• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

کیسا انصاف؟

پاکستان میںانصاف کا نظام کتنا گنجلک اور پیچیدہ ہے، اس کا اندازآپ صرف ایک مقدمے سے لگا لیں۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اس وقت ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔ یہ مقدمہ گزشتہ 100 برس سے چل رہا ہے۔ یہ مقدمہ مختلف عدالتوں سول جج، سینئر سول جج، ایڈیشنل سیشن جج اور سیشن عدالتوں سے ہوتا ہوا لاہور ہائی کورٹ پہنچا۔ لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بنچ میں یہ مقدمہ 18 سال زیر سماعت رہا اور اس کے بعد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنادیا، لیکن فریقین نے عدالتی فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔ اس فیصلے کو 2005ء میں سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا اور یہ آج تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ یہ مقدمہ 1918ء میں راجستھان کی عدالت میں درج ہوا۔ بھارتی راجستھان کی رہائشی روشنائی بیگم اور اس کے بھائی شہاب الدین کے درمیان زمین کا تنازعہ ہوا۔ روشنائی بیگم نے اپنے بھائی کے خلاف درخواست دائر کردی اور یوں اس مقدمے کا آغاز ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان بہاولپور آگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بڑا قدم

پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا موقع تھا۔ یہ 70برسوں میں پہلی بار دیکھنے میں آیا جب پورے ایوان بالا پر مشتمل ان کیمرہ کمیٹی کو آرمی چیف نے بریفنگ دی۔ 19دسمبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایوان بالا میں سینیٹرز کو ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال پر مکمل بریف کیا۔ ابتدائی ایک گھنٹہ انہوں نے داخلی اور خارجی محاذوں پر درپیش مشکلات سے آگاہ کیا ۔ اس کے بعد تین گھنٹے تک سینیٹرز نے دل بھر کے آرمی چیف سے ہر موضوع پر سوالات کئے۔ آرمی چیف نے تلخ سے تلخ سوال کا جواب بڑے کھلے انداز میں دیا۔ اس نشست کے بعد سینیٹرز کے دماغ میں اٹھنے والے سوالات اور خدشات دم توڑ گئے۔مثلاً آرمی چیف سے پوچھا گیا ــ’’فیض آباد دھرنے کے شرکاء کو کھانا کون پہنچاتا رہا؟‘‘ آرمی چیف نے مسکرا کر جواب دیا ’’میں دعوے سے کہتا ہوں اس کے پیچھے فوج نہیں تھی۔ اگر دھرنے کے پیچھے فوج سے متعلق کوئی ثبوت سامنے لے آئے تو میں اسی وقت استعفیٰ دے دوں گا‘‘ آرمی چیف سے سوال کیا گیا’’کیا فوج کو موجودہ رول سے بڑھ کر کردار چاہیے‘‘ آرمی چیف نے جواب دیا ’’فوج کا آئین میں جو کردار ہے اس سے مطمئن ہوں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بربادی کا نوحہ

6؍ دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں خطاب کرتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا اور اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان بھی کردیا۔ امریکی صدر کے اس احمقانہ فیصلے کے بعد پوری دنیا سے شدید ردّعمل سامنے آ رہا ہے۔ عالمِ اسلام کی طرف سے مذمت اور احتجاج فطری ہے، مگر امریکا کے اپنے اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا اور یورپ بھر نے نہ صرف امریکی صدر کے اس اقدام کو مسترد کردیا گیا، بلکہ اس فیصلے کو غیردانش مندانہ اور آگ سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ حماس اور حزب اللہ جیسی تحریکوں نے بھی اس متعصبانہ اعلان پر اپنی جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد امریکا میں بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ پوری اُمت مسلمہ شدید کرب میں مبتلا ہے اور فلسطین میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین شدید جھڑپیں شروع ہوچکی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے سنگین نتائج کی طرف آئیں۔ اس سے پہلے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بیت المقدس ہے کیا؟ اور امریکاکے اسے دارالحکومت بنانے کے پیچھے کیا راز مضمر ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔

