ’’بہاول پور سے 5 ماہ پہلے 15 سال کا ایک لڑکا غائب ہو گیا تھا...‘‘ انہوں نے اس کے غائب ہونے کی اطلاع اس وقت مجھے دی تھی... تاکہ میں بھی اس کے سلسلے میں کوشش کروں... اور میں نے کوشش کی بھی تھی... غلام رسول زاہد صاحب ڈی آئی جی صاحب سے بات کی تھی... ڈی ایس ایس پی انٹیلی جنس ظفر نعیم پنیاں صاحب سے بھی بات کی تھی، انسپکٹر حصور حیدر صاحب سے بھی بات کی تھی... ان تینوں حضرات نے اپنے طورپر کوشش کی... لیکن اس نوجوان کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا... اب لے دے کر یہی خیال قائم کیا گیا کہ اسے کسی ایجنسی نے اٹھا لیا ہے... اور اپنے حساب سے ہی اسے رہا کر یں تو کریں... لیکن کل رات صرف 5 ماہ بعد مفتی صاحب نے بتایا کہ وہ واپس آگیا ہے۔ نوجوان کا نام عطاء المنعم ہے... حافظ ِ قرآن ہیں... میں نے حیرت زدہ ہو کر مفتی صاحب سے پوچھا : ’’وہ کیسے رہا ہو ا؟‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

میں نہیں جانتا

مسجد سے اٹھنے لگا تو ایک صاحب نے بازو سے پکڑ کر بٹھا لیا، وہ کوئی مسئلہ پوچھنا چاہتے تھے... انہوں نے جو مسئلہ پوچھا۔ میں نے وہ بتا یا ہی تھا کہ ایک اور صاحب نے ایک اور مسئلہ پوچھ لیا۔ ابھی میں اس کا جواب نہیں دے پایاتھا کہ ایک عمر رسیدہ شخص اس مسئلے کا جواب خود دینے لگے... میں خاموشی سے سننے لگا... کچھ اور لوگوں نے بھی ان سے مسئلے پوچھنے شروع کر دیے۔ میں الجھن کے عالم میں سنتا رہا، پھر اٹھ کر مسجد سے چلا آیا... اب میں نے مفتی صاحب کو فون کیا اور مسجد میں پوچھے گئے، اور بتائے گئے چند مسئلوں کو ان کے سامنے دہرایا... معلوم ہوگیا کہ کئی باتیں غلط بتائی گئی تھیں... اور مسئلہ بتانے میں قطعاً احتیاط نہیں کی گئی تھی... بس جواب دینے کا ایک شوق تھا، جو بتانے والے پورا کرنا چاہتے تھے... اس سلسلے میں میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں جواب میں کہہ دیتاہوں: ’’آپ کسی مستند مفتی صاحب سے پوچھیے۔‘‘ اگر ان کا کسی مفتی صاحب سے رابطہ نہ ہو تو میں کرادیتا ہوں۔ میں آپ کو مفتی صاحب سے پوچھ کر بتائوں گا۔‘‘ تاہم کبھی بھول بھی ہو جاتی ہے۔ اور میں سر پیٹ کر رہ جاتاہوں کہ یہ میں نے کیا کیا؟ میں نے تو مسئلہ غلط بتا دیا... اب تلاش ہوتی ہے ان صاحب کی اور انہیں یہ بتانے کی کہ میں آپ کو غلط بات بتانے کا جرم کر بیٹھا ہوں۔ اصل مسئلہ یہ ہے اور اب یہ میں آپ کو مفتی صاحب سے پوچھ کر بتارہا ہوں...

مزید پڑھیے۔۔۔

مداری

مداری نے ڈگ ڈگی بجائی... آواز کانوں میں آنا تھی کہ میں دوڑ پڑا... ڈگڈگی بجا کر بچوں اور بڑوں کو جمع کرنا مداریوں کا طریقہ تھا... ایک دائرے کی صورت میں لوگ جمع ہوتے چلے جاتے تھے، اس طرح چند منٹ کی ڈگ ڈگی کافی تعداد میں لو گوں کو جمع کرلیتی تھی... جب مجمع خوب ہوجاتا تو مداری اپنا کھیل شروع کرتا... ہر مداری کے ساتھ ایک لڑکا بھی ہوتا تھا... اسے ’’بچہ جمہورا‘‘ کہا جاتا تھا... عام طورپر خیال یہ کیا جاتا تھا کہ وہ لڑکا اس کا اپنا بیٹا ہے، یا پھر بیٹا کسی اور کاہے، لیکن شاگرد بہرحال اسی کا ہے...

