• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

استعماری قوتوں کا مشرق وسطیٰ میں خصوصی مشن

تھامس ایڈورڈ لارنس کے نام سے تاریخ دان خوب واقف ہیں، مگر یہ نام میرے بہت سے قارئین کے لیے نیا ہوگا۔ تھامس ایڈورڈ برطانوی فوج میں میجر کے عہدے پر تعینا ت تھا، مگر اس کے کردار نے تاریخ انسانی کو ایک تاریخی بربادی سے دوچار کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ نے اسے خصوصی مشن پر مشرق وسطیٰ بھیجا۔ یہ وہاں پہنچا۔ اس نے عرب دنیا کے حالات کا جائزہ لیا۔ وہاں کی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کیا اور عرب دنیا میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف کام شروع کر دیا۔ اس نے اس خصوصی مشن کے لیے 1911ء میں دو عرب مسلمانوں کی مدد سے بصرہ میں اپنا دفتر قائم کیا۔ عربی زبان سیکھی۔ مسلمانوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔ اس نے ایک امریکی یہودی لڑکی کو بھی ساتھ ملایا اور دریائے فرات کے کنارے پر آثار قدیمہ کی کھدائی کے نام پرجاسوسی شروع کردی۔ یہ یہاں سے روزانہ لندن اطلاعات بھیجتا تھا۔ اس نے خطیر رقم کے عوض ترک پارلیمان کے رکن سلمان فائزی کو خریدنے کی کوشش کی۔ یہ ناکام ہوا۔ بعدازاںیہ مشن کی تکمیل کے لیے مسجد جا پہنچا۔ مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس زیب تن کیا اور عربوں میں گھل مل گیا۔ اس کی وضع قطع، اس کی بول چال اور رہن سہن سے کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ برطانوی جاسوس ہے

مزید پڑھیے۔۔۔

قانون کی بالادستی کے لیے

’’مطلب بادشاہ اور رعایا میں کوئی فرق نہیں۔ حاکم وقت اور عام آدمی میں کوئی تفریق نہیں۔‘‘ یہ وہ جملہ ہے جس میں جمہور اور جمہوریت کا مکمل درس پوشیدہ ہے۔ آپ دوسرے جملے پر غور کریں۔ ’’اگر وہ چوری کرے تو ہم اس کاہاتھ کاٹ دیں۔‘‘ مطلب ہے قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ وہ وقت کا حاکم ہو یا عام سا آدمی،جوبھی جرم کرے گا اسے اس جرم کی پاداش میں سزا بھگتنا ہوگی۔ انصاف کا اس سے بہتر اصول کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ رعایا کے مسائل کا حل بادشاہ کا فرض منصبی ہے اور جب سلطنت کی عدالتیں اسے بلائیں تو وہ پیش ہو اور اس سے اس کی عزت بڑھتی ہے کم نہیں ہوتی۔ اس مکالمے کا ایک ایک جملہ دس ہزار سالہ انسانی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ ہم اگر ان جملوں کو سامنے رکھیں اور اس کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حاکمین پر نظر دوڑائیں تو یہ کسی صورت کسی اسلامی ملک کے حکمران دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً آپ سب سے پہلے نام نہاد جمہوریت ہی کو لیجیے۔ پچاس سالوںسے چند خاندان اقتدار پر قابض ہیں۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