ریاست کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

ــ’’سر یہ ریاست ہے یا بنانا ری پبلک؟‘‘ایوان اقبال میں ریاست اور سیاست کے تگڑے موضوع پر لیکچرکے دوران ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے تیکھا سا سوال کر دیا۔ میں نے عرض کیا: ’’بیٹا آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ کھل کر بیان کریں‘‘ نوجوان نے کھنگور کر گلا صاف کیا۔ اپنی منتشر سوچوں کو مجتمع کیا اور بولا: ’’سر میرے کہنے کا مقصد ہے یہ کیسی ریاست ہے جس میں ریاست اور ریاستی اداروں کی کوئی تکریم نہیں، جس میں اپنے اپنے ضابطے، اپنے اپنے قانون اور اپنی اپنی مفاداتی سیاست ہے، جس میں اپنی اپنی بولیاں، اپنا اپنا انصاف ہے۔ مثلاً اس ملک میں پانامہ کرپشن کا مقدمہ ملکی تاریخ کا ایک بڑا کیس تھا۔ پانامہ انکشافات میں ساڑھے چار سو پاکستانیوں کی آف شور کمپنیز کا انکشاف ہوا۔ مقدمہ فرسٹ فیملی شریف خاندان کے خلاف شروع ہوا۔ تفتیش و تحقیق کی ڈیڑھ سالہ طویل مدت کے بعد اس مقدمے کا بڑا فیصلہ آ یا۔ میاں نوازشریف نااہل ہوئے۔ عدالت نے انہیں گھر بھیج دیا، مگرعدالت کے اس فیصلے کے باوجود شریف فیملی اس فیصلے کو ماننے کیلئے تیار ہوئی نہ ہی ان کی جماعت مسلم لیگ ن۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف ملک کے طول عرض میں واویلا کرنا شروع کر دیا۔ عدالت عظمیٰ پرزبان درازی سے گریز کیا گیا نہ ہی ججز کا احترام ملحوظ خاطر رکھا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کیا پیغام دے رہے ہیں؟

6؍نومبر کو امریکی ریاست ٹیکساس میں دہشت گردی کا خوفناک واقعہ سامنے آیا۔ ٹیکساس کے پٹسٹ چرچ میں دن ساڑھے گیارہ بجے لوگ مذہبی رسومات میں مصروف تھے۔ ایک مسلح شخص چرچ میں داخل ہوا اور اس نے مذہبی رسومات میں مگن نہتے لوگوں پر فائر کھول دیا۔ فائرنگ سے ایک بچے سمیت 27امریکی ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے۔ واقعہ رونما ہوتے ہی سیکورٹی اہلکار متحرک ہوئے اور انہوں نے فائر کر کے حملہ آور کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ حملہ آور کون تھا؟ یہ کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں تھا بلکہ امریکا کا اپنا ہی ریٹائرڈ فوجی شہری تھا۔ڈیوڈ پیٹرک کیلی امریکی ائر فورس کا سابق اہلکار تھا۔ اسے2010میں فوج سے نکال دیا گیاتھا۔ اس واقعے سے صرف پانچ دن پہلے یکم نومبر کو امریکی شہر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں دہشت گردی کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ سیف اللہ سائپوف نے پہلے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر ماری۔ پھرسائیکل سواروں پر ٹرک چڑھا دیا۔سائیکل سواروں کو روندنے کے بعد اس نے ٹرک کو سکول بس سے جا ٹکرایا اور اس کے بعد ٹرک سے باہر نکل کر فائرنگ شروع کر دی۔ اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔مقامی پولیس نے حملہ آورپر فائر کھولا، یہ زخمی ہوا، نیچے گرا اور گرفتار کر لیاگیا۔ سیف اللہ سائپوف کا تعلق ازبکستان تھا اور یہ گزشتہ سات سالوں سے امریکی ریاست فلوریڈا کا شہری تھا بعدازاں تفتیش کے دوران اس کا تعلق داعش سے بھی جوڑا گیا۔ نیویارک میں اس حملے کو ستمبر 2001ء کے حملے بعد اب تک کا سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

امریکا کی دوغلی پالیسی

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن گزشتہ دنوں آٹھ روزہ دورے پر تھے۔ یہ قطر، افغانستان، پاکستان، بھارت اور سویٹزرلینڈگئے۔ پاکستان میں چند گھنٹوں کے قیام میں ٹلرسن نے وزیراعظم، وزیرخارجہ، وزیردفاع، آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، پاک افغان معاملات اور پاک بھارت تنازعات زیر بحث آئے۔

