• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

سازش کی پہلی اینٹ

مشرق وسطیٰ ایک نئی سازش کے جال میں پھنسنے جا رہا ہے۔ مرکز اسلام سعودی عرب سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کردئیے ہیں۔ قطر کی فضائی اور زمینی حد بندی کردی گئی۔ قطر ایرویز کا آپریشن روکنے سے قطر کو کروڑوں ڈالر یومیہ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ قطر ایرویز دنیا کی واحد ایرلائن ہے جس نے یورپ اور ایشیا کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے، مگر چھ عرب ممالک کی جانب سے قطر کو تنہا کر دینے کے بعد اب قطر اور یورپ کا فضائی راستہ بڑھ جائے گا۔ یہ چھ گھنٹوں سے نو گھنٹوں تک دراز ہو جائے گا جس سے مسافر دوسری پروازوں کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح زمینی راستوں کی بندش سے اشیائے خورونوش کی ترسیل رک گئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان کاترقیاتی منصوبہ بھارت کے لیے موت

5 مئی 2017ء کو افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقے چمن میں مردم شماری ہو رہی تھی۔ افغان فوجی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے چمن کے گائوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں گھروں پر قبضہ کیا۔ مقامی لوگوں کو محصور کیا۔ پاکستانی شہریوں نے مزاحمت کی تو انہوں نے فائرنگ کے 13پاکستانی شہریوں کو جام شہادت پلا دیا۔ اس سنگین واقعے کے فوری بعد پاک فوج حرکت میں آئی۔ انہوں نے افغان فوج پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ 50سے زائد افغان فوجیوں کو ہلاک، پانچ چوکیوں کو تباہ اور دیگر فوجیوں کو بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔ پاک فوج کی جوابی اور منہ توڑ کارروائی پر افغان حکام نے فوری جنگ بندی کی درخواست کی اور یوں یہ جنگ وقتی طور پر تھم گئی مگر تب سے آج سات دنوں سے چمن کا باب دوستی بند ہے۔ دوطرفہ تجارتی ٹرانسپورٹ معطل ہے اور دونوں ممالک میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ چمن کے اس سانحے سے پہلے 29اپریل کو پاکستان کے15رکنی اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا۔ اس وفد نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تنائو کو کم کرنے پر اتفاق کیاگیا۔ دہشت گردی اور اس سے جڑے تمام امراض کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے مابین اتفاق رائے ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا

گزشتہ دنوں ایک بھارتی تاجر سجن جندل کی وزیراعظم نواز شریف سے خفیہ ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات پرفضا مقام مری میں ہوئی۔ سجن جندل چھوٹے سے وفد کے ہمراہ کابل سے پرائیویٹ جہاز پر اسلام آباد پہنچا۔ اسے خفیہ طور پر مری پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اس نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ نہ صرف ملاقات کی، بلکہ وزیراعظم کے ہمراہ کھانا بھی کھایا۔اس ملاقات کی خبر سامنے آ جانے پر سیاسی ایوانوں اور صحافتی اداروں کی طرف سے متعدد سوالات سامنے آرہے ہیں۔ وزیراعظم نے بھارتی تاجر سے خفیہ ملاقات کیوں کی؟ بھارت کشمیر میں انسانیت کا قتل عام کررہا ہے اور وزیراعظم بھارتیوں سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں؟ کیا یہ ملاقات بیک ڈور ڈپلومیسی ہے؟ کیا جندل میاں نوازشریف کو مودی کا پیغام دینے آئے تھے؟ اور کیا بطور وزیراعظم انہیں دشمن ملک کے تاجروں سے ذاتی نوعیت کی ملاقات کرنی چاہیے یا نہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا ابھی تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا، تاہم لیگی رہنمائوں کے مطابق یہ ملاقات ذاتی نوعیت کی تھی، مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ سجن جندل کون ہے؟ اس کے بھارتی سرکار سے کیا رابطے ہیں؟ اور یہ میاں نوازشریف کے اتنے قریب کیوں ہے؟ آپ جب یہ جان لیں گے تو ساری کہانی کھل کر آپ کے سامنے آ جائے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی

یہ 22؍ جولائی 2011ء کا دن تھا اور ملک تھا ناروے۔ ناروے کا ایک جزیرہ ہے ’’اوٹویا‘‘۔ یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے اور اس کے چاروں اطراف سمندر ہے۔ یہ ایک پرفضا مقام ہے جہاں گرمیوں کے موسم میں لوگ کیمپ لگاتے ہیں اور زندگی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ 22؍ جولائی کو یہاں درجنوں کیمپ لگے تھے۔ ان میں سینکڑوں مرد و خواتین موجود تھے کہ اچانک ان پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ یہ کیمپوں سے نکل کر بھاگے تو اسی اثناء میں ایک زور دار دھماکا ہوا اور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھر گئیں۔ اس واقعے میں کل 69 لوگ ہلاک ہوگئے۔ اسی سے 2 گھنٹے پہلے ایک دوسرے جزیرے پر اسی شخص نے ایک وین پر بم پھینکا اور اس میں 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ آور اینڈرس بیرنگ بریوک تھا۔ یہ ناروے کا رہائشی اور جنگجو تھا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کڑے فیصلے کا وقت

کلبھوشن یادیو اور کرنل (ر) حبیب بھارت کی شاطرانہ چالوں کا تازہ تازہ عکس ہے۔ آپ پہلے کلبھوشن یادیو کو لے لیجیے۔ کلبھوشن یادیو کا فرضی نام ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ تھا۔ یہ بھارتی ریاست مہاراشٹر کا رہائشی تھا۔ یہ پولیس افسران کے خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے 1987ء میں بھارتی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی۔ 1991ء میں بھارتی نیوی میں ملازمت اختیار کی اور 2001ء تک یہ بھارتی نیوی کا ملازم رہا، مگر بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد اسے انفارمیشن اور انٹیلی جنس جمع کرنے کی ڈیوٹی سونپی گئی۔ اس نے 2003ء میں انٹیلی جنس آپریشنز شروع کیے۔ یہ ایرانی بندرگاہوںچاہ بہاراور بندرعباس پر کاروباری شخصیت کے روپ میں اترا۔ اس نے ان بندرگاہوں کو اپنی آماجگاہ بنایا۔ بزنس مین کا روپ دھارا اور پاکستان میں خفیہ کارروائیوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ یہ اس سلسلے میں 2003ء اور 2004ء میں کراچی بھی آیا اور اس نے بلوچستان تک رسائی بھی حاصل کرلی۔ اس نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں سے رابطے قائم کیے۔ انہیں فنڈنگ شروع کی۔ کراچی اور پاکستان میں ان باغیوں کے ذریعے فساد و قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا۔ پاکستانی انٹیلی جنس کو اس کی فون کالز سے شک کا شبہ گزرا۔ پاکستانی انٹیلی جنس نے اس کی نگرانی شروع کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دشمن کو واضح پیغام

اسلام آباد کے ایک طرف معروف سیاحتی مقام ’’شکرپڑیاں‘‘ ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور ان پہاڑیوں کے نوک پر مانومینٹ کی خوبصورت عمارت ایستادہ ہے۔ یہ عمارت پاکستان کے چاروں صوبوں کی نمایندہ عمارت ہے۔ اس عمارت کے پہلو میںوسیع و عریض ڈیموکریسی گرائونڈہے۔ یوم آزادی اور یوم پاکستان پر افواج پاکستان کی پریڈ اسی گرائونڈ سے براہ راست دکھائی جاتی ہے۔ اس بار بھی یوم پاکستان کی عظیم الشان پریڈ اسی گرائونڈ میں ہوئی، مگر یہ پریڈ پاکستان کی تاریخ کی سب سے جداگانہ پریڈ تھی۔ افواج پاکستان کے چاک و چوبند دستوں، لڑاکا طیاروں کی سبک رفتار مہارت، آرمی ایوی ایشن اورنیوی ہیلی کاپٹروں کے دیدہ زیب انداز، براق ڈرون طیاروں، ائر ڈیفنس سسٹم اور غوری اور شاہین میزائلوں کے دل لبھانے والے مناظر نے قوم کے جذبہ حب الوطنی کوسرشار کیا۔ یہ پریڈ اس لیے جدا تھی کہ تاریخ میں پہلی بار چین، ترکی اور سعودی عرب بھی شریک ہوئے۔ چین کے چاک و چوبند فوجی دستے کی سلامی، سعودی عرب کے فوجی دستے کی پریڈ اور ترکی کے بینڈ دستے نے پاکستانی ملی نغموں کی دھنیں بکھیر کر پوری قوم کے دل جیت لیے۔ پریڈ محض پریڈ ہی نہیں تھی، یہ ایک کھلا پیغام اور طاقت کے اظہار کی واضح علامت بھی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخی دن تاریخی قرارداد