نظام کا استحکام ضروری

پانامہ انکشافات، عدالتی کارروائی اور جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد ایک بار پھر ملک بے یقینی کا شکار ہے۔ دوطرح کی رائے عام ہے۔ ایک طبقہ جے آئی ٹی کی تحقیقات پر آنکھیں بند کر کے یقین کررہا ہے۔ شریف خاندان پر کرپشن، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کو سچ مان کر وزیراعظم کو گھر بھیجنے پر مصر ہے۔ یہ طبقہ جے آئی ٹی تحقیقات کو ہیروز کی کارکردگی سے تعبیر کر رہا ہے اور وزیراعظم کو مجرم گردان رہا ہے۔ دوسرا طبقہ جے آئی ٹی کی تحقیقات اور ثبوتوں کو کرپشن کا خاتمہ نہیں نوازشریف کے اقتدار کا خاتمہ سمجھ رہا ہے۔ ان لوگوں کا موقف ہے یہ سازش ہے اور اس سازباز کا مطلب احتساب کرنا نہیں بلکہ نوازشریف کو نااہل قراردلواناہے۔ ان لوگوں کی رائے میں اس احتساب نامی سازش کا مقصد اگر احتساب ہی ہے تو پھر سب کا احتساب کیوں نہیں۔ صرف وزیراعظم سے حساب کیوں مانگا جا رہا ہے۔ ان ساڑھے چار سو لوگوں کے خلاف احتسابی شکنجہ کیوں نہیں کسا جاتا جو آف شور کمپنیز کے مالکان ہیں۔ ان دو قسم کی رائے میں ہرشہری کنفیوژ ہے۔ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ یہ ایک ایسی گتھی ہے جس کا سلجھنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بھارتی خواب چکنا چورکر دئیے

گزشتہ دنوں پاکستان نے بیلسٹک میزائل ’’نصر‘‘ کا کامیاب تجربہ کیا۔ زمین سے زمین پر مار کرنیوالے اس بیلسٹک میزائل کی رینج60 سے 70 کلومیٹر ہے۔ یہ میزائل نہ صرف ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ اپنے ساتھ جوہری ہتھیاربھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’’نصر‘‘ میزائل کے تجربے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے فرمایا۔ نصر میزائل کے کامیاب لانچنگ سے پاکستان نے بھارت کے جنگی نظریئے کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہے اور اسٹرٹیجک صلاحیت جارح پڑوسی کیخلاف امن کی ضمانت ہے۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

ذلت و رسوائی کا کتبہ

18؍مئی کو نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی پرعملدرآمد عدالتی فیصلے تک موخر کرنے کا حکم سنادیا۔ پھانسی رکوانے کی بھارتی درخواست اور قومی سلامتی کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کی پاکستانی التجا پر پاکستان کو سبکی اور بھارت کو وقتی طور پر کامیابی مل گئی۔ عدالت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی کے بھارتی موقف کو دونوں ممالک کے اختلافات کی نذر کردیا۔ عالمی عدالت انصاف کے بھارتی جاسوس کی پھانسی وقتی طور پر روک دینے کے فیصلے کے بعد کیا ریاست پاکستان اس فیصلے کی پابند ہے۔ یہ سوال بڑا اہم اور دلچسپ ہے۔ اس سلسلے میں آپ کو ماضی پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ پہلے تین اہم ترین مقدمات ملاحظہ کیجیے۔ آپ کو کلبھوشن مقدمے پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی اہمیت کا اندازا ہو جائے گا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

سازش کی پہلی اینٹ

مشرق وسطیٰ ایک نئی سازش کے جال میں پھنسنے جا رہا ہے۔ مرکز اسلام سعودی عرب سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کردئیے ہیں۔ قطر کی فضائی اور زمینی حد بندی کردی گئی۔ قطر ایرویز کا آپریشن روکنے سے قطر کو کروڑوں ڈالر یومیہ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ قطر ایرویز دنیا کی واحد ایرلائن ہے جس نے یورپ اور ایشیا کو ایک دوسرے کے قریب لایا ہے، مگر چھ عرب ممالک کی جانب سے قطر کو تنہا کر دینے کے بعد اب قطر اور یورپ کا فضائی راستہ بڑھ جائے گا۔ یہ چھ گھنٹوں سے نو گھنٹوں تک دراز ہو جائے گا جس سے مسافر دوسری پروازوں کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح زمینی راستوں کی بندش سے اشیائے خورونوش کی ترسیل رک گئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاکستان کاترقیاتی منصوبہ بھارت کے لیے موت