امریکی وزیرخارجہ کا یہ دورہ کئی حوالوں سے بہت اہم تھا۔ پہلی وجہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کچھ عرصہ سے شدید تنائو تھا۔ امریکا پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کر رہا تھا اور پاکستان اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار۔ پاک امریکا کشیدہ تعلقات کا عالم یہ تھا کہ امریکی وزیردفاع پیرپچیس نے بھارت کا دو روزہ دورہ کیا، مگر انہوں نے پاکستان آنے کی جسارت نہیں کی۔ کیوں؟ اس لیے کہ امریکا پاکستان کو تاثردینا چاہتا تھا ہم نے خطے میں نیا اتحادی ڈھونڈ لیا ہے اور ہم بھارت کے ہمرکاب ہیں۔ امریکا کے بھارت کی جانب جھکائو پر پاکستان کو خدشات لاحق تھے اور ان بگڑے حالات میں ریکس ٹلرسن کی پاکستان آمدبہت اہم تھی۔ دوسری وجہ، امریکی وزیرخارجہ کا دورہ اس لیے بھی اہم تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کی پاکستان کو شامل کیے بغیرکاوشوں سے پاکستان میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا تھا۔ افغانستان کے معاملے میںپاکستان کے کردار سے انحراف نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جب تک پاکستان کو اعتماد میںنہیں لیا جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تیسری عالمی جنگ کے سائے

امریکی وزیر دفاع جیم میٹس نے 25ستمبر کو بھارت کا دو روزہ دورہ کیا۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد کسی بھی امریکی وزیر کا پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ اس لئے بھی اہم تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے بعد افغانستان میں بھارتی کردار کو بڑھاوا دینے کے لیے بھارت کو قائل کیا جانا تھا۔امریکی وزیردفاع نئی دہلی میں اترے تو ان کا پورے فوجی اعزاز کے ساتھ شاہانہ استقبال کیا گیا۔ یوں لگ رہا تھا بھارتی سرزمین پر امریکی وزیر دفاع نہیں امریکی صدر اتر آئے ہوں۔اس دورے میں امریکی وزیردفاع نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، بھارتی وزیردفاع نرمالا سیتھا رام اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں بھارت کو دفاعی تعاون بڑھانے، بھارت کو 15 ارب ڈالر کا فوجی سازو سامان مہیا کرنے، ایف سولہ طیارے فراہم کرنے اور گارڈین ان مینڈ ائرئیل وہیکل یا ڈرون دینے پر گفتگو کی گئی مگر اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھارتی کردار کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ افغانستان میں بھارت کو کھل کر کھیلنے کے لیے تھپکی بھی دی گئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

منہ توڑ جواب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 72واں اجلاس نیویارک میں ہوا۔ اس اجلاس سے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے بڑا ہی دلیرانہ خطاب کیا۔ جنرل اسمبلی کی تاریخ میں کسی بھی پاکستانی وزیراعظم کا یہ سب سے بے باک اور بے لاگ خطاب تھا۔ وزیراعظم کے اس خطاب نے دنیا کی آنکھوں پر جمی دھول ہٹا کر انہیں پاکستان کے جرات مندانہ اقدامات اور خودداری کا حقیقی چہرہ کرایا۔ دنیا کو باور کرایا پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہی نہیں اقوام عالم کا انتہائی اہمیت کا حامل خودمختار ملک ہے۔ آپ سب سے پہلے وزیراعظم پاکستان کے اس خطاب کے چیدہ چیدہ نکات ملاحظہ کیجیے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھارت اور بھارت نواز ممالک کودوٹوک انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا: ــ’’عالمی برادری کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے حل کے لیے سنجیدہ اقدام اٹھائے، اقوام متحدہ کشمیر پر سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کرے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اورگھنائونے جرائم کی عالمی سطح پر تحقیقات کرائے۔‘‘ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا: ’’بھارت کے زیر انتظام کشمیرمیں انکوائری کمیشن بھیجا جائے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