23 مارچ 1940 ء کا تاریخی دن ہماری تاریخ میں ایک زریں باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دل نواز ساعت اور خوش نصیب گھڑی تھی جب ہماری قسمت کا ستارہ چمکا تھا۔ لاہور کے اقبال پارک میں قائداعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا تھا اور اس میں برصغیر کے کونے کونے سے مسلمانوں کے برگزیدہ رہنمائوں نے شرکت کی تھی۔ یہ دن تحریک آزادی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس دن ایک قرارداد کے ذریعے مسلمانان برصغیر نے ایک علیحدہ اور آزاد وطن کا مطالبہ کیا۔ اپنی آزادی کی منزل کی جانب نہایت تیزی سے بڑھتے گئے اور قائداعظم کی قیادت میں صرف سات سال ہی میں آزادی حاصل کر لی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیطانی ٹرائیکا

’’اجیت ڈوول‘‘ بھارتی وزیراعظم کا قومی سلامتی کا مشیر ہے۔ یہ اس سے پہلے بھارتی خفیہ ایجنسی آئی بی کا ڈائریکٹر بھی رہ چکا ہے۔ اس اجیت ڈوول کی ایک بریفنگ گزشتہ برس منظر عام پر آئی تھی۔ اس بریفنگ میں اجیت ڈوول نے پاکستان مخالف بھارتی پالیسیوں سے متعلق اپنے عوام کو آگاہ کیا تھا۔ ان صاحب کے بقول ممبئی اور اس طرز کے دیگر حملوں کے بعد بھارت ڈیفنس موڈ سے نکل کر افینس موڈ میں چلا گیا ہے۔ مطلب بھارت دفاعی حکمت کی بجائے جارحانہ پالیسی اختیار کرے گا اور عام جنگ کی بجائے خفیہ چالوں سے پاکستان کوسبق سیکھائے گا۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں بھارت اپنا شیطانی کھیل کھیلے گا۔ پاکستان کی مغربی سرحدوں سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرے گا۔ سیاسی طور پر بحران پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ دہشت گرد قرار دے کر دنیا بھر میں تنہا کر دے گا۔ یہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کا اپنے عوام سے پالیسی بیان تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک اچھا فیصلہ

یہ ہے فاٹا اور اس کے قبائلی علاقہ جات کا قانون یا سزا و جزا کا رواج۔ جہاں ملزم کی زندگی کا فیصلہ سرکردہ عمائدین کے ہاتھوں میں ہوتا یا پھر پولیٹیکل ایجنٹ کے ہاتھ میں۔ یہ پولیٹیکل نمائندہ بذات خود شکایت کنندہ بھی ہوتا، منصف بھی، پولیس کا سربراہ بھی اور جیلر اور جلاد بھی۔ فاٹا کی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ یہی پولیٹیکل ایجنٹ اور سردار اور مَلک ہیں۔ ملزم کو اپنی صفائی کاحق حاصل ہے نہ ہی وہ سزا کے خلاف کسی دوسرے جج، کسی دوسری عدالت میں جا سکتا ہے، بس جرگے کا فیصلہ حتمی اور اخیر ہے، فاٹا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی نگرانی سے بھی باہر ہے۔ مطلب ملزم کے پاس اپیل کا حق تک نہیںاور فاٹا کے اس قانون کو ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ قانون 1871ء میں برطانوی راج نے نافذ کیا تھا۔ 1901ء میں اس میں کچھ مزید شقیں شامل کی گئیں بعدازاں میں مزید شقیں بھی ڈالی گئیں اور یہ بڑھ کر 62 شقیں ہو گئیں۔ اس میں بہت سی خامیاں ہیں اور ان علاقوں میں باقی پاکستانی قانون کا عمل دخل نہیں۔ فاٹابنیادی طور پر سات ایجنسیوں اور چھ ایف آرز پر مشتمل علاقہ ہے۔ اس میں باجوڑ، مہمند ایجنسی، خیبرایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور اورکزئی کے علاقے شامل ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کے مسلم کش اقدامات

