• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

دہشت گردی

یہ 22؍ جولائی 2011ء کا دن تھا اور ملک تھا ناروے۔ ناروے کا ایک جزیرہ ہے ’’اوٹویا‘‘۔ یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے اور اس کے چاروں اطراف سمندر ہے۔ یہ ایک پرفضا مقام ہے جہاں گرمیوں کے موسم میں لوگ کیمپ لگاتے ہیں اور زندگی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ 22؍ جولائی کو یہاں درجنوں کیمپ لگے تھے۔ ان میں سینکڑوں مرد و خواتین موجود تھے کہ اچانک ان پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ یہ کیمپوں سے نکل کر بھاگے تو اسی اثناء میں ایک زور دار دھماکا ہوا اور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھر گئیں۔ اس واقعے میں کل 69 لوگ ہلاک ہوگئے۔ اسی سے 2 گھنٹے پہلے ایک دوسرے جزیرے پر اسی شخص نے ایک وین پر بم پھینکا اور اس میں 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ آور اینڈرس بیرنگ بریوک تھا۔ یہ ناروے کا رہائشی اور جنگجو تھا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کڑے فیصلے کا وقت

کلبھوشن یادیو اور کرنل (ر) حبیب بھارت کی شاطرانہ چالوں کا تازہ تازہ عکس ہے۔ آپ پہلے کلبھوشن یادیو کو لے لیجیے۔ کلبھوشن یادیو کا فرضی نام ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ تھا۔ یہ بھارتی ریاست مہاراشٹر کا رہائشی تھا۔ یہ پولیس افسران کے خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے 1987ء میں بھارتی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی۔ 1991ء میں بھارتی نیوی میں ملازمت اختیار کی اور 2001ء تک یہ بھارتی نیوی کا ملازم رہا، مگر بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد اسے انفارمیشن اور انٹیلی جنس جمع کرنے کی ڈیوٹی سونپی گئی۔ اس نے 2003ء میں انٹیلی جنس آپریشنز شروع کیے۔ یہ ایرانی بندرگاہوںچاہ بہاراور بندرعباس پر کاروباری شخصیت کے روپ میں اترا۔ اس نے ان بندرگاہوں کو اپنی آماجگاہ بنایا۔ بزنس مین کا روپ دھارا اور پاکستان میں خفیہ کارروائیوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ یہ اس سلسلے میں 2003ء اور 2004ء میں کراچی بھی آیا اور اس نے بلوچستان تک رسائی بھی حاصل کرلی۔ اس نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں سے رابطے قائم کیے۔ انہیں فنڈنگ شروع کی۔ کراچی اور پاکستان میں ان باغیوں کے ذریعے فساد و قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا۔ پاکستانی انٹیلی جنس کو اس کی فون کالز سے شک کا شبہ گزرا۔ پاکستانی انٹیلی جنس نے اس کی نگرانی شروع کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دشمن کو واضح پیغام

اسلام آباد کے ایک طرف معروف سیاحتی مقام ’’شکرپڑیاں‘‘ ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور ان پہاڑیوں کے نوک پر مانومینٹ کی خوبصورت عمارت ایستادہ ہے۔ یہ عمارت پاکستان کے چاروں صوبوں کی نمایندہ عمارت ہے۔ اس عمارت کے پہلو میںوسیع و عریض ڈیموکریسی گرائونڈہے۔ یوم آزادی اور یوم پاکستان پر افواج پاکستان کی پریڈ اسی گرائونڈ سے براہ راست دکھائی جاتی ہے۔ اس بار بھی یوم پاکستان کی عظیم الشان پریڈ اسی گرائونڈ میں ہوئی، مگر یہ پریڈ پاکستان کی تاریخ کی سب سے جداگانہ پریڈ تھی۔ افواج پاکستان کے چاک و چوبند دستوں، لڑاکا طیاروں کی سبک رفتار مہارت، آرمی ایوی ایشن اورنیوی ہیلی کاپٹروں کے دیدہ زیب انداز، براق ڈرون طیاروں، ائر ڈیفنس سسٹم اور غوری اور شاہین میزائلوں کے دل لبھانے والے مناظر نے قوم کے جذبہ حب الوطنی کوسرشار کیا۔ یہ پریڈ اس لیے جدا تھی کہ تاریخ میں پہلی بار چین، ترکی اور سعودی عرب بھی شریک ہوئے۔ چین کے چاک و چوبند فوجی دستے کی سلامی، سعودی عرب کے فوجی دستے کی پریڈ اور ترکی کے بینڈ دستے نے پاکستانی ملی نغموں کی دھنیں بکھیر کر پوری قوم کے دل جیت لیے۔ پریڈ محض پریڈ ہی نہیں تھی، یہ ایک کھلا پیغام اور طاقت کے اظہار کی واضح علامت بھی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاریخی دن تاریخی قرارداد

