• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

ــ’’سر یہ ریاست ہے یا بنانا ری پبلک؟‘‘ایوان اقبال میں ریاست اور سیاست کے تگڑے موضوع پر لیکچرکے دوران ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے تیکھا سا سوال کر دیا۔ میں نے عرض کیا: ’’بیٹا آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ کھل کر بیان کریں‘‘ نوجوان نے کھنگور کر گلا صاف کیا۔ اپنی منتشر سوچوں کو مجتمع کیا اور بولا: ’’سر میرے کہنے کا مقصد ہے یہ کیسی ریاست ہے جس میں ریاست اور ریاستی اداروں کی کوئی تکریم نہیں، جس میں اپنے اپنے ضابطے، اپنے اپنے قانون اور اپنی اپنی مفاداتی سیاست ہے، جس میں اپنی اپنی بولیاں، اپنا اپنا انصاف ہے۔ مثلاً اس ملک میں پانامہ کرپشن کا مقدمہ ملکی تاریخ کا ایک بڑا کیس تھا۔ پانامہ انکشافات میں ساڑھے چار سو پاکستانیوں کی آف شور کمپنیز کا انکشاف ہوا۔ مقدمہ فرسٹ فیملی شریف خاندان کے خلاف شروع ہوا۔ تفتیش و تحقیق کی ڈیڑھ سالہ طویل مدت کے بعد اس مقدمے کا بڑا فیصلہ آ یا۔ میاں نوازشریف نااہل ہوئے۔ عدالت نے انہیں گھر بھیج دیا، مگرعدالت کے اس فیصلے کے باوجود شریف فیملی اس فیصلے کو ماننے کیلئے تیار ہوئی نہ ہی ان کی جماعت مسلم لیگ ن۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف ملک کے طول عرض میں واویلا کرنا شروع کر دیا۔ عدالت عظمیٰ پرزبان درازی سے گریز کیا گیا نہ ہی ججز کا احترام ملحوظ خاطر رکھا گیا۔


یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ یہی لوگ تھے۔ یہی میاں نوازشریف تھے اور یہی ان کی جماعت تھی جس نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر مٹھائیاں بانٹی تھیں۔ تب عدالت کا فیصلہ کادرست بھی تھا اور قرین انصاف بھی، مگر تب پاکستان پیپلزپارٹی نے عدالت کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح تحریک انصاف پانامہ فیصلے پر انصاف کا ڈھول پیٹ رہی ہے، مگر یہی لوگ فارن فنڈنگ اور نااہلی کے مقدمے میں خود پوتر ثابت کرنے کی جستجو میں ہیں اورگمان غالب یہی ہے اگر کل کلاں ان کے خلاف بھی میاں نوازشریف نااہلی طرز کا فیصلہ صادر ہو گیا تو یہ حضرات بھی عدلیہ مخالف آسمان سر پر اٹھا لیں گے۔ سر! حال میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں فیض آباد میں دئیے گئے دھرنے کو ختم کرنے کا حکم سنایا، لیکن احتجاجیوں نے عدالت کے اس فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ آج بارہ دنوں سے دارالحکومت اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں عام شہریوں کی زندگی مفلوج ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی مین سپلائی لائن بند ہے۔ ملک کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کو جانے والے راستے بند ہیں۔ اسلام آباد ائر پورٹ جس سے عموماً وی وی آئی پی موومنٹ ہوتی رہتی ہے۔ اس ائرپورٹ کو جانے والی مین شاہراہ بند ہے، مگر مجال ہے ان احتجاجیوں کو عوام کی مشکلات کا کوئی احساس ہو یا پھر اپنے حق کیلئے دوسروں کے حقوق کا کچھ خیال ہو اور سر! حکومت جس کا کام عام آدمی کو روز مرہ زندگی میں آسائشیں فراہم کرنا ہوتا ہے جس پچھلے بارہ دنوں میں خاموش تماشائی بنی ہوئی۔ مجال ہے ان بارہ دنوں میں کہیں بھی حکومت کی کوئی رٹ دکھائی دی ہو، وزارت داخلہ جیسی تگڑی وزارت کا بنیادی فریضہ ہے وہ عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیتی۔ وہ احتجاجیوں کے ساتھ گفت و شنید کرتی، اگر معاملہ بات چیت سے حل نہ ہوتا تو ریاست اپنے وجود کا اظہار تو کرتی، مگر جناب والا ان حالات، اقدامات اور رویوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے یہ ریاست نہیں بنانا ری پبلک ہے‘‘۔ طالب علم خاموش ہوگیا۔