ملکہ مَیری برطانیہ کی پہلی کوئین تھی۔ یہ پانچ سال تک برطانیہ کی ملکہ رہیں۔ برطانیہ کی تاریخ میں اسے ’’بلڈی مَیری‘‘ یعنی ’’خونی مَیری‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کیوں؟ اس کی وجوہات بہت دلخراش ہیں۔

ملکہ مَیری کیتھولک مذہب سے متاثر تھیں۔ وہ اپنے مذہب کے حوالے سے انتہا پسندانہ رجحانات رکھتی تھیں۔ ملکہ نے منصب سنبھالا تو اس زمانے میں انگلستان میں پروٹسٹنٹ مذہب کا نیا نیا، مگر بہت پرچار تھا۔ برطانیہ کے شہری پروٹسٹنٹ مذہب میں گندھے جا چکے تھے۔ پروٹسٹنٹ نے بائبل میں ترامیم کر لی تھیں اور نئے نام سے بائبل بھی معاشرے میں رائج ہو چکی تھی۔ جان روجرز نامی ایک شخص نے میتھیو نامی نئی بائبل تالیف کی اور آگے چل کر یہی بائبل کنگ جیمز ورژن کی بنیاد بنی۔ میں آپ کی معلومات کے لیے عرض کرتا چلوں اس نئی بائبل میں کیتھولک کے ماننے والوں کے خلاف توہم پرستی اور بت پرستی جیسے موضوعات کو شامل کیا گیاتھا۔ موجودہ زمانے میں بھی بائبل کا یہی کنگ جیمز ورژن رائج ہے۔ ملکہ مَیری پروٹسٹنٹ سے تعصب کی آگ میں جلنے لگی۔ اس نے سب سے پہلے اس نئی بائبل کے مصنف جان روجرز کو گرفتار کرایا۔ اسے ایک سال تک کال کوٹھڑی میں ڈالے رکھا اور اس کے بعد اسے کیتھولک مذہب چھوڑ کر پروٹسٹنٹ اختیار کرنے پر زندہ جلا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ چراغ چلیں گے تو روشنی ہوگی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے گزشتہ دنوں لازمی بل تعلیم 2017ء کی منظوری دی۔ اس بل کے تحت پہلی سے پانچویں جماعت تک طلبہ کو ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم اور چھٹی سے بارہویں جماعت تک قرآن مجید کا ترجمہ پڑھایا جانا لازم قرار دیا ہے۔ یہ ایک خوبصورت اور قابل صد تحسین اقدام ہے۔بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے جہاں ان کی شخصیت پرمثبت اثرات مرتب ہوں گے وہیں معاشرتی اقدار میں بھی بہتری رونما ہو گی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے روشناس ہو کر نئی نسل خرافات اور مکروہات سے بچ سکے گی۔ اس سے معاشرے میں فروغ پذیر جرائم اور لغویات سے بھی بڑی حد تک بچا جا سکے گا اور نونہالان وطن کو قرآنی تعلیم کی تربیت سے جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے آگاہی اور خوشنودی حاصل ہوگی، وہیں قرآنی اسباق و واقعات سے نئی نسل کی تعمیر بھی خوب ہو گی۔ طلبہ کی دینی ذہن سازی سے جہاںخوف خدا پیدا ہوگا، اسوہ حسنہ کی تعلیم سے شخصیت پر نکھار آئے گاوہیں بچوں کی اخلاقیات اور گھریلو ماحول میں بہتری آئے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