افغانستان: استعمار کا گریٹ گیم

پاکستان اور افغانستان ٹریک ٹو ڈائیلاگ کا دوسرا رائونڈ 12ستمبر کو اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر زاخیلوال نے اس موقع پر انتہائی اہم خطاب کیا۔ افغان سفیر نے کہا افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بگاڑنے میں دونوں ممالک کا کردار ہے۔ افغانستان نے پاکستان اور بھارت سے تعلقات میں توازن برقرار نہیں رکھا، مگر افغانستان یقین دلاتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیںاور دونوں ممالک کو چاہیے وہ ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ ان ٹریک ٹو مذاکرات کا پہلا دور اس سے پہلے 16؍ اگست کو کابل میں ہوا۔ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور افغان نائب وزیرخارجہ حکمت خلیل کرزئی نے اس موقع پر دوطرفہ اعتماد سازی کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔ باہمی مشاورت میں افغان امن عمل، ڈیورنڈ لائن پر سیکورٹی صورت حال اور دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق گفتگو کی گئی۔ پہلے دور میں دونوں جانب سے تاجروں کو سہولتیں فراہم کرنے اور تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر اتفاق کیا گیااور سب سے اہم افغانستان کو پراکسی وار کا میدان کارزار بننے سے روکنا اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون اور روابط کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کے لیے قائل کیا گیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

استعماری قوتوں کا مشرق وسطیٰ میں خصوصی مشن

تھامس ایڈورڈ لارنس کے نام سے تاریخ دان خوب واقف ہیں، مگر یہ نام میرے بہت سے قارئین کے لیے نیا ہوگا۔ تھامس ایڈورڈ برطانوی فوج میں میجر کے عہدے پر تعینا ت تھا، مگر اس کے کردار نے تاریخ انسانی کو ایک تاریخی بربادی سے دوچار کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ نے اسے خصوصی مشن پر مشرق وسطیٰ بھیجا۔ یہ وہاں پہنچا۔ اس نے عرب دنیا کے حالات کا جائزہ لیا۔ وہاں کی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کیا اور عرب دنیا میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اس نے اس خصوصی مشن کے لیے 1911ء میں دو عرب مسلمانوں کی مدد سے بصرہ میں اپنا دفتر قائم کیا۔ عربی زبان سیکھی۔ مسلمانوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔ اس نے ایک امریکی یہودی لڑکی کو بھی ساتھ ملایا اور دریائے فرات کے کنارے پر آثار قدیمہ کی کھدائی کے نام پرجاسوسی شروع کردی۔ یہ یہاں سے روزانہ لندن اطلاعات بھیجتا تھا۔ اس نے خطیر رقم کے عوض ترک پارلیمان کے رکن سلمان فائزی کو خریدنے کی کوشش کی۔ یہ ناکام ہوا۔ بعدازاںیہ مشن کی تکمیل کے لیے مسجد جا پہنچا۔ مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس زیب تن کیا اور عربوں میں گھل مل گیا۔ اس کی وضع قطع، اس کی بول چال اور رہن سہن سے کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ برطانوی جاسوس ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

قانون کی بالادستی کے لیے

’’مطلب بادشاہ اور رعایا میں کوئی فرق نہیں۔ حاکم وقت اور عام آدمی میں کوئی تفریق نہیں۔‘‘ یہ وہ جملہ ہے جس میں جمہور اور جمہوریت کا مکمل درس پوشیدہ ہے۔ آپ دوسرے جملے پر غور کریں۔ ’’اگر وہ چوری کرے تو ہم اس کاہاتھ کاٹ دیں۔‘‘ مطلب ہے قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ وہ وقت کا حاکم ہو یا عام سا آدمی،جوبھی جرم کرے گا اسے اس جرم کی پاداش میں سزا بھگتنا ہوگی۔ انصاف کا اس سے بہتر اصول کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ رعایا کے مسائل کا حل بادشاہ کا فرض منصبی ہے اور جب سلطنت کی عدالتیں اسے بلائیں تو وہ پیش ہو اور اس سے اس کی عزت بڑھتی ہے کم نہیں ہوتی۔ اس مکالمے کا ایک ایک جملہ دس ہزار سالہ انسانی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ ہم اگر ان جملوں کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حاکمین پر نظر دوڑائیں تو یہ کسی صورت کسی اسلامی ملک کے حکمران دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً آپ سب سے پہلے نام نہاد جمہوریت ہی کو لیجیے۔ پچاس سالوںسے چند خاندان اقتدار پر قابض ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