• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

5 مئی 2017ء کو افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقے چمن میں مردم شماری ہو رہی تھی۔ افغان فوجی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے چمن کے گائوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں گھروں پر قبضہ کیا۔ مقامی لوگوں کو محصور کیا۔ پاکستانی شہریوں نے مزاحمت کی تو انہوں نے فائرنگ کے 13پاکستانی شہریوں کو جام شہادت پلا دیا۔ اس سنگین واقعے کے فوری بعد پاک فوج حرکت میں آئی۔ انہوں نے افغان فوج پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ 50سے زائد افغان فوجیوں کو ہلاک، پانچ چوکیوں کو تباہ اور دیگر فوجیوں کو بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔ پاک فوج کی جوابی اور منہ توڑ کارروائی پر افغان حکام نے فوری جنگ بندی کی درخواست کی اور یوں یہ جنگ وقتی طور پر تھم گئی مگر تب سے آج سات دنوں سے چمن کا باب دوستی بند ہے۔ دوطرفہ تجارتی ٹرانسپورٹ معطل ہے اور دونوں ممالک میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ چمن کے اس سانحے سے پہلے 29اپریل کو پاکستان کے15رکنی اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا۔ اس وفد نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تنائو کو کم کرنے پر اتفاق کیاگیا۔ دہشت گردی اور اس سے جڑے تمام امراض کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے مابین اتفاق رائے ہوا۔

اس سے بھی قبل 15 مارچ کو لندن میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں بھی دوطرفہ تعاون کا یقین دلایا گیامگر سوال یہ ہے پھراچانک افغانستان کو کس سانپ نے ڈنگ مارا کہ وہ چمن بارڈر پر چڑھ دوڑا؟ اس سوال کے پیچھے افغانوں کی سواسو سال پرانی سوچ کارفرما ہے۔ افغانوں نے1893ء سے لے کر آج تک ڈیورنڈ لائن کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ وہ آج بھی دریائے سندھ تک کے علاقوں کو افغانستان کا علاقہ سمجھتے ہیں اور چمن کے اس سانحے کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما تھی۔ افغانستان چمن کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔ خاص طور پر کلی لقمان اور کلی جہانگیر ایسے علاقے ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان منقسم ہیں۔ بھلے دنوں میں ان علاقوں کے رہائشی سرحد کے آر پار آتے جاتے رہتے ہیں۔ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں اور ان کے لیے سرحد پار کرنا کوئی مسئلہ بھی نہیں چنانچہ پاکستان کی جانب سے ان علاقوں میں مردم شماری کرانا افغانستان کو ہضم نہ ہو سکا۔ ظاہر ہے مردم شماری سے ان علاقوں کے رہائشی پاکستانی شہری ڈکلیئر ہو جاتے۔ ان کا ڈیٹا حکومت پاکستان کے پاس چلا جاتا اور یہ بھی معلومات مل جاتیں ان علاقوں میں کون کون افغان باشندہ غیر قانونی طور پررہائش پذیر ہے۔ یوں اس مردم شماری سے افغانستان کے ایک صدی سے زائد کے موقف کو ٹھیس اور مفادات کو زک پہنچتی لہٰذا افغان فورسز کا یہ حملہ مردم شماری کے اس عمل کو روکنے اور ان علاقوں پر اپنی اجارہ داری ثابت کرنے کی گھنائونی کوشش ہے۔

دوسری وجہ پاکستان مخالف دشمنوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ کون نہیں جانتا بھارت افغانستان میں بیٹھ کر کیا گل کھلا رہا ہے۔ بھارت افغانستان پر اتنا مہربان کیوں ہے۔

بنیادی طور پر اس حملے کے پیچھے اصل محرک بھارت ہی تھا۔ بھارتی خفیہ ایجنسیاں افغان فورسز کی مدد کر رہی ہیں۔ یہ ان کو گائیڈ لائن اور مدد فراہم کر رہی ہیں اور یہ بلواسطہ طور پر افغان فورسز کے ذریعے پاکستان کی مغربی سرحد کو بھی کشیدہ رکھنے کی کوشش میں ہیں، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے بھارت پاکستان کو دبائو میں لا کر کیا مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بے شمار مفادات ہیں، مگر میں یہاں بھارت کاصرف ایک اہم ترین مفاد آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ بھارت میںاس وقت نو بڑی علیحدگی پسند تحاریک چل رہی ہیں۔ بھارت کی قریباً سولہ ریاستوں میں باغیانہ سوچ تیزی سے پنپ رہی ہے۔ بھارت کو ان علیحدگی پسندوں کو دبائے رکھنے کے پیچھے پاکستان کو کمزور کرنا مقصود ہے لیکن سوال یہ ہے غیر مستحکم پاکستان اوران تمام علیحدگی پسند تنظیموں میں ایسا کون سا ربط ہے جس کی وجہ سے بھارت پاکستان کو کنگال دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ معلومات آپ کے لیے یقینا انتہائی دلچسپ ہوں گی۔ متحدہ ہندوستان کے بطن سے پاکستان کا وجود پذیر ہونا متحدہ ہندوستان کے لیے ناقابل برداشت گھائو تھا۔ پاکستان کی علیحدگی اوراستحکام ان باغی ریاستوں کے جذبے کو تقویت دینے کے لیے کافی ثابت ہو سکتا ہے۔ مثلاً جس طرح پاکستان نے تمام تر سازشوں کے باوجود دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ دنیا کی پہلی اسلامک اسٹیٹ کا درجہ حاصل کیا۔ دنیا کی چھٹی بڑی فوج نہ صرف تشکیل دی بلکہ مشکل ترین حالات میں نبردآزما ہو کر کامیابیاں سمیٹنے والی دنیا کی پہلی بہادر فوج قرار پائی۔ جس طرح پاکستان نے ابتدائی تیس برسوں میں معاشی گروتھ میں سارے ایشیائی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا اور جس طرح لٹے پٹے پاکستان نے آگے چل کر اپنے تمام ادارے قائم کئے اور وطن کی سالمیت کو استحکام بخشا۔ اسی طرح اب پاکستان ایک بار پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے، معاشی ترقی کو بلندیوں پر لے جانے، ترقیاتی کاموں سے پاکستان میں خوشحالی لانے اور دنیا بھر میں اپنی جغرافیائی اہمیت اجاگر کر لینے کی وجہ سے سونے کی چڑیا بننے جا رہا ہے۔ سی پیک جیسے دوراندیش اور گیم چینجر منصوبوں سے پاکستان کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور پاکستان کایہ استحکام، یہ ترقی بھارت کے لیے زہر قاتل ہے۔ کیوں؟ ا س لیے نہیں کہ پاکستان کی ترقی سے بھارت پیچھے رہ جائے گا۔ یہاں عوام خوشحال ہوں گے اور وہاں غربت بسیرے ڈالے رکھے گی۔ پاکستان کی خوشحالی، ترقی اور استحکام بھارت کے لیے اس لیے زہر قاتل ہے کہ اس سے بھارت میں موجود علیحدگی پسندوں کو تقویت ملے گی۔ باغیانہ سوچوں میں یہ عنصر غالب آئے گا کہ پاکستان نے ہندوستان سے علیحدگی لی تو ایک مکمل اورخوشحال ریاست بن گیا۔ ہم بھی بھارت سے علیحدگی اختیار کریں۔ آزادی و خودمختاری سے لطف اٹھائیں اور اپنا مستقبل بھی خود تراشیں۔