23 مارچ 1940 ء کا تاریخی دن ہماری تاریخ میں ایک زریں باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دل نواز ساعت اور خوش نصیب گھڑی تھی جب ہماری قسمت کا ستارہ چمکا تھا۔ لاہور کے اقبال پارک میں قائداعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا تھا اور اس میں برصغیر کے کونے کونے سے مسلمانوں کے برگزیدہ رہنمائوں نے شرکت کی تھی۔ یہ دن تحریک آزادی کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس دن ایک قرارداد کے ذریعے مسلمانان برصغیر نے ایک علیحدہ اور آزاد وطن کا مطالبہ کیا۔ اپنی آزادی کی منزل کی جانب نہایت تیزی سے بڑھتے گئے اور قائداعظم کی قیادت میں صرف سات سال ہی میں آزادی حاصل کر لی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

شیطانی ٹرائیکا

’’اجیت ڈوول‘‘ بھارتی وزیراعظم کا قومی سلامتی کا مشیر ہے۔ یہ اس سے پہلے بھارتی خفیہ ایجنسی آئی بی کا ڈائریکٹر بھی رہ چکا ہے۔ اس اجیت ڈوول کی ایک بریفنگ گزشتہ برس منظر عام پر آئی تھی۔ اس بریفنگ میں اجیت ڈوول نے پاکستان مخالف بھارتی پالیسیوں سے متعلق اپنے عوام کو آگاہ کیا تھا۔ ان صاحب کے بقول ممبئی اور اس طرز کے دیگر حملوں کے بعد بھارت ڈیفنس موڈ سے نکل کر افینس موڈ میں چلا گیا ہے۔ مطلب بھارت دفاعی حکمت کی بجائے جارحانہ پالیسی اختیار کرے گا اور عام جنگ کی بجائے خفیہ چالوں سے پاکستان کوسبق سیکھائے گا۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں بھارت اپنا شیطانی کھیل کھیلے گا۔ پاکستان کی مغربی سرحدوں سے پاکستان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرے گا۔ سیاسی طور پر بحران پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ دہشت گرد قرار دے کر دنیا بھر میں تنہا کر دے گا۔ یہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کا اپنے عوام سے پالیسی بیان تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک اچھا فیصلہ

یہ ہے فاٹا اور اس کے قبائلی علاقہ جات کا قانون یا سزا و جزا کا رواج۔ جہاں ملزم کی زندگی کا فیصلہ سرکردہ عمائدین کے ہاتھوں میں ہوتا یا پھر پولیٹیکل ایجنٹ کے ہاتھ میں۔ یہ پولیٹیکل نمائندہ بذات خود شکایت کنندہ بھی ہوتا، منصف بھی، پولیس کا سربراہ بھی اور جیلر اور جلاد بھی۔ فاٹا کی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ یہی پولیٹیکل ایجنٹ اور سردار اور مَلک ہیں۔ ملزم کو اپنی صفائی کاحق حاصل ہے نہ ہی وہ سزا کے خلاف کسی دوسرے جج، کسی دوسری عدالت میں جا سکتا ہے، بس جرگے کا فیصلہ حتمی اور اخیر ہے، فاٹا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی نگرانی سے بھی باہر ہے۔ مطلب ملزم کے پاس اپیل کا حق تک نہیںاور فاٹا کے اس قانون کو ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ قانون 1871ء میں برطانوی راج نے نافذ کیا تھا۔ 1901ء میں اس میں کچھ مزید شقیں شامل کی گئیں بعدازاں میں مزید شقیں بھی ڈالی گئیں اور یہ بڑھ کر 62 شقیں ہو گئیں۔ اس میں بہت سی خامیاں ہیں اور ان علاقوں میں باقی پاکستانی قانون کا عمل دخل نہیں۔ فاٹابنیادی طور پر سات ایجنسیوں اور چھ ایف آرز پر مشتمل علاقہ ہے۔ اس میں باجوڑ، مہمند ایجنسی، خیبرایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور اورکزئی کے علاقے شامل ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ٹرمپ کے مسلم کش اقدامات

ملکہ مَیری برطانیہ کی پہلی کوئین تھی۔ یہ پانچ سال تک برطانیہ کی ملکہ رہیں۔ برطانیہ کی تاریخ میں اسے ’’بلڈی مَیری‘‘ یعنی ’’خونی مَیری‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کیوں؟ اس کی وجوہات بہت دلخراش ہیں۔

