• ہوم
  • تازہ شمارہ
  • گزشتہ شمارے
  • کالم نگار
  • رابطہ کیجیے

سسٹم کو چلنے دو

شام اور عراق میں اور کچھ نہیں ہوا، صرف چلتے ہوئے سسٹم کو لپیٹ دیا گیا تھا۔ بس نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ شام میں چار سال سے مسلمان ذبح ہورہے ہیں۔ عراق میں نوری المالکی مجاہدین کا بے دردی سے قتل عام کیا۔ اب بھی وہی سب کچھ ہورہا ہے۔ داعش اسی کا ردعمل ہے جو کہ اب ہر ایک کے قابو سے باہر ہے۔ پاکستان میں بھی کوشش یہ ہورہی ہے کہ کسی طرح اس سسٹم کو لپیٹ کر ایجنٹوں کو کٹھ پتلی حکمران بنا دیا جائے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو یہاں خون خرابہ ہوگا، لاشیں ہوں گی، تباہی و بربادی ہوگی، مسلمانوں کا قتل عام عراق اور شام کی طرح ہوگا اور وہی لوگ کریں گے جو شام اور عراق میں کررہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ علماء خلافت اور شورائیت کے قائل ہیں، جمہوریت کے قائل نہیں ہیں۔ اسے غالب نظام کی وجہ سے کسی حد تک اہمیت و عزت دیتے ہیں، لیکن آج علماء بھی کہہ رہے ہیں کہ اس سسٹم کو چلنے دیا جائے۔
سوچیے تو سہی بھلا کیوں؟ کیا علماء جمہوریت کو خلافت جاننے لگے ہیں یا انہوں نے میاں محمد نواز شریف کو امیر المؤمنین مان لیا ہے؟ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہ نظام جیسا بھی ہے، ایک ٹوٹا پھوٹا سسٹم چل رہا ہے۔ اگر اسے زورا زورری سے لپیٹ دیا گیا تو پھر آنے والے کسی

مزید پڑھیے۔۔۔

تضاد

دبئی کی فلک بوس عمارات اور غزہ کے کھنڈر ہوتے مکانات، کلبز میں تھرکتے مسلمان نوجوان اور گوانتانا موبے میں بلکتے مسلمان، جی جی کرتے حکمران اور ’’ناں‘‘ پر ڈٹ کر جان دینے والے سخت جان، وسیع و عریض خوان اور غزہ کے سمٹتے دستر خوان، شاپنگ سینٹر میں گلال گالوں پر گل با بونہ کی چٹک اور غزہ میں معصوموں میں کی کھوپڑیوں کی چٹخ۔ تہجد کی لمبی نمازیں اور غزہ کی ہر نماز کے بعد الصلوۃ علی الشہداء کی صدائیں، مجالسِ ذکر میں اللہ اللہ کی صدائیں اور بمباری کے دوران یا اللہ یا اللہ کا ورد، گود میں کھیلتے بچوں کے گال پر بوسے اور غزہ میں شہید ماں کے ماتھے پر معصوم بچوں کے ہونٹ۔ اسرائیل کے خلاف بننے والی حزب اللہ اور شام میں ہر قتل کے پیچھے حسن نصر اللہ، مرگ بر اسرائیل کے نعرے اور عراق میں قاتل نوری المالکی کو پیسے اور فوج کی فراہمی۔
کیا حقیقت ہے اور کیا سراب! کیا عبادت ہے اور کیا ظاہر کتاب۔ سوال جہاد کا اور جواب مجبوری، یہاں جینے کے لیے مرنا اور غزہ میں موت کے انتظار میں جینا ضروری، خلوتوں میں کھلکھلاتی ہنسیاں اور جلوتوں میں غزہ کے لیے ٹسوے۔ غیرت کا ہر آن درس اور غزہ کے لیے فقط مجمعوں میں دعائیں۔ آئو! ہم سب چلو بھر پانی میں ڈوب کے مرجائیں۔ جو پٹھان کو بھائی نہیں مانتا وہ غزہ کے مسلمانوں کا بھائی کیسے بن سکتا ہے؟ جو سندھ میں رہ کر پنجابی کو دشمن سمجھتا ہے وہ عراق کے مسلمانوں کے لیے کاہے کو کڑھے گا۔ عصبیتوں، فرقوں، صوبوں، ملکوں، زبانوں، برادریوں اور قوموں میں بٹی یہ امت فلسطین سے کشمیر اور لبنان سے افغانستان تک ذبح ہورہی ہے۔ پھر بھی سمجھ ہے نہ عبرت، ایک کے بعد ایک ذبح ہورہا ہے اور باقی بھی نرخرے تیار رکھیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ہماری لاج رکھیے گا