پاکستان کی ترقی کا یہ پیغام بھارت کے لیے ہائیڈروجن بم پھاڑنے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور بھارت اس ترقیاتی بم کو پھٹنے سے پہلے ہی ناکارہ کرنا چاہتا ہے۔ بھارت، اس کے خفیہ ادارے اور سازشی ہاتھ ہمہ وقت اس تگ و دو میں ہیں پاکستان معاشی لحاظ سے ابھر کر سامنے نہ آئے۔ آپ انسانی فطرت پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا انسان ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہتا ہے۔ انسان کبھی بھی غربت و افلاس زدہ علاقوں کا رخ نہیں کرتا، قومیں ہوں یا افراد یہ کبھی بھی بھوک و ننگ، تباہی و بربادی اور غربت و پسماندگی کو رول ماڈل نہیں بناتے یہ ہمیشہ ترقی و خوشحالی اورپرسکون زندگی کو مشعل راہ سمجھتے ہیں لہٰذا اگر پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوجاتا ہے تو فطری طور پر بھارتی علیحدگی پسندوں کے جذبے جوان ہو جائیں گے اور انہی جذبوں کو کچلنے کے لیے بھارت پاکستان میں معیشت کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہے۔ آپ اس سلسلے میں کراچی کی بدامنی سے لے کر بلوچستان میں قتل و غارت گری تک اور کنٹرول لائن کی کشیدگی سے لے کر مغربی سرحدوں پر حملوں تک نظر دوڑائیں تو بھارت کا یہ سارا کھیل آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔ جب پاکستان کی سرحدیں غیر محفوظ ہوں گی۔ پاک فوج آپریشنل رہے گی۔ یہ پچھلے ستر برسوں سے مشرقی بارڈر پر ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ فوجوں کو آپریشنل کرنااور اس کو ہمہ وقت تیار رکھنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس پر اربوں کے اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔ ہم پانچ چھ دہائیوں سے مشرقی بارڈر کی نازک صورتحال کی وجہ سے کھربوں روپے کا بوجھ اٹھا چکے ہیں۔ سرحدوں کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ اخراجات معیشت پر سیدھے بم بن کر گرتے ہیں اور بھارت ہماری افواج کو مشرقی و مغربی سرحدوں پر لگا کر ہماری معیشت کو دبائو میں رکھنا چاہتا ہے۔ دوسرا پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات اوربدامنی کو ہوا دے کر ہماری معیشت کو تباہ کرنے پر تلا ہے۔ آپ وقتی طور پر سی پیک کو بھی چھوڑ دیجیے۔ آپ پاکستان کے سیکورٹی اخراجات کو ہی لیجیے۔ پاکستان سیکورٹی پر جتنے اخراجات اٹھا رہا ہے اگر یہی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود، ترقیاتی کاموں یا انڈسٹریل زونز کے قیام پر خرچ کئے جائیں تو پاکستان سے غربت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جائے، مگر چونکہ پاکستان کے دشمن اسے تگڑا نہیں دیکھنا چاہتے لہٰذا یہ پاکستان کو کنگال کرنے کے درپے ہیں اور جب ملک معاشی طور پر کمزور ہوجاتے ہیں تو ان کامضبوط سے مضبوط دفاع بھی گھٹنوں کے بل آ جاتا ہے۔ یہ افغانستان بن جاتے ہیں۔ یہ عراق ہو جاتے ہیں جن سے عالمی استعماری طاقتیں کھلونے کی طرح کھلواڑ کرتی ہیں اور یہی ہندوبنیے کی پاکستان مخالف سوچ ہے۔ یہی بھارت کا شاطرانہ کھیل ہے۔