• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ایک بڑے نشریاتی ادارے نے گزشتہ دنوں افغانستان کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی۔ یہ رپورٹ دنیا کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ ادارے نے اس رپورٹ میں انکشاف کیا طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ ہیں۔ طالبان کا افغانستان کے 14اضلاع پر مکمل کنٹرول ہے۔ 263 اضلاع میں ان کی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ یہ ان 263 اضلاع میں کھلے عام گھومتے پھرتے ہیں۔ زندگی کی تمام تر سرگرمیوں میں سرگرم ہیں اور طالبان کی یہ تعداد ماضی میں لگائے گئے تمام اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ افغانستان کے صرف 122اضلاع ایسے ہیں جہاں طالبان کی سرعام موجودگی کے ثبوت میسر نہیں آئے تاہم یہ علاقے بھی پرتشدد کارروائیوں، حملوں اور دھماکوں سے محفوظ نہیں۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا طالبان جو کبھی جنوبی افغانستان کے روایتی ٹھکانوں تک محدود تھے اب ان کا مسکن مشرقی، مغربی اور شمالی علاقہ جات بھی بن چکے ہیں۔ ہلمند، سنگین، موسیٰ قلعہ اور ناد علی جیسے علاقے طالبان کے مکمل کنٹرول میں جا چکے ہیں۔یہ وہ علاقے تھے جنہیں نیٹو افواج نے برسوں کی شدید جھڑپوں کے بعد آزاد کرایا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے افغانستان کی نصف آبادی جو قریباً ڈیڑھ کروڑ نفوس بنتی ہے۔ یہ ڈیڑھ کروڑ لوگ ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں طالبان کی عملداری ہے۔ طالبان کی یہ بڑھتی ہوئی سرگرمیاں امریکا اور افغان حکومت دونوں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔


آپ اس رپورٹ کے ہوش ربا انکشافات کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد اتحادی افواج کی 16برسوں کی جنگ کا اندازا لگائیں۔ امریکا اور اس کے حواریوں نے طالبان کو شکست دینے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کئے۔ آگ وآہن کی جو برسات افغانستان پر ہوئی ماضی قریب میں اس کی کہیں مثال نہیں ملتی، امریکا نے طالبان کو شکست دینے کے لیے اربوں ڈالر اس جنگ میں جھونک دئیے، لیکن اس کے باوجود طالبان کا خاتمہ ہو سکا نہ ہی عالمی استعمار فتح کا جشن منا سکا۔ بار بار انخلاء کی ڈیڈ لائن کے باوجود اتحادی افواج کا انخلاء ممکن نہ ہو سکا اور آج 16 برس بعد بھی جب امریکی صدر اسٹیٹ آف دی یونین سے نئے سال کا سب اہم ترین خطاب کرتا ہے۔ جب وہ امریکا کی پالیسی کا اعلان کرتا ہے تو برملا کہتا ہے ’’میں افغانستان کے حوالے سے کسی قسم کی مصنوعی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتا‘‘ یہ کیا ہے؟ یہ وہ حقیقت ہے جس میں بدمست امریکا کی شکست کا کھلا اعتراف موجود ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ثابت کرتا ہے امریکا اب بھی ہاری ہوئی اس جنگ کو جیتنے اور جاری رکھنے کی کوشش میں ہے۔ امریکا کی خواہش ہے وہ اپنی بربادی، اپنی رسوائی اور ذلالت کی کالک کسی اور کے چہرے پر ملے اور خود فتح کے شادیانے بجاتا ہوا رخصت ہو جائے۔ مثلاً آپ امریکا افغان اس جنگ کا غیرجانبدار ہو کر تجزیہ کریں تو 16سال بعد یہ جنگ سکڑ کر افغانستان کے چند مخصوص پہاڑی علاقوں تک محدود ہو جانی چاہیے تھی، لیکن حقیقت حال یہ ہے اس جنگ کے سائے اب اشرف غنی کے اقتدار کے ستونوں تک دراز ہو چکے ہیں۔ عملًااشرف غنی کا اقتدار ختم ہو چکا ہے۔ سکڑتے اقتدار اور پھیلتے طالبان کردار کو دیکھ کرافغان حکومت اور اس کا باس امریکا اب اس جنگ کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دینا چاہتا ہے۔ پاکستان پر تواتر کے ساتھ دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے پاکستان دہشت گردوں کا سہولت کار ہے اور پاکستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں ہیں، لیکن میرا سوال یہ ہے آپ چند لمحوں کے لیے پاکستان کو چھوڑیں آپ اپنے زیر سایہ افغانستان کا جواب تو پہلے دے دیں۔ سوال یہ ہے امریکا اور اس کے حواری سولہ برس کی طویل جنگ کے باوجود طالبان کا خاتمہ کیوں نہ کر سکے۔ کیا وہ امریکا جو افغانستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کا نعرہ لگا کر کودا تھا کیا اس نے افغانستان سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا۔ کیا طالبان پہلے سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو گئے؟