کھیل کی ابتدا ہوئی... لوگ پوری طرح متوجہ تھے... مداری نے ایک بار پھر چندسکینڈ کے لیے ڈگ ڈگی بجائی... پھر باری باری کھیل پیش کرنے لگا... چند عام قسم کے کھیل دکھانے کے بعد وہ اپنے خاص کھیل کی طرف آیا... اس نے اپنے بچہ جمہورا کو زمین پر بچھی چادر پر لیٹ جانے کا حکم دیااور خود اپنے جملے ادا کرنے لگا... ’’صاحبان... اب بہت غور سے میرا کھیل دیکھیے گا... اس کے بعد میں آج کے کھیل کا آخری کھیل پیش کروں گا اور آپ سے اجازت چاہوں،لیکن میرے یہ دو کھیل آپ کو ساری زندگی یاد رہیں گے۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

مہمانوں کے رنگ نرالے

موبائل کی گھنٹی بجی... دور دراز کے ایک شہر سے پرانے دوست کا فون تھا، میں نے فون سنا، کہہ رہے تھے: ’’ ہمیں ایک پروگرام کے سلسلے میں جھنگ آنا پڑگیا ہے... ہم کل روانہ ہوں گے، ارادہ ہے کہ پروگرام سے پہلے آپ سے بھی مل لیں گے... کیا خیال ہے، ہم رات کا کھانا آپ کے ہاںؒ نہ کھالیں... کھانا کھا کر ہم اس مقام پر چلے جائیں گے، جہاں پروگرام ہے... پروگرام دوسرے دن صبح سویرے ہے... رات ہم ان کے ہاں سو لیں گے...‘‘ میں نے ساری بات سن کر کہا: ’’ ٹھیک ہے... کوئی حرج نہیں، آپ سے ملے کافی مدت گزر گئی، اس بہانے ملاقات ہو جائے گی... آ پ کس وقت جھنگ پہنچیں گے؟‘‘ ’’ ہم رات نو بجے۔‘‘ انہوں نے بتایا۔ ’’بس ٹھیک ہے... نو بجے کھانا تیار ہو گاان شاء اللہ ! آپ کو انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘ ’’بہت بہت شکریہ !‘‘ دوسری طرف سے کہا گیا۔

پھر میں نے کچھ سوچ کر پوچھ لیا... ’’ ویسے آپ کیا کھانا پسندکریں گے... جو پسند ہو، بتا دیں وہی بنوالوں گا۔‘‘ ’’ آپ... یوں کریں... بریانی بنوالیں... اور ہاں میرے ساتھ چار دوست اور ہوں گے... گویا ہم پانچ افراد آرہے ہیں۔‘‘ ’’اچھی بات ہے۔‘‘ میں نے ان کی آمد کے بارے میں گھر والوں کو بتا دیا اوربیٹوں سے سامان منگوایا... شام سے پہلے ہی تمام سامان انہیں لا دیا گیا... تاکہ کھانا لیٹ نہ ہو اور مہمانوں کو پریشانی نہ ہو... گھر کی خواتین شام سے ہی کھانا تیارکرنے میں لگ گئیں... میٹھی چیز کسٹرڈ تجویز ہو اتھا... گویا انہیں بریانی کے ساتھ کسٹرڈ بھی تیار کرنا تھا... تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کھانا بالکل تیار ہو گیا... ہم نے دستر خوان بچھا دیا اور تمام برتن سجا دیے... مہمانوں کے آنے پر اب صرف اتنا کر نا تھا کہ بریانی اور کسٹرڈ لا کر رکھ دینے تھے...

مزید پڑھیے۔۔۔

جواب طلب سوال

ایک بالکل نئی صورت ِحال معاملات کو حیرت انگیز حدتک گڈ مڈ کررہی ہے۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور کوئی طریقہ کار ضرور وضع کرنا چاہیے۔ وضاحت اس کی یہ ہے... بہاول کا ایک نوجوان غائب ہوگیا... گھر کے افراد نے فوراً خیال کرلیا کہ اسے کسی ایجنسی نے اٹھالیا ہے... ایجنسی کے نام پر سب لوگ ویسے ہی دم سادھ لیتے ہیں، اس لیے کہ ہمارے معاشرے کا یہ تازہ ترین خوف ناک لفظ ہے... خوف وہراس پھیلانے کا کافی ماہر لفظ... جب کسی کے بارے میں یہ سننے میں آتا ہے کہ ایجنسیوں نے یا ایجنسی نے اٹھا لیا ہے تو خوف وہراس کا دو ر دورہ شروع ہو جاتا ہے... لواحقین پر تو گویا بم پھٹ پڑتاہے... اور ان سب کو زمین اور آسمان گھومتے محسوس ہوتے ہیں... آس پاس کے اور اس شخص سے ملنے والے لوگ بھی خوف و ہراس کا شکار ہوجاتے ہیں اور کانپنے لگتے ہیں... اب نہ جانے یہ شخص کس کس کانام بتاتا ہے؟ اور نہ جانے اور کون کون ایجنسیوں کی زد میں آتاہے؟... عزیز رشتے دار تو بالکل چپ سادھ لیتے ہیں... ایک بات یہ مشہورہے... کہ جسے کوئی ایجنسی اٹھا لیتی ہے... اس کے بارے میں تو اب دو چار ماہ تک تو پتا چلے گا ہی نہیں کہ وہ کہاں ہے؟ کس کی تحویل میں ہے... لہٰذا کوئی بھی کسی بھی قسم کی کوشش سرے سے نہیں کرتا... اس طرح معا ملہ گمبھیر ہوتا چلا جاتاہے...

مزید پڑھیے۔۔۔