ملکہ مَیری کیتھولک مذہب سے متاثر تھیں۔ وہ اپنے مذہب کے حوالے سے انتہا پسندانہ رجحانات رکھتی تھیں۔ ملکہ نے منصب سنبھالا تو اس زمانے میں انگلستان میں پروٹسٹنٹ مذہب کا نیا نیا، مگر بہت پرچار تھا۔ برطانیہ کے شہری پروٹسٹنٹ مذہب میں گندھے جا چکے تھے۔ پروٹسٹنٹ نے بائبل میں ترامیم کر لی تھیں اور نئے نام سے بائبل بھی معاشرے میں رائج ہو چکی تھی۔ جان روجرز نامی ایک شخص نے میتھیو نامی نئی بائبل تالیف کی اور آگے چل کر یہی بائبل کنگ جیمز ورژن کی بنیاد بنی۔ میں آپ کی معلومات کے لیے عرض کرتا چلوں اس نئی بائبل میں کیتھولک کے ماننے والوں کے خلاف توہم پرستی اور بت پرستی جیسے موضوعات کو شامل کیا گیاتھا۔ موجودہ زمانے میں بھی بائبل کا یہی کنگ جیمز ورژن رائج ہے۔ ملکہ مَیری پروٹسٹنٹ سے تعصب کی آگ میں جلنے لگی۔ اس نے سب سے پہلے اس نئی بائبل کے مصنف جان روجرز کو گرفتار کرایا۔ اسے ایک سال تک کال کوٹھڑی میں ڈالے رکھا اور اس کے بعد اسے کیتھولک مذہب چھوڑ کر پروٹسٹنٹ اختیار کرنے پر زندہ جلا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ چراغ چلیں گے تو روشنی ہوگی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے گزشتہ دنوں لازمی بل تعلیم 2017ء کی منظوری دی۔ اس بل کے تحت پہلی سے پانچویں جماعت تک طلبہ کو ناظرہ قرآن پاک کی تعلیم اور چھٹی سے بارہویں جماعت تک قرآن مجید کا ترجمہ پڑھایا جانا لازم قرار دیا ہے۔ یہ ایک خوبصورت اور قابل صد تحسین اقدام ہے۔بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے جہاں ان کی شخصیت پرمثبت اثرات مرتب ہوں گے وہیں معاشرتی اقدار میں بھی بہتری رونما ہو گی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے روشناس ہو کر نئی نسل خرافات اور مکروہات سے بچ سکے گی۔ اس سے معاشرے میں فروغ پذیر جرائم اور لغویات سے بھی بڑی حد تک بچا جا سکے گا اور نونہالان وطن کو قرآنی تعلیم کی تربیت سے جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے آگاہی اور خوشنودی حاصل ہوگی، وہیں قرآنی اسباق و واقعات سے نئی نسل کی تعمیر بھی خوب ہو گی۔ طلبہ کی دینی ذہن سازی سے جہاںخوف خدا پیدا ہوگا، اسوہ حسنہ کی تعلیم سے شخصیت پر نکھار آئے گاوہیں بچوں کی اخلاقیات اور گھریلو ماحول میں بہتری آئے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

عالمی سامراج کا مکروہ کھیل

حالات حاضرہ کے تناظر میں ہمارے سامنے دو عکس ہیں۔ آپ تصویر کا پہلا رخ ملاحظہ کیجیے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے عالمی اقتصادی اداروں کی رپورٹس اور پیش گوئیاں ریاست پاکستان کے معاشی اشاریوں کی بلندی ظاہر کر رہی تھیں۔ امریکی اخبار ’’وال سٹریٹ جنرل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی صارفین کی قوت خرید میں اضافہ ہوا۔ آٹھ برسوں میں اقتصادی ترقی پہلی بار5فیصد کی لکیرچھو رہی تھی۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’’فچ‘‘ نے اقتصادی اصلاحات کے تحت پاکستان کی ریٹنگ ’’بی‘‘ کرتے ہوئے اعتراف کیا’’ پاکستانی زر مبادلہ کے ذخائر مضبوط اور مالیاتی خسارہ کم ہوا۔‘‘ بین الاقوامی جریدے ’’بلوم برگ‘‘ نے انکشاف کیا ’’پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں46 فیصد اضافہ اور دہشت گردی میں کمی سے ترقیاتی منصوبے پاکستان کی پہچان بن رہے ہیں۔‘‘ عالمی شہرت یافتہ فرم ’’پرائز واٹر ہائوس‘‘ نے پیش گوئی کی ’’ 2030 ء تک پاکستان دنیا کی20 ویں بڑی اور 2050ء میں16ویں بڑی معاشی طاقت بن جائے گا۔‘‘ گزشتہ دنوں ہی وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد میں 14 ممالک کی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز سے بھی اس عزم کا اظہار کیا پاکستان کو 2025ء تک دنیا کی25 بڑی معیشتوں میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ آپ کے علم میں ہو گاپچھلے چھ ماہ میں درجنوں ممالک نے اقتصادی راہداری میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی۔ ملک میں جا بجا بجلی کے کارخانے لگ رہے تھے۔ ترقیاتی منصوبے جاری تھے اور ملک میں امن کے سوتے پھوٹ رہے تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دلدل میں دھنسا امریکا/ نفرت کی دیوار برلن