دنیا کو پہلے امریکا کی اس سولہ سالہ جنگ کا نتیجہ مانگنا چاہیے اور اس کے بعد پاکستان سے جواب طلب کرنا چاہیے۔پاکستان پر الزامات اسی صورت درست سمجھے جائیں گے جب آپ افغانستان میں اپنی حاکمیت اور کنٹرول ثابت کر پائیں گے۔ یہ نہیں ہو سکتا آپ جنگ ہار رہے ہوں، افغانستان دوبارہ طالبان کی دسترس میں جا رہا ہو اور آپ اپنی ناکامیوں کا طوق کسی اور کے گلے میں ڈال دیں، آپ پاکستان سے کہیں وہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے۔ یہ مطالبہ اسی صورت مانا جا سکتا ہے جب آپ افغانستان کو اپنی دسترس میں لے آئیں۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑ رہا ہے۔

یہ مانتے ہوئے بھی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی رہا، پاکستان اپنی جنگ سمجھ کر 70ہزار جانوں کا نذرانہ اور 120بلین ڈالر سے زائد کا نقصان کر چکا ہے، پھر بھی ڈومور کا مطالبہ زیب نہیں دیتا۔ ڈومور کے اس باربار کے مطالبے پر گزشتہ دنوں پاکستانی دفترخارجہ نے یہ بھی واضح کر دیا ہمیں جن 27لوگوں پر شبہ تھا وہ افغان حکومت کے حوالے کر دئیے، لیکن اس کے جواب میں امریکا اور اس کا حواری افغانستان یہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔ وہ یکسر ایسے کسی بھی فرد کی حوالگی سے انکار کر رہا ہے۔ اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے امریکا پاکستان پر دباؤ بڑھائے رکھنا چاہتا ہے اور افغانستان میں پے در پے حملوں میں شدید جانی و مالی نقصان اور ہزیمت اٹھانے پراپنی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینے کی کوششوں میں ہے۔ امریکا کی ان شاطرانہ چالوں سے دو قریبی اور برادر ممالک کے مابین نفرتوں کی خلیج پیدا کی جا رہی ہے اور امریکا کی کاسہ لیس افغان حکومت دو ہاتھ آگے بڑھ کر جلتی پر تیل ڈال رہی ہے تا کہ یہ نفرتیں اتنی گہری ہو جائیں کہ دونوں ممالک مشکلات میں ایک دوسرے کے کام نہ آ سکیں۔ یہ حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہے پاکستان نے افغانستان میں امن عمل کے لیے اپنے تئیں ہر ممکن اقدامات اٹھائے ہیں۔ پاکستان نے براہ راست افغان حکومت اور افغان فوجی قیادت سے مذاکرات کیے ہیں۔ پاکستان نے بارہا افغان طالبان سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے درجنوں مرتبہ طالبان قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستان میں طالبان نمائندوں سے کامیاب مذاکرات کئے، لیکن امریکا اور افغانستان نے ہر بار پاکستان کی ان کوششوں پر شک کا پانی پھیر دیا۔ حال ہی میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور افغان ہم منصب معصوم ستانکزئی کے مابین بھی ملاقات ہوئی اور مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت بارہا افغانستان کا دورہ کر چکی۔ وہ افغان حکومت کو مشترکہ کاوشوں پر قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ یہ یقین دلانے کی کوشش کرتی رہی کہ افغانستان کے امن سے ہی پاکستان کا امن وابتہ ہے، مگر افغانستان نے ہمیشہ ان مخلصانہ کاوشوں کا جواب الزامات کی صورت دیا ہے۔ حال ہی میں کابل کے محفوظ زون میں ایمبولینس کے ذریعے کیے گئے دھماکے کا الزام بھی پاکستان پر تھونپ دیا۔ اسی طرح گزشتہ برس اکتوبر میں کابل میں ہونے والے حملے کا ذمہ دار بھی پاکستان کو قرار دیا تھا۔ ان سنگین الزامات کی وجہ سے پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے افغان سفارتخانے کا دورہ بھی کیا اور افغان سفیر پر واضح کیا افغانستان پاکستان پر بے بنیاد الزام لگانا بند کرے، افغانستان کو چاہیے وہ الزام تراشی کی بجائے تعاون کا راستہ اپنائے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے افغان سفیر پر واضح کیایہ جنگ افغانستان اور پاکستان دونوں کی جنگ ہے ہمیں اس جنگ کو مل کر لڑنا چاہیے اور کوئی تیسرا فریق سہولت کار تو ہو سکتا ہے۔ مگر جنگ کی خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں۔ اس کھلی پیش کش کے باوجود افغانستان کی طرف سے ابھی تک کوئی حوصلہ افزاء قدم نہیں اٹھایا گیا بلکہ تواتر کے ساتھ الزام بازی کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکا اور افغانستان دونوں اس جنگ کا حل چاہتے ہی نہیں۔ وہ اس جنگ کو جاری رکھ کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ شاید یہ بھول رہے ہیں وہ پاکستان کو کمزور کرتے کرتے افغانستان کو بھی کھو بیٹھیں گے۔ اُس افغانستان کو جس کے 70فیصد علاقے پر طالبان دوبارہ اپنا پرچم لہرا چکے ہیں، جس کے 263 اضلاع میں طالبان کی سرگرمیاں سرعام جاری ہیں۔ اشرف غنی امریکی اور بھارتی ایجنڈے کی تکمیل میں پاکستان میں آگ کا کھیل نہ کھیلیں۔ یہ پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے اپنے ملک اور اپنے اقتدار کی خیر منائیں۔