5 مئی 2017ء کو افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقے چمن میں مردم شماری ہو رہی تھی۔ افغان فوجی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوئے۔ انہوں نے چمن کے گائوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں گھروں پر قبضہ کیا۔ مقامی لوگوں کو محصور کیا۔ پاکستانی شہریوں نے مزاحمت کی تو انہوں نے فائرنگ کے 13پاکستانی شہریوں کو جام شہادت پلا دیا۔ اس سنگین واقعے کے فوری بعد پاک فوج حرکت میں آئی۔ انہوں نے افغان فوج پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ 50سے زائد افغان فوجیوں کو ہلاک، پانچ چوکیوں کو تباہ اور دیگر فوجیوں کو بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔ پاک فوج کی جوابی اور منہ توڑ کارروائی پر افغان حکام نے فوری جنگ بندی کی درخواست کی اور یوں یہ جنگ وقتی طور پر تھم گئی مگر تب سے آج سات دنوں سے چمن کا باب دوستی بند ہے۔ دوطرفہ تجارتی ٹرانسپورٹ معطل ہے اور دونوں ممالک میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ چمن کے اس سانحے سے پہلے 29اپریل کو پاکستان کے15رکنی اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا۔ اس وفد نے افغان صدر اشرف غنی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تنائو کو کم کرنے پر اتفاق کیاگیا۔ دہشت گردی اور اس سے جڑے تمام امراض کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے مابین اتفاق رائے ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا

گزشتہ دنوں ایک بھارتی تاجر سجن جندل کی وزیراعظم نواز شریف سے خفیہ ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات پرفضا مقام مری میں ہوئی۔ سجن جندل چھوٹے سے وفد کے ہمراہ کابل سے پرائیویٹ جہاز پر اسلام آباد پہنچا۔ اسے خفیہ طور پر مری پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اس نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ نہ صرف ملاقات کی، بلکہ وزیراعظم کے ہمراہ کھانا بھی کھایا۔اس ملاقات کی خبر سامنے آ جانے پر سیاسی ایوانوں اور صحافتی اداروں کی طرف سے متعدد سوالات سامنے آرہے ہیں۔ وزیراعظم نے بھارتی تاجر سے خفیہ ملاقات کیوں کی؟ بھارت کشمیر میں انسانیت کا قتل عام کررہا ہے اور وزیراعظم بھارتیوں سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں؟ کیا یہ ملاقات بیک ڈور ڈپلومیسی ہے؟ کیا جندل میاں نوازشریف کو مودی کا پیغام دینے آئے تھے؟ اور کیا بطور وزیراعظم انہیں دشمن ملک کے تاجروں سے ذاتی نوعیت کی ملاقات کرنی چاہیے یا نہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا ابھی تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا، تاہم لیگی رہنمائوں کے مطابق یہ ملاقات ذاتی نوعیت کی تھی، مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ سجن جندل کون ہے؟ اس کے بھارتی سرکار سے کیا رابطے ہیں؟ اور یہ میاں نوازشریف کے اتنے قریب کیوں ہے؟ آپ جب یہ جان لیں گے تو ساری کہانی کھل کر آپ کے سامنے آ جائے گی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دہشت گردی

یہ 22؍ جولائی 2011ء کا دن تھا اور ملک تھا ناروے۔ ناروے کا ایک جزیرہ ہے ’’اوٹویا‘‘۔ یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے اور اس کے چاروں اطراف سمندر ہے۔ یہ ایک پرفضا مقام ہے جہاں گرمیوں کے موسم میں لوگ کیمپ لگاتے ہیں اور زندگی سے لطف اٹھاتے ہیں۔ 22؍ جولائی کو یہاں درجنوں کیمپ لگے تھے۔ ان میں سینکڑوں مرد و خواتین موجود تھے کہ اچانک ان پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ یہ کیمپوں سے نکل کر بھاگے تو اسی اثناء میں ایک زور دار دھماکا ہوا اور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھر گئیں۔ اس واقعے میں کل 69 لوگ ہلاک ہوگئے۔ اسی سے 2 گھنٹے پہلے ایک دوسرے جزیرے پر اسی شخص نے ایک وین پر بم پھینکا اور اس میں 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ آور اینڈرس بیرنگ بریوک تھا۔ یہ ناروے کا رہائشی اور جنگجو تھا۔