میخائیل گوربا چوف سوویت یونین کے صدر تھے۔ انہیں سوویت یونین کی شیرازہ بندی کا مورود الزام ٹھہرایا جاتا ہے، مگر مغرب میں انہیں عظیم لیڈر گرداناجاتا ہے۔ کیوں؟ اس کی وجہ بہت دلچسپ ہے۔ میخائل گوربا چوف نے مشرقی اور مغربی جرمنی کومتحد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ گوربار چوف ہی تھے جنہیں1987ء میں امریکی صدر رونالڈریگن نے مشورہ دیا روس چاہے تو مشرقی اور مغربی جرمنی پھر سے متحد ہوسکتے ہیں۔ روس چاہے تو دونوں ممالک کے درمیان حائل یہ دیوارگر سکتی ہے۔ امریکی صدر کے اس مشورے کے بعدجب مشرقی جرمنی میں دیوار برلن کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تو یہ گوربا چوف ہی تھے جنہوں نے اپنی فوج کو مشرقی جرمنی کے عوام کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کردیا۔ اس وقت مشرقی جرمنی میں روس کی ساڑھے تین لاکھ سے زائد فوج موجود تھی۔ گوربا چوف چاہتے تو یہ اپنی فوج مظاہرین پر چڑھا دیتے، مگر انہوں نے مظاہرین کو آزادی دے کر دیوار برلن گرانے میں مدد کی۔ گوربا چوف کے اس اقدام سے 28 سال تک قائم رہنے والی دیوار برلن 1989ء میں مسمار کردی گئی۔ مشرقی اور مغربی جرمنی ایک دوسرے سے بغلگیر ہوگئے

مزید پڑھیے۔۔۔

اخلاقیات کا جنازہ

خلافت عباسیہ میں ہارون الرشید کے بعد اگر کسی کو مقام حاصل تھا تو وہ مامون الرشید تھا۔ مامون الرشید 813 عیسوی سے 833 عیسوی تک تخت نشین رہا۔ عباسی خلافت میں مامون الرشید جیسا دانا، بردبار، صاحب علم، صاحب الرائے، نڈر، فیاض اور خطیب کوئی نہیں تھا۔ اس کے دربار میں معمولی سے معمولی آدمی بھی فریاد کرنے کی جرأت کر سکتا تھا۔ آپ اندازا لگائیں! ایک بار ایک بڑھیا مامون کے دربار میں حاضر ہوئی۔ اس نے آتے ہی چیخ و پکار شروع کردی۔ شاہی خادمین آگے بڑھے۔ انہوں نے بڑھیا کو دربار کے آداب ملحوظ خاطر رکھنے کے لیے روکنا چاہا تو مامون الرشیدنے شاہی خادموں کو ہاتھ کے اشارہ سے روک دیا۔ بڑھیا کی گریہ و زاری بادشاہ سلامت بڑے صبر و تحمل سے سنتا رہا۔ جب بڑھیا کی آواز کپکپانے لگی تو مامون الرشید نے پوچھا: ’’آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ اور آپ چاہتی کیا ہیں؟‘‘ خاتون نے دونوں ہاتھ جوڑ کر جان کی امان پائی اور عرض گزار ہوئی: ’’بادشاہ سلامت! میں نے اپنے بچوں کے لیے اپناپیٹ کاٹ کر جائیداد خریدی، مگر ایک طاقتور شخص نے میری جائیداد پر قبضہ کرلیا ہے۔ مجھے انصاف چاہیے۔‘‘مامون الرشید کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ شاہی جلال میں مامون الرشید نے پوچھا: ’’مائی جی! وہ کون شخص ہے؟ ‘‘ بڑھیا نے ایک لمبی سانس کھینچی۔ پورے جسم کی طاقت جمع کی اور گویا ہوئی: ’’شاہ معظم! جان کی امان پائوں تو عرض ہے وہ شخص آپ کے پہلو میں تشریف رکھتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