نوجوان کی لمبی چوڑی تمہیداور منظر کشی دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ ہمارے نوجوان حالات کا تجزیہ کرنا جانتے ہیں۔ وہ معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ میں نے نوجوان کو نشست پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اس کے بعد عرض کیا ’’میرے عزیز! آپ کا تجزیہ خوب ہے۔ حالات کا ادراک بھی خوب ہے، مگر آپ کے سوال کے جواب میں میرا بھی ایک سوال ہے۔ سوال یہ ہے یہ رویے، یہ حالات اور یہ مشکلات پیدا کیوں ہوتی ہیں؟‘‘ کلاس روم میں سناٹا چھا گیا، جب سب سٹوڈنٹس ہمہ تن گوش ہوئے تو میں نے عرض کیا ’’اس کی سب بڑی وجہ میرٹ کی پامالی اور مس مینجمنٹ ہے۔

مثلاً آپ دیکھ لیں دھرنوں، احتجاجوں اور مظاہروں سے نمٹنا وزارت داخلہ کا فریضہ ہے، مگر اس وزارت داخلہ کا سربراہ کون ہے؟ احسن اقبال وزیر ہیں۔ یہ احسن اقبال صاحب پروفیسر ہیں۔ ان کے پاس مکینیکل انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگریاں ہیں۔ یہ عملاً لیکچرار ہیں، ان کی تمام عمر ایجوکیشن سیکٹر میں دلچسپی نمایاں رہی ہے، مگر یہ اب وزیرداخلہ ہیں۔ سوال یہ ہے ایک ایسا شخص جس کی تعلیم انجینئرنگ اور بزنس کی ہو اس سے ملک کی داخلی سیکورٹی کے حوالے سے خدمات لی جائیں تو وہ کیا پرفارمنس دے گا۔ مثلاًوزارت مذہبی امور کے وزیر سردار محمدیوسف ہیں۔ یہ اسلامی ملک کی سب سے نازک، حساس اور ذمہ دار ترین وزارت ہے۔ اس منسٹری کا سربراہ ایسا شخص ہونا چاہئے جس کو علوم شریعہ پر مکمل دسترس ہو، جسے قال اللہ اور قال الرسول سے مکمل آشنائی ہو، جسے شرعی مسائل، فقہ اور علوم دینیہ کا مکمل ادراک ہو، مگر سردار محمد یوسف تو معمولی سے عالم بھی نہیں۔ کابینہ میں ایک حافظ عبدالکریم بھی شامل ہیں۔ ان حافظ صاحب کو کسی مذہبی ادارے میں خدمات انجام دینے کی بجائے کمیونیکیشن کا منسٹر بنا دیا گیا۔ کابینہ میں ایک صاحب امیر زمان ہیں، ان کے نام ساتھ مولانا آتا ہے۔ یعنی مولانا امیر زمان۔ نام کی ہی لاج رکھ لی جاتی تو انہیں بھی کسی مذہبی وزارت سے منسلک کر دیا جاتا، لیکن یہ صاحب پوسٹل سروسز کی وزارت دیکھ رہے ہیں۔ مشاہداللہ خان ان کے پاس ایل ایل بی کی ڈگری ہے۔ قانون کی موشگافیوں سے آشنا ہیں، مگر ان صاحب کا یہ قانونی علم موسمیاتی تبدیلی کی وزارت میں صرف ہو رہا ہے۔ خرم دستگیر خان الیکٹریکل انجینئر ہیں اور اکنامکس پڑھ رکھی ہے اوراس بھاری بھرکم شخص کو بھاری بھرکم وزارت دفاع سونپ دی گئی۔ اسی طرح خواجہ آصف ایک بڑا نام ہے۔ تعلیم ایل ایل بی اورعملا بینکار ہیں، مگر انہیں وزارت خارجہ جیسی مشکل وزارت تھما دی گئی۔ یہ ہے وہ اصل وجہ جس کی وجہ سے ریاست ریاست نہیں دکھائی دیتی۔ ہمارے یہاں یہ معاملہ ہر ادارے اور ہر انسٹیٹیوشن میں ہے، جس نے زندگی کی دو دہائیاں ڈاکٹر بننے کیلئے پڑھا ہو، وہ کسی منڈی میں تھوک کا کاروبار کر رہا ہوگا، جس نے شروع دن سے صرف تجارت کے گُر اور پیچیدگیوں کو سمجھا ہو اسے لیڈر بننے کا شوق چراتا ہے، جس نے وکالت کا لائسنس لے رکھا ہوگا وہ کسی میڈیکل سٹور پر دوائی بیچ رہا ہوگا، جس نے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری لی ہو گی وہ کسی اخبار میں خبروں کی چھان پھٹک کر رہا ہوگا اورجو صحافت میں سند یافتہ ہو گا وہ کسی ادارے میں ایڈمنسٹریٹر کے فرائض انجام دے رہا ہوگا۔ یہ ہے وہ المیہ جس کی وجہ سے ہمارے یہاں مسائل بحران بن جاتے ہیں‘‘۔