 

مزید پڑھیے۔۔۔

کڑے فیصلے کا وقت

کلبھوشن یادیو اور کرنل (ر) حبیب بھارت کی شاطرانہ چالوں کا تازہ تازہ عکس ہے۔ آپ پہلے کلبھوشن یادیو کو لے لیجیے۔ کلبھوشن یادیو کا فرضی نام ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ تھا۔ یہ بھارتی ریاست مہاراشٹر کا رہائشی تھا۔ یہ پولیس افسران کے خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے 1987ء میں بھارتی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی جوائن کی۔ 1991ء میں بھارتی نیوی میں ملازمت اختیار کی اور 2001ء تک یہ بھارتی نیوی کا ملازم رہا، مگر بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد اسے انفارمیشن اور انٹیلی جنس جمع کرنے کی ڈیوٹی سونپی گئی۔ اس نے 2003ء میں انٹیلی جنس آپریشنز شروع کیے۔ یہ ایرانی بندرگاہوںچاہ بہاراور بندرعباس پر کاروباری شخصیت کے روپ میں اترا۔ اس نے ان بندرگاہوں کو اپنی آماجگاہ بنایا۔ بزنس مین کا روپ دھارا اور پاکستان میں خفیہ کارروائیوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ یہ اس سلسلے میں 2003ء اور 2004ء میں کراچی بھی آیا اور اس نے بلوچستان تک رسائی بھی حاصل کرلی۔ اس نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں سے رابطے قائم کیے۔ انہیں فنڈنگ شروع کی۔ کراچی اور پاکستان میں ان باغیوں کے ذریعے فساد و قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا۔ پاکستانی انٹیلی جنس کو اس کی فون کالز سے شک کا شبہ گزرا۔ پاکستانی انٹیلی جنس نے اس کی نگرانی شروع کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دشمن کو واضح پیغام

اسلام آباد کے ایک طرف معروف سیاحتی مقام ’’شکرپڑیاں‘‘ ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں اور ان پہاڑیوں کے نوک پر مانومینٹ کی خوبصورت عمارت ایستادہ ہے۔ یہ عمارت پاکستان کے چاروں صوبوں کی نمایندہ عمارت ہے۔ اس عمارت کے پہلو میںوسیع و عریض ڈیموکریسی گرائونڈہے۔ یوم آزادی اور یوم پاکستان پر افواج پاکستان کی پریڈ اسی گرائونڈ سے براہ راست دکھائی جاتی ہے۔ اس بار بھی یوم پاکستان کی عظیم الشان پریڈ اسی گرائونڈ میں ہوئی، مگر یہ پریڈ پاکستان کی تاریخ کی سب سے جداگانہ پریڈ تھی۔ افواج پاکستان کے چاک و چوبند دستوں، لڑاکا طیاروں کی سبک رفتار مہارت، آرمی ایوی ایشن اورنیوی ہیلی کاپٹروں کے دیدہ زیب انداز، براق ڈرون طیاروں، ائر ڈیفنس سسٹم اور غوری اور شاہین میزائلوں کے دل لبھانے والے مناظر نے قوم کے جذبہ حب الوطنی کوسرشار کیا۔ یہ پریڈ اس لیے جدا تھی کہ تاریخ میں پہلی بار چین، ترکی اور سعودی عرب بھی شریک ہوئے۔ چین کے چاک و چوبند فوجی دستے کی سلامی، سعودی عرب کے فوجی دستے کی پریڈ اور ترکی کے بینڈ دستے نے پاکستانی ملی نغموں کی دھنیں بکھیر کر پوری قوم کے دل جیت لیے۔ پریڈ محض پریڈ ہی نہیں تھی، یہ ایک کھلا پیغام اور طاقت کے اظہار کی واضح علامت بھی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