• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

امریکی وزیر دفاع جیم میٹس نے 25ستمبر کو بھارت کا دو روزہ دورہ کیا۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد کسی بھی امریکی وزیر کا پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ اس لئے بھی اہم تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے بعد افغانستان میں بھارتی کردار کو بڑھاوا دینے کے لیے بھارت کو قائل کیا جانا تھا۔امریکی وزیردفاع نئی دہلی میں اترے تو ان کا پورے فوجی اعزاز کے ساتھ شاہانہ استقبال کیا گیا۔ یوں لگ رہا تھا بھارتی سرزمین پر امریکی وزیر دفاع نہیں امریکی صدر اتر آئے ہوں۔اس دورے میں امریکی وزیردفاع نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، بھارتی وزیردفاع نرمالا سیتھا رام اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں بھارت کو دفاعی تعاون بڑھانے، بھارت کو 15 ارب ڈالر کا فوجی سازو سامان مہیا کرنے، ایف سولہ طیارے فراہم کرنے اور گارڈین ان مینڈ ائرئیل وہیکل یا ڈرون دینے پر گفتگو کی گئی مگر اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھارتی کردار کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ افغانستان میں بھارت کو کھل کر کھیلنے کے لیے تھپکی بھی دی گئی۔


امریکا گزشتہ تین سال سے بھارت پر کچھ زیادہ ہی مہربان دکھائی دے رہا ہے۔ امریکا بھارت کو بڑا دفاعی پارٹنر بنانا چاہتا ہے۔ ایشیائی خطے میں بھارت کو چودھری بنانے کا امریکا کا یہ خواب دیرینہ ہے۔ 2016 سے امریکا نے بھارت کو میجر ڈیفنس پارٹنر قرار دے رکھا ہے اور دونوں ممالک کی ان قربتوں میںیہ خطہ ایک نئے شیطانی کھیل سے دوچار ہونے جا رہا ہے۔ آپ بھارت پر امریکی مہربانیاں ملاحظہ کیجئے۔ 12 اپریل 2016 کو نئی دہلی میں بھارتی وزیر دفاع . منوہرپاریکراور امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کے درمیان فوجی تعاون کے معاہدے کا ڈرافٹ تیار ہوا۔ 30 اگست 2016 کو امریکا بھارت فوجی تعاون کے اس معاہدے پر امریکا میں دستخط ہوئے۔ اس معاہدے میں طے پایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے زمینی، فضائی اور بحری بیس استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر فوجی ساز و سامان کی مرمت، فراہمی اور ایندھن بھر سکیں گے۔ امریکا نے بھارت کو نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل کرنے کے لیے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا یا۔ آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہو گی بھارت امریکا سے فوجی سازو سامان برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ آپ اس سے بھی اندازا لگا لیں بھارت نے امریکا سے 2007 سے 2016 تک 14 ارب ڈالر کے معاہدے کئے اور اب آگے چل کر ایف16 اور جدید ترین ڈرونز کے معاہدات تکمیل کو پہنچیں گے۔ دونوں ممالک کی ان قربتوں اور افغانستان میں گٹھ جوڑ سے خطہ شدید ترین جنگی خطرات سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان میں بھارت کے پائوں مضبوط کرنے کے لیے امریکا بھارت کو امداد فراہم کرر ہا ہے اور بھارت اسی امداد سے افغانستان میں تعمیر و ترقی کے نام پر تعاون کرر ہا ہے۔ یہ افغان اسمبلی کی تعمیر ہو، ستور محل کی تعمیر ہو، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر ہو،بھارت اپنے شہریوں کو بھوک اور غربت کی آگ میں جھونک کر افغانستان کی تعمیر و ترقی کر رہا ہے۔ ستور محل کی تعمیر پر 57 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے اور اس میں بڑا حصہ بھارت کا تھا۔بھارت نے چار گن شپ ہیلی کاپٹر افغانستان کے حوالے کئے۔ ہزاروں افغان فوجیوں کو اپنی سرزمین پر تربیت دے رہا ہے۔

دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے بھارت افغانستان کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ افغان خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی تربیت سے لے کر مالی اور فزیکلی امداد تک بھارت افغانستان پرمہربان دکھائی دے رہا ہے۔آپ اس سے اندازا لگا لیں اس وقت بھارت افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔2002 ئ￿ سے لے کر آج تک بھارت افغانستان کو دو کھرب سے زائد روپوں کی امداد دے چکا ہے۔سوال یہ ہے آخربھارت افغانستان کے دکھوں کا مداوا کیوں چاہ رہا ہے۔ اس کو افغانستان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا احساس کیوں کر پیدا ہوا حالانکہ افغانستان اور بھارت کی آپس میں کوئی مشترکہ سرحد نہیں، کلچر ایک نہیں، مذہب ایک نہیں، سمندری حدود نہیں مگر اس کے باوجود بھارت افغانستان پر فریفتہ ہو ئے جارہا ہے۔ یہ مقام فکر ہے اور یہ ہے دشمن کی اصل چال۔ اب آپ ان تعلقات کو بڑے سانچے میں لا کر دیکھیں۔ ایشیائی ممالک میں بھارت، افغانستان، ایران وغیرہ امریکی کیمپ میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور دوسری طرف روس، چین اور پاکستان کا علیحدہ بلاک بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی پوری دنیا پر عیاں ہے۔ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں سی پیک کوری ڈور کے منصوبے نے اغیار کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ امریکا اور بھارت کو جب سے اس اقتصادی منصوبے کی بھنک پڑی ہے یہ تب سے پاکستان اور چین مخالف چالوں میں مصروف کار ہیں۔ امریکا بھارت کو چین کے مقابل کھڑا کرنے کے لیے دفاعی طور پر تگڑا کر رہا ہے اور پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بھارت کا افغانستان میں کردار بڑھا رہا ہے۔ اسرائیل بھی امریکی اور بھارتی اس منصوبے میں مکمل طور پر شامل مددگارہے۔ یہ سب مل کر دہشت گردانہ کارروائیوں اور خفیہ آپریشنز کے نام پر چین اور پاکستان کی اقتصادی شہ رگ سی پیک کا گلہ گھوٹنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک نجی محفل میں ایک صاحب جن سے میرا تعارف نہیںبتا رہے تھے کہ سی پیک کو تباہ کرنے کے لیے امریکا، بھارت اور افغانستان نے پاکستان پر حملے کا منصوبے بنارکھا تھا۔ یہ حملہ سی پیک روٹ پر کیا جاتا۔ بظاہر یہ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے نام پر حملہ ہوتا مگر اس سے پاک چین اقتصادی کوری ڈور کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جاتا۔ان صاحب کا کہنا تھا افغانستان میں اس حملے کی مکمل منصوبہ بندی کی جا چکی تھی۔ امریکن جنگی طیاروں پر افغان فورسز کا پینٹ بھی کیا جا چکا تھا۔ لڑاکا طیاروں پر افغانستان کا جھنڈا بھی پینٹ کر دیا گیا تھا مگر پھر پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو اس خوفناک منصوبے کی بھنک پڑ گئی۔ افغان سفیر عمر زخیل وال کو جی ایچ کیو طلب کیا گیا۔ آرمی چیف سے ان کی ملاقات کرائی گئی اور آرمی چیف نے افغان سفیر سے ان مکروہ عزائم پر جواب طلب کیا تو افغان سفیر ہکابکا رہ گیا۔ اس نے پوچھا آپ کو یہ اطلاع کس نے دی؟ اسے بتایا گیا پاکستان اپنے دفاع سے اتنا غافل نہیں کہ وہ دشمنوں کی کارستانیوں پر نظر نہ رکھ سکے۔ بتانے والے صاحب بتا رہے تھے یہ وہی خوفناک منصوبہ تھا جس کا اظہار سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بارہا اپنی پریس کانفرنسز میں کرتے رہے۔ وہ بارہا یہ کہتے رہے ملک پر شدید خطرات منڈلا رہے ہیں اور پاکستان کی سالمیت کو درپیش اس منصوبے کی اطلاع صرف پانچ لوگوں کو ہے۔

آپ امریکا، بھارت اور افغانستان کی ان چالوں کو سامنے رکھیں گے اور پھر چین، روس اور پاکستان کے گرم جوش تعلقات کو دیکھیں۔ یہ تینوں ملک بھی تیزی سے قریب آ رہے ہیں۔ پاکستان اور روس نے حال میں’’دروزبہ‘‘ نامی فوجی مشقیں کی ہیں۔ روس اقتصادی راہداری سے منسلک ہونے کا شدید خواہشمند بھی ہے اورچین اور روس کے ایک دوسرے سے روابط میں مزید گہرائی دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہ تمام تر صورتحال ثابت کرتی ہے جنوبی ایشیائی خطہ ایک خوفناک جنگ کے دھانے پر کھڑا ہے۔ دنیا کے چھ بڑے ممالک دو بڑے بلاکس میں منقسم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی ایک ملک کی معمولی سی لغزش، ایک چھوٹی سی کوتاہی اور ایک ذرا سی غلطی اس پورے خطے کو جہنم بنا ڈالے گی اور اس سے دنیا تیسری عالمی جنگ کا شکار ہو جائے گی۔ چین اور امریکا کی ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کی اس تگ و دو میں شکست اور کامیابی کس مقدر ہوگی یہ بعد کی بات مگر جنوبی ایشیائی خطے کے دوسرے ممالک دیوقامت ہاتھیوں کے پائوں میں چیونٹی کی مانند کچلے جائیں گے اور امریکا اور اس کا حواری بھارت اس تیسری عالمی جنگ کے شیطان ثابت ہوں گے۔