میں چند لمحے توقف کیا اور اس کے بعد عرض کیا ’’میرے عزیز جوانو! دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں مسائل نہ ہو۔ دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جہاں مشکلات نہ آتی ہو۔ ہر ملک اور ہر قوم کو آئے دن طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن تہذیب یافتہ قومیں ان مسائل سے فوراً نمٹ لیتی ہیں۔ مثلاً میں آپ کے سامنے جاپان کی مثال رکھنا چاہتا ہوں۔ جاپان دنیا کا شاہد واحد ملک ہے جس میں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ ہر سال سینکڑوں لوگ ان زلزلوں میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ شہر، بازار، گلیاں اور محلے تباہ ہو جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود جاپان کی انتظامیہ نے انہیں کبھی بحران میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ اس مقابلے میں ہم ہیں ہم بارہ سال گزر جانے کے باوجود زلزلہ متاثرین کو دوبارہ اپنے گھروں میں مقیم نہیں کر سکے۔ جاپان ان پے درپے زلزلوں کے باوجود آج بھی جاپان ہے۔ اس کو معاشی بحران کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے نہ ہی انتظامی بحران کا۔ اسی طرح آپ فرانس کو دیکھ لیں۔ فرانس کے شہر پیرس میں ایک دریا بہتا ہے۔

یہ دریا پیرس کو دو حصوں میں منقسم کرتا ہے۔ اس دریا میں ہر سال سیلاب آتا تھا جس سے پیرس شہر کے دونوں حصے بری طرح تباہ ہو جاتے تھے، مگر فرانس کی حکومت نے اس مسئلے کو جڑ سے نکال باہر پھینک دیا۔ انتظامیہ نے دریا کا رخ اس انداز سے بدلا کہ اب جتنا بھی طوفان آ جائے پانی کا زور اس کے بل کھاتے ساحل سے ٹکرا کر کم ہو جاتا ہے۔ مثلاًامریکا میں صرف ایک ورلڈ الیون طرز کا واقعہ رونما ہوا۔ آج اس واقعے کو سولہ سال بیت گئے، مگر ان سولہ برسوں میں دوبارہ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ سامنے نہیں آیا، کیوں؟ اس لئے کہ امریکی پالیسی سازوں، امریکی سیکورٹی حکام نے ان نوع کے واقعات سے نمٹنے کا حل تلاش لیا۔ مثلاً تہذیب یافتہ قوموں اور ملکوں میں بھی احتجاج اور مظاہرے ہوتے ہیں۔ حکومت مخالف لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر آ جاتے ہیں، لیکن یہ احتجاج بڑے منظم اور پر امن ہوتے ہیں۔ ان کی جگہ، وقت اور مطالبے کا تعین ہوتا ہے۔ انتظامیہ معاہدے کے بعد احتجاج کی اجازت دیتی ہے۔ شرکاء وقت پر ریلی نکالتے ہیں۔ مرکزی مقام تک جاتے ہیں۔ مظاہرہ کرتے ہیں۔ نعرے لگاتے ہیں اور وقت مقررہ پر پرامن طریقے سے منتشر ہوجاتے ہیں۔

انتظامیہ ان احتجاجوں کی کوریج کیلئے ملک بھر کا میڈیا فراہم کرتی ہے۔ ان کا مطالبہ نیشنل ٹی ویژن پر دکھایا جاتا ہے اور حکومت ان مطالبوں کو حتی المقدور پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ایک ہم ہیں۔ جب جہاں اور جس وقت، جو بھی چاہے۔ پچاس سو بندہ اکٹھا کرے اور ریاست کے خلاف کھڑا ہو جائے، یہ واقعی ریاست کی ناکامی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور حکومت کے پالیسی ساز ادارے آج تک کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکے۔ کوئی ایسی پالیسی ترتیب نہیں دے سکے جس سے احتجاجوں اور مظاہروں کی جمہوری حق کی اجازت بھی ہو، مگر یہ تہذیب اور ایک طے شدہ دائرے میں رہ کر ہو۔ یہ نالائقی محض اس لئے ہے کہ یہاں میرٹ کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ اہل لوگوں کو ان کے موافق اداروں میں تعینات نہیں کیا جاتا اور یہ ہے اس ریاست میں مسائل کو بحرانوں تک لے جانے کی بنیادی وجہ‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’جب تک ریاست اور ریاستی ادارے اس طرف توجہ نہیں دیں گے اس وقت تک ہمارے مسائل میں کمی نہیں اضافہ ہوگا اور جس دن ریاست نے میرٹ پر فیصلے کرنا شروع کر دئیے، جس وقت لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق خدمات سونپی جانے لگیں اس وقت اس ریاست کا حلیہ بدل جائے۔ اس دن اس ملک کے تمام مسائل ایک ایک کر کے حل ہو جائیں گے، اس دن پاکستان آگے بڑھ جائے گا‘‘۔ میں خاموش ہو گیا اور ہال تالیوں کے شور سے گونج اٹھا۔