خلیفہ منصور عباسی کی زندگی کے ابتدائی پچیس تیس سال حدیث کے ایک طالب علم کے طور پر گزرے تھے۔ اس وقت شاید اس کے ذہن میں بھی نہ تھا اسے کبھی اتنی بڑی حکومت کی ذمہ داری ملے گی۔ اس کی تمنا تو ایک محدث بننے کی تھی، مگر میدانِ سیاست میں اُترنے کے بعد اسے علمی خدمات کا موقع نہ ملا۔ تاہم اس کی وہ تمنا باقی رہی۔ ایک بار دنیا کے اس سب سے بڑے حکمران سے پوچھا گیا: ’’کیا دنیا کی کوئی لذت اب بھی ایسی ہے جس سے آپ محروم ہیں ؟‘‘ کہنے لگا: ’’ہاں! ایک بات کے سواکوئی تمنا باقی نہیں۔‘‘ پوچھا گیا: ’’وہ کیا؟‘‘ بولا: ’’یہ آرزو کہ طلبہ اپنے استاذکی طرح مجھ سے حدیث نقل کیا کریں۔‘‘ یہ سنتے ہی امرا اور وزا جلدی جلدی اردگرد جمع ہوگئے اور طلبہ کی طرح حلقہ بناکر کہنے لگے: ’’امیرالمؤمنین! ہمیں حدیث املا کرادیں!!‘‘ منصورنے ایک نگاہ ا ن پر ڈالی اور بولا: ’’تم ویسے کہاں! حدیث کے طلبہ وہ ہوتے ہیں جن کے کپڑے سادہ ہوں، پاؤں پھٹ چکے ہوں، بال بڑھ چکے ہوں، دور دراز کا سفر کرکے حدیث نقل کرنے آئے ہوں۔‘‘
یہ واقعہ مجھے ہر سال ختم بخاری کی تقریبات پر یاد آجایا کرتا ہے۔شہر شہر، قریہ قریہ جاری ختم بخاری کی یہ محفلیں بھی اختتام پذیر ہوچکیں۔ تعلیمی سال گزر گیا۔

طلبہ بستر اور کتابوں سمیت اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اگلے سال پھر آئیں گے

مزید پڑھیے۔۔۔

مدرسہ کہانی

پاکستان بھر کے مدارس میں سالانہ تقریبات کے انعقاس کا موسم چل رہا ہے۔ اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کرام کا اکرام کیا جاتا ہے ۔ انہیں انعامات اور اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ اعزاز و اکرام حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ اور درسِ نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد تخصص فی الفقہ یا تخصص فی الافتاء کے متخصصفین یعنی مفتیانِ گرامی قدر کا اکرام کیا جاتا ہے۔ بنات کے جامعات یعنی طالبات کے جامعات میں 4 سالہ یا 6 سالہ عالمہ فاضلہ کورس مکمل کرنے والی طالبات کی ردا پوشی کی جاتی ہے۔ تمام مدارس و جامعات طلبہ کو انعام میں کپڑے، نقد انعام اور اتنی ساری کتابیں دیتے ہیں کہ ان کا سنبھالنا اور ایک آدمی کا انہیں اٹھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ تقریب کے موقع پر عموماً دعوتِ عام ہوتی ہے۔ تمام طلبہ کے ساتھ ساتھ آنے والے تمام مہمانوں کا کھانا بھی ہوتا ہے۔ اساتذہ کرام کا بھی اکرام کیا جاتا ہے۔ مدارس و جامعات کے مؤظفین کو بھی حسنِ کارکردگی پر انعامات دیے جاتے ہیں۔ جشنِ بہاراں کا سماں ہوتا ہے۔
اس موقع پر ملک کے مشہور و معروف خطباء ملک بھر میں ہونے والی ان تقاریب کے لیے دور دراز کے اسفار کرتے ہیں۔ حمد و نعت خواں حضرات بطورِ خاص بلائے جاتے ہیں۔ قدیم طلبہ کو بھی خاص طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔ تقریب کی تیاری کوئی مہینہ بھر پہلے ہی شروع کردی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

غورو فکر کے لئے

ہم عوام ہیں۔ کچھ لوگ تو کہتے ہیں کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں، حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ طاقت و قوت سب اللہ کی ہے۔ طاقت و قوت کا سرچشمہ بس اس کی ہی ذات ہے۔ ہم عوام ہیں اور یہ ملک ہمارا ہے۔ یہ ہم سب کا پیارا پاکستان ہے۔ یہاں کی ہر بھینس ہماری ہے حالانکہ محاورہ ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس مگر یہ غلط بات ہے جو بھینس کا مالک ہے بھینس اسی کی ہے۔ اس ملک کی ساری بھینسیں یہاں کی عوام کی ملکیت ہیں اور یہ کہ ہم عوام ہیں۔ انسان ہیں بھینسیں نہیں کہ ہمیں طاقت، قوت اور لاٹھی کے زور پر چلایا یا ہنکایا جائے۔ ہم عوام ہیں اور اس ملک میں قوانین ہمارے مفاد میں ہی بننے چاہییں، حالانکہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ قوانین غیروں اور گوروں کے مفاد میں بنائے جائیں، لیکن یہ سوچ اور طریقہ غلط ہے۔ یہاں کے قوانین عوام کے مفاد میں ہونے چاہییں۔ پاکستان میں اگرچہ تعلیم عام نہیں ہے، مگر پڑھے لکھوں کی عوام قدر کرتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ پڑھے لکھوں کی حکومت بھی قدر کرے۔ تو کیا حکومت سے یہ مطالبہ کرنا کہ پڑھے لکھے لوگوں کی قدر کی جائے، ایک غلط مطالبہ ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ غلط نہیں ہے

مزید پڑھیے۔۔